TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3384 مسنداحمد

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 3 of 5 in this chapter
جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہے، ان کا اور ان میں سے ہر ایک کے نصاب کا بیان
۔ (۳۳۸۴) عَنْ بَہْزِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ (مُعَاوِیَۃَ بْنِ حَیْدَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: سَمِعْتُ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((فِی کُلِّ إِبِلٍ سَائِمَۃٍ فِی کُلِّ أَرْبَعِیْنَ ابْنَۃُ لَبُوْنٍ لاَ تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِہَا، مَنْ أَعْطَاہَا مُؤْتَجِرًا فَلَہُ اَجْرُہَا وَمَنْ مَنَعَہَا فَإِنَّا آخِذُوْہَا مِنْہُ وَشَطْرَ إِبِلِہِ، عَزْمَۃً مِنْ عَزَمَاتِ رَبَّنَا عَزَّوَجَلَّ،لاَیحَلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْہَا شَیْئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۵)
سیدنامعاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: چرنے والے چالیس اونٹوں میں ایک بنت ِ لبون کی زکوۃ ہو گی، (زکوۃ سے بچنے کے لیے مشترک) اونٹوں کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا، جو آدمی اجر وثواب کی نیت سے زکوۃ دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور جو یہ ادا نہیں کرے گا، تو ہم خود اس سے (جبراً) وصول کریں گے اور (بطورِ جرمانہ) اس کے اونٹوں میں سے کچھ اونٹ بھی لیں گے، کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے واجب حقوق میں سے ہے اور آلِ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے اس میں سے کچھ لینا حلال نہیں ہے۔
3384
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
(۳۳۸۴) تخر یـج:…اسنادہ حسن أخرجہ ابوداود: ۱۵۷۵، والنسائی: ۵/ ۲۵(انظر: ۲۰۰۱۶)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد: اگر کسی سے جبراً زکوۃ لی جائے تو یہ اسے کفایت کرے گی، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کو رعایا کے کسی جرم پر ان سے جرمانہ لینے کا حق حاصل ہے، سنن ابی داود کی روایات کے مطابق اس کی دو مثالیں اور بھی ہیں: (۱)گم شدہ اونٹ کو چھپا لینے والے سے اس وجہ سے ایک اونٹ زائد لینا اور (۲) جو آدمی درخت پر لگے ہوئے پھل اپنے ساتھ لے کر جائے گا، اس سے اس پھل کا دو گنا جرمانہ لیا جائے گا۔

Related Chapters

198
1
بَابُ مَا يَجِبُ فِيهِ الزَّكَاةُ
کن کن چیزوں پر زکوۃ واجب ہوتی ہے
Mishkat
2
زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
Musnad Ahmad
3
اس آدمی کا بیان کہ جس کو ایک چیز خریدنے کا وکیل بنایا گیا، لیکن اس نے زیادہ چیزیں خرید کر اضافی چیزوں میں از خود تصرف کیا
Musnad Ahmad
4
(28) CHAPTER. When male and female organs come in close contact (bath becomes compulsory).
اس بارے میں کہ جب دونوں ختان ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل جنابت واجب ہے
Sahih Bukhari
5
(8) CHAPTER. The relative of the killed person has the right to choose one of two compensations (i.e., to have the killer killed, or to accept blood-money).
جس کا کوئی قتل کر دیا گیا ہو اسے دو چیزوں میں ایک کا اختیار ہے ۔
Sahih Bukhari
6
CHAPTER: Zakat.
باب: مال کی اس مقدار ( یعنی نصاب ) کا بیان جس میں زکاۃ واجب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
7
CHAPTER: Property On Which Zakat Is Payable.
باب: کن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
8
Chapter: Wealth on which Zakat is required
جن چیزوں میں زکاۃ واجب ہے ان کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
9
(14)Chapter: What Has Been Related Regarding] What Is Disliked For One to use for Istinja
باب: کن کن چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے​
Jam e Tirmazi
10
(80)Chapter: What Has Been Related: When The Two Circumcised Organs Meet, Ghusl Is Required.
