TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے - مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے - مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 12 · 4 Hadith
۔ (۴۳۱۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا دَخَلَ مَکَّۃَ دَخَلَ مِنَ الثَّنِیَّۃِ الْعُلْیَا وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِیَّۃِ السُّفْلٰی۔ (مسند احمد: ۴۶۲۵)
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں ثنیٔہ علیا کے راستے سے داخل ہوتے تھے اور ثنیۂ سفلٰی کے راستہ سے باہر تشریف لے جاتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۱۸) تخریج: انظر الحدیث السابق
4318
Sahih
۔ (۴۳۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلٰی مَکَّۃَ، وَدَخَلَ فِی الْعُمْرَۃِ مِنْ کُدًی۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۵)
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر مکہ مکرمہ کی بالائی جہت کَدَائ کے راستے سے اس شہر میں داخل ہوئے اور عمرہ کے موقع پر کُدی کے راستے سے داخل ہوئے۔
Takhreej
(۴۳۱۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۷۷، ۴۲۹۱، ومسلم: ۱۲۵۸(انظر: ۲۴۳۱۱)
Explanation
فوائد:… ’’کَدَائ‘‘ سے مراد ’’ثنیۂ علیا‘‘ اور ’’کُدی‘‘سے مراد ’’ثنیۂ سفلی‘‘ ہے، جن کا ذکر پچھلی دو احادیث میں گزر چکا ہے۔
4319
Sahih
۔ (۴۳۱۹) عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ کَدَائٍ مِنْ أَعْلٰی مَکَّۃَ، وَدَخَلَ فِی الْعُمْرَۃِ مِنْ کُدًی۔ (مسند احمد: ۲۴۸۱۵)
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر اذخر گھاس والی گھاٹی کی طرف سے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے۔
Takhreej
(۴۳۲۰) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عبید اللہ بن ابی زیاد القداح۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الاوسط‘‘: ۴۲۸۶(انظر: ۲۶۲۳۸)
Explanation
فوائد:… اذخر گھاس والی گھاٹی سے مراد ’’ثنیۂ علیا‘‘ ہی ہے۔ امام نووی نے کہا: صحیح اور پسندیدہ مذہب یہ ہے کہ ہر محرِم کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت ثنیۂ علیا والی جہت سے آئے، اگر یہ گھاٹی اس کے راستے میں نہیں پڑتی تو پھر بھی اسے اُدھر سے ہی آنا چاہیے، ہمارے محققین کییہی رائے ہے۔ (شرح المہذب) بلکہ شیخ محمد جوینی نے کہا: یہ گھاٹی مدینہ سے مکہ کے راستے پر نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جان بوجھ کر اصل راستے کو چھوڑ کر یہ جہت اختیار کی، اس لیے ہر آدمی کے اِس گھاٹی کی طرف سے آنا مستحبّ ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت بالائی جہت والا راستہ کیوں اختیار کیا اور پھر واپسی پر راستہ بدلنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے بارے میں حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: راستہ بدلنے کی وجہ تو یہ ہے کہ دونوں راستوں والے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے تبرّک حاصل کریں گے، جیسا عیدین کے لیے آنے جانے کا مسئلہ تھا، اور تشریف آوری کے وقت بالائی جہت سے آنے میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح سے آنے میں جگہ کی تعظیم ہوتی ہے اور نچلی جانب کی جہت سے نکل جانے میں اس جگہ سے جدا ہونے کی طرف اشارہ ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام اس بالائی جہت سے داخل ہوئے تھے، جبکہ یہ بھی کہا گیا ہے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہجرت کے موقع پر اس شہر سے چھپ کر نکلے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بار چاہا کہ شہر کی بالائی جانب سے اور کھلم کھلا اور اعلانیہ طور پر داخل ہوا جائے، ایک قول یہ ہے کہ اس طرف سے آمد کی وجہ آدمی کا بیت اللہ کے سامنے رہنا ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ چونکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فتح مکہ کے موقع پر اس جہت سے داخل ہوئے تھے، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسی عمل کو برقرار رکھنا چاہا ہو اور اس کا سبب ابو سفیان کا یہ قول ہے، جو انھوں نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے کہا تھا: میں اس وقت تک مسلمان نہیں ہوں گا، جب تک گھوڑوں کو کداء سے آتا ہوا نہیں دیکھ لوں گا۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کہا: یہ کیسی بات ہوئی؟ انھوں نے کہا: بس میرے دل میں یہ خیال آ گیا ہے اور اللہ تعالی اِدھر سے کبھی بھی گھوڑوں کو نہیں لائے گا۔ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے کہا: جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم داخل ہوئے تو میں نے ابو سفیان کو ان کی بات یاد کرائی، جبکہ سنن بیہقی کی سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے مروی حدیث ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے فرمایا: ’’حسان نے کیسے کہا تھا؟‘‘ انھوں نے جواباً یہ شعر پڑھا: عُدِمَتْ بِنْیَتِیْ اِنْ لَّمْ تَرَوْھَا تُثِیْرُ النَّقْعَ مَطْلَعُھَا کَدَائٗ یہ سن کر آپ مسکرائے اور فرمایا: ((اُدْخُلُوْھَا مِنْ حَیْثُ قَالَ حَسَّانُ۔)) …’’وہاں سے داخل ہو، جہاں سے حسان نے کہا تھا۔‘‘ (فتح الباری: ۳/ ۵۵۹) معلوم ایسے ہوتا ہے کہ بالائی جہت سے آنے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصد اچھی فال تھا کہ جس مقصد کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تھا وہ غالب آ گیا، اب اس خطۂ زمین میں دشمنان اسلام اور ان کا نظام پست ہو گیا ہے اور اوپر سے آنے اور نیچے کو نکل جانے میں یہ اشارہ ہے کہ اس خطے کی ہر طرف یہ نظام مصطفی چھا گیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
4320
Zaeef
۔ (۴۳۲۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَخَلَ مَکَّۃَ نَہَارًا۔ (مسند احمد: ۵۲۳۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ مکرمہ میں دن کے وقت داخل ہوئے تھے۔
Takhreej
(۴۳۲۱) تخریج: حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۹۴۱، والترمذی: ۸۵۴ (انظر: ۵۲۳۰)
Explanation
فوائد:… آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صرف عمرۂ جعرانہ کے موقع پر رات کو داخل ہوئے تھے اور رات کو ہی عمرہ کر کے واپس چلے گئے تھے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا دن کو تشریف لانااس اعتبار سے انتہائی مناسب تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے افعال کی اقتداء کرنا آسان ہو جائے گی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ مناسک ِ حج کی تعلیم حاصل کر لیں۔
4321
Sahih

Chapters

12
01
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
2 Hadith
02
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
4 Hadith
03
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
1 Hadith
04
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
4 Hadith
05
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
11 Hadith
06
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
7 Hadith
07
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
6 Hadith
08
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
5 Hadith
09
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
2 Hadith
10
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
3 Hadith
12
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.