TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان

Chapter 12 of نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 12 of 16 · 10 Hadith
۔ (۲۸۰۱) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَھُوَ یَخْطُبُ فَہُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا وَالَّذِی یَقُوْلُ لَہُ أَنْصِتْ لَیْسَ لَہُ جُمُعَۃٌ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۳)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص جمعہ کے دن کلام کرے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ اس گدھے کی طرح ہے جس نے بہت ساری کتابیں اٹھا رکھی ہوں اور جو شخص اس کو کہے کہ خاموش ہوجاؤ، اس کا بھی کوئی جمعہ نہیں ہو گا۔
Takhreej
(۲۸۰۱) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، مجالد بن سعید الھمدانی ضعّفہ یحیی القطان، وعبد الرحمن بن مھدی و أحمد وغیرھم، ولبعضہ شواھد (انظر: ۲۰۳۳)
2801
Zaeef
۔ (۲۸۰۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَیْتَ۔)) قَالَ سُفْیَانُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ ھِیَ لُغَۃُ أَبِی ھُرَیْرَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۳۲۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی کو کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا تو تحقیق تو لغو کام کرے گا۔ ابوزناد نے کہا: لَغَوْتَ کو لَغَیْتَ پڑھنا سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی لغت ہے۔
Takhreej
(۲۸۰۲) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۳۴، ومسلم: ۸۵۱ (انظر: ۷۳۳۲، ۷۶۸۶)
2802
Sahih
۔ (۲۸۰۳)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ أَنْصِتْ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَدْ لَغَوْتَ۔ (مسند احمد: ۹۱۳۶)
(دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے ساتھی کو جمعہ کے دن یہ کہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، کہ تو خاموش ہوجا اور امام خطبہ دے رہا ہو، پس تحقیق تو نے لغو کام کیا۔
Takhreej
(۲۸۰۳)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2803
Sahih
۔ (۲۸۰۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا فَقَدْ أَلْغَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ)) (مسند احمد: ۸۲۱۸)
(تیسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو لوگوں سے کہے کہ خاموش ہوجاؤ، تو تحقیق تو نے اپنی جان پر لغو کام کیا۔
Takhreej
(۲۸۰۴)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2804
Sahih
۔ (۲۸۰۵) عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَرَأ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ بَرَائَۃً وَھُوَ قَائِمٌ یُذَکِّرُ بِأَیَّامِ اللّٰہِ وَأُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ وِجَاہَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو الدَّرْدَائِ وَأَبُو ذَرٍّ، فَغَمَزَ أُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ أَحَدُھُمَا فَقَالَ مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ یَا أُبَیُّ! فَاِنِّی لَمْ أَسْمَعْہَا اِلَّا الْآنَ؟ فَأَشَارَ اِلَیْہِ أَنِ اسْکُتْ فَلَمَّا انْصَرَفُوا، قَالَ: سَأَلْتُکَ مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ السُّوْرَۃُ فَلَمْ تُخْبِرْ، قَالَ أُبِیٌّ: لَیْسَ لَکَ مِنْ صَلَاتِکَ الْیَوْمَ اِلَّا مَا لَغَوْتَ، فَذَھَبْتُ اِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ وَأَخْبَرْتُہُ بِالَّذِی قَالَ أُبَیٌّ فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبَیٌّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۱۱)
سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ والے دن سورۂ توبہ کی تلاوت کی، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے تھے اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے ساتھ وعظ ونصیحت کر رہے تھے۔ سیّدنا ابی بن کعب، سیّدنا ابو الدرداء اور سیّدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے، (مؤخر الذکر دو صحابہ میں سے) ایک نے سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دبایا اور پوچھا: ابی! یہ سورت کب نازل ہوئی، میں نے تو آج ہی سنی ہے؟ انھوں نے جواباً خاموش رہنے کا اشارہ کیا، جب وہ (جمعہ سے) فارغ ہو گئے تو اس صحابی نے کہا: میں نے تم سے سوال کیا تھا کہ یہ سورۃ کب نازل ہوئی ، لیکن تم نے مجھے کوئی بات نہ بتلائی۔ اب کی بار سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آج تجھے اپنی اس نماز میں سے کچھ نہیں ملا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو بات کی ہے۔ یہ سن کر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلا گیا اور ابی کے قول سمیت ساری بات ذکر کر دی، آگے سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا۔
