TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 1853 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 2 of 2 in this chapter
نمازی کا نماز کے بعد نماز والی جگہ میں ہی بیٹھنے رہنا، اس کی فضیلت کا بیان
۔ (۱۸۵۳) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ) قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ وَقَدْ صَلَّی الْفَجْرَ وَھُوَ جَالِسٌ فِی الْمَجْلِسِ فَقُلْتُ: لَوْ قُمْتَ إِلٰی فِرَاشِکَ کَانَ أَوْطَأَ لَکَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ صَلَّی الْفَجْرَ ثُمَّ جَلَسَ فِیْ مُصَلاَّہُ صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ…۔)) (وَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیثِ الْمُتَقَدِّمِ)۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱)
۔ (دوسری سند)عطا بن سائب کہتے ہیں: میں ابو عبد الرحمن سُلَمی کے پاس گیا، جبکہ وہ نماز فجر پڑھ کر اپنی جائے نماز میں ہی بیٹھے ہوئے تھے، میں نے ان سے کہا: اگر آپ اٹھ کر اپنے بستر پر چلے جائیں تو یہ آپ کے لیے زیادہ موافق ہو گا۔ انھوں نے جواباً کہا: میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو نمازِ فجر ادا کر کے اپنی جائے نماز میں بیٹھ جائے تو فرشتے اس کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، …۔ پھر گزشتہ حدیث کی طرح ذکر کیا۔
1853
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۱۸۵۳) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ البزار: ۵۹۶ (انظر: ۱۲۵۱)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فضیلت نمازِ فجر کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ ہر فرضی نماز سے متعلقہ ہے، نیز اس کی دو شرطیں بھی ہیں، درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیں: سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ((اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ کَانَ فِیْ صَلَاۃٍ مَا کَانَتِ الصَّلَاۃُ تَحْبِسُہٗوَالْمَلَائِکَۃُیُصَلُّوْنَ عَلٰی اَحَدِکُمْ مَا دَامَ فِیْ مَجْلِسِہِ الَّذِیْ صَلّٰی فِیْہِیَقُوْلُوْنَ: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلَہٗ،اَللّٰھُمَّارْحَمْہُ، اَللّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ، مَا لَمْیُحْدِثْ فِیْہِ مَا لَمْ یُؤْذِ فِیْہِ))… جب تم میں سے کوئی آدمی مسجد میں داخل ہوتا ہے تو جب تک نماز اسے روکے رکھتی ہے، وہ نمازمیں ہی رہتا ہے، اور جب تک تم میں سے کوئی آدمی (نماز کے بعد) اسی جگہ میں بیٹھا رہتا ہے تو فرشتے اس کے لیےیوں دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما، اے اللہ! اس پر رجوع کر، (یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک) وہ بے وضو نہ ہو جائے اور یا کسی کو تکلیف نہ دے دے۔

Related Chapters

2,006
1
Chapter: The virtue of sitting in one’s prayer place after Subh, and the virtue of the masajid
صبح ( کی نماز) کے بعد اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہنے اور مساجد کی فضیلت
Sahih Muslim
2
Chapter: What Has Been Related About The Virtues Of Sitting In The Masjid And Waiting For The Salat
باب: مسجد میں بیٹھنے اور نماز کے انتظار کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
3
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Six Voluntary Rak'ah After Al-Maghrib
باب: مغرب کے بعد نفل نماز اور چھ رکعت پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
4
وضو اور اس کے بعد پڑھی جانے والی نماز کی فضیلت
Musnad Ahmad
5
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
Musnad Ahmad
6
(33) CHAPTER. To offer the missed Salat (prayers) and the like after the Asr prayer.
عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا
Sahih Bukhari
7
(17) CHAPTER. The superiority of remaining with ablution during the day and night and the superiorit of offering As-Salat (prayers) after ablution during the day and night.
دن اور رات میں باوضو رہنے کی فضیلت اور وضو کے بعد رات اور دن میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Sahih Bukhari
8
Chapter: The virtue of performing wudu’ and salat
وضو اور اس کے بعد نماز پڑھنے کی فضیلت
Sahih Muslim
9
Chapter: It is permissible to leave to the right or left after finishing the prayer
نماز سے فراغت کے بعد دائیں اور بائیں دونوں طرف رخ کر کے پھیرنے (نمازیوں کی طرف رخ کرنے)کا جواز
Sahih Muslim
10
CHAPTER: Praying In Camel Resting Areas.