باب: مرد اور عورت کی شرمگاہ مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
11
(81)Chapter: What Has Been Related That 'Water Is For Water'
باب: منی نکلنے پر غسل کے واجب ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
12
Chapter: What Has Been Related About What Is Disliked To Face While Performing Salat, Or To Perform Salat In
باب: جن چیزوں کی طرف یا جن جگہوں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے
Jam e Tirmazi
13
Chapter: What Has Been Related About The Obligation Of Hajj While One Has The Provisions And The Means Of Conveyance
باب: سفر کے خرچ اور سواری ہونے سے حج کے واجب ہو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
14
Chapter: What Has Been Related About What Is Not Allowed For The Muhrim To Wear
باب: محرم کے لیے جن چیزوں کا پہننا جائز نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
15
Chapter: What Has Been Related About Umrah: Is It Required Or Not?
باب: کیا عمرہ واجب ہے یا واجب نہیں ہے؟
Jam e Tirmazi
16
Chapter: What Has Been Related About Matters That Are Not Clear
باب: مشتبہ چیزوں کو ترک کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
17
Chapter: What Has Been Related About Price Fixing
باب: چیزوں کی قیمت مقرر کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
18
Chapter: What Has Been Related About Those From Whom Punishment Is Not Required
باب: جن پر حد واجب نہیں ان کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: نشہ آور چیزوں سے دوا کرنے کی ممانعت کا بیان
Jam e Tirmazi
20
Chapter: What The Prophet(s.a.w) Informed His Companions Would Occur Until The Day Of Resurrection
باب: قیامت تک واقع ہونے والی چیزوں کے بارے میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئی
Jam e Tirmazi
21
Chapter: 'Whoever Comes To The Door Of The Sultan He Will Suffer A Fitnah'
باب: فتنوں میں پڑنے والی چیزوں کا بیان
Jam e Tirmazi
22
Chapter: Whoever Guards Most Against The Unlawful, Then He Is The Most Worshiping Among The People
باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے
Jam e Tirmazi
23
Chapter: What Has Been Related About : 'The Heart Of an Old Man Remains Young Because of Love For Two Things'
باب: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان ہوتا ہے: عمر اور مال
Jam e Tirmazi
24
باب: جنت ناپسندیدہ اور تکلیف دہ چیزوں سے اور جہنم شہوتوں سے گھری ہوئی ہے
Jam e Tirmazi
25
Chapter: What Has Been Related About Islam Is Based Upon Five.
باب: اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے
Jam e Tirmazi
26
Chapter: What Has Been Related Linking The Obligations To Iman
باب: ایمان میں دوسرے فرائض و واجبات کے داخل ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: چھینکنے والے کے «الحمد للہ» کہنے پر «یرحمک اللہ» کہہ کر دعا کرنا واجب ہے
Jam e Tirmazi
28
Chapter: The Supplication: “O Allah, I Seek Refuge In You From Sadness And Grief”
باب: بعض چیزوں سے پناہ طلب کرنے کا باب
Jam e Tirmazi
29
بَابُ مَا يُقْرَأُ بَعْدَ التَّكْبِيرِ
تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جانے والی چیزوں کا بیان
Mishkat
30
بَاب مَا يجتنبه الْمحرم
احرام والا کن چیزوں سے اجتناب کرے
Mishkat
31
بَاب النّظر إِلَى المخطوبة وَبَيَان العورات
جس کو پیغامِ نکاح دیا جائے اسے دیکھنے اور پردہ کی چیزوں کا بیان
Mishkat
32
بَابُ مَا يَحِلُّ أَكْلُهُ وَمَا يَحْرُمُ
ان چیزوں کا بیان جن کا کھانا حلال اور جن کا کھانا حرام ہے
Mishkat
33
بَاب تَغْطِيَة الْأَوَانِي وَغَيرهَا
برتنوں اور دیگر چیزوں کو ڈھانپنے وغیرہ کا بیان
