TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 12130 - فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان - خلافت و امارت کے مسائل - Musnad Ahmad in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 4 in this chapter
فصل چہارم: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنے اور بادشاہ کا اکرام کرنے کا بیان
۔ (۱۲۱۳۰)۔ (ز۔وَعَنْہٗاَیْضًا) قَالَ: قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَۃَ شِبْرًا خَلَعَ رِبْقَۃَ الْاِسْلَامِ فِی عُنُقِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۱۸۹۳)
سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمانوں کی جماعت کی ایک بالشت بھر بھی مخالفت کی، اس نے اسلام کی رسی اپنی گردن سے اتار پھینکی۔
12130
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۲۱۳۰) تخریج: صحیح لغیرہ، اخرجہ ابوداود: ۴۷۵۸ (انظر: )

Related Chapters

201
1
Chapter: What has been Related About Adhering to the Jama'ah
باب: مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ ہمیشہ رہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
2
فصل چہارم: قبر کے میت کو سختی کی ساتھ دبوچنے کا بیان
Musnad Ahmad
3
فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔
Musnad Ahmad
4
Chapter: The obligation of staying with the Jama'ah (main body) of the muslims when Fitn (tribulations) appear, and in all circumstances. The prohibition of refusing to obey and on splitting away from the Jama'ah
فتنہ اور فساد کے وقت بلکہ ہر وقت مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ رہنا
Sahih Muslim
5
Chapter: The great majority
سواد اعظم (بڑی جماعت کے ساتھ رہنے) کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
6
Chapter: What Has Been Related About Ahl Adh-Dhimmah Fighting With The Muslims, Are They To Recieve A Share Of The Spoils Of War ?
باب: مال غنیمت میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شریک ذمیوں کے حصہ کا بیان
Jam e Tirmazi
7
ان عذروں کا بیان جو جماعت سے پیچھے رہنے کو جائز کردیتے ہیں
Musnad Ahmad
8
سکون کے ساتھ جماعت کی طرف چلنے کی فضیلت
Musnad Ahmad
9
امام اور ایک مقتدی کے ساتھ جماعت کا منعقد ہو جانا، برابر ہے کہ وہ مقتدی مرد ہو یا عورت ہو یا بچہ
Musnad Ahmad
10
جس آدمی نے نماز ادا کر چکنے کے بعد جماعت کو پا لیا تو وہ ان کے ساتھ نفلی نماز ادا کر لے
Musnad Ahmad
11
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
Musnad Ahmad
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
Musnad Ahmad
13
ابراہیم علیہ السلام کا شام کے شہروں کی طرف ہجرت کرنے، راستے میں مصر کے شہروں میں داخل ہونے اور سیدہ سارہ ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کا مصر کے بادشاہ کے ساتھ قصے کا بیان
Musnad Ahmad
14
یمن کے بادشاہ تبع کا ذکر اور اہل مدینہ کے ساتھ اس کے قصے کا بیان
Musnad Ahmad
15
فصل چہارم: خواتین کی حکومت و سربراہی کا بیان
Musnad Ahmad
16
باب چہارم: مناقب صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جو مناسب بیان ہو چکے ہیں۔ ان کے علاوہ ان کے مزید مناقب اور اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت
Musnad Ahmad
17
فصل چہارم: سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی حق کی موافقات یا آپ کا الہام والے لوگوں میں سے ہونا
Musnad Ahmad
18
فصل چہارم: ۱۸ھ میں شام میں پڑنے والے طاعونِ عمواس کا تذکرہ
Musnad Ahmad
19
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی صفات اور ان کے بعض خطبوں کا بیان
Musnad Ahmad
20
فصل چہارم: سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا خواب اور اپنے قتل کے دن سے دوسروں کو مطلع کرنا اور شہادت کی تیاری اور صبر کا بیان
Musnad Ahmad
21
فصل چہارم: عبداللہ بن شداد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی وہ مفصل حدیث جو انہوں نے سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو سنائی تھی، یہ حدیث خوارج کے تفصیلی واقعہ پر مشتمل ہے
Musnad Ahmad
22
فصل چہارم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خبر شہادت کالوگوں تک پہنچنا، اہل عراق کے بارے میں لوگوں کی آراء اور تاریخ شہادت کا بیان
Musnad Ahmad
23
باب چہارم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مقابلہ اور ان کو زیر کرنے کے لیے یزید اور اس کے ساتھیوں کا اپنے لشکروں کو مکہ کی طرف روانہ کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
24
باب چہارم: اس امر کا بیان کہ جو آدمی اہل مدینہ کو خوف زدہ کرے یا ان کے ساتھ بدسلوکی کا ارادہ کرے گا، اللہ اسے ہلاک اور اپنی رحمت سے دور کر دے گا
Musnad Ahmad
25
فصل چہارم: مسجد نبوی میں توسیع کرنے والوں کا بیان
Musnad Ahmad
26
فصل چہارم: عسقلان کی فضیلت
Musnad Ahmad
27
فصل چہارم: یمن کے بعض قبائل کی فضیلت میں وارد احادیث کا بیان
Musnad Ahmad
28
(23) CHAPTER. The participation of menstruating women in the two Eid festivals and in religious gatherings of Muslims and their isolation from the Musalla (praying place).
