TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان

Chapter 8 of نماز جمعہ اور جمعہ کے دن کی فضیلت اور اس کے متعلقات کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 8 of 16 · 18 Hadith
۔ (۲۷۵۷) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ فِی حَدِیْثِ عَبْدِالرَّحْمٰنِ۔ غُسْلَ الْجَنَابَۃِ ثُمَّ رَاحَ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّانِیَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الثَّالِثَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ کَبْشًا، قَالَ اِسْحَاقُ أَقْرَنَ وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الرَّابِعَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَۃً وَمَنْ رَاحَ فِی السَّاعَۃِ الْخَامِسَۃِ فَکَأَنَّمَا قَرَّبَ بَیْضَۃً فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ أَقْبَلَتِ الْمَلَائِکَۃُ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔)) وَفِیْ لَفْظٍ: فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِکَۃُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّکْرَ۔ (مسند احمد: ۹۹۲۸)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن غسلِ جنابت کی طرح کا غسل کیا،پھر وہ مسجد کی طرف چلا، (اور پہلی گھڑی میں پہنچ گیا)تو گویا اس نے ایک اونٹ کی قربانی پیش کی، جو شخص دوسری گھڑی میں پہنچا، اس نے گویا کہ ایک گائے کی قربانی پیش کی، جو آدمی تیسری گھڑی میں پہنچا تو اس نے گویا کہ سینگوں والے ایک مینڈھے کی قربانی کی، جو شخص چوتھی گھڑی میں مسجد میں پہنچا تو گویا کہ اس نے ایک مرغی کی قربانی کی اور جو پانچویں گھڑی میں پہنچاتو اس نے گویا کہ ایک انڈے کی قربانی پیش کی، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے بھی (آگے) آ کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو فرشتے صحیفوں کو لپیٹ دیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہو کر ذکر سننا شروع کردیتے ہیں۔
Takhreej
(۲۷۵۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۸۱، ومسلم: ۸۵۰ (انظر: ۹۹۹۲۶) (وَفِی لَفْظٍ) فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَتِ الْمَلَائِکَۃُ الصُّحُفَ وَدَخَلَتْ تَسْمَعُ الذِّکْرَ۔ تخریـج: انظر الحدیث بالطریق الأول
2757
Sahih
۔ (۲۷۵۸)(وَعَنْہُ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَلْمُہَجِّرُ اِلَی الْجُمُعَۃِ کَالْمُہْدِی بَدَنَۃً ثُمَّ الَّذِی یَلِیْہِ کَالْمُہْدِی بَقَرَۃً، وَالَّذِی یَلِیْہِ کَالْمُھْدِی کَبْشًا‘‘ حَتّٰی ذَکَرَ الدَّجَاجَۃَ وَالْبَیْضَۃَ۔ (مسند احمد: ۷۲۵۸)
(دوسری سند)نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کی طرف جلدی جلدی جانے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا مینڈھے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مرغی اور انڈے کا بھی ذکر کیا۔
Takhreej
(۲۷۵۸)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2758
Sahih
۔ (۲۷۵۹) وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا تَغْرُبُ عَلٰی یَوْمٍ أَفْضَلَ مِنْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ، وَمَا مِنْ دَابَّۃٍ اِلَّا تَفْزَعُ لِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ اِلَّا ھٰذَیْنِ الثَّقَلَیْنِ مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ، عَلٰی کُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ مَلَکَانِ یَکْتُبَانِ (وَفِی لَفْظٍ مَلَائِکَۃٌ یَکْتُبُوْنَ) الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ فَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَدَنَۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَقَرَۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ شَاۃً، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ طَائِرًا، وَکَرَجُلٍ قَدَّمَ بَیْضَۃً، فَاِذَا قَعَدَ الاِْمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند احمد: ۷۶۷۳)
سیّدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سورج ایسے دن پر طلوع ہوتا ہے نہ غروب، جو جمعہ کے دن سے افضل ہو، ہر جانور جمعہ کے دن گھبرایا ہوا ہوتا ہے، سوائے ان دو جماعتوں جن و انس کے، اس دن کو مسجدکے دروازوں میں سے ہر دروازے پر لکھنے والے دو فرشتے ہوتے ہیں، جو پہلے پہلے آنے والوں کو لکھتے ہیں، پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی کرنے والے، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی کرنے والے کی طرح، اس کے بعد آنے والا پرندے کی قربانی کرنے والے کی طرح اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی کرنے والے کی طرح ہے، جب امام (منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو صحائف کو لپیٹ لیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۵۹) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، وانظر الحدیث السابق: ۱۵۶۰ (انظر: ۷۶۸۷) أخرجہ (انظر: )
2759
Sahih
۔ (۲۷۶۰) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ قَعَدَتِ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَیَکْتُبُوْنَ النَّاسَ مَنْ جَائَ مِنَ النَّاسِ عَلٰی مَنَازِلِھِمْ فَرَجُلٌ قَدَّمَ جَزُوْرًا، وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَقَرَۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ شَاۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ دَجَاجَۃً، وَرَجُلٌ قَدَّمَ عُصْفُورًا وَرَجُلٌ قَدَّمَ بَیْضَۃً، قَالَ فَاِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ وَجَلَسَ الْاِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ طُوِیَتِ الصُّحُفُ وَدَخَلُوا الْمَسْجِدَ یَسْتَمِعُوْنَ الذِّکْرَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۹۱)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور (مسجد میں آنے کے لحاظ سے) لوگوں کے مراتب کے مطابق ان کا اندراج شروع کر دیتے ہیں، پس پہلے آنے والا اونٹ کی قربانی، اس کے بعد آنے والا گائے کی قربانی، اس کے بعد آنے والا بکری کی قربانی، اس کے بعد آنے والا مرغی کی قربانی، اس کے بعد آنے والا چڑیا کی قربانی اور اس کے بعد آنے والا انڈے کی قربانی پیش کرتا ہے،
Takhreej
(۲۷۶۰) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ النسائی فی ’’الکبری‘‘، والطحاوی فی ’’شرح مشکل الآثار‘‘: ۲۶۰۶، وفی ’’شرح معانی الآثار‘‘: ۴/ ۱۸۰ (انظر: ۱۱۷۶۹)
2760
Sahih
۔ (۲۷۶۱) عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ خَرَجَ الشَّیَاطِیْنُ یُرَبِّثُوْنَ النَّاسَ اِلَی أَسْوَاقِہِمْ وَمَعَہُمُ الرَّایَاتُ وَتَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ مَنَازِلِھِمْ، السَّابِقَ وَالْمُصَلِّیَ وَالَّذِی یَلِیْہِ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ، فَمَنْ دَنَا مِنَ الْاِمَامٍ وَأَنْصَتَ وَاسْتَمعَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کِفْلَانِ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ نَاٰی عَنْہُ فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہُ کِفْلٌ مِنَ الْأَجْرِ، وَمَنْ دَنَا مِنَ الْاِمَامِ فَلَغَا وَلَمْ یُنْصِتْ وَلَمْ یَسْتَمِعْ کَانَ عَلَیْہِ کِفْلَانِ مِنَ الْوِزْرِ وَمَنْ نَاٰی عَنْہُ فَلَغَا وَلَمْ یُنْصِتْ وَلَمْ یَسْتَمِعْ کَانَ عَلَیْہِ کِفْلٌ مِنَ الْوِزْرَ، وَمَنْ قَالَ صَہْ فَقَدْ تَکَلَّمَ، وَمَنْ تَکَلَّمَ فَـلَا جُمُعَۃَ لَہُ، ثُمَّ قَالَ ھٰکَذَا سَمِعْتُ نَبِیَّکُمْ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۷۱۹)
سیّدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو شیاطین اپنے جھنڈے لے کر نکلتے ہیں اور لوگوں کو بازاروں کی طرف روک دیتے ہیں، جبکہ فرشتے مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور لوگوں کو ان کی مرتبے کے مطابق لکھنا شروع کر دیتے ہیں، یعنی سب سے پہلے آنے والا، پھر دوسرے نمبر پر آنے والا، پھر اس کے بعد آنے والا، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے، پس جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، خاموشی سے اور غور سے خطبہ سنا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے دو اجر ہیں اور جو امام سے دور ہو کر بیٹھا،لیکن اس نے غور سے خطبہ سنا،خاموشی سے بیٹھا رہا اور کوئی لغو کام نہ کیا تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ اور جو شخص امام کے قریب ہو کر بیٹھا، لیکن لغو کام کیا اور خاموشی سے بیٹھا نہ غور سے خطبہ سنا، تو اس پر دو حصے گناہ ہے، اور جو امام سے دور بیٹھا،لغو کام کیا، خاموشی اختیار کی نہ غور سے خطبہ سنا تو اس پر گناہ کا ایک حصہ ہے اور جس نے کسی کو کہا کہ خاموش ہوجا پس اس نے کلام کیا اور جس نے کلام کیا اس کا کوئی جمعہ نہیں۔ پھر سیّدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہ: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح فرماتے سنا۔
Takhreej
(۲۷۶۱) تخریـج: … یہ سند ضعیف ہے، کیونکہ مولی امرأۃ عطاء مجھول ہے۔ أخرجہ أبوداود: ۱۰۵۱ (انظر: ۷۱۹)
2761
Zaeef
۔ (۲۷۶۲) عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ عَلَی مَنَازِلِھِمْ، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ مِنْ سَاعَۃِ کَذَا، جَائَ فُلَانٌ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ، جَائَ فُلَانٌ فَأَدْرَکَ الصَّلَاۃَ وَلَمْ یُدْرِکِ الْجُمُعَۃَ اِذَا لَمْ یُدْرِکِ الْخُطْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۸۵۰۴)
سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک فرشتے جمعہ کے دن مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں اور مراتب کے لحاظ سے لوگوں کا اندراج کرتے ہیں کہ فلاں آدمی فلاں گھڑی میں اور فلاں فلاں ٹائم پر پر آیا اور فلاں اس وقت آیا جب امام خطبہ دے رہا تھا اور فلاں نے نماز تو پالی لیکن جمعہ نہ پا سکا، کیونکہ اس سے خطبہ رہ گیا تھا۔
Takhreej
(۲۷۶۲) تخریـج:… اس کی سند ضعیف ہے، کیونکہ علی بن زیدبن جدعان ضعیف ہے اور اوس بن خالد مجھول ہے۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۲/ ۱۵۲، والطیالسی: ۲۵۶۵(انظر: ۸۵۲۳)
2762
Zaeef
۔ (۲۷۶۳) عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((یَحْضُرُ الْجُمُعَۃَ ثَـلَاثَۃٌ، رَجُلٌ حَضَرَھَا بِدُعَائٍ وَصَلَاۃٍ، فَذٰلِکَ رَجُلٌ دَعَا رَبَّہُ اِنْ شَائَ أَعْطَاہُ وَاِنْ شَائَ مَنَعَہُ، وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِسُکوتٍ وَاِنْصَاتٍ فَذٰلِکَ ھُوَ حَقُّہَا، وَرَجُلٌ یَحْضُرُھَا بِاللَّغْوٍ فَذٰلِکَ حَظُّہُ مِنْہَا۔)) (مسند احمد: ۶۷۰۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین قسم کے افراد جمعہ میں حاضر ہوتے ہیں، ایک آدمی (درانِ خطبہ) دعا اور نماز کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، (ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ) اس نے اپنے رب سے دعا کی ہے، اگر اس نے چاہا تو دے دے گا اور چاہا تو نہیں دے گا، دوسرا آدمی سکوت اور خاموشی کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور یہی اس کا حق ہے اور تیسرا آدمی لغو کے ساتھ حاضر ہوتا ہے، پس اس کا حصہ تو یہی (لغو کام) ہی ہوتا ہے۔
Takhreej
(۲۷۶۳) تخریـج: …حدیث حسن، ویوسف فی ھذا السند لم نعرفہ أخرجہ أبوداود: ۱۱۱۳ (انظر: ۶۷۰۱، ۷۰۰۲)
2763
Sahih
۔ (۲۷۶۴)(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ وَفِیْہِ): وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِاِنْصَاتٍ وَسُکُوتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُؤْذِ أَحَدًا فَھِیَ کَفَّارَۃٌ لَہُ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِی تَلِیْہَا وَزِیَادَۃُ ثَـلَاثَۃِ اِیَّامٍ، فَاِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: {مَنْ جَائَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہُ عَشْرُ أَمْثَالِھَا‘‘} (مسند احمد: ۷۰۰۲)