Mishkat
34
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
35
دین و دنیا کے لیے ضرورت پڑنے والی ہر چیز کے بارے میں واجبی طور پر سوال کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
36
کھائی جانے والی ان چیزوں کو پاک کرنے کا بیان، جن میں نجاست گر جاتی ہے
Musnad Ahmad
37
ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Musnad Ahmad
38
غسلِ جنابت اور اس کو واجب کرنے والے امور کے ابواب صرف منی کے خروج سے غسل کے واجب ہو جانے کے قائلین کا بیان
Musnad Ahmad
39
ختنے والی دو جگہوں کے مل جانے سے غسل کے واجب ہو جانے کا بیان، اگرچہ انزال نہ ہوا ہو
Musnad Ahmad
40
احتلام ہو جانے کی بنا پر غسل کے واجب ہونے کا بیان، بشرطیکہ انزال ہوا ہو
Musnad Ahmad
41
تیمم کے لیے وقت کے داخل ہونے کی شرط اور ان چیزوں کا بیان، جن سے تیمم کیا جائے گا
Musnad Ahmad
42
پانی کی عدم موجودگی میں نفاس اور حیض والی خواتین اور جنابت والے لوگوں پر تیمم کے واجب ہونے کا بیان، اگرچہ ان کو کئی مہینے ٹھہرنا پڑے
Musnad Ahmad
43
تمام ان چیزوں کا بیان جس سے مساجد کو محفوظ رکھا جائے
Musnad Ahmad
44
یہ باب نماز تروایح کی فضیلت کے بارے میں ہے اور اس بارے میں کہ نماز تراویح سنت ہے واجب نہیں ہے
Musnad Ahmad
45
امام کی اتباع کے واجب ہونے اور اس سے آگے بڑھ جانے کی ممانعت کا بیان
Musnad Ahmad
46
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
Musnad Ahmad
47
زکوۃ کی فضیلت اور اس کی انواع زکوۃ کی فضیلت کا بیان
Musnad Ahmad
48
زکوۃ کی فرضیت، اس کی ترغیب اور زکوۃ ادا نہ کرنے کی مذمت کا بیان
Musnad Ahmad
49
گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان
Musnad Ahmad
50
غلاموں، گھوڑوں اور گدھوں میں زکوۃ کے نہ ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
No related chapter matched that.

Related Hadith

39
Musnad Ahmad
197
۔ (۱۹۷)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍؓ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ الصَّادِقُ الْمُصَدَّقُ: ((اِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہُ فِیْ بَطْنِ أُمِّہِ فِیْ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًا ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یُرْسَلُ اِلَیْہِ الْمَلَکُ فَیَنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحَ وَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ، رِزْقُہُ وَأَجَلُہُ وَعَمَلُہُ وَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ، فَوَالَّذِیْ لَا اِلٰہَ غَیْرُہُ اِنَّ أَحَدَکُمْ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ فَیَدْخُلُہَا، وَ اِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَہْلِ النَّارِ حَتّٰی مَا یَکُوْنُ بَیْنَہُ وَ بَیْنَہَا اِلَّا ذِرَاعٌ فَیَسْبِقُ عَلَیْہِ الْکِتَابُ فَیُخْتَمُ لَہُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْجَنَّۃِ فَیَدْخُلُہَا۔)) (مسند أحمد: ۳۶۲۴)
سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، جوکہ صادق و مصدوق ہیں، نے ہم کو بیان کیا اور فرمایا: بیشک تمہاری تخلیق اس طرح ہوتی ہے کہ ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک خون کا لوتھڑا رکھا جاتا ہے، پھر چالیس دن تک گوشت کا ٹکڑا رکھا جاتا ہے، پھر اس کی طرف فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونکتا ہے اور چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس کے رزق، موت اور عمل اور اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کا، پس اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! بیشک تم میں سے ایک آدمی جنتی لوگوں والے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے مابین صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر سبقت لے جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ جہنمی لوگوں کے اعمال پر ہوتا ہے، پس وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی جہنمی لوگوںکے اعمال کرتا رہتا ہے، حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن کتابِ تقدیر اس پر غالب آ جاتی ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ اہل جنت کے اعمال پر کر دیا جاتا ہے، سو وہ جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔
Musnad Ahmad
198
۔ (۱۹۸)۔عَنْ جَابِرِبْنِ عَبْدِ اللّٰہِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((اِذَا اسْتَقَرَّتِ النُّطْفَۃُ فِی الرَّحِمِ أَرْبَعِیْنَ یَوْماً أَوْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً بَعَثَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مَلَکًا فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَا رِزْقُہُ؟ فَیُقَالُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَا أَجَلُہُ؟ فَیُقَالُ لَہُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! ذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیُعْلَمُ، فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! شَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ؟ فَیُعْلَمُ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۴۲)
سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس دن یا راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف ایک فرشتے کو بھیجتے ہیں، پس وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کا رزق کیا ہے؟ پس اسے جواب دیا جاتا ہے، پھر وہ پوچھتا ہے: اے میرے ربّ! اس کی موت کب ہو گی؟ پس اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ سوال کرتاہے: اے میرے ربّ! یہ مذکر ہو گا یا مؤنث؟ سو اس کو بتلا دیا جاتا ہے، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے ربّ! یہ بدبخت ہو گا یا خوش بخت؟ پھر یہ بھی اس کو بتلا دیا جاتا ہے۔
Musnad Ahmad
199
۔ (۱۹۹)۔حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ أُسَیْدٍ الْغِفَارِیِّؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَوْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((یَدْخُلُ الْمَلَکُ عَلَی النُّطْفَۃِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِی الرَّحِمِ بِأَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً، (وَقَالَ سُفْیَان مَرَّۃً: أَوْ خَمْسَۃً وَ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً) فَیَقُوْلُ: یَا رَبِّ! مَاذَا، أَشَقِیٌّ أَمْ سَعِیْدٌ؟ أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَیُکْتَبَانِ، فَیَقُوْلُ: مَا ذَا؟أَذَکَرٌ أَمْ أُنْثٰی؟ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیُکْتَبَانِ، فَیُکْتَبُ عَمَلُہُ وَ أَثَرُہُ وَمَصِیْبَتُہُ وَرِزْقُہُ، ثُمَّ تُطْوَی الصَّحِیْفَۃُ فَـلَا یُزَادُ عَلَی مَا فِیْہَا وَلَا یُنْقَصُ۔)) (مسند أحمد: ۱۶۲۴۱)
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب نطفہ رحم میں چالیس یا پینتالیس راتیں ٹھہر جاتا ہے تو اس پر ایک فرشتہ داخل ہوتا ہے اور وہ سوال کرتا ہے: اے میرے ربّ! کیا حکم ہے، بدبخت ہے یا خوش بخت؟ مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلا دیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں لکھ لی جاتی ہیں، پھر وہ کہتا ہے: کیا حکم ہے، مذکر ہے یا مؤنث؟ پس اللہ تعالیٰ اس کو بتلاتا ہے اور یہ چیزیں بھی لکھ دی جاتی ہیں، پھر اس کا عمل ، عمر، مصیبت اور رزق لکھا جاتا ہے اور صحیفے کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے نہ کمی۔
Musnad Ahmad
980
