TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان - طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان - مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 5 of مکہ مکرمہ میں داخل ہونے اور اس سے متعلقہ دوسرے مسائل کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 5 of 12 · 11 Hadith
۔ (۴۳۲۷) عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابُہٗ،وَقَدْوَھَنَتْہُمْحُمّٰییَثْرِبَ قَالَ: فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: إِنَّہُ یَقْدَمُ عَلَیْکُمْ قَوْمٌ قَدْ وَھَنَتْہُمُ الْحُمّٰی، قَالَ: فَأَطْلَعَ اللّٰہُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی ذَلِکَ، فَأَمَرَ أَصْحَابَہٗأَنْیَرْمُلُوْا، وَقَعَدَ الْمُشْرِکُوْنَ نَاحِیَۃَ الْحِجْرِ، یَنْظُرُوْنَ إِلَیْہِمْ فَرَمَلُوْا وَمَشَوْا مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، قَالَ: فََقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ: ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ تَزْعُمُوْنَ أَنَّ الْحُمّٰی وَھَنَتْہُمُ، ھٰؤُلَائِ أَقْوٰی مِنْ کَذَا وَکَذَا، ذَکَرُوْا قَوْلَہُمْ، قَالَ ابْنُ عَباَّسٍ: فَلَمْ یَمْنَعْہُ أَنْ یَأْمُرَھُمْ أَنْ یَرْمُلُوْا الْأَشْوَاطَ کُلَّہَا إِلَّا إِبْقَائٌ عَلَیْہِمْ۔ (مسند احمد: ۲۶۳۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام مکہ مکرمہ تشریف لائے، یثرب کے بخار کی وجہ سے یہ لوگ کمزور ہوچکے تھے، مشرکین آپس میں یہ باتیں کرنے لگے کہ ان کے پاس ایسے لوگ آرہے ہیں جن کو بخار نے لاغر اور کمزور کردیا ہے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ان کی اس بات سے آگاہ کردیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو حکم دیا کہ وہ طواف میں رمل کریں، مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے ان کو دیکھ رہے تھے، پس مسلمانوں نے طواف میں رمل کیا، البتہ رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام رفتار سے چلے، ان کو دیکھ کر مشرک لوگ کہنے لگے: یہ ہیں وہ لوگ جن کے متعلق تم کہتے تھے کہ انہیں بخار نے لاغر کردیا ہے، یہ تو بڑے طاقت ور ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ پر شفقت کرتے ہوئے تمام چکروں میں رمل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
Takhreej
(۴۳۲۷) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۰۲، ۴۲۵۶، ومسلم: ۱۲۶۶(انظر: ۲۶۳۹)
Explanation
فوائد:… یہ عمرۂ قضا کا واقعہ ہے اور ہجرت کے بعد بیت اللہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پہلی آمد کا موقع تھا۔ حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل کیا جاتا ہے اور رکن یمانی سے حجر اسود کے مابین عام چال چلی جاتی ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ مشرکین حطیم کی طرف بیٹھے تھے، اس لیے جب مسلمان اِن دو کونوں کے مابین عام چال چلتے تھے تو وہ اِن کو نہیں دیکھ پاتے تھے۔ سنن ابو داود کی روایت کے الفاظ یوں ہیں: ((وَکَانُوْا اِذَا بَلَغُوْا الرُّکْنَ الْیَمَانِیَّ وَتَغَیَّبُوْا مَشَوْا ثُمَّ یَطَّلِعُوْنیَرْمُلُوْنَ)) … جب صحابۂ کرام رکن یمانی تک پہنچتے اور مشرکوں سے چھپ جاتے تو عام چال چلنا شروع کر دیتے، پھر جب (حجر اسود کے بعد) ان کے سامنے آتے تو رمل شروع کر دیتے۔ کعبہ کی عمارت درج ذیل چار کونوں پر مشتمل ہے: (۱) حجر اسود، (۲) رکن یمانی، (۳) رکن شامی اور (۴) رکن عراقی۔ اول الذکر دو کو ’’رکنینیمانیین‘‘ اور مؤخر الذکر دو کو ’’رکنین شامیین‘‘ کہتے ہیں، شامی ارکان کی طرف حطیم ہے۔ اگرچہ رمل کا سبب یہ تھا کہ مسلمان، مشرکوں کے سامنے اپنی قوت کا اظہار کریں اور بعد میں یہ سبب زائل ہو گیا، لیکن رمل کو بطورِ سنت برقرار رکھا گیا، جیسا کہ اگلی روایات سے معلوم ہو گا۔