Takhreej
(۲۸۰۵) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد قوی ان ثبت سماع عطاء بن یسار من أبی بن کعب أخرجہ ابن ماجہ: ۱۱۱۱ (انظر: ۲۱۲۸۷)
2805
Sahih
۔ (۲۸۰۶) عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: جَلَسَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمًا عَلَی الْمِنْبَرِ فَخَطَبَ النَّاسَ وَتَلَا آیَۃً وَاِلٰی جَنْبِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَقُلْتُ لَہُ: یَا أُبَیُّ! مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ؟ قَالَ: فَأَبٰی أَنْ یُکَلِّمَنِی، ثُمَّ سَأَلْتُہُ فَأَبٰی أَنْ یُکَلِّمَنِی، حَتّٰی نَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ لِی أُبِیٌّ: مَالَکَ مِنْ جُمُعَتِکَ اِلَّا مَا لَغَیْتَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جِئْتُہُ فَأَخْبَرْتُہُ فَقُلْتُ: أَیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّکَ تَلَوْتَ آیَۃً وَاِلٰی جَنْبِی أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ فَسَأَلْتُہُ مَتٰی أُنْزِلَتْ ھٰذِہِ الْآیَۃُ؟ فَأَبٰی أَنْ یُکَلِّمَنِیْ حَتّٰی اِذَا نَزَلْتَ زَعَمَ أُبَیٌّ أَنَّہُ مَا لَیْسَ لِی مِنْ جُمُعَتِی اِلَّا مَا لَغَیْتُ، فَقَالَ: ((صَدَقَ أُبِیٌّ، فَاِذَا سَمِعْتَ اِمَامَکَ یَتَکَلَّمُ فَأَنْصِتْ حَتّٰی یَفْرُغَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۷۳)
سیّدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر بیٹھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور بیچ میں ایک آیت بھی تلاوت کی، میرے پہلومیں سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اے ابی! یہ آیت کب نازل ہوئی ہے؟لیکن انہوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، میں نے پھر سوال دوہرایا، لیکن انہوںنے مجھ سے بات کرنے سے انکار ہی کیا، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اتر آئے تو سیّدنا ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: تجھے اس جمعہ (کے ثواب) میں سے کچھ نہیں ملے گا، مگر وہی کچھ جو تو نے لغو کام کیا۔ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا کہ اے اللہ کے رسول آپ نے (دوران خطبہ) ایک آیت تلاوت کی تھی، جبکہ میرے پہلو میں سیّدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیٹھے ہوئے تھے، اس لیے میں نے ان سے یہ پوچھا کہ یہ آیت کب نازل ہوئی تھی؟ لیکن انھوں نے مجھ سے کلام کرنے سے انکار کردیا، جب آپ اتر آئے، تو ابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے یہ کہہ دیا کہ میرے لیے جمعہ کا کوئی ثواب نہیں ہے مگر وہی کچھ جو میں نے لغو کام کیا ہے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابی نے سچ کہا ہے، جب تو اپنے امام کو سنے کہ وہ کلام کررہا ہے تو اس کے فارغ ہونے تک خاموش ہوجا۔
Takhreej
(۲۸۰۶) تخریـج: …صحیح لغیرہ، وھذا اسناد منقطع، حرب بن قیس لم یسمع من أبی الدرداء أخرجہ الطحاوی فی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۱/ ۳۶۷، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘ وقد سلفت القصۃ فی الحدیث السابق (انظر: ۲۱۷۳۰)
2806
Sahih
۔ (۲۸۰۷) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْزِلُ مِنَ الْمِنْبَرِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَیُکَلِّمُہُ الرَّجُلُ فِی الْحَاجَۃِ فَیُکَلِّمُہُ ثُمَّ یَتَقَدَّمُ اِلٰی مُصَلَّاہُ فَیُصَلِّی۔ (مسند احمد: ۱۲۲۲۵)
سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب جمعہ کے دن منبر سے اترتے، تو ایک آدمی کسی حاجت کے بارے میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے گفتگو کرتا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جائے نماز کی طرف آگے بڑھتے اور نماز پڑھاتے۔
Takhreej
(۲۸۰۷) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۱۱۲۰، والترمذی: ۵۱۷، والنسائی: ۳/ ۱۱۰ (انظر: ۱۲۲۰۱)
2807
Sahih
۔ (۲۸۰۸) عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ، وَالْمُؤَذِّنُ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَھُوَ یَسْتَخْبِرُ النَّاسَ یَسْأَلُھُمْ عَنْ أَخْبَارِھِمْ وَأَسْعَارِھِمْ۔ (مسند احمد: ۵۴۰)
موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو سنا، جبکہ وہ منبر پر تھے اور لوگوں سے ان کی خبروں اور نرخوں کے بارے میں معلومات لے رہے تھے اور مؤذن اقامت کہہ رہا تھا۔
Takhreej
(۲۸۰۸) تخریـج: …صحیح أخرجہ ابن سعد: ۳/ ۵۹، وابن شبۃ: ۳/ ۹۶۲ (انظر: ۵۴۰)
2808
Sahih
۔ (۲۸۰۹) عَنْ أَبِی رِفَاعَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِنْتَہَیْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَخْطُبُ فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! رَجُلٌ غَرِیْبٌ جَائَ یَسْأَلُ عَنْ دِیْنِہِ لَا یَدْرِی مَا دِیْنُہُ، قَالَ فَأَقْبَلَ اِلیَّ فَأُتِیَ بِکُرْسِیٍّ فَقَعَدَ عَلَیْہِ فَجَعَلَ یُعَلِّمُنِی مِمَّا عَلَّمُہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ، قَالَ ثُمَّ أَتٰی خُطْبَتَہُ فَأَتَمَّ آخِرَھَا ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۳۳)
سیّدنا ابورفاعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب میںرسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ایک اجنبی آدمی ہوں، دین کے بارے میں سوال کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں نہیں جانتا کہ میرا دین کیا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میری طرف متوجہ ہوئے، پھر کرسی لائی گئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جو علم دیا، اس میں سے مجھے تعلیم دینے لگے، پھر خطبہ کے لیے تشریف لے گئے اور اس کا آخری حصہ مکمل کیا۔
Takhreej
(۲۸۰۹) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۷۶ (انظر: ۲۰۷۵۳)
2809
Sahih
۔ (۲۸۱۰) عَنْ بُرَیْدَۃَ الْأَسْلَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُنَا، فَجَائَ الْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ عَلَیْہِمَا قَمِیْصَانٍ أَحْمَرَانِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَنَزَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَہُمَا فَوَضَعَھُمَا بَیْنَ یَدَیْہِ ثُمَّ قَالَ صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ، {اِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْدُلَاکُمْ فِتْنَۃٌ} نَظَرْتُ اِلَی ھٰذَیْنِ الصَّبِیَّیْنِ یَمْشِیَانِ وَیَعْثُرَانِ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتّٰی قَطَعْتُ حَدِیْثِی وَرَفَعْتُہُمَا۔ (مسند احمد: ۲۳۳۸۳)
سیّدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں سیّدنا حسن اور سیّدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما آ گئے، ان پر سرخ رنگ کی دو قمیصیں تھیں، وہ چل رہے تھے اور گر رہے تھے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر سے اتر پڑے، ان کو اٹھایا اور اپنے سامنے بٹھا دیا، پھرفرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرماکہ تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں، میں نے ان دو بچوں کو دیکھا، یہ چلتے ہوئے گر رہے تھے، مجھ سے صبر نہ ہو سکا، اس لیے میں نے اپنی گفتگو بند کر دی اور ان کو اٹھا لیا۔۔
Takhreej
(۲۸۱۰) تخریـج: …اسنادہ قوی أخرجہ ابوداود: ۱۱۰۹، وابن ماجہ: ۳۶۰۰، والترمذی: ۳۷۷۴، والنسائی: ۳/ ۱۰۸، ۱۹۲ (انظر: ۲۲۹۹۵)
2810
Sahih

Chapters

16
01
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
02
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
2 Hadith
03
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
8 Hadith
04
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
11 Hadith
05
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
06
جمعہ کے وقت کا بیان
10 Hadith
07
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
22 Hadith
08
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
18 Hadith
09
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
4 Hadith
10
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
4 Hadith
11
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
18 Hadith
12
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
10 Hadith
13
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
1 Hadith
14
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
3 Hadith
15
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
6 Hadith
16
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
5 Hadith
No chapter matched that.