TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے - اس زمانے کے تعین کا بیان، جس میں توبہ قبول ہوتی ہے - توبہ کی کتاب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of توبہ کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 9 · 7 Hadith
۔ (۱۰۱۶۶)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَیْمُوْنٍ اَخْبَرَنِیْ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا یُقَالُ لَہُ: اَیُّوْبُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْروٍ یَقُوْلُ : مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِہِ عَامًا تِیْبَ عَلَیْہِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِشَھْرٍ تِیْبَ عَلَیْہِ، حَتّٰی قَالَ: یَوْمًا حتی قَالَ: سَاعَۃ حَتّٰی قَالَ: فُوَاقًا، قَالَ: قَالَ الرَّجُل: اَرَاَیْتَ اِنْ کَانَ مُشْرِکًا اَسْلَمَ؟ قَالَ: اِنّمَا اُحَدِّثُکُمْ کَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ۔ (مسند احمد: ۶۹۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کی، اس کی توبہ قبول کی جائے گی، جس نے اپنی موت سے ایک ماہ پہلے توبہ کی، اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی،یہاں تک کہ انھوں نے ایک دن، ایک گھڑی، بلکہ ایک فُوَاق کا بھی ذکر کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگربندہ مشرک ہو اور پھر اس وقت میں مسلمان ہو جائے؟ انھوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اتنا ہی بیان کروں گا، جتنا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۸۴، والحاکم: ۴/ ۲۵۸ (انظر: ۶۹۲۰)
Explanation
فوائد:… فُوَاق سے مراد دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا اور دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک گھڑی کا ذکر ہو چکا ہے۔
10166
Sahih
۔ (۱۰۱۶۷)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ عَبْدِہِ مَالَمْ یُغَـْرغِـرِْ۔)) (مسند احمد: ۶۴۰۸)
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔
Takhreej
(۱۰۱۶۷) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الترمذی: ۳۵۳۷ (انظر: ۶۴۰۸)
Explanation
فوائد:… غرغرہ سے مراد روح کا حلق میں پہنچ جانا ہے، اس کیفیت کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
10167
Sahih
۔ (۱۰۱۶۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَابَ قَبْلَ اَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِھَا قُبِلَ مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۷۶۹۷)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب کی طرف سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی، اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔
Takhreej
(۱۰۱۶۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۷۰۳(انظر: ۷۷۱۱)
10168
Sahih
۔ (۱۰۱۶۹)۔ (وعَنْہُ من طَرِیقٍ ثَانٍ ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَابَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِھَا تَابَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۴۲۴)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مغرب سے سورج طلوع ہونے سے قبل توبہ کر لی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لے گا۔
Takhreej
(۱۰۱۶۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہو جاتا ہے، اس وقت تک توبہ کی قبولیت کا سلسلہ جاری رہے گا، لیکن ہر انسان کے حق میں توبہ کی قبولیت کا قانون حدیث نمبر (۱۰۱۶۷) میں بیان کیا گیا ہے۔
10169
Sahih
۔ (۱۰۱۷۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْبَیْلَمَانِیِّ، قَالَ: اجْتمَعَ اَرْبَعَۃٌ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ اَحَدُھُمْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ قَبْلَ اَنْ یَمُوْتَ بِیَوْمٍ۔)) فَقَالَ الثَّانِیُ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاَنَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ قَبْلَ اَنْ یَمُوْتَ بِنِصْفِ یَوْمٍ۔)) فَقَالَ الثَّالِثُ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاَنَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ : ((اِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰییَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ قَبْلَ اَنْ یَمُوْتَ بِضَحْوَۃٍ)، قَالَ الرَّابِعُ: اَنْتَ سَمِعْتَ ھٰذَا مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاَنَا سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ :((اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ الْعَبْدِ مَالَمْ یُغَرْغِرْ بِنَفْسِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۵۸۱)
۔ عبد الرحمن بن بیلمانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: چار صحابہ کرام جمع ہوئے، ان میں سے ایک نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے ایک دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ دوسرے نے کہا: تو نے یہ بات واقعی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ تیسرے نے کہا: کیا تو نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے، اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: اور میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی موت سے نصف دن پہلے تک اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ چوتھے نے کہا: کیا تو نے یہ حدیث رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سے سنی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: میں نے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتے ہیں، جب تک اس کا دم گلے میں اٹک نہیں جاتا۔
Takhreej
(۱۰۱۷۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبد الرحمن بن البیلمانی، أخرجہ الحاکم: ۴/ ۲۵۷ (انظر: ۱۵۴۹۹)
10170
Zaeef
۔ (۱۰۱۷۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ نَحْوَہٗ۔
۔ (دوسری سند) ایک صحابی سے مروی ہے، پھر اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔
Takhreej
(۱۰۱۷۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
10171
Zaeef
۔ (۱۰۱۷۲)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ یَقْبَلُ تَوْبَۃَ عَبْدِہِ، اَوْ یَغْفِرُ لِعَبْدِہِ مَالَمْ یَقَعِ الْحِجَابُ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! وَمَا الْحِجَابُ؟ قَالَ: ((اَنْ تَمُوْتَ النَّفْسُ وَھِیَ مُشْرِکَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۶)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول کرتا ہے، یا اس کو بخش دیتا ہے، جبکہ تک پردہ واقع نہ ہو جائے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پردے سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی جان کا شرک کی حالت میں مرنا۔
Takhreej
(۱۰۱۷۲) تخریج: اسنادہ ضعیف لجھالۃ عمر بن نعیم وشیخِہ اسامۃ بن سلمان، أخرجہ ابن حبان: ۶۲۷، والبزار: ۴۰۵۶ (انظر: ۲۱۵۲۳)
Explanation
فوائد:… شرک کی حالت میں مرنے والے کے لیے توبہ تائب ہونے کے اسباب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دونوں جہاں میں عفو و عافیت کا سوال کرتے ہیں۔
10172
Zaeef