4327
Sahih
۔ (۴۳۲۸) عَنْ أَبِی الطُّفَیْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَۃَ أَشْوَاطٍ بِالْبَیْتِ إِذَا انْتَہٰی إِلَی الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ مَشٰی حَتّٰییَأْتِیَ الْحَجَرَ ثُمَّ یَرْمُلُ، وَمَشٰی أَرْبَعَۃَ أَشْوَاطٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَکَانَتْ سُنَّۃً، (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ أَبُوْ الْطُّفَیْلِ: وَأَخْبَرْنِی ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَعَلَ ذَالِکَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ۔ (مسند احمد: ۲۲۲۰)
۔ ابوطفیل سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کیا، جب آپ رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو حجر اسود تک عام رفتار سے چلتے، اس کے بعد پھر رمل کرتے اور باقی چار چکروں میں آپ عام رفتار سے چلے۔پھر سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے کہا: اس طرح یہ رمل سنت ہے اور یہ حجۃ الوداع کا واقعہ تھا۔
Takhreej
(۴۳۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۶۴(انظر: ۲۲۲۰)
Explanation
فوائد:… جن اسباب کی بنا پر رمل کی ابتداء ہوئی تھی، وہ حجۃ الوداع کے موقع پر مفقود تھے، لیکن رمل کا حکم مستقل سنت کی حیثیت اختیار کر جانے کی وجہ سے باقی رہے گا۔
4328
Sahih
۔ (۴۳۲۹) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طَافَ سَبْعًا وَطَافَ سَعْیًا، وَإِنَّمَا سَعٰی أَحَبَّ أَنْ یُرِیَ النَّاسَ قُوَّتَہُ۔ (مسند احمد: ۲۸۲۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بیت اللہ کے گرد سات چکر لگائے اور (پہلے تین چکر) آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوڑ کر پورے کیے، تاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو اپنی قوت دکھائیں۔
Takhreej
(۴۳۲۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۶۴(انظر: ۲۲۲۰)
4329
Sahih
۔ (۴۳۳۰) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی حَجَّتِہِ وَفِی عُمَرِہِ کُلِّہَا وَأَبُوْ بَکْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَالْخُلَفَائُ۔ (مسند احمد:۱۹۷۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے حج اور تمام عمروں کے طواف میں اور سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان اور باقی خلفاء نے رمل کیا۔
Takhreej
(۴۳۳۰) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط البخاری ۔ أخرجہ ابو یعلی: ۲۴۹۲، وابن ابی شیبۃ: ص ۴۰۷(انظر: ۱۹۷۲)
4330
Sahih
۔ (۴۳۳۱) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشٰی أَرْبَعًا وَکَانَ یَسْعٰی بِبَطْنِ الْمَسِیْلِ إِذَا طَافَ بَیْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃِ۔ (مسند احمد: ۵۷۳۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب پہلا طواف (یعنی طواف قدوم) کرتے تو ابتدائی تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلتے اور صفا ومروہ کی سعی کرتے وقت وادی کے درمیان میں دوڑتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۴۴، ومسلم: ۱۲۶۱(انظر: ۵۷۳۷)
4331
Sahih
۔ (۴۳۳۲) عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّہُ کَانَ یَرْمُلُ ثَلَاثًا وَیَمْشِی أَرْبَعًا وَیَزْعُمُ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَفْعَلُہُ وَکَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ، قَالَ: إِنَّمَا کَانَ یَمْشِی مَا بَیْنَہُمَا لَیَکُوْنَ أَیْسَرَ لِاسْتِلَامِہِ۔ (مسند احمد: ۴۶۱۸)