۔ (۹۸۰) عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَؓ قَالَتْ: کَانَ النُّفَسَائُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِہَا أَرْبَعِیْنَ یَوْماً أَوْ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً شَکَّ أَبُوْ خَیْثَمَۃَ وَکُنَّا نَطْلِیْ عَلَی وُجُوْہِنَا الْوَرَسَ مِنَ الْکَلَفِ۔ (مسند أحمد: ۲۷۰۹۶)
سیدہ ام سلمہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں بچہ جنم دینے کے بعد چالیس دن یا چالیس راتیں بیٹھتی تھیں اور ہم اپنے چہروں پر جھائیوں کی وجہ سے ورس بوٹی خوب ملتی تھیں۔
Musnad Ahmad
1018
۔ (۱۰۱۸)۔عَنْ عَامِرِبْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدًا وَنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُوْنَ: کَانَ رَجُلَانِ أَخَوَانِ مِنْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَکَانَ أَحَدُہُمَا أَفْضَلَ مِنَ الْآخَرِ، فَتُوُفِّیَ الَّذِیْ ہُوَ أَفْضَلُہُمَا ثُمَّ عُمِّرَ الْآخَرُ بَعْدَہُ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ تُوُفِّیَ فَذُکِرَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضْلُ الْأَوَّلِ عَلَی الْآخَرِ، فَقَالَ: ((أَلَمْ یَکُنْ یُصَلِّیْ؟)) فَقَالُوْا: بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَکَانَ لَا بَأْسَ بِہِ، فَقَالَ: ((مَا یُدْرِیْکُمْ مَاذَا بَلَغَتْ بِہِ صَلَاتُہُ۔)) ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذٰلِکَ: ((اِنَّمَا مَثَلُ الصَّلَاۃِ کَمَثَلِ نَہْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَذْبٍ بِبَابِ أَحَدِکُمْ یَقْتَحِمُ فِیْہِ کُلَّ یَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ فَمَا تُرَوْنَ یُبْقِیْ مِنْ دَرَنِہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۳۴)
عامر بن سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد ؓاور صحابۂ کرام میں کچھ مزید لوگوں سے بھی سنا، وہ کہتے تھے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے زمانے میں دو آدمی بھائی تھے اور ان میں سے ایک دوسرے سے افضل تھا اور وہ فوت ہو گیا، جو زیادہ فضیلت والا تھا، اس کے بعد دوسرا بھائی مزید چالیس دنوں تک زندہ رہا اور پھر فوت ہو گیا، لیکن جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے لیے پہلے فوت ہونے والی کی دوسرے پر فضیلت کو ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: کیا دوسرے نے (چالیس روز) نمازیں نہیں پڑھیں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! اس پر کوئی اعتراض نہیں (یعنی وہ بھی آدمی اچھا ہی تھا)، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تمہیں کیا علم کہ اس کی ان نمازوں نے اس کو کہاں تک پہنچا دیا ہے۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: نماز کی مثال اس جاری نہر کی سی ہے، جو ڈوبنے کے بقدر گہری ہو، میٹھے پانی کی ہو اور تم میں سے کسی کے دروازے کے پاس ہو اور وہ روزانہ اس میں پانچ دفعہ گھستا ہو (یعنی اس میں داخل ہو کر نہاتا ہو)، تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ اس کی کوئی میل کچیل باقی چھوڑے گی؟
Musnad Ahmad
1494
۔ (۱۴۹۴) عَنْ بُسْرِبْنِ سَعِیْدٍ قَالَؔأَرْسَلَنِی أَبُوجُہَیْمِ بْنُ أُخْتِ أُبِیِّ بْنِ کَعْبٍ إِلَی زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُہَنِّی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَسَأَلُہُ مَا سَمِعَ فِی الْمَارِّ بَیْنَیَدَیِ الَمُصَلِّیْ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَأَنْیَقُوْمَ أَرْبَعِیْنَ)) لَا أَدْرِی مِنْ یَوْمٍ أَوْشَہْرٍ أَوْسَنَۃٍ ((خَیْرٌلَہُ مِنْ أَنْ یَمُرَّ بَیْنَیَدَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۱۷۷)
بسر بن سعدکہتے ہیں کہ سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھانجے ابو جہیم نے مجھے زید بن خالد جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے کے متعلق کیا سنا ہے؟ انہوںنے کہا کہ اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: اگر (گزرنے والا) چالیس کھڑا رہے تو یہ اس کے لیے گزر جانے سے بہتر ہے۔ اب میں یہ نہیں جانتا کہ چالیس دن مراد ہیںیا مہینےیا سال۔