عیدین میں اور مسلمانوں کے ساتھ دعا میں حائضہ عورتیں بھی شریک ہوں اور یہ عورتیں نماز کی جگہ سے ایک طرف ہو کر رہیں
Sahih Bukhari
29
(36) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) after its time was over.
اس کے بارے میں جس نے وقت نکل جانے کے بعد قضاء نماز لوگوں کے ساتھ جماعت سے پڑھی
Sahih Bukhari
30
(21) CHAPTER. One should not run for As-Salat (the prayer) but present himself with calmness and solemnity.
اس بیان میں کہ نماز کا جو حصہ ( جماعت کے ساتھ ) پا سکو اسے پڑھ لو اور جو نہ پا سکو اسے بعد میں پورا کرلو
Sahih Bukhari
31
(9) CHAPTER. To offer the eclipse Salat (prayer) in congregation.
سورج گرہن کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنا
Sahih Bukhari
32
(5) CHAPTER. The prostration of Muslims along with Al-Mushrikun; and a Mushrik is Najasun (impure) and does not perform ablution;
مسلمانوں کا مشرکوں کے ساتھ سجدہ کرنا حالانکہ مشرک ناپاک ہے ۔اس کو وضو کہاں سے آیا
Sahih Bukhari
33
(109) CHAPTER. The Imam (i.e., Muslim ruler) should be defended (by the Muslims and he is to be taken as their protector).
امام ( بادشاہ اسلام ) کے ساتھ ہو کر لڑنا اور اس کے زیر سایہ اپنا ( دشمن کے حملوں سے ) بچاو کرنا
Sahih Bukhari
34
(13) CHAPTER. Blessed is the wealth of a living or a dead Ghazi (i.e., Muslim fighter) who fought aling with the Prophet (p.b.u.h) or along with the ruler.
اللہ پاک نے مجاہدین کرام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی ‘ اس کا بیان
Sahih Bukhari
35
(41) CHAPTER. The ruler is regarded as a guardian (of the lady who has no relative to be her guardian) as is inferred from the statement of the Prophet : We have married her (that lady) to you for what you know of the Quran (by heart).
باپ کا اپنی بیٹی کا نکاح مسلمانوں کے امام یا بادشاہ سے کرنا ۔
Sahih Bukhari
36
(12) CHAPTER. If one visited a patient and when the time of the Salat (prayer) became due, he led the people present there, in a congregational Salat (prayer).
کوئی شخص کسی مریض کی عیادت کے لیے گیا اور وہیں نماز کاوقت ہو گیا تو وہیں لوگوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرے
Sahih Bukhari
37
(12) CHAPTER. Whoever disliked to increase the number of (those people who practice) Al-Fitan (trials and afflictions) and oppressions (against the believers).
جب ( مسلمانوں کی ) جماعت نہ ہو تو معاملہ کیسے ہو گا ؟
Sahih Bukhari
38
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
Sahih Bukhari
39
Chapter: The virtue of prayer in congregation, and clarifying the stern warning against staying away from it, and that it is fard kifayah
باجماعت نماز کی فضیلت ، اس سے پیچھے رہنے پروعید اور (وضاحت کہ )نماز باجماعت فرض کفایہ ہے
Sahih Muslim
40
Chapter: Souls Are Like Conscripted Soldiers
روحیں (عالم ارواح میں) ایسی جماعتیں ہیں جو ایک دوسرے کے ساتھ رہتی ہیں
Sahih Muslim
41
CHAPTER: The One Who Prays In His House, Then Catches The Congregation, He Should Pray With Them.