باب: اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ ( باڑے ) میں نماز پڑھنے کی ممانعت ۔
Sunnan Abu Dawood
11
نمازی پر کھڑے ہو جانے کے بعد امام کو یاد آئے کہ وہ ناپاک ہے تو کیا کرے ؟
Sunnan Nisai
12
نماز میں بیٹھنے کی حالت میں) ہاتھوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
13
نماز میں بیٹھنے کی حالت میں کہنیوں کے رکھنے کی جگہ کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
سلام پھیرنے کے بعد قبلہ سے پلٹ کر نمازیوں کی طرف رخ کرنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
سورج گرہن کی نماز کے بعد (خطبہ دینے کے لی) منبر پر بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
باب: نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد سواری پر بیٹھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
19
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
21
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: What Has Been Related About How Many Prayers Allah Made Obligatory Upon His Servants
باب: اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟
Jam e Tirmazi
23
Chapter: [What Has Been Related] About The Virtue Of The Five Prayers
باب: پنج وقتہ نمازوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
24
Chapter: What Has Been Related About the Virtue Of Salat In Congregation
باب: باجماعت نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About The Salat Performed In Masjid Quba
باب: مسجد قباء میں نماز کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related About The Sutrah For The One Performing Salat
باب: نمازی کے سترے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
Chapter: What Has Been Related About The Dislike for Passing In Front Of The Person Performing Salat
باب: نمازی کے آگے سے گزرنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
28
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
29
Chapter: What Has Been Related About Salat In Sheep Pens And The Resting Area Of Camels
باب: بکریوں کے باڑوں اور اونٹ باندھنے کی جگہوں میں نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About The Imam Getting Up Forgetfully After Two Rak'ah
باب: امام دو رکعت کے بعد بیٹھنے کے بجائے بھول کر کھڑا ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
Jam e Tirmazi
31
Chapter: What Has Been Related About At-Tasbih At The End Of Salat
باب: نماز کے بعد کی تسبیح (اذکار) کا بیان
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat After Fajr Begins Except For Two Rak'ah'
باب: طلوع فجر کے بعد سوائے فجر کی دو رکعت سنت کے کوئی نماز نہیں
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About One Who Misses The Two Rak'ah Before Fajr Praying Them After The Subh Prayer
باب: فجر سے پہلے کی دونوں سنتیں چھوٹ جائیں تو انہیں نماز فجر کے بعد پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Voluntary Salat In The House
باب: نفل نماز گھر میں پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
35
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Al-Witr
باب: نماز وتر کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About 'There Is No Salat Before The Two Eid And No Salat After Them'
باب: نماز عید سے پہلے اور اس کے بعد کوئی نفل نماز نہیں ہے
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About The One Who Prays The Obligatory Prayer, Then Leads The People In Prayer After That
باب: فرض نماز پڑھنے کے بعد لوگوں کی امامت کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: What Has Been Mentioned About What Is Recommended When Sitting After The Subh Prayer Until The Sun Has Risen
باب: نماز فجر کے بعد سورج نکلنے تک مسجد میں بیٹھنا مستحب ہے
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Mentioned About Salat After Maghrib Is More Virtuous In The House
باب: مغرب کے بعد کی نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے
Jam e Tirmazi
40
Chapter: What Has Been Related About The Virtue Of Salat For A Funeral
باب: نماز جنازہ کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Tread On Graves, Sit On Them, (And Pray Towards Them)
باب: قبروں پر چلنے، ان پر بیٹھنے اور ان کی طرف نماز پڑھنے کی کراہت
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has been Related About Slaughtering After The Salat
باب: نماز عید کے بعد قربانی کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About The Scaredness Of Salat
باب: نماز کے تقدس و فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related Concerning The Group That Sits to Remember Allah The Mighty And Sublime, What Virtues They Have
باب: ایک جگہ بیٹھ کر ذکر الٰہی کرنے والوں کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
45
بَاب الذّكر بعد الصَّلَاة
نماز کے بعد ذکر کا بیان
Mishkat
46
بَاب الْجَمَاعَة وفضلها
با جماعت نماز اور اس کی فضیلت کا بیان
Mishkat
47
بَاب الْموقف
(نماز میں) کھڑے ہونے کی جگہ کا بیان
Mishkat
48
وضو، مسجدوںکی طرف چلنے اور اِس وضو سے نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
49
ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنے اور ایک وضو کے ساتھ ایک سے زائد نمازیں پڑھنے کا بیان
Musnad Ahmad
50
ان لوگون کی دلیل کا بیان جو یہ کہتے ہیں کہ اگر مستحاضہ طاقت رکھتی ہو تو وہ ہر نماز کے لیے علیحدہ غسل کرے یا ایک غسل میں دو نمازیں جمع کر لے
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

126
Musnad Ahmad
215
۔ (۲۱۵)۔ عَنْ أَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ عَنْ عَلِیٍّؓ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ذَاتَ یَوْمٍ جَالِسًا وَفِیْ یَدِہِ عُوْدٌ یَنْکُتُ بِہِ، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: ((مَامِنْکُمْ مِنْ نَفْسٍ اِلَّا وَقَدْ عُلِمَ مَنْزِلُہَا مِنَ الْجَنَّۃِ وَالنَّارِ۔)) قَالَ: فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَلِمَ نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((اِعْمَلُوْا!فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہُ۔)) {أَمَّا مَنْ أَعْطٰی وَاتَّقٰی وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْیُسْرٰی، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی وَکَذَّبَ بِالحُسْنٰی فَسَنُیَسِّرُہُ لِلْعُسْرٰی} (مسند أحمد: ۶۲۱)
سیدنا علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے ہاتھ میں لکڑی تھی، آپ اس سے زمین کو کرید رہے تھے، اتنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی منزل کا علم ہو چکا ہے کہ وہ جنت ہے یا جہنم۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر ہم عمل کیوں کر رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم عمل کرو، ہر ایک کو جس عمل کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے ربّ سے) ڈرا اور نیک بات کی تصدیق کی۔ تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے۔ لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی اور نیک بات کی تکذیب کی۔ تو ہم بھی اسی کے لیے اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے۔ (سورۂ لیل: ۵ تا۱۰)
Musnad Ahmad
219
۔ (۲۱۹)۔عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ قَتَادَۃَ السُّلَمِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ ثُمَّ أَخَذَ الْخَلْقَ مِنْ ظَہْرِہِ وَقَالَ: ہٰؤُلَائِ فِی الْجَنَّۃِ وَلَا أُبَالِیْ وَ ہٰؤُلَائِ فِی النَّارِ وَلَا أُبَالِیْ۔)) قَالَ: فَقَالَ قَائِلٌ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَعَلٰی مَاذَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((عَلَی مَوَاقِعِ الْقَدْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۸۱۰)
سیدنا عبد الرحمن بن قتادہ سلمی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو پیدا کیا، پھر ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا: یہ جنت کے لئے ہیں اور میں بے پروا ہوں اور یہ جہنم کے لئے ہیں او رمیں کوئی پروا نہیں کرتا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تقدیر کے مطابق۔
Musnad Ahmad
2799
۔ (۲۷۹۹) عَنْ حُصَیْنِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: کُنْتُ اِلٰی جَنْبِ عُمَارَۃَ بْنِ رُؤَیْبَۃَ السُّلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَبِشْرٌ یَخْطُبُنَا فَلَمَّا دَعَا رَفَعَ یَدَیْہِ فَقَالَ عُمَارَۃُ: یَعْنِی قَبَّحَ اللّٰہُ ھَاتَیْنِ الْیَدَیْنِ أَوِ الْیُدَیَّتَیْنِ رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَخْطُبُ اِذَا دَعَا یَقُوْلُ ھٰکَذَا، وَرَفَعَ السَّبَّابَۃَ وَحْدَھَا۔ (مسند احمد: ۱۷۳۵۶)
حصین بن عبد الرحمن سلمی کہتے ہیں: میں سیّدنا عمارہ بن رؤیبہ سلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پہلو میں بیٹھا تھا، جبکہ بشر خطبۂ جمعہ دے رہا تھا، جب وہ دعا کرتا تو دونوں ہاتھ اٹھاتا تھا، یہ دیکھ کر سیّدنا عمارہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ ان حقیر سے ہاتھوں کو برباد کرے، میں نے خود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے دیکھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دعا کرتے تو اس طرح کرتے تھے، پھر انھوں نے انگشت ِ شہادت بلند کر کے وضاحت کی۔
Musnad Ahmad
6325
۔ (۶۳۲۵)۔ عَنْ اَبِیْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: قَالَ سَعْدٌ: فِیَّ سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثُّلُثَ، أَتَانِیْیَعُوْدُنِیْ قَالَ: فَقَالَ لِیْ: ((أَوْصَیْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، جَعَلْتُ مَالِیْ کُلَّہُ فِی الْفُقُرَائِ وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ، قَالَ: ((لَا تَفْعَلْ۔)) قُلْتُ: إِنَّ وَرَثَتِیْ أَغْنِیَائُ قُلْتُ: الثُّلُثَیْنِ؟ قَالَ: ((لا۔)) قُلْتُ: فَالشَّطْرُ؟ قَالَ: ((لَا۔))، قُلْتُ: الثُّلُثُ؟ قَالَ: ((الثُّلُثُ، وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ۔)) (مسند احمد: ۱۵۰۱)
۔ ابو عبد الرحمن سلمی سے مروی ہے کہ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مال کے تیسرے حصے سے وصیت کا طریقہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے جاری فرمایا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیمار داری کے لئے میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا: تو نے وصیت کی ہے؟ میں نے عرض کی: جی کی ہے اورسارا مال فقیروں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مقرر کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس طرح نہ کر۔ میں نے کہا: میرے سارے وارث مال دار ہیں، تو پھر دو تہائی مال کی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: نصف مال کی کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ایک تہائی مال کی وصیت کر دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، ایک تہائی کی کر سکتے ہیں، لیکنیہ بھی زیادہ ہے۔
Musnad Ahmad
77
۔ (۷۷)۔عَنْ أَبِی سُوَیْدِ نِ الْعَبْدِیِّ قَالَ: أَتَیْنَا ابْنَ عُمَرَؓ فَجَلَسْنَا بِبَابِہِ لِیُؤْذَنْ لَنَا، قَالَ: فَأَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ، قَالَ: فَقُمْتُ إِلَی جُحْرٍ فِی الْبَابِ فَجَعَلْتُ أَطَّلِعُ فِیْہِ فَفَطِنَ بِیْ، فَلَمَّا أَذِنَ لَنَا جَلَسْنَا فَقَالَ: أَیُّکُمُ اطَّلَعَ آنِفًا فِی دَارِیْ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَنَا، قَالَ: بِأَیِّ شَیْئٍ اسْتَحْلَلْتَ أَنْ تَطَّلِعَ فِی دَارِیْ، قَالَ: قُلْتُ: أَبْطَأَ عَلَیْنَا الْاِذْنُ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَتَعَمَّدْ ذَالِکَ، قَالَ: ثُمَّ سَأَلُوْہُ عَنْ أَشْیَائَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَہَادَۃِ أَنْ لَا إِلَہَ إِلَّا اللّٰہُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ إِقَامِ الصَّلَاۃِ وَ إِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَ صِیَامِ رَمَضَانَ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمٰنِ! مَا تَقُوْلُ فِی الْجِہَادِ؟ قَالَ: مَنْ جَاہَدَ فَإِنَّمَا یُجَاہِدُ لِنَفْسِہِ۔ (مسند أحمد: ۵۶۷۲)
