TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

تعریف اور مذمت کی کتاب - تعریف اور مذمت کی کتاب - Book 165 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 165 of Musnad Ahmad, with 17 chapters and 122 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

122 Hadith · 17 Chapters
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۲۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ اَخَاہُ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہُ کُفْرٌ، وَحُرْمَۃُ مَالِہِ کَحُرْمَۃِ دَمِہِ۔)) (مسند احمد: ۴۲۶۲)
۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مسلمان کا اپنے بھائی کو برا بھلا کہنا فسق اور اس سے لڑائی کرنا کفر ہے اور مسلمان کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۲۷) تخریج: صحیح، أخرجہ ابویعلی: ۵۱۱۹، والطیالسی: ۳۰۶ (انظر: ۴۲۶۲)
Explanation
فوائد:… یہ احادیث ِ ِ مبارکہ ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہیں کہ جن کی زبانیں فحش گوئی و یاوہ گوئی، بدکلامی و بد زبانی، سب و شتم اور گالی گلوچ کی عادی بن چکی ہیں، جن کو کسی کے بارے میں کوئی پھکڑ کہنے سے پہلے سوچنے کی زحمت نہیں ہوتی۔ مثلا ماں بہن کی گالی دینا، حرامی کہنا، بے غیرت کہنا، لعنتی کہنا اور برے القاب سے پکارنا، وغیرہ۔ ایسے لوگ فاسق اور فاجر ہیں۔ حافظ ابن حجرؒنےکہا: کفرکااطلاقکرناسختی کا انداز ہے، جس کی غرض و غایت سامع کو ایسا اقدام کرنے سے اجتناب کرنے پر آمادہ کرنا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ کفر کا اطلاق تشبیہ کے طور پر کیا گیا ہے، کیونکہ دراصل ایسا کرنا کافروں کا کام ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا ایک خاص سبب بھی بیان کیا گیا ہے، جیسا امام بغویؒ اور امام طبرانیؒبیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمرو بن نعمان بن مقرن مزنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انصاریوںکی ایک مجلس میں تشریف لے گئے، ان میں ایک ایساانصاری آدمی بھی تھا، جو بدزبانی اور سب و شتم کرنے میں معروف تھا، وہاں پہنچ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاہُ فُسُوْقٌ، وَقِتَالُہُ کُفْرٌ۔)) … مسلمان کا اپنے بھائی کو گالی دینا فسق ہے اور اُس سے لڑائی کرنا کفر ہے۔ یہ سن کر اس آدمی نے کہا: اللہ کی قسم! آئندہ میں کسی آدمی کو گالی نہیں دوں گا۔ (فتح الباری) یہ مومن کی قدر و قیمت ہے کہ اس کا مال اور عزت بھی اس کے وجود کی طرح معزز ہیں۔
10127
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۲۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَی الْبَادِیئِ مَالَمْ یَعْتَدِ الْمَظْلُوْمُ۔)) (مسند احمد: ۷۲۰۴)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دو گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہیں گے، سارا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہیں کرے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۵۸۷(انظر: ۷۲۰۵)
Explanation
فوائد:… ان دو افراد کے جھگڑے کا گناہ ابتدا کرنے والے کے کھاتے میں جائے گا، کیونکہ وہ اس برائی کا سبب بنا ہے، ہاں جب مظلوم ظالم سے بڑھ کر زیادتی کرے گا تو وہ اپنی زیادتی کا خود ذمہ دار ہو گا، مظلوم کو انتقام لینے کا حق تو ہے، لیکن ضروری ہے کہ وہ انتقام اس ظلم سے بڑھ کر نہ ہو، جس اس پر کیا گیا، وگرنہ مظلوم بھی ظالم قرار پائے گا۔
10128
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۲۹)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَمْشِیَنَّ اَحَدُکُمْ اِلٰی اَخِیْہِ بِالسَّلَاحِ فَاِنَّہُ لَا یَدْرِیْ اَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّیْطَانَیَنْزِعُ فِیْیَدِہِ فَیَقَعُ فِیْ حُفْرَۃٍ مِنْ نَّارٍ۔)) (مسند احمد: ۸۱۹۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی ہتھیار لے کر ہر گز اپنے بھائی کی طرف نہ جائے، کیونکہ وہ اس چیز کو نہیں جانتا کہ ہو سکتا ہے کہ شیطان اس کے ہاتھ سے کھینچ لے اور اس طرح وہ آگ کے گڑھے میں گر جائے۔