(دوسری سند)اور ایک وہ آدمی ہے، جو خطبہ میں خاموشی و سکوت کے ساتھ حاضر ہوتا ہے اور کسی مسلمان کے گردن پھلانگتا ہے نہ کسی کو تکلیف دیتا ہے، تو ایسا جمعہ اس کے لیے اگلے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے، بیشک اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جو نیکی کرے گا، اس کو دس گناہ اجر ملے گا۔
Takhreej
(۲۷۶۴)تخریـج: …انظر الحدیث بالطریق الأول
2764
Sahih
۔ (۲۷۶۵) عَنْ أَبِی أَیُّوبَ عَنْ أَبِی ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَہُ الْمَسْجِدَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَرَأَی غُلَامًا فَقَالَ لَہُ: یَا غُلَامُ! اذْھَبْ، الْعَبْ، قَالَ: اِنَّمَا جِئْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ، قَالَ: یَا غُلَامُ! اِذْھَبْ! اِلْعَبْ، قَالَ: اِنَّمَا جِئْتُ اِلَی الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَتَقْعُدُ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَجِیْئُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَتَقْعُدُ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَیَکْتُبُونَ السَّابِقَ وَالثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالنَّاسَ عَلٰی مَنَازِلِھِمْ حَتّٰی یَخْرُجَ الْاِمَامُ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) (مسند احمد: ۱۰۲۷۶)
ابو ایوب کہتے ہیں: میںجمعہ کے دن سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، انہوں نے ایک لڑکے کو دیکھا اور اسے کہا: اے لڑکے! جاؤ اورکھیلو، لیکن اس نے کہا: میں تو مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پھر کہا: لڑکے! جاؤ اور کھیلو، لیکن اس نے پھر کہا: میں مسجد کی طرف آیا ہوں، انھوں نے پوچھا: تو امام کے نکلنے تک بیٹھا رہے گا؟اس نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر سیّدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ فرشتے جمعہ کے دن آکر مسجدوں کے دروازوں پربیٹھ جاتے ہیں اورسب سے پہلے آنے والے، پھر دوسرے نمبر پر اورپھر تیسرے نمبر پر آنے والے لوگوں کو ان کے مرتبوں کے مطابق لکھتے ہیں، حتیٰ کہ امام نکل آتا ہے۔ جب امام نکل آتاہے تو صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۲۷۶۵) تخریـج: …المرفوع منہ صحیح، وھذا اسناد حسن أخرج المرفوع منہ: مسلم: ۸۵۰ (انظر: ۷۲۵۸، ۱۰۲۷۱)
2765
Sahih
۔ (۲۷۶۶) عَنْ أَبِی غَالِبٍ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تَقْعُدُ الْمَلَائِکَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلٰی أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، مَعَہُمُ الصُّحُفُ یَکْتُبُوْنَ النَّاسَ، فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طُوِیَتِ الصُّحُفُ۔)) قُلْتُ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! لَیْسَ لِمَنْ جَائَ بَعْدَ خُرُوْجِ الْاِمَامِ جُمُعَۃٌ؟ قَالَ: بَلٰی وَلٰکِنْ لَیْسَ مِمَّنْ یُکْتَبُ فِی الصُّحُفِ۔ (مسند احمد: ۲۲۶۲۴)
ابوغالب کہتے ہے کہ سیّدنا ابوامامۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازوں پر بیٹھ جاتے ہیں، ان کے پاس صحیفے ہوتے ہیں، وہ ان میں لوگوں کا اندراج کرتے ہیں، جب امام خطبہ کے لیے نکلتا ہے تو صحیفے لپیٹ دے جاتے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابوامامۃ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ !جو شخص امام کے نکلنے کے بعد آئے اس کا جمعہ نہیں ہوتا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں ہوتا، جو صحیفوں میں لکھے جاتے ہیں۔
Takhreej
(۲۷۶۶) تخریـج: …صحیح لغیرہ۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۸۱۰۲ (انظر: ۲۲۲۴۲، ۲۲۲۶۸)
2766
Sahih
۔ (۲۷۶۷) عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ قَالَ: لَحِقَنِیْ عَبَایَۃُ بْنُ رَافِعِ بْنِ خَدِیْجٍ وَأَنَا رَائِحٌ اِلَی الْمَسْجِدِ اِلَی الْجُمُعَۃِ مَاشِیًا وَھُوَ رَاکِبٌ، قَالَ: اَبْشِرْ فَاِنِّی سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاہُ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حَرَّمَہُمَا اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۶۰۳۱)