Musnad Ahmad
1689
۔ (۱۶۸۹) عَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: دَخَلَ حُذَیْفَۃُ بْنُ الْیَمَانِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ یُصَلِّیْ مِمَّا یَلِیْ أَبْوَابَ کِنْدَۃَ فَجَعَلَ لَایُتِمُّ الرُّکُوْعَ وَلاَ السُّجُودَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لَہُ حُذَیْفَۃُ: مُنْذُ کَمْ ھٰذِہِ صَلاَتُکَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعَیْنَ سَنَۃً، قَالَ: فَقَالَ لَہُ حَذَیْفَۃُ: مَاصَلَّیْتَ مُنْذُ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً، وَلَوْ مُتَّ وَھٰذِہِ صَلاَتُکَ لَمُتَّ عَلٰی غَیْرِ الْفِطَرَۃِ الَّتِیْ فُطِرَ عَلَیْہَا مُحَمَّدٌ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَیْہِیُعَلِّمُہُ، فَقَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَیُخَفِّفُ فِیْ صَلاَتِہِ وَإِنَّہُ لَیُتِمُّ الرُّکُوعَ وَالسُّجُودَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۴۷)
زید بن وہب کہتے ہیں: سیدناحذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ مسجد میں داخل ہوئے تو کندہ سے قریبی علاقے کا ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا،وہ رکوع پورا کر رہا تھا نہ سجدہ، جب وہ فارغ ہوا تو سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: کب سے تو اس طرح نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے کہا: چالیس سال سے۔ سیدناحذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسے کہا: (حقیقتیہ ہے کہ) تو نے چالیس سال سے نماز پڑھی ہی نہیں ہے اور اگر تو اس حالت میں فوت ہوجاتا کہ تیری نماز یہی ہوتی تو تو اس دین پر نہ مرتا جو حضرت محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عطا کا گیا۔ پھر وہ اس پر متوجہ ہوئے اور اسے نماز کی تعلیم دیتے ہوئے کہا: آدمی رکوع و سجود پورا کرکے بھی نماز میں تخفیف کرلیتا ہے، (ضروری نہیں کہ جلدی ہی کی جائے)۔
Musnad Ahmad
2436
۔ (۲۴۳۶) عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَضِیَ عَنْہَا أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّہَا لَمْ تَرَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّیْ صَلَاۃَ اللَّیْلِ قَاعِدًا حَتّٰی أَسَنَّ، فَکَانَ یَقْرَأُ قَاعِدًا حَتّٰی اِذَا أَرَادَ أَنْ یَرْکَعَ قَامَ فَقَرَأَ نَحْوًا مِنْ ثَـلَاثِیْنَ أَوْ أَرْبَعِیْنَ آیَۃً ثُمَّ رَکَعَ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۶۲)
زوجہ ٔ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کبھی بھی رات کو بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا، حتیٰ کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عمر رسیدہ ہوگئے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر قراء ت کرتے ، جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور تیس چالیس یا آیتوں کی تلاوت کر کے رکوع کر تے۔
Musnad Ahmad
2437
۔ (۲۴۳۷)(وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی جَالِسًا فَیَقْرَأُ وَھُوَ جَالِسٌ، فَاِذَا بَقِی عَلَیْہِ مِنْ قِرَائَ تِہِ مَا یَکُوْنُ ثَـلَاثِیْنَ أَوْ أَرْبَعِیْنَ آیَۃً قَامَ فَقَرَأَ وَھُوَ قَائِمٌ ثُمَّ رَکَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ یَفْعَلُ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ مِثْلَ ذَلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۹۶۳)
(دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیٹھ کر قراء ت کرتے رہتے،جب تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے، پھر یہ قراء ت کر کے رکوع و سجود کرتے، پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے۔