Takhreej
(۱۰۱۲۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۷۰۷۲، ومسلم: ۲۶۱۷ (انظر: ۸۲۱۲)
Explanation
فوائد:… جو چیز برائی اور زیادتی کا سبب بن سکتی ہے، سرے سے اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
10129
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۰)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یارَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجُلٌ مِنْ قَوْمِیْیَشْتُمُنِیْ، وَھُوَ دَوْنِیْ، عَلَیَّ بَاْسٌ اَنْ اَنْتَصِرَ مِنْہُ؟ قَالَ: ((اَلْمُسْتَبَّانِ شَیْطَانَانِیَتَھَاذَیَانِ وَیَتَکَاذَبَانِ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: ((یَتَکَاذَبَانِ وَیَتَھَاتَرَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۲۲)
۔ سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میری قوم کا ایک آدمی مجھے برا بھلا کہتا ہے، جبکہ وہ مجھ سے کم مرتبہ آدمی ہے، اب اگر میں اس سے انتقام لوں تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہو گی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو افراد شیطان ہیں، وہ بیہودہ باتیں کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: وہ جھوٹ بولتے ہیں اور ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔
Takhreej
(۱۰۱۳۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ ابن حبان: ۵۷۲۶، والطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۱۰۰۱، والطیالسی: ۱۰۸۰ (انظر: ۱۷۴۸۳)
Explanation
فوائد:… جھگڑا ایک ایسا شیطانی معاملہ ہے کہ جو بڑھتا چلا جاتا ہے، ایک بہن کی سناتا ہے، دوسرا ماں کی سنا دیتا ہے، ایک تھپڑ مارتا ہے، دوسرا پتھر پھینک دیتاہے، ایک دو سناتا ہے ، دوسرا چار سناتا ہے، جھگڑا رکنے کا نام نہیں لیتا، قتل اور بڑی بڑی زیادتیوں جیسے جرائم کی ابتدا جھگڑے سے ہوتی ہے۔
10130
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۱)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِثْمُ الْمْسْتَبِّیْنَ مَا قَالَا عَلَی الْبَادِیِ، حَتّٰییَعْتَدِیَ الْمَظْلُوْمُ اَوْ اِلَّا اَنْ یَعْتَدِیَ الَمَظْلُوْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۳۱)
۔ سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گالی گلوچ کرنے والے دو افراد جو کچھ کہیں گے، ان کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔
Takhreej
(۱۰۱۳۱) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۱۰۰۴(انظر: ۱۸۳۴۱)
10131
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۲)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَرْمِیْ رَجُلٌ رَجُلًا بِالْفِسْقِ، اَوْ یَرْمِیْہِ بِالْکُفْرِ اِلَّا ارْتَدَّتْ عَلَیْہِ، اِنْ لَمْ یَکُنْ صَاحِبُہُ کَذٰلِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۹۰۴)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
Takhreej
(۱۰۱۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ تامّا ومقطّعا مسلم: ۶۱، وابن ماجہ: ۲۳۱۹ (انظر: ۲۱۵۷۱)
Explanation
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:
10132
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۳)۔ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَہُ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوْبُ یَقُوْلُ : عَلَیْکَ السَّلَامُ۔ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَمَا اِنَّ مَلَکًا بَیْنَکُمَایَذُبُّعَنْکَ کُلَّمَا شَتَمَکَ ھٰذَا، قَالَ لَہُ: بَلْ اَنْتَ وَاَنْتَ اَحَقُّ بِہٖوَاِذَاقَالَلَہُعَلَیْکَ السَّلَامُ قَالَ: لَا بَلْ لَکَ اَنْتَ اَحَقُّ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۱۴۶)