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں:میں جمعہ کے لیے مسجد کی طرف پیدل جا رہا تھا،مجھے عبایۃ بن رافع ملے، جبکہ وہ سواری پر تھے، وہ کہنے لگے: خوش ہوجا، میں نے سیّدنا ابوعبس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کے قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہوئے، اللہ ان کو جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا۔
Takhreej
(۲۷۶۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۰۷، ۲۸۱۱ (انظر: ۱۵۹۳۵)
2767
Sahih
۔ (۲۷۶۸) عَنِ ابْنِ عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا نَعَسَ أَحَدُکُمْ فِی الْمَسْجِدِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہِ ذٰلِکَ اِلٰی غَیْرِہِ)) (مسند احمد: ۴۸۷۵)
سیّدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جمعہ کے دن تم میں سے کسی کو مسجد میں نیند آنے لگے تو وہ اس جگہ سے منتقل ہو کر کسی اور مقام پر بیٹھ جائے ۔
Takhreej
(۲۷۶۸) تخریـج: …ضعیف مرفوعا، والصحیح انہ موقوف، محمد بن اسحاق تفرد برفعہ، وخالفہ من ھو أوثق منہ وأحفظ، فرواہ موقوفا شیخ البانی نے سنن ابوداود (۱۰۲۵)میں اس حدیث کو ایک شاھد کی بنا پر صحیح قرار دیا ہے۔ أخرجہ أبوداود: ۱۱۱۹، والترمذی: ۵۲۶(انظر: ۴۸۷۵)
2768
Sahih
۔ (۲۷۶۹) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یُقِیْمُ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ ثُمَّ یُخَالِفُہُ اِلَی مَقْعَدِہِ وَلٰکِنْ لِیَقُلِ افْسَحُوا۔)) (مسند احمد: ۱۴۱۹۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن اپنے بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے، کہ وہ خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے، اسے چاہیے کہ وہ یوں کہہ دے کہ کھلے ہو جاؤ۔
Takhreej
(۲۷۶۹) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد منقطع، سلیمان بن موسی الأموی روایتہ عن جابر مرسلۃ أخرجہ موصولا مسلم: ۲۱۷۸ (انظر: ۱۴۱۴۴، ۱۴۶۸۵)
2769
Sahih
۔ (۲۷۷۰) عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَرْقَمِ بْنِ أَبِی الْأَرْقَمِ الْمَخْزُومِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الَّذِی یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَیُفَرِّقُ بَیْنَ الْاِثْنَیْنِ بَعْدَ خُرُوجِ الْاِمَامِ کَالْجَارِّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ)) (مسند احمد: ۱۵۵۲۶)
سیّدنا ارقم بن ابی ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابی تھا، بیان کرتا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک وہ شخص جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور امام کے نکلنے کے بعد دو آدمیوں کے درمیان (گھس کر) تفریق ڈالتا ہے تو وہ شخص ایسے شخص کی طرح ہے جو آگ میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا ہو۔
Takhreej
(۲۷۷۰) تخریـج: …اسنادہ ضعیف جدّا، لضعف ھشام بن زیاد، وعثمانُ بن الأرقم روی عنہ جمع وذکرہ ابن حبان فی ’’الثقات‘‘ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۹۰۸، والحاکم: ۳/ ۵۰۴ (انظر: ۱۵۴۴۷)
2770
Zaeef
۔ (۲۷۷۱) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِیْہِ (مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ تَخَطَّی الْمُسْلِمِیْنَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اُتُّخِذَ جِسْرًا اِلٰی جَہَنَّمَ)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۴)
سیّدنا معاذ بن انس جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے جمعہ کے دن مسلمانوں کی گردنیں پھلانگی، اس کو جہنم کی طرف ایک پل بنا دیا جائے گا۔
Takhreej
(۲۷۷۱) تخریـج: …اسنادہ ضعیف، لضعف زبان بن فائد المصری، وابن لھیعۃ، وھو سیی الحفظ، وسھل بن معاذ فی روایات زبان عنہ أخرجہ الترمذی: ۵۱۳، وابن ماجہ: ۱۱۱۶(انظر: ۱۵۶۰۹)
2771
Zaeef