ابوسوید عبدی کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرؓکی طرف گئے اور ان کے دروازے پر اجازت کے انتظار میں بیٹھ گئے، جب ہم نے دیکھا کہ ہمیں اجازت دینے میں بہت تاخیر ہو گئی ہے تو میں دروازے میں موجود ایک سوراخ کی طرف اٹھا اور وہاں سے اندر کی طرف جھانکنے لگا، وہ سمجھ گئے اور ہمیں اجازت دے دی اور ہم ان کے پاس جا کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا: تم میں سے کون ہے، جو ابھی میرے گھر میں جھانک رہا تھا؟ میںنے کہا: میں تھا، انھوں نے کہا: تو نے کس دلیل کی روشنی میں میرے گھر میں جھانکنے کو حلال سمجھ لیا؟ میں نے کہا: ہمیں اجازت دینے میں تاخیر کر دی گئی تھی، اس لیے میں نے دیکھ لیا، جان بوجھ کر تو میں نے نہیں کیا، پھر ہم لوگ سیدنا ابن عمرؓ سے سوال کرنے لگ گئے، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اللہ تعالیٰ کے ہی معبودِ برحق ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے اللہ کے رسول ہونے کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ جہاد کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ انھوں نے کہا: جو جہاد کرے گا، وہ اپنے لیے کرے گا۔
Musnad Ahmad
205
۔ (۲۰۵) (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ رَابِعٍ)۔أَیْ عَنْ یَحْیٰی بْنِ یَعْمَرَ وَ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحِمْیَرِیِّ قَالَ: لَقِیْنَا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ (ؓ) فَذَکَرْنَا الْقَدْرَ وَمَا یَقُوْلُوْنَ فِیْہِ، فَقَالَ لَنَا: اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْھِمْ فَقُوْلُوْا: اِنَّ ابْنَ عُمَرَ بَرِیْئٌ وَأَنْتُمْ مِنْہُ بُرَائُ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِؓ أَنَّہُمْ بَیْنَمَاہُمْ جُلُوْسٌ أَوْ قُعُوْدٌ عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَائَ ہُ رَجُلٌ یَمْشِیْ حَسَنُ الْوَجْہِ حَسَنُ الشَّعْرِ عَلَیْہِ ثِیَابٌ بِیْضٌ، فَنَظَرَ الْقَوْمُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ مَا نَعْرِفُ ہٰذَا وَ مَا ہٰذَا بِصَاحِبِ سَفَرٍ، ثُمَّ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! آتِیْکَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ۔)) فَجَائَ فَوَضَعَ رُکْبَتَیْہِ عِنْدَ رُکْبَتَیْہِ وَ یَدَیْہِ عَلَی فَخَذَیْہِ،(وَسَاقَ الْحَدِیْثَ بِنَحْوِ مَا تَقَدَّمَ فِی الْبَابِ الثَّانِیْ مِنْ کِتَابِ الْاِیْمَانِ وَ فِیْہِ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ بَعْدَ أَنْ ذَہَبَ السَّائِلُ) عَلَیَّ بِالرَّجُلِ، فَطَلَبُوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا، فَمَکَثَ یَوْمَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً، ثُمَّ قَالَ: ((یَا ابْنَ الْخَطَّابِ! أَتَدْرِیْ مَنِ السَّائِلُ عَنْ کَذَا وَ کَذَا؟۔)) قَالَ: اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہُ أَعْلَمُ، قَالَ: ((ذَاکَ جِبْرِیْلُ جَائَ کُمْ یُعَلِّمُکُمْ دِیْنَکُمْ۔)) قَالَ: وَسَأَلَہُ رَجُلٌ مِنْ جُہَیْنَۃَ أَوْ مُزَیْنَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ، أَفِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی أَوْ فِیْ شَیْئٍ یُسْتَأْنَفُ الْآنَ؟ قَالَ: ((فِیْ شَیْئٍ قَدْ خَلَا أَوْ مَضٰی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْمَا نَعْمَلُ؟ قَالَ: ((أَھْلُ الْجَنَّۃِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ وَ أَہْلُ النَّارِ مُیَسَّرُوْنَ لِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ۔)) قَالَ یَحْیٰی: قَالَ ہُوَ ہٰکَذَا یَعْنِیْ کَمَا قَرَأْتَ عَلَیَّ۔ (مسند أحمد: ۱۸۴)
۔ (چوتھی سند)یحییٰ بن یعمر اور حمید حِمْیری کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو ملے اور تقدیر کے موضوع پر بات کی اور لوگوں کا نظریہ بھی ذکر کیا، انھوں نے ہمیںکہا: جب تم ان لوگوںکی طرف لوٹو تو ان کو تین بار کہنا کہ ابن عمر تم سے اور تم اس سے بری ہو پھر انھوں نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بیان کیا کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اسی اثناء میں ایک آدمی پیدل چلتے ہوئے آ گیا، وہ خوبصورت چہرے والا اور خوبصورت بالوں والا تھا، اس نے سفید کپڑے پہن رکھے تھے، لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہنے لگے کہ نہ تو ہم اس آدمی کو جانتے ہیں اور نہ یہ مسافر لگ رہا ہے، پھر اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کے پاس آ سکتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جی ہاں۔ پس وہ آیا اور اپنے گھٹنے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے گھٹنوںکے پاس رکھ دیئے اور اپنے ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کی رانوں پر رکھ دیئے، (پھر کتاب الایمان کے دوسرے باب میں مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ سائل کے چلے جانے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس بندے کو میرے پاس لاؤ۔ لوگ اس کو تلاش کرنے کے لیے نکلے، لیکن ان کو کوئی چیز نظر ہی نہ آئی، پھر وہ دو یا تین دن ٹھہرے رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اے ابن خطاب! کیا تم جانتے ہو کہ فلاں فلاں چیز کے بارے میں سوال کرنے والا کون تھا؟ انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ جبریلؑ تھے، جو تم کو دین کی تعلیم دینے آئے تھے۔ پھر جہینہ یا مزینہ قبیلے کے ایک آدمی نے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس چیز کے مطابق عمل کر رہے ہیں؟ کیا اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے، یا اس چیز کے مطابق جو از سرِ نو ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس چیز کے مطابق جو گزر چکی ہے۔ اس آدمی نے یا کسی اور شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! تو پھر عمل کس چیز میں ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جنتیوں کے لیے اہلِ جنت کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے اور جہنمیوں کے لیے اہلِ جہنم کے عمل کو آسان کر دیا جاتا ہے۔ یحییٰ نے کہا: وہ اسی طرح ہی ہے، یعنی جس طرح تم نے مجھے بیان کیا ہے۔
Musnad Ahmad
229
۔ (۲۲۹)۔عَنْ عُمَرَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((لَا تُجَالِسُوْا أَہْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوْہُمْ۔)) وَقَالَ أَبُوْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ مَرَّۃً: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند أحمد: ۲۰۶)
سیدنا عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نہ تم اہلِ قدر (یعنی تقدیر کو جھٹلانے والوں) کی مجلس اختیار کرو اور نہ ان کو حاکم بناؤ (یا ان سے بحث مباحثہ نہ کرو۔
Musnad Ahmad
258
۔ (۲۵۸)۔عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلمقَالُوْا لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّا اِذَا کُنَّا عِنْدَکَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوْبُنَا، فَاِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِکَ عَافَسْنَا النِّسَائَ وَالصِّبْیَانَ وَفَعَلْنَا وَ فَعَلْنَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِنَّ تِلْکَ السَّاعَۃَ لَوْ تَدُوْمُوْنَ عَلَیْہَا لَصَافَحَتْکُمُ الْمَلَائِکَۃُ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۸۲۷)
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے فرمایا: بیشک جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں اور آپ ہم سے گفتگو کرتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رِقّت طاری ہو جاتی ہے، لیکن جب آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو اپنی بیوی بچوں کے کاموںمیں لگ جاتے ہیں اور ایسے ایسے کرتے ہیں (اور آپ کے پاس والی کیفیت زائل ہو جاتی ہے)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ میرے پاس والی گھڑی، اگر تم اسی پر برقرار رہو تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔
Musnad Ahmad
261
۔ (۲۶۱)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ حُسَیْنٍ قَالَ: بَلَغَنِیْ أَنَّ لُقْمَانَ کَانَ یَقُوْلُ: یَا بُنَیَّ!لَا تَعَلَّمِ الْعِلْمَ لِتُبَاہِیَ بِہِ الْعُلَمَائَ أَوْ تُمَارِیَ بِہِ السُّفَہَائَ وَتُرَائِیَ بِہِ فِی الْمَجَالِسِ۔ (مسند أحمد: ۱۶۵۱)
عبد اللہ بن عبد الرحمن کہتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت لقمان نے کہا تھا: اے میرے پیارے بیٹے! علماء پر فخر کرنے کے لیے، بیوقوفو ں (اور جاہلوں) سے جھگڑنے کے لیے اور مجلسوں میں شہرت اور تعظیم کی خاطر علم حاصل نہ کر۔