TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا - جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا - نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 12 of نیکی اور صلہ رحمی کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 19 · 2 Hadith
۔ (۹۱۰۱)۔ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ، قَال: بَیْنَا اَنَاجَاِلسٌ مَعَ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اِذْ طَلَعَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ غِفَارٍ، ابْنٌ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ طِھْفَۃَ، فَقَالَ اَبُوْ سَلَمَۃَ: اَلا تُخْبِرُنَا عَنْ خَبْرِ اَبِیْکَ؟ قَالَ: حَدَّثَنِیْ اَبِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ طِھْفَۃَ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا کَثُرَ الضَّیْفُ عِنْدُہُ، قَالَ: ((لِیَنْقَلِبْ کُلُّ رَجُلٍ بِضَیْفِہِ۔)) حَتّٰی اِذَا کَانَ ذَاتُ لَیْلَۃٍ اجْتَمَعَ عِنْدَہُ ضِیْفَانٌ کَثِیْرٌ،وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لِیَنْقَلِبْ کُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِیْسِہِ۔)) قَالَ: فَکُنْتُ مِمَّنِ انْقَلَبَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمَّادَخَلَ، قَالَ: ((یَاعَائِشَۃُ! ھَلْ مِنْ شَیْئٍ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، حُوَیْسَۃٌ کُنْتُ اَعْدَدْتُّھَا لِاِفْطَارِکَ، قَالَ: فَجَائَ تْ بِھَا فِیْ قُعَیْبَۃٍ لَّھَا، فَتَنَاوَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْھَا قََِیْـلًا فَاَکَلَہُ، ثُمَّ قَالَ: ((خُذُوْا بِاسْمِ اللّٰہِ۔)) فَاَکَلْنَا مِنْھَا حَتّٰی مَانَنْظُرُ اِلَیْھَا، ثُمَّ قَالَ: ((ھَلْ عِنْدَکِ مِنْ شَرَابٍ۔)) قَالَتْ: نَعَمْ، لُبَیْنَۃٌ کُنْتُ اَعْدَدْتُّھَا لَکَ، قَالَ: ((ھَلُمِّیْھَا۔)) فَجَائَ تْ بِھَا فَتَنَاوَلَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرَفَعَھَا اِلٰی فِیْہِ فَشَرِبَ قَلِیْلاً، ثُمَّ قَالَ: ((اشْرَبُوْا بِسْمِ اللّٰہِ۔)) فَشَرِبْنَا حَتّٰی وَاللّٰہِ مَانَنْظُرُ اِلَیْھَا، ثُمَّ خَرَجْنَا، فَاَتََیْنَا الْمَسْجِدَ فَاضْطَجَعْتُ عَلٰی وَجْہِیْ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یُوْقِظُ النَّاسَ ((الصَّلاۃَ الصَّلاۃَ)) وَکَانَ اِذَا خَرَجَ یُوْقِظُ النَّاسَ لِلصَّلاۃِ، فَمَرَّ بِیْ وَاَنَا عَلیٰ وَجْھِیْ، فَقَالَ: ((مَنْ ھٰذَا؟)) فَقُلْتُ: اَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنْ طِھْفَۃَ ، فَقَالَ: ((اِنَّ ھٰذِہِ ضِجْعَۃٌیَکْرَھُھَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۲۴۰۱۵)
۔ حارث بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بنو غفار کا ایک آدمی ہمارے پاس آ گیا،یہ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیٹا تھا، ابو سلمہ نے اس آدمی سے کہا: کیا تو ہمیں اپنے باپ کا واقعہ نہیں بتلائے گا؟ اس نے کہا: میرے باپ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس مہمان زیادہ ہو جاتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: ہر آدمی ایک مہمان کو اپنے گھر لے جائے۔ ایک رات بہت زیادہ مہمان جمع ہو گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنے ہم نشیں کے ساتھ چلا جائے۔ میں عبد اللہ بن طہفہ ان لوگوں میں تھا، جو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ گئے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر میں داخل ہوئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، حویسہ (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار شدہ کھانا) ہے، میں نے آپ کی افطاری کے لیے تیار کیاتھا، پھر وہ ایک چھوٹے پیالے میں لے کر آگئیں، پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود اس کو پکڑا، اس سے کچھ تناول کیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔ پس ہم نے اس سے کھایا،یہاں تک کہ ہم (زیادہ سیر ہو جانے کی وجہ سے) اس کو دیکھ نہیں رہے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ سے فرمایا: کیا کوئی مشروب ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تھوڑا سا دودھ ہے، میں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ۔ پس وہ لے کر آئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو پکڑا، اپنی منہ کی طرف اٹھایا اور اس سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ پیو۔ پس ہم نے پیا،یہاں تک کہ اللہ کی قسم! ہم (کثرت ِ سیرابی کی وجہ سے) اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے، پھر ہم وہاں سے نکل کر مسجد میںآگئے اور میں چہرے کے بل لیٹ گیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز کے لیے جگانے کے لیے فرمانے لگے: نماز، نماز، اور جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم باہر نکلتے تھے تو لوگوں کو نماز کے لیے جگاتے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اپنے چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبد اللہ بن طہفہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ لیٹنے کے اس انداز کو نا پسند کرتا ہے۔
Takhreej
(۹۱۰۱) تخریج:اسنادہ ضعیف لجھالۃ ابن عبد اللہ بن طھفۃ، أخرجہ البخاری فی تاریخہ الکبیر : ۴/ ۳۶۶، فی الاوسط : ۱/ ۱۵۲ (انظر: ۲۳۶۱۶)
Explanation
فوائد:… اگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خود ضیافت نہ کر سکتے تو صحابۂ کرام کو حکم فرماتے کہ وہ مہمانوں کو لے جائیں۔
9101
Zaeef
۔ (۹۱۰۲)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِیْ بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ اَصْحَابَ الصُّفْۃِ کَانُوْا اُنَاسًا فُقَرَائَ، وَاَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ مَرَّۃً: ((مَنْ کَانَ عِنْدَہُ طَعَامُ اثْنَیْنِ، فَلْیَذْھَبْ بِثَالِثٍ، مَنْ کَانَ عَنْدَہُ طَعَامُ اَرْبَعَۃٍ فَلْیَذْھَبْ بِخَامِسٍ، بِسَادِسٍ۔)) اَوْ کَمَا قَالَ: وَاَنَّ اَبَا بَکْرٍ جَائَ فَانْطَلَقَ نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِعَشَرَۃٍ وَاَبُوْبَکْرٍ بِثَـلَاثَۃٍ، قَالَ: فَھُوَ اَنَا وَاَبِیْ وَاُمِیِّ وَلا اَدْرِیْ ھَلْ قَالَ: وَاِمْرَاَتِیْ، وَخَادِمٌ بَیْنَ بَیْتِنَا وَبَیْتِ اَبِیْ بَکْرٍ، وَاِنَّ اَبَابَکْرٍ تَعَشّٰی عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ لَبِثَ حَتّٰی صَلَّیْتُ الْعِشَائَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَبِثَ حَتّٰی نَعَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَائَ بَعْدَ مَامَضٰی مِنَ اللَّیْلِ مَاشَائَ اللّٰہُ، قَالَتْ لَہُ امْرَاَتُہُ: مَاحَبَسَکَ عَنْ اَضْیَافِکَ، اَوْ قَالَتْ: ضَیْفِکَ؟ قَالَ: اَوْ مَاعَشَّیْتِھِمْ؟ قَالَتْ: اَبَوْا حَتّٰی تَجِیْئَ، قَدْ عَرَضُوْا عَلَیْھِمْ فَغَلَبُوْھُمْ، قَالَ: فَذَھَبْتُ اَنَا فَاخْتَبَاْتُ، قَالَ: یَا غُنْثَرُ اَوْ یَا عَنْتَرُ، فَجَدَّعَ، وَسَبَّ، وَقَالَ: کُلُوْا لا ھَنِیًّا، وَقَالَ: وَاللّٰہِ لااَطْعَمُہُ اَبَدًا، قَالَ: وَحَلَفَ الضَّیْفُ اَنْ لا یَطْعَمَہُ حَتّٰییَطْعَمَہُ اَبُوْبَکْرٍ، قَالَ: فَقَالَ اَبُوْ بَکْرٍ: ھٰذِہِ مِنَ الشَّیْطَانِ، قَالَ: فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَاَکَلَ، قَالَ: فَاَیْمُ اللّٰہِ مَاکُنَّا نَاْخُذُ مِنْ لُقْمَۃٍ اِلَّا رَبَا مِنْ اَسْفَلِھَا اَکْثَرَ مِنْھَا قَالَ: حَتّٰی شَبِعُوْا، وَصَارَتْ اَکْثَرَ، مِمَّا کَانَتْ قَبْلَ ذٰلِکَ، فَنَظَرَ اِلَیْھَا اَبُوْبَکْرٍ، فَاِذَا ھِیَ کَمَا ھِیَ، اَوْ اَکْثَرُ، فَقَالَ لِاِمْرَاَتِہِ: یَااُخْتَ بَنِیْ فِرَاسٍ! مَاھٰذَا؟ قَالَتْ: لَا وَقُرَّۃِ عَیْنِیْ لَھِیَ الْآنَ اََکْثَرُ مِنْھَا قَبْلَ ذٰلِکَ بِثَـلَاثِ مِرَارٍ، فَاَکَلَ مِنْھَا اَبُوْبَکْرٍ، وَقَالَ: اِنَّمَا کَانَ ذٰلِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ،یَعْنِیْیَمِیْنَہُ، ثُمَّ اَکَلَ لُقْمَۃً، ثُمَّ حَمَلَھَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاَصْبَحَتْ عِنْدَہُ، قَالَ: وَکَانَ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ، فَمَضَی الْاَجَلُ، فَعَرَّفْنَا ا ثْنَیْ عَشَرَ رَجُلًا مَعَ کُلِّ رَجُلٍ اُنَاسٌ،وَ اللّٰہُ اَعْلَمُ، کَمْ مَعَ کُلِّ رَجُلٍ، غَیْرَاَنَّہُ بَعَثَ مَعَھُمْ، فَاَکَلُوْا مِنْھَا اَجْمَعُوْنَ اَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۲)
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ اصحاب ِ صفہ فقیر لوگ تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بار فرمایا: جس کے پاس دو افراد کا کھانا ہو، وہ تیسرا بندہ لے جائے، جس کے پاس چار افراد کا کھانا ہو، وہ پانچواں اور چھٹا بندہ لے جائے۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آئے، پس نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دس افراد کو اور سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تین افراد کو لے گئے۔ عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: گھر میں میں، میرے باپ، میری ماں اور ہمارے اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کاایک خادم تھا، راوی کو یہیاد نہیں رہا کہ انھوں نے بیوی کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس شام کا کھانا کھا لیا، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے نماز کی عشاء پڑھی، پھر وہ واپس لوٹ گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ہی ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اونگھ آنے لگی، پھر وہ رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد گھر واپس آئے، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنے مہمانوں سے روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے ان کو شام کا کھانا نہیں کھلایا؟ انھوں نے کہا: انھوں نے آپ کی آمد تک انکار کر دیا، ہم نے ان کو کھانا پیش کیا تھا، لیکن ان کا انکار ہم پر غالب آیا۔ عبد الرحمن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نکلاور چھپ گیا، انھوں نے کہا: اے غُنْثَر! یا اے عَنْتَر! پس انھوں نے مجھے بد دعا دی اور برا بھلا کہا، اور مہمانوں سے کہا: کھاؤ، خوشگوارنہ ہو، اللہ کی قسم! میں بالکل نہیں کھاؤں گا، اُدھر مہمان نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ ابھی اس وقت نہیں کھائے گا، جب تک ابو بکر نہیں کھائیں گے، سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، پھر انھوں نے کھانا منگوایا اور کھا لیا اور کہا: اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ پکڑتے تھے، اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھ جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے زیادہ پڑا تھا، جب سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کھانا تو اسی مقدار میں پڑا ہوا، بلکہ اس سے زیادہ ہے، پس انھوں نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے زیادہ لگ رہا ہے، انھوں نے یہ بات تین بار دوہرائی، پس ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کھایا اور کہا: یہ قسم تو شیطان کی طرف سے تھی، پھر انھوں نے لقمہ کھایا اور پھر وہ کھانا اٹھا کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طر ف لے گئے اور وہ کھانا صبح کے وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھا، عبد الرحمن کہتے ہیں: ہمارے اور لوگوں کے ما بین معاہدہ تھا اور وہ مدت گزر گئی تھی، پس ہم نے بارہ نقیب بنائے، ہر نقیب کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی کتنی تھی، بہرحال ان کو ان کے ساتھ بھیجا تھا، پس ان سب نے اس کھانے سے کھا لیا تھا۔
Takhreej
(۹۱۰۲) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرج بنحوہ وبالاختصار البخاری: ۶۱۴۰، ومسلم: ۲۰۵۷ (انظر: ۱۷۱۲)
Explanation
فوائد:… صحیح بخاری کی ایک روایت میں اصحاب ِ صفہ کو اَضَیَافُ الْاِسْلَام یعنی اسلام کے مہمان قرار دیا گیا۔ اَبُوْابُ تَعْظِیْمِ حُرُمَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ مسلمانوں کی حرمتوں کی عظمت کے ابواب وَبَیَانُ حُقُوْقِھِمْ وَالشَّفْقَۃِ عَلَیْھِمْ وَالنُّصْحِ لَھُمْ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِھِمْ وَسَتْرِعَوْرَاتِھِمْ وَغَیْرِ ذٰلِکَ۔ مسلمانوں کے حقوق،ان پر شفقت کرنے، ان کی خیرخواہی کرنے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور ان کے عیوب پر پردہ ڈالنے وغیرہ کا بیان۔
9102
Sahih

Chapters

19
01
نیکی اور گناہ کی تعریف کا بیان
4 Hadith
02
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
26 Hadith
03
اولاد اور پھر قریب سے قریب تر رشتہ داروں کے ساتھ نیکی کرنا
10 Hadith
04
اولاد کے فوائد اور ان کی تربیت کرنے اور ان پر نرمی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
05
بیٹیوں کا اکرام کرنے کی ترغیب اور ان کی تربیت اور ان پر نرمی کرنے کی فضیلت کا بیان
13 Hadith
06
صلہ رحمی کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
07
یتیم کی کفالت کرنے، اس کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے اوربیواؤں اور مسکینوں کی حفاظت و نگرانی کرنے کی ترغیب کا بیان
7 Hadith
08
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
14 Hadith
09
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب مہمان کا اکرام کرنے کی ترغیب اور اس کی فضیلت و برکت کا بیان
6 Hadith
10
مہمان کے لیے تکلف نہ کرنے کا بیان
2 Hadith
11
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
9 Hadith
12
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کاایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
2 Hadith
13
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
8 Hadith
14
مسلمان کی مدد کرنے، اس کی تنگی کو دور کرنے، اس کی حاجت کو پورا کرنے اور اس کے نقائص پر پردہ ڈالنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
15
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
6 Hadith
16
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
17
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
5 Hadith
18
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
9 Hadith
19
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
11 Hadith
No chapter matched that.