۔ نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما طواف کے پہلے تین چکروں میں رمل کرتے اور باقی چکروں میں عام رفتار چلتے اور یہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بھی ایسے ہی کیاکرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رکن یمانی اور حجر اسود کے مابین عام رفتا ر سے چلا کرتے تھے، جناب نافع نے کہا: وہ ان دو کے درمیان اس لیے چلتے تھے، تاکہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی ہو۔
Takhreej
(۴۳۳۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۶۱۷، ومسلم: ۱۲۶۱ (انظر: ۴۶۱۸)
Explanation
فوائد:… امام نافع کے نزدیک رکن یمانی سے حجر اسود تک عام چال چلنے کی وجہ حجر اسود کا استلام کرنے میں آسانی پیدا کرنا ہے، یہ جنابِ نافع کا ذاتی فہم ہے، یہاں عام چال چلنے کی وجہ مشرکوں سے اوجھل ہو جانا تھا، جیسا کہ اس باب کی پہلی حدیث میں وضاحت ہو چکی ہے۔
4332
Sahih
۔ (۴۳۳۳) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَی الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ۔ (مسند احمد: ۶۰۴۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجراسود سے حجراسود تک رمل کیا۔
Takhreej
(۴۳۳۳) تخریج: انظر الحدیث السابق
Explanation
فوائد:… سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجر اسود سے لے کر حجر اسود تک تین چکروں میں ’’رمل‘‘ کیا اور چار چکروں میں عام چال چلتے رہے۔ (مسلم)عمرۂ قضاء کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے طوافِ قدوم کے پہلے تین چکروں میں حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل کیا تھا، لیکن حجۃ الوداع کے موقع پر حجر اسود سے حجر اسود تک، یعنی پورے چکر میں رمل کیا، جیسا کہ اِس حدیثسے معلوم ہوتا ہے۔امام مبارکپوری ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی حدیث والا عمل عمرۂ قضاء کے موقع پر۷ھ میں پیش آیا، جبکہ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ کی حدیث والا عمل ۱۰ ھ میں پیش آیا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آخری عمل کو لیا جائے گا اور پہلے والے عمل کو منسوخ سمجھا جائے گا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۲/ ۹۲) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ پہلے تین چکروں میں مکمل رمل کیا جائے گا۔
4333
Sahih
۔ (۴۳۳۴) عَنْ یَعْلَی بْنِ أُمَیَّہَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمَّا قَدِمَ طَافَ بِالْبَیْتِ وَھُوَمُضْطَبِعٌ بِبُرْدٍ لَہُ حَضْرَمِیٍّ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۲۰)
۔ سیدنایعلی بن امیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حضرمی چادر سے اضطباع کیا ہوا تھا۔
Takhreej
(۴۳۳۴) تخریج: حدیث صحیح ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۸۳(انظر: ۱۷۹۵۶)
Explanation
فوائد:… اضطباع کا معنییہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ چادر اس طرح لپیٹی ہوئی تھی کہ آپ کا دایاں کندھا برہنہ تھا، طوافِ قدوم کے ساتوں چکروں میں اضطباع کیا جاتا ہے۔
4334
Sahih
۔ (۴۳۳۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہُ اعْتَمَرُوْا مِنْ جِعْرَانَۃَ فَاضْطَبَعُوْا أَرْدِیَتَہُمْ تَحْتَ آَبَاطِہِمْ (وَفِیْ لَفْظٍ) جَعَلُوْا أَرْدِیَتَہُمْ وَقَذَفُوْہَا عَلٰی عَوَاتِقِہِمُ الْیُسْرٰی۔ (مسند احمد: ۲۷۹۲)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو انہوں نے اس طرح اضطباع کیا ہوا تھا کہ انھوں نے (دائیں کندھوں کی) بغلوں سے چادروں کو گزار کر بائیں کندھے پر ڈالا ہوا تھا۔