۔ سیدنا نعمان بن مقرن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو برا بھلا کہا، جبکہ اس نے جواباً کہا: تجھ پر سلامتی ہو، یہ دیکھ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! بیشک تمہارے درمیان ایک فرشتہ ہے، جو تیری طرف سے دفاع کرتا ہے، وہ آدمی جب بھی تجھے برا بھلا کہتا ہے تو وہ فرشتہ اس کو کہتا ہے: بلکہ وہ تو خود ہے اور تو ہی اس گالی کا زیادہ حقدار ہے، اور جب مظلوم کہتا ہے: تجھ پر سلامتی ہو، تو فرشتہ کہتا ہے: نہیں، بلکہ یہ سلامتی تیرے لیے ہے اور تو خود ہی اس کا زیادہ مستحق ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۳۳) تخریج: حسن لغیرہ (انظر: ۲۳۷۴۵)
10133
Sahih
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ: لَمَّا ھَجَانَا الْمُشْرِکُوْنَ، شَکَوْنَا ذٰلِکَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((قُوْلُوْا لَھُمْ کَمَا یَقُوْلُوْنَ لَکُمْ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ رَاَیْتُنَا نُعَلِّمُہُ اِمَائَ اَھْلِ الْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۵۰۴)
۔ سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب مشرکوں نے ہماری ہجو کی اور ہم نے اس چیز کی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے شکایت کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جتنا کچھ وہ کہتے ہیں، اتنا کچھ تم بھی ان کو کہہ دیا کرو۔ پھر ہم نے اہل مدینہ کی لونڈیوں کووہ چیزیں سکھائیں۔
Takhreej
(۱۰۱۳۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف شریک النخعی (انظر: ۱۸۳۱۴)
10134
Zaeef
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
۔ (۱۰۱۳۵)۔ عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا الْاَمْوَاتَ، فَتُؤْذُوْا الْاَحْیَائَ۔)) (مسند احمد: ۱۸۳۹۷)
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مردوں کو برا بھلا نہ کہو، اس طرح تم زندگان کو تکلیف دو گے۔
Takhreej
(۱۰۱۳۵) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۱۹۸۲ (انظر: ۱۸۲۱۰)
Explanation
فوائد:… وفات پا جانے والے لوگ اپنے انجام تک پہنچ جاتے ہیں، اس لیے اگر ان کا تذکرہ ٔ خیر نہ کیا جائے تو کم از کم ان کے معائب و نقائص بیان کرنے سے باز رہنا چاہئے۔
10135
Sahih
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۳۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَسُبُّ اَحَدُکُمُ الدَّھْرَ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الدَّھْرُ، وَلَا یَقُوْلَنَّ اَحَدُکُمْ لِلْعِنَبِ الْکَرْمَ، فَاِنَّ الْکَرْمَ ھُوَ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ۔)) (مسند احمد: ۷۶۶۸)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی زمانے کو گالی نہ دے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانہ ہے اور کوئی آدمی انگوروں کو کَرَم نہ کہے تو کیونکہ کَرَم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۳۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۴۷(انظر: ۷۶۸۲)
Explanation
فوائد:… آخری جملے کی وضاحت کے لیے ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۹۹۶۱)
10136
Sahih
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۳۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( یَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یُؤْذِیْنِیْ ابْنُ آدمَ یَقُوْلُ: یَا خَیْبَۃَ الدَّھْرِ! فَاِنِّیْ اَنَا الدَّھْرُ اُقَلِّبُ لَیْلَۃُ وَنَھَارَہُ فَاِنْ شِئْتُ قَبَضْتُھُمَا۔)) (مسند احمد: ۷۶۶۹)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: ابن آدم مجھے تکلیف دیتا ہے، وہ کہتا ہے : اے زمانے کی ناکامی! جبکہ میں زمانہ ہوں، دن رات کو الٹ پلٹ کرتا ہوں اور اگر چاہوں تو ان دونوں کو قبض کر لوں۔
Takhreej
(۱۰۱۳۷) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۴۶ (انظر: ۷۶۸۳)
Explanation