۔ (۲۷۷۲) عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ’’زَادَ فِی رِوَایَۃٍ یَتَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ‘‘ وَھُوَ یَخْطُبُ النَّاسَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ، فَقَالَ: ((اِجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ وَآنَیْتَ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۲۶)
سیّدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جمعہ کے روز لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: بیٹھ جا، تو نے لوگوں کو تکلیف دی ہے اور تاخیر سے آیا ہے۔
Takhreej
(۲۷۷۲) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط مسلم أخرجہ ابوداود: ۱۱۱۸، والنسائی: ۳/ ۱۰۳ (انظر: ۱۷۶۷۴، ۱۷۶۹۷)
2772
Sahih
۔ (۲۷۷۳) عَنْ سَہْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُہَنِیِّ عَنْ أَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ نَھٰی عَنِ الْحَبْوَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ۔ (مسند احمد: ۱۵۷۱۵)
سیّدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جمعہ کے دن حبوہ سے منع فرمایا ہے، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو۔
Takhreej
(۲۷۷۳) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ أبوداود: ۱۱۱۰، والترمذی: ۵۱۴ (انظر: ۱۵۶۳۰)
2773
Sahih
۔ (۲۷۷۴) عَنْ قَیْسِ بْنِ أَبِی حَازِمٍ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّ أَبَاہُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ جَائَ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ فَقَعَدَ فِی الشَّمْسِ، قَالَ: فَأَوْمَأَ اِلَیْہِ أَوْ قَالَ فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یَتَحَوَّلَ اِلَی الظِّلِّ۔ (مسند احمد: ۱۵۶۰۲)
سیّدنا ابو حازم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ آیا اور دھوپ میں بیٹھ گیا، جبکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اشارہ کیا یا حکم دیا کہ وہ سائے کی طرف منتقل ہو جائے۔
Takhreej
(۲۷۷۴) تخریـج: …اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین أخرجہ ابوداود: ۴۸۲۲ (انظر: ۱۵۵۱۵، ۱۵۵۱۷)
2774
Sahih

Chapters

16
01
یوم جمعہ کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
02
فصل: جمعہ کے دن نبی کریم aپر کثرت سے درود بھیجنے کی ترغیب کا بیان
2 Hadith
03
جمعہ کے دن قبولیت کی گھڑی اور اس کے وقت کا بیان
8 Hadith
04
جمعہ کی فرضیت اور اس کو ترک کرنے پر تشدید کا بیان، نیز یہ کن لوگوں پر واجب ہے
11 Hadith
05
عید یا بارش کے دن جمعہ ترک کرنے کے جواز کا بیان
3 Hadith
06
جمعہ کے وقت کا بیان
10 Hadith
07
جمعہ کے لیے غسل کرنے، اچھے کپڑے پہن کر خوبصورتی اختیار کرنے اور خوشبو لگانے کا بیان
22 Hadith
08
جمعہ کے لیے جلدی جانے، پیدل چل کر جانے، نہ کہ سواری پر، امام کے قریب ہو کر بیٹھنے اور خطبہ کے لیے خاموش ہونے وغیرہ کی فضیلت کا بیان
18 Hadith
09
خطیب کے منبر پر چڑھنے سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان اور اس چیز کا بیان کہ جب وہ منبر پر چڑھ جائے تو آنے والا دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے گا
4 Hadith
10
جمعہ کی اذان کا بیان جب خطیب منبر پر بیٹھ جائے، نیز اس چیز کا بیان کہ عہد نبوی میں منبر کیسا تھا
4 Hadith
11
دو خطبوں، ان کی کیفیات اورآداب اور ان کے درمیان بیٹھنے کا بیان
18 Hadith
12
دوران خطبہ باتیں کرنے سے رکے رہنے، لیکن کسی مصلحت کے لیے امام سے بات کرنے یا امام کا بات کرنے کی رخصت اور کسی معاملے کے واقع ہو جانے کی وجہ سے خطبہ منقطع کر دینے کا بیان
10 Hadith
13
جو لوگ خطبۂ جمعہ کے دوران نبی کریمaسے بھاگ گئے تھے، ان کے قصے کا بیان
1 Hadith
14
دو رکعت نماز جمعہ ہونے کا بیان، اس آدمی کا حکم جس سے ایک رکعت رہ جائے یا ہجوم کر دیا جائے اور جمعہ کے صحیح ہونے کے لیے مسجد کی شرط لگانے والے کا بیان
3 Hadith
15
نماز جمعہ میں قراء ت کا بیان
6 Hadith
16
جمعہ کی نماز کے بعد نفل پڑھنے اور ان کو فرض نماز کے ساتھ نہ ملانے کا بیان حتی کہ نمازی کسی سے کلام کرلے یا وہاں سے نکل جائے
5 Hadith
No chapter matched that.