باب: جو شخص اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا ہو پھر وہ جماعت پائے تو ان کے ساتھ بھی نماز پڑھے ۔
Sunnan Abu Dawood
42
CHAPTER: Regarding An Idolater Being Alloted A Share.
باب: لڑائی میں مسلمانوں کے ساتھ مشرک ہو تو اس کو حصہ ملے گا یا نہیں ؟
Sunnan Abu Dawood
43
Chapter: Severe warning Against Missing Prayer In Congregation
جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
44
جس شخص پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے نماز جنازہ پڑھی اس کی فضیلت کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
45
مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں غلام اور عورتوں کی شرکت
Sunnan Ibn e Maja
46
جماعت سے پیچھے رہنے کی شناعت کا بیان۔
Sunnan Nisai
47
تنہا نماز پڑھنے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
48
تنہا نماز پڑھنے والے کا فجر کی نماز جماعت کے ساتھ دہرانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
نماز کا وقت نکل جانے کے بعد جماعت کے ساتھ نماز دہرانے کا بیان۔
Sunnan Nisai
50
جو آدمی مسجد میں امام کے ساتھ باجماعت نماز پڑھ چکا ہو اس سے فریضہ نماز کے ساقط ہونے کا بیان۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

135
Musnad Ahmad
9429
۔ (۹۴۲۹)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ اَنَسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کاَنَ یُعْجِبُنَا اَنْ یَّجِيْئَ الرَّجُلُ مِنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ فَیَسْاَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ اَعْرَابِیٌّ فَقَالَ: یا رَسُوْلَ اللّٰہِ!، مَتّٰی قِیَامُ السَّاعَۃِ؟ اُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِہِ قَالَ: ((اَیْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَۃِ؟)) قَالَ: اَنَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((وَمَا اَعْدَدْتَ لَھَا؟)) قَالَ: مَا اَعْدَدْتُ لَھَا مِنْ کَثِیْرِ عَمَلٍ، لَا صَلَاۃٍ وَ لَا صِیَامٍ اِلَّا اَنِّیْ اُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْمَرْئُ مَعَ مَنْ اَحَبَّ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَاِنَّکَ مَعَ مَنْ اَحْبَبَتَ وَلَکَ مَا اَحْبَبْتَ) قَالَ اَنَسٌ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: فَمَا رَاَیْتُ الْمِسْلِمِیْنَ فَرِحُوْا بَعْدَ الْاِسْلَامِ بِشَیْئٍ مَافَرِحُوْا بِہٖ۔ (مسنداحمد: ۱۲۰۳۶)
۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:ہم اس بات کو پسند کرتے تھے کہ کوئی دیہاتی آدمی آئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کرے، پس ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ اتنے میں نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز شروع کر دی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا: جی میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے پوچھا: اور تو نے اس کے لیے کیا تیاری کر رکھی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے زیادہ عمل تو نہیں کیے، نہ زیادہ نماز ہے اور نہ زیادہ روزے ہیں، البتہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہو گا، جس سے وہ محبت کرے گا۔ ایک روایت میں: پس بیشک تو اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے تو محبت کرتا ہے اور تیرے لیے وہی کچھ ہے، جو تو پسند کرتا ہے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے نہیں دیکھا کہ مسلمان قبولیت ِ اسلام کے بعد اتنے زیادہ خوش ہوئے ہوں، جتنے اس دن ہوئے تھے۔
Musnad Ahmad
9802