فوائد:… عربوں کی عادت تھی کہ وہ زمانے کی مذمت کرتے تھے اور نوازل و حوادث کے وقت اسی کو برا بھلا کہتے تھے اور اپنے شعروں میں بھی اس چیز کا بہت زیادہ ذکر کرتے تھے، کیونکہ ان کا نظریہیہ تھا کہ یہ سب کچھ زمانے کا ہیر پھیر ہے اور وہی مصائب سے دوچار کرتا ہے، لیکن در حقیقتیہ فاعل کو برا بھلا کہنا تھا اور ہر چیز کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَقَالُوْا مَا ہِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُہْلِکُنَآ اِلَّا الدَّہْرُ وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ ہُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ۔} … اور انھوں نے کہا ہماری اس دنیا کی زندگی کے سوا کوئی(زندگی) نہیں، ہم (یہیں) جیتے اور مرتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، حالانکہ انھیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں، وہ محض گمان کر رہے ہیں۔ (سورۂ جاثیہ: ۲۴) حافظ ابن کثیر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے اپنی تفسیر میںکہا: دہریہ کفار اور ان کے ہم عقیدہ مشرکین کا بیان ہو رہا ہے کہ یہ قیامت کے منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا ہی ابتداء اور انتہاء ہے، کچھ جیتے ہیں، کچھ مرتے ہیں، قیامت کوئی چیز نہیں، فلاسفہ اور علم کلام کے قائل یہی کہتے تھے۔ یہ لوگ ابتداء اور انتہاء کے قائل نہ تھے اور فلاسفہ میں سے جو لوگ دہریہ اور دوریہ تھے، وہ خالق کے بھی منکر تھے، ان کا خیال تھا کہ ہر چھتیس ہزار سال کے بعد زمانے کا ایک دور ختم ہوتا ہے اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر آجاتی ہے اور ایسے کئیادوار کے وہ قائل تھے۔ دراصل یہ معقول سے بھی بیکار جھگڑتے تھے اور منقول سے بھی روگردانی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ گردش زمانہ ہی ہلاک کرنے والی چیز ہے، نہ کہ اللہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نظریے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں اور بجز و ہم و خیال کے کوئی سند وہ پیش نہیں کر سکتے
10137
Sahih
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۳۸)۔ عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا الرِّیْحَ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنَّھَا مِنْ رُوْحِ اللّٰہِ۔) فَاِذَا رَاَیْتُمْ مِنْھَا مَا تَکْرَھُوْنَ، فَقُوْلُوْا : اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَمِنْ خَیْرِ مَا فِیْھَا، وَمِنْ خَیْرِ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ،وَنَعُوْذُبِکَمِنْشَرِّھٰذِہِالرِّیْحِ وَمِنْ شَرِّ مَافِیْھَا، وَمِنْ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۴۵۶)
۔ سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ اس کی اصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پس جب تم ہوا میں کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھو تو یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَمِنْ خَیْرِ مَا فِیْھَا، وَمِنْ خَیْرِ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ،وَنَعُوْذُبِکَمِنْشَرِّھٰذِہِالرِّیْحِ وَمِنْ شَرِّ مَافِیْھَا، وَمِنْ شَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِہٖ۔ (اےاللہ! بے شک ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی کا، اس میں موجود بھلائی کا اور اس خیر کا سوال کرتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا اور اس ہوا کے شرّ سے، اس میں موجود شرّ سے اور اس شرّ سے پناہ مانگتے ہیں، جس کے ساتھ اس کو بھیجا گیا۔
Takhreej
(۱۰۱۳۸) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ النسائی فی عمل الیوم واللیلۃ : ۹۳۵ (انظر: ۲۱۱۳۸)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا چلتی ہے، اس میں پائی جانے والی خیر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس میں پائے جانے والا شرّ کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی جس مخلوق میں خیر اور شرّ، دونوں کے عناصر پائے جاتے ہوں، اللہ تعالیٰ سے اس کی خیر کا سوال کرنا چاہیے اور اس کے شرّ سے پناہ مانگنی چاہیے۔
10138
Sahih
