TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان

Chapter 4 of عیدین اور ان کے متعلقہ امور مثلا نماز وغیرہ کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 12 · 9 Hadith
۔ (۲۸۴۲) عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَبْدَأُ یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الْأَضْحٰی بِالصَّلَاۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ یَخْطُبُ فَتَکُوْنُ خُطْبَتُہُ الْأَمْرَ بِالْبَعْثِ وَالسَّرِیَّۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۵۶۰)
سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن خطبہ سے پہلے نماز سے ابتداء کرتے تھے، پھر خطبہ ارشاد فرماتے تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا خطبہ بھی لشکروں اور دستوں کو بھیجنے ہی کے متعلق ہوتا تھا۔
Takhreej
(۲۸۴۲) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ مطولا ومختصرا مسلم: ۸۸۹، والنسائی: ۳/ ۱۸۷، وابن ماجہ: ۱۲۸۸ (انظر: ۱۱۳۱۵، ۱۱۵۳۹)
2842
Sahih
۔ (۲۸۴۳) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَشْہَدُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ فِی الْعِیْدِ ثُمَّ خَطَبَ فَرَأٰی أَنَّہُ لَمْ یُسْمِعِ النِّسَائِ فَأَتَاھُنَّ فَذَکَّرَھُنَّ وَوَعظَہُنَّ وَأَمَرَھُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّیْئَ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۲)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر شہادت دیتا ہوں کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عیدمیں خطبہ سے پہلے نماز پڑھی ہے، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ خیال ہوا کہ عورتیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی آواز نہیں سن سکیں، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس آئے، ان کو وعظ و نصیحت کی اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، پس عورتوں نے اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دوسری چیزیں (سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جھولی میں) ڈالنا شروع کر دیں۔
Takhreej
(۲۸۴۳) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۱۴۴۹، و۱۹۸۳، مسلم: ۸۸۴ (انظر: ۱۹۰۲، ۱۹۸۳)
2843
Sahih
۔ (۲۸۴۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلَّیْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِیْدَیْنِ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۱۳۷)
سیّدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ایک دو بار نہیں، (بلکہ کئی بار) عیدین کی نماز پڑھی، وہ اذان و اقامت کے بغیر ہوتی تھی۔
Takhreej
(۲۸۴۴) تخریـج: …أخرجہ مسلم: ۸۸۷ (انظر: ۲۰۸۴۷)
2844
Sahih
۔ (۲۸۴۵) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالنَّاسِ یَوْمَ فِطْرٍ رَکْعَتَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ ثُمَّ خَطَبَ بَعْدَ الصَّلَاۃِ ثُمَّ أَخَذَ بِیَدِ بِلَالٍ فَانْطَلَقَ اِلَی النِّسَائِ فَخَطَبَہُنَّ ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا بَعْدَ مَا قَفّٰی مِنْ عِنْدِھِنَّ أَنْ یَأْتِیَہُنَّ فَیَأْمُرَھُنَّ أَنْ یَتَصَدَّقْنَ۔ (مسند احمد: ۲۱۶۹)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لوگوں کو اذان و اقامت کے بغیر عید الفطر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر نماز کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ پکڑا اور عورتوں کی طرف چل گئے اور ان کو خطاب کیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں سے چلے گئے اور سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان کے پاس جائے اور ان کو صدقہ کرنے کا حکم دے۔
Takhreej
(۲۸۴۵) تخریـج: …انظر: ۱۶۳۷
2845
Sahih
۔ (۲۸۴۶) عَنْ وَھْبِ بْنِ کَیْسَانَ مَوْلَی ابْنِ الزُّبَیْرِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَاللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ فِی یَوْمِ الْعِیْدِ یَقُوْلُ حِیْْنَ صَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! کُلٌّ سُنَّۃُ اللّٰہِ وَسُنَّۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۰۷)
مولائے ابن زبیر وہب بن کیسان کہتے ہیں: میں نے سیّدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو عید والے دن (خطبہ میں) یہ کہتے ہوئے سنا، جبکہ انھوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھ لی تھی، :اے لوگو! یہ سب کچھ اللہ کی سنت اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنت ہے۔
Takhreej
(۲۸۴۶) تخریـج: …اسنادہ حسن۔ أخرجہ الطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۳۱۹ (انظر: ۱۶۱۰۸)
2846
Sahih