۔ (۹۸۰۲)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یَتَّخِذُ اَحَدُکُمُ السَّائِمَۃَ، فَیَشْھَدُ الصَّلَاۃَ فِیْ جَمَاعَۃٍ، فَتَتَعَذَرُّ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ، فَیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا، فَیَتَحَوَّلُ وَلَا یَشْھَدُ اِلَّا الْجُمُعَۃَ، فَتَتَعَذَّرُ عَلَیْہِ سَائِمَتُہُ فیَقُوْلُ : لَوْ طَلَبْتُ لِسَائِمَتِیْ مَکَانًا ھُوَ اَکْلَاُ مِنْ ھٰذَا فَیَتَحَوَّلُ فَـلَا یَشْھَدُ الْجُمُعَۃَ وَلَا الْجَمَاعَۃَ، فَیُطْبَعُ عَلٰی قَلْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۰۷۸)
۔ سیدنا حارثہ بن نعمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک آدمی چرنے والے مویشی پالتاہے اور نماز باجماعت میں حاضر ہوتا ہے، پھر اس کے مویشی اس کے لیے مشکل پیدا کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے: اگر میں اپنے مویشیوں کے لیے زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے چلا جاتا ہے اور دور ہو جانے کی وجہ سے صرف نمازِ جمعہ میں حاضر ہوتا ہے، لیکن اس مقام پر بھی اس کے مویشی اس کے لیے مشقت پیدا کر دیتے ہیں، پھر وہ کہتا ہے: اگر میں اس مقام کی بہ نسبت زیادہ گھاس والی جگہ تلاش کر لوں، پس وہ وہاں سے بھی منتقل ہو جاتا اور اتنا دور ہو جاتا ہے کہ نمازِ جمعہ کے لیے نہیں آتا اور نہ جماعت میں حاضر ہوتا ہے، ایسی صورتحال میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے۔
Musnad Ahmad
1324
۔ (۱۳۲۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ طَہُوْرًا وَمَسْجِداً، فَأَیُّمَا رَجُلِ أَدْرَکَتْہُ الصَّلَاۃُ فَلْیُصَلِّ حَیْثُ أَدْرَکَتْہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۴۳۱۴)
سیّدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے لیے زمین کو پاک کرنے والا اورمسجد بنا دیا گیا ہے، لہٰذا جس آدمی کو جہاں بھی نماز پالے،وہ وہیںنماز ادا کرلے۔
Musnad Ahmad
1406
۔ (۱۴۰۶) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَی جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِہِ وَرِدَاؤُہُ قَرِیْبٌ لَوْ تَنَاوَلَہُ بَلَغَہُ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاہُ عَنْ ذٰلِکَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَفْعَلُ ھٰذَا لِیَرَانِیَ الْحَمْقٰی أَمْثَالُکُمْ فَیُفْشُوْا عَلٰی جَابِرٍ رُخْصَۃً رَخَّصَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی بَعْضِ أَسْفَارِہِ فَجِئْتُہُ لَیْلَۃً وَھُوَ یُصَلِّیْ فِی ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَعَلَیَّ ثَوْبٌ وَّاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِہِ، ثُمَّ قُمْتُ إِلٰی جَنْبِہِ، قَالَ: ((یَاجَابِرُ مَا ھٰذَا الإِْشْتِمَالُ؟ إِذَا صَلَّیْتَ وَعَلَیْکَ ثَوْبٌ وَّاحِدٌ فَإِنْ کَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِہِ، وَإِنْ کَانَ ضَیِّقًا فَاتَّزِرْبِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۴۵۷۲)
سعید بن حارث کہتے ہیں : ہم سیّدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کے پاس اس حالت میں داخل ہوئے کہ وہ ایک کپڑے میںلپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی اوپر والی چادر ان کے اتنی قریب تھی کہ اگر وہ اسے پکڑنا چاہتے تو پکڑ لیتے۔ بہرحال جب انھوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے اس لباس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا: میں نے یہ کام صرف اس لیے کیا ہے تا کہ تمہارے جیسے بیوقوف مجھے دیکھ کر جابر پر ایسی رخصت کا چرچاکریں جس کی اجازت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دی تھی۔ پھر سیّدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک سفر میں نکلا، جب میں (دورانِ سفر) رات کے وقت آپ کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے، جبکہ مجھ پر بھی ایک ہی کپڑا تھا، اس لیے میں نے اس کے ساتھ اشتمال کیا اور آپ کی ایک جانب کھڑا ہو گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جابر! یہ اشتمال کیسا ہے؟ جب تو اس حالت میں نماز پڑھے کہ تجھ پر ایک ہی کپڑا ہو، اگر وہ وسیع ہو تو اس سے التحاف کر لیا کر اور کپڑا تنگ ہونے کی صورت میں صرف ازار باندھ لیا کر۔