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۳۹)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ ، ثَنَا صَالِحُ بْنُ سُفْیَانَ، وَاَبُوْ النَّضْرِ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ سَلَمَۃَ ،عَنِ ابْنِ کَیْسَانَ، عَنْ عُبَیْدِاللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُتْبَۃَ، عَنْ زَیْدَ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِیِّ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَسُبُّوْا الدِّیْکَ فَاِنَّہُ یَدْعُوْا اِلَی الصَّلَاۃِ۔)) قَالَ اَبِیْ: قَالَ اَبُوْ النَّضْرِ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ عَنْ سَبِّ الدِّیْکِ، وقَالَ: ((اِنَّہُ یُؤَذِّنُ بِالصَّلَاۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۱۹)
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مرغ کو برا بھلا نہ کہا کرو، کیونکہ وہ نماز کے لیے بلاتا ہے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مرغ کو گالی دینے سے منع کیا اور فرمایا: یہ نماز کے لیے گویا اذان دیتا ہے ۔
Takhreej
(۱۰۱۳۹) تخریج: انظر الحدیث رقم (۱۰۱۲۵)
Explanation
فوائد:… نماز کے لیے اذان دینے سے مراد یہ ہے کہ مرغ عام طور پر طلوعِ فجر اور زوال کے وقت آواز نکالتاہے، اس سے لوگوں کو نماز فجر اور نماز ظہر کا احساس ہو جاتا ہے، بہرحال مرغ کی آواز کے بعد نماز کے وقت کییقین دہانی کرنا ضروری ہے۔
10139
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا ضَرَبَ اَحَدُکُمْ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ، وَلَا تَقُلْ قَبَّــحَ اللّٰہُ وَجْھَکَ وَوَجْہَ مَنْ اَشْبَہَ وَجْھَکَ، فَاِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی خَلَقَ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۰۲)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی کو سزا دے تو چہرے پر مارنے سے گریز کرے اور نہ یہ کہے کہ اللہ تیرے چہرے کو اور اس آدمی کے چہرے کو بھلائی سے دور کرے، جو تیرے چہرے کے مشابہ ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا۔
Takhreej
(۱۰۱۴۰) تخریج: اسنادہ قوی، أخرجہ البیھقی فی الاسماء والصفات : ص ۲۹۱، والحمیدی: ۱۱۲۰ (انظر: ۹۶۰۴)
Explanation
فوائد:… قَبَّح کے معانی بدصورت بنانے، برا بنانے، بھلائی سے دور کرنے،مذمت کرنے اور برا ٹھہرانے کے ہیں، سب کا مفہوم ایک ہی بنتا ہے۔ یہ حدیث احترامِ انسانیت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہر سلیم الفطرت شخص تسلیم کرتا ہے کہ تربیتی مراحل میں بعض اوقات سزاؤں کا مرحلہ بھی ناگزیر ہو جاتا ہے، شریعت ِ اسلامیہ نے نہ صرف اس ضابطے کو برقرار رکھا، بلکہ مقامِ انسانیت کو مجروح ہونے سے بچایا۔ حافظ ابن حجر ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: علمائے کرام کا خیال ہے کہ چہرہ نرم و نازک اور پیاری چیز ہے، تمام محاسن کا مجموعہ ہے، یہ حواس خمسہ (دیکھنا، سونگنا، چکھنا، سننا، چھونا) کے اکثر حصے پر بھی مشتمل ہے، یہ اندیشہ ہے کہ کسی ضرب کی وجہ سے چہرہ بھدا، بھونڈا اور بدشکل دکھائی دے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ مارنے سے نہ صرف بھونڈا پن اور عیب داری نظر آئے گی، بلکہ وہ انتہائی واضح لگے گی، ان وجوہات کی بنا پر شریعت ِ اسلامیہ نے چہرے پر مارنے سے منع کر دیا ہے۔ (فتح الباری: ۵/ ۲۲۹) حافظ ابن حجر دوسرے مقام پر اس حدیث ِ مبارکہ کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو جس صورت پر پیدا کیا گیا، جنت میں اور جنت سے اترنے کے بعد، بلکہ وفات تک وہی صورت قائم رہییا اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو ابتدائے تخلیق سے ایک وجود عطا کر دیا گیا، جبکہ ان کی اولاد اپنی تخلیق کے دوران کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ میں آخرت کے منکر اور زمانے کی بقا کے قائلین دہریوں کا ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان نطفے سے پیدا ہوتا ہے اور نطفہ انسان سے نکلتا ہے اور اس کی کوئی ابتدا نہیں، بلکہ ازل سے انسانی تخلیق کا یہ نظام چل رہا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث میں وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے خود انسانِ اوّل آدم علیہ السلام کو ان کی صورت پر پیدا کیا۔ نیز اس حدیث میں ماہرینِ علمِ طبیعات کا بھی ردّ ہے، جن کا خیال ہے کہ انسان، ایک فطرت اور اس کی تاثیر کا فعل ہے۔ یہ حدیث قدریوں کا بھی ردّ کرتی ہے جو تقدیر خداوندی کے منکر ہیں اور اس بات کے قائل ہیں کہ انسان اپنے افعال کی تخلیق خود کرتا ہے،نہ کہ اللہ تعالی۔ (فتح الباری: ۱۱/ ۴) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اس حدیث میں عَلٰی صُوْرَتِہِ میں ہ ضمیر کا مرجع لفظِ آدم ہے، نہ کہ لفظِ اللہ، کیونکہیہی قریب ہے اور صحیح بخاری کی سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ والی روایت میں اس کییوں وضاحت کی گئی ہے: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَتِہِ طَوْلُہٗسِتُّوْنَ ذِرَاعًا۔)) (صحیحہ: ۴۴۹)… اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اس کی صورت پر پیدا کیا اور ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا۔ رہا مسئلہ اس حدیث کا: ((خَلَقَ اللّٰہُ آدَمَ عَلٰی صُوْرَۃِ الرَّحْمٰنِ۔)) … اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو رحمن کی صورت پر پیدا کیا۔ تویہ منکر ہے، میں نے اس کی تفصیل (سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ: ۱۱۷۵، ۱۱۷۶) میں بیان کی ہے اور شیخ تویجری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ جیسے ہم عصروں کی تصحیح کا ردّ بھی کیا ہے۔ (صحیحہ: ۸۶۲) دوسرے مقام پر رقمطراز ہیں: یہ روایت ان لوگوں کے قول کی تائید کرتی ہے، جو لفظِ آدم کو ہ ضمیر کا مرجع بناتے ہیں، اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو جس ہیئت پر پیدا کیا تھا، اسی پر ان کو وجود بخشا، یعنی ان کو اپنی اولاد کی طرح نہ اپنی تخلیق کے دوران مختلف احوال سے گزرنا پڑا اور نہ رحموں میں پہلے نفطہ، پھر علقہ، پھر مضغہ، پھر عظام اور لحم اور خلق تامّ جیسے مراحل طے کرنا پڑے، بلکہ جونہی اللہ تعالیٰ نے ان میں روح پھونکی تو ان کو کامل و مکمل، معتدل و مناسب اور ٹھیک و درست بنا دیا۔ امام ابن حبان ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث پر مفصّل اور مفید گفتگو کی ہے، آپ اس کا مراجعہ کر لیں۔ (صحیحہ: ۴۴۹) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ کسی انسان کو سزا دیتے وقت اس کے چہرے کا احترام کیا جائے، لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اپنے ملازموں کو اور بعض آباء و اساتذہ اپنے بچوں اور شاگردوں کو سزا دیتے وقت چہرے پر تھپڑ مارتے ہیں۔ ایسے کرنے سے اس حدیث کی مخالفت ہو گی۔
10140
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: نَھَانَارَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْوَسْمِ فِی الْوَجْہِ وَالضَّرْبِ فِی الْوَجْہِ۔ (مسند احمد: ۱۴۴۷۷)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں چہرے پر داغنے سے اور چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۱۶ (انظر: ۱۴۴۲۴)
10141
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِیْ وَجْھِہِ یُدَخِّنُ مَنْخَرَاہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ فَعَلَ ھذا؟ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: لَعَنَ اللّٰہُ الَّذِیْ وَسَمَہُ) لَا یَسِمَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ، وَلَا یَضْرِبَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۱۳)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس سے ایک ایسا گدھا گزارا گیا، جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں سے دھواں نکل رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کس نے یہ کاروائی کی ہے، اللہ تعالیٰ اس پر لعنت کرے، جس نے اس کو داغا ہے، کوئیآدمی نہ چہرے پر داغا کرے اور چہرے پر مارا کرے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۱۱۷(انظر: ۱۴۴۵۹)
Explanation
فوائد:… چہرے کا حکم صرف انسانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ جانوروں کے لیے بھییہی حکم ہے۔
10142
