۔ (۱۰۱۶۶)۔ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَۃُ، قَالَ: اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَیْمُوْنٍ اَخْبَرَنِیْ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ الْحَارِثِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنَّا یُقَالُ لَہُ: اَیُّوْبُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْروٍ یَقُوْلُ : مَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِہِ عَامًا تِیْبَ عَلَیْہِ، وَمَنْ تَابَ قَبْلَ مَوْتِہِ بِشَھْرٍ تِیْبَ عَلَیْہِ، حَتّٰی قَالَ: یَوْمًا حتی قَالَ: سَاعَۃ حَتّٰی قَالَ: فُوَاقًا، قَالَ: قَالَ الرَّجُل: اَرَاَیْتَ اِنْ کَانَ مُشْرِکًا اَسْلَمَ؟ قَالَ: اِنّمَا اُحَدِّثُکُمْ کَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ۔ (مسند احمد: ۶۹۲۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جس نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کی، اس کی توبہ قبول کی جائے گی، جس نے اپنی موت سے ایک ماہ پہلے توبہ کی، اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی،یہاں تک کہ انھوں نے ایک دن، ایک گھڑی، بلکہ ایک فُوَاق کا بھی ذکر کیا۔ ایک آدمی نے کہا: اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگربندہ مشرک ہو اور پھر اس وقت میں مسلمان ہو جائے؟ انھوں نے کہا: میں تم لوگوں کو اتنا ہی بیان کروں گا، جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے۔
Takhreej
(۱۰۱۶۶) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ الطیالسی: ۲۲۸۴، والحاکم: ۴/ ۲۵۸ (انظر: ۶۹۲۰)
Explanation
فوائد:… فُوَاق سے مراد دو دفعہ دوہنے کے درمیان کا اور دوہنے والے کے تھن کو دو دفعہ پکڑنے کے درمیان کا وقت ہے، یہاں دوسرا معنی مراد ہے، کیونکہ اس سے پہلے ایک گھڑی کا ذکر ہو چکا ہے۔
10166
Sahih