Takhreej
(۴۳۳۵) تخریج: اسنادہ قوی علی شرط مسلم ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۸۴، ۱۸۹۰(انظر: ۲۷۹۲)
4335
Sahih
۔ (۴۳۳۶)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابَہٗاِعْتَمَرُوْامِنْجِعْرَانَۃَ فَرَمَلُوْا بِالْبَیْتِ ثَلَاثًا وَمَشَوْا أَرْبَعًا۔ (مسند احمد: ۲۶۸۸)
۔ (دوسری سند) رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ نے جعرانہ سے عمرہ کیا اورانہوں نے بیت اللہ کے گرد طواف کرتے وقت پہلے تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چارچکروں میں عام رفتار سے چلے۔
Takhreej
(۴۳۳۶) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
4336
Sahih
۔ (۴۳۳۷) عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: فِیْمَا الرَّمَلَانُ الْآنَ وَالْکَشْفُ عَنِ الْمَنَاکِبِ وَقَدْ أَطَّأَ اللّٰہُ الإِسْلَامَ وَنَفَی الْکُفْرَ وَأَھْلَہُ، وَمَعَ ذَالِکَ لَا نَدَعُ شَیْئًا کُنَّا نَفْعَلُہُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۱۷)
۔ سیدنا عمربن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اب دورانِ طواف رمل اور کندھوں کو ننگا کرنے کا کیا مقصد ہے؟ اب تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ دے دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کو ختم کر دیا ہے، لیکن اس کے باوجود ہم اس عمل کو ترک نہیں کریں گے جو ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے عہد میں کیا کرتے تھے۔
Takhreej
(۴۳۳۷) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۸۸۷،و ابن ماجہ: ۲۹۵۲، وأخرجہ بنحوہ البخاری: ۱۶۰۵ (انظر: ۳۱۷)
Explanation
فوائد:… سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے بڑی خوبصورت بات کی ہے کہ رمل اور اضطباع کا سبب وہ مشرک تھے، جو عمرۂ جعرانہ کے موقع پر حطیم کی طرف بیٹھے تھے اور جن کا نظریہیہ تھا کہ یثرب کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور اور لاغر کر دیا ہے، ان کے اس تصور کو ردّ کرنے کے لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رمل اور اضطباع کا حکم دیا تھا، غلبۂ اسلام کے بعد سرے سے یہ سبب ہی ختم ہو چکا تھا، لیکن سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو عمل کر دیا ہے، اس کو بحال رکھا جائے، اگرچہ اس کا سبب ختم ہو چکا ہے۔
4337
Sahih

Chapters

12
01
مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے لیے غسل کرنا
2 Hadith
02
مکہ مکرمہ میں کس راستے سے اور کس وقت داخل ہوا جائے
4 Hadith
03
مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کی دعا
1 Hadith
04
طواف کے لئے طہارت اور سترہ کا بیان
4 Hadith
05
طوافِ قدوم اور اس میں رمل اور اضطباع کا بیان
11 Hadith
06
طواف، رکن یمانی،حجراسود اور مقامِ ابراہیم کی فضیلت
7 Hadith
07
حجراسود اور رکن یمانی کا استلام کرنے اور دوسرے دو کونوں کا استلام نہ کرنے کا بیان
6 Hadith
08
حجراسود کا استلام کرنے،اس کو بوسہ دینے اوراس وقت کی دعا کا بیان، نیز ہجوم والا بندہ کیا کرے، اس چیز کا بیان
5 Hadith
09
بیت اللہ کے تمام کونوں کا استلام کرنا
2 Hadith
10
اس امر کا بیان کہ کسی عذر اور ضرورت کی بنا پر اونٹ وغیرہ پر طواف اور چھڑی وغیرہ کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا جا سکتا ہے
6 Hadith
11
اس امر کا بیان کہ طواف کرنے والاآدمی حطیم کے باہر سے طواف کرے، تاکہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پورے بیت اللہ کا طواف ہوسکے
3 Hadith
12
ہر وقت میں طواف کے جائز ہونے کا اور بعض اوقات میں اس کو مکروہ سمجھنے والوں کا بیان
3 Hadith
No chapter matched that.