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، قَالَ: مَرَّ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِیْ وَجْھِہِ یُدَخِّنُ مَنْخَرَاہُ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ فَعَلَ ھذا؟ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: لَعَنَ اللّٰہُ الَّذِیْ وَسَمَہُ) لَا یَسِمَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ، وَلَا یَضْرِبَنَّ اَحَدٌ الْوَجْہَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۵۱۳)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چہروں پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۵۴۱ (انظر: ۴۷۷۸)
10143
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ ) عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَــرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہُ کَانَ یَکْرَہُ الْعَلَمَ فِیْ الصُّوَرِ وقَالَ: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ضَرْبِ الْوَجْہِ۔ (مسند احمد: ۵۹۹۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ چہروں پر نشان لگانے کو ناپسند کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چہرے پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۴) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10144
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا قَاتَلَ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ فَلْیَجْتَنِبِ الْوَجْہَ۔)) (مسند احمد: ۸۴۲۲)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی کی اپنے بھائی سے لڑائی ہو جائے تو وہ چہرے پر مارنے سے گریز کرے۔
Takhreej
(۱۰۱۴۵) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۶۱۲(انظر: ۸۴۴۱)
10145
Sahih
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
۔ (۱۰۱۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۹۰۸)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی۔
Takhreej
(۱۰۱۴۶) تخریج: حدیث صحیح لغیرہ، أخرجہ عبد الرزاق: ۱۷۹۵۱، والبزار: ۲۰۶۳، وابویعلی: ۱۱۷۹ (انظر: ۱۱۸۸۶)
Explanation
فوائد:… لوگ لڑائی جھگڑے میں جذبات میں آکر ان فرمودات ِ نبویہ کو بھول جاتے ہیں اور مد مقابل کو جیسے ضرب لگانا آسان ہو، لگاتے ہیں، اگرچہ وہ چہرے پر تھپڑ اور مُکّا مارنے کی صورت میں ہو۔ ایسا کرنا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی حکم عدولی ہے۔
10146
Sahih

Chapters

17
01
تعریف کی جائز صورتوں کا بیان
7 Hadith
02
تعریف کی ناجائز صورتیں
8 Hadith
03
عورتوں کی مذمت کا بیان
7 Hadith
04
عبد اللہ بن اعور اعشی اور ان کی بیوی معاذہ کا قصہ
2 Hadith
05
عورتوں کا امور کی ولایت کے لیے نا اہل ہونا
2 Hadith
06
مال کی مذمت کا بیان
16 Hadith
07
دنیا کی مذمت کا بیان
11 Hadith
08
اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی مثال اور اس پر اس کا حقیر ہونا
6 Hadith
09
عمارتوں کی مذمت کا بیان
4 Hadith
10
بازاروں اور کچھ دوسرے مقامات کی مذمت کابیان
3 Hadith
11
لعنت کرنے سے ممانعت اور اس سے ترہیب کا بیان
8 Hadith
12
ان افراد کا بیان، جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے لعنت کی
10 Hadith
13
اس شخص کا بیان کہ جس پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لعنت کریں،یا اس کو برا بھلا کہیں،یا اس پر بد دعا کریں، جبکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو یہ چیز اس کے لیے پاکیزگی، اجر اور رحمت کا باعث ہو گی
10 Hadith
14
اونٹ اور مرغ پر لعنت کرنے کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کو گالی دینے اور اس سے قتال کرنے سے ترہیب کا بیان اور یہ وضاحت کہ اس چیز کا گناہ ابتدا کرنے والے پر ہو گا، جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے
10 Hadith
16
زمانے، ہوا اور مرغ کو برابھلا کہنے سے ممانعت کا بیان
4 Hadith
17
چہرے پرمارنے، چہرے کو برا بھلا کہنے اور اس پر داغنے سے ممانعت کا بیان
9 Hadith
No chapter matched that.