Musnad Ahmad
1683
۔ (۱۶۸۳) (وَمِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا خَلَفُ بِنُ الْوَلِیْدِ ثَنَا خَالِدٌ عَنْ سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ عَنِ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَمِّہٖقَالَ: رَمَقْتُرَسُوْلَاللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی صَلاَتِہِ فَکَانَ یَمْکُثُ فِی رُکُوْعِہٖ وَسُجُوْدِہٖقَدْرَمَایَقُوْلُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖثَلاَثًا۔ (مسنداحمد: ۲۲۶۸۵)
۔ (دوسری سند)ان کا باپ ان کے چچے سے روایت کرتا ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نماز میں بغور دیکھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رکوع وسجود میں اتنی دیر ٹھہرتے تھے، جیسے کوئی آدمی تین دفعہ یہ کلمہ کہے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ۔
Musnad Ahmad
1701
۔ (۱۷۰۱) عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لاَ یَنْظُرُ اللّٰہُ إِلٰی صَلاَۃِ رَجُلٍ لاَ یُقِیْمُ صُلْبَہٗبَیْنَ رُکُوْعِہٖوَسُجُوْدِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۱۰۸۱۲)
سیدناابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی کی نماز کی طرف نہیں دیکھتا، جو رکوع و سجود میںاپنی کمر سیدھی نہیںکرتا۔
Musnad Ahmad
1779
۔ (۱۷۷۹) عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: عَلَّمَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم التَّشَہُّدَ وَأَمَرَہُ أَنْ یُعَلِّمَ النَّاسَ: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۳۹۲۱)
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے تشہد کی تعلیم دی اور یہ حکم بھی دیا کہ وہ لوگوں کو بھییہ سکھائے: ((اَلتَّحِیَِّاتُ لِلّٰہِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّیِّبَاتُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّہَا النَّبِیُّ وَرَحَمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللّٰہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗوَرَسُوْلُہٗ۔))
Musnad Ahmad
1784
۔ (۱۷۸۴) عَنْ أَبِیْ مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَدِیثٍ ذَکَرَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَّمَہُمْ الصَّلاَۃَ (إِلٰی أَنْ قَالَ:) ((فَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَۃِ فَلْیَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ أَنْ یَّقُوْلَ: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔)) (مسنداحمد: ۱۹۸۹۹)
سیدناابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایسی حدیث نقل کرتے ہیں، جس میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو نماز کی تعلیم دی،یہاں تک کہ فرمایا: جب تم سے کوئی قعدے میں ہو تو سب سے پہلے یہ کہے: اَلتَّحِیَّاتُ الطَّیِّبَاتُ الصَّلَوَات لِلَّہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَاالنَّبِیُّ وَرَحْمَۃُ اللَّہِ وَ بَرَکَاَتُہُ، اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحیْنَ، أَشْہَدُ أَنْ لاَّ إِلٰہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ۔
Musnad Ahmad
3623
۔ (۳۶۲۳) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِذَا کَانَ اَحَدُکُمْ فَقِیْرًا، فَلْیَبْدَأْ بِنَفْسِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌ فَعَلٰی عِیَالِہٖ، وَإِنْ کَانَ فَضْلٌ فَعَلٰی ذَوِیْ قَرَابَتِہٖاَوْقَالَ،عَلٰی ذَوِیْ رَحِمِہٖ،وَإِنْکَانَفَضْلٌفَہَاہُنَاوَہٰہُنَا)) (مسنداحمد: ۱۴۳۲۴)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی خود ضرورت مند ہو تو وہ اپنے آپ پر خرچ کرنے سے ابتدا کرے، اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل و عیال پر خرچ کرے، اگر پھر بھی مال بچ جائے تو دوسرے رشتہ داروں پر خرچ کرے اور اگر مزید گنجائش ہو تو ادھر ادھر دوسرے ضرورت مندوں پر خرچ کرے۔