حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.
Aishah narrated:
When the circumcised meets the circumcised, then indeed Ghusl is required. Myself and Allah's Messenger did that, so we performed Ghusl.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد کے ختنہ کا مقام ( عضو تناسل ) عورت کے ختنے کے مقام ( شرمگاہ ) سے مل جائے تو غسل واجب ہو گیا ۱؎، میں نے اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ایسا کیا تو ہم نے غسل کیا۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور رافع بن خدیج رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة ۱۱۱ (۲۰۸)، (تحفة الأشراف : ۱۷۴۹۹)، وراجع أیضا: صحیح مسلم/الحیض ۲۲ (۳۴۹)، وط/الطہارة ۱۸ (۷۳)، و مسند احمد (۶/۴۷، ۹۷، ۱۱۲، ۲۲۷، ۲۳۹، ۲۶۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : گرچہ انزال نہ ہو تب بھی غسل واجب ہو گیا، پہلے یہ مسئلہ تھا کہ جب انزال ہو تب غسل واجب ہو گا، جو بعد میں اس حدیث سے منسوخ ہو گیا، دیکھئیے اگلی حدیث۔
108
Sahih