۔ (۲۸۴۷) عَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: أَشَہِدْتَّ الْعِیْدَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَوْ لَا مَکَانِی مِنْہُ مَا شَہِدْتُّہُ لِصِغَرِیْ، قَالَ: خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَلّٰی عِنْدَ دَارِ کَثِیْرِ بْنِ الصَّلْتِ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَطَبَ لَمْ یَذْکُرْ أَذَانًا وَلَا اِقَامَۃً۔ (مسند احمد: ۲۰۶۲)
عبد الرحمن بن عابس کہتے ہیں:میں نے سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ عید میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ موجود تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور اگر میرا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نزدیک مقام و مرتبہ نہ ہوتا تو میں کم سنی کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکتا، پھر انھوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نکلے اور کثیر بن صلت کے گھر کے پاس دو رکعتیں ادا کیں اور پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ انھوں نے اذان و اقامت کا ذکر نہیں کیا۔
Takhreej
(۲۸۴۷) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۸۶۳، ۹۷۷، ۵۲۴۹ (انظر: ۳۴۸۷)
2847
Sahih
۔ (۲۸۴۸) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: شَہِدْتُّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْعِیْدَ وَأَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکُلُّہُمْ صَلّٰی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۱)
سیّدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اور سیّدناابوبکر، سیّدنا عمر اور سیّدنا عثمان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا ، سب نے اذان و اقامت کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۸۴۸) تخریـج: …اسنادہ صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۱۱۴۷، وابن ماجہ: ۱۲۷۴، وابن ابی شیبۃ: ۲/ ۱۷۰، وانظر الحدیث السابق (انظر: ۲۰۰۴، ۲۱۷۱، ۳۲۲۵)
2848
Sahih
۔ (۲۸۴۹) عَنْ أَبِی یَعْقُوْبَ الْخَیَّاطِ قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَیْرِ الْفِطْرَ بِالْمَدِیْنَۃِ فَأَرْسَلَ اِلٰی أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَسَأَلَہُ کَیْفَ کَانَ یَصْنَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرَہُ أَبُو سَعِیْدٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یُصَلِّی قَبْلَ أَنْ یَخْطُبَ فَصَلّٰی یَوْمَئِذٍ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۷۴)
ابویعقوب خیاط کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں عید الفطر کی نماز کے موقع پر مصعب بن زبیر کے ساتھ حاضر تھا، انھوں نے یہ پوچھنے کے لیے سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (یہ نماز) کیسے ادا کیا کرتے تھے، انھوں نے بتلایا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے تھے، پس اس نے بھی اس دن خطبہ سے قبل نماز پڑھی۔
Takhreej
(۲۸۴۹) تخریـج: …حدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لجھالۃ أبی یعقوب الخیّاط انظر الحدیث رقم: ۱۶۳۶ (انظر: ۱۱۰۵۹)
2849
Sahih
۔ (۲۸۵۰) عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْعِیْدَیْنِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلَا اِقَامَۃٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشٰی اِلَی النِّسَائِ وَمَعَہُ بِلَالٌ لَیْسَ مَعَہُ غَیْرُہُ، فَأَمَرَھُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی تُومَتَہَا وَخَاتَمَھَا اِلٰی بِلَالٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌۔ (مسند احمد: ۱۴۳۸۰)
سیّدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اذان و اقامت کے بغیر ہمیں عیدین کی نماز پڑھائی، پھر ہمیں خطبہ دیا، اس کے بعد نیچے آ گئے اور عورتوں کی طرف چلے گئے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ صرف سیّدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو صدقہ کرنے کا حکم دیا، سو عورتوں نے
Takhreej
(۲۸۵۰) تخریـج: …أخرجہ البخاری: ۹۷۸، ومسلم: ۸۸۵ (انظر: ۱۴۱۶۳، ۱۴۳۲۹)
2850
Sahih

Chapters

12
01
ان دونوں کی مشروعیت کے سبب، ان کے لیے غسل اور تجمّل کے مستحب ہونے اور واپسی پر راستہ تبدیل کرنے کا بیان
5 Hadith
02
عورتوں کا عیدین کی طرف جانے کی مشروعیت
5 Hadith
03
عید الفطر کے موقع پر نکلنے سے پہلے کھانے کا مستحب ہونا، نہ کہ عید الاضحی میں اور ان دونوں میں نماز کے وقت پر کلام کرنے کا بیان
6 Hadith
04
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
9 Hadith
05
عیدین کے دن امام کے سامنے برچھی یا نیزہ گاڑھنے کا بیان
1 Hadith
06
عید کی نماز میں تکبیرات کی تعداد اور ان کے محل کا بیان
5 Hadith
07
عیدین میں قرا ء ت کا بیان
4 Hadith
08
عیدین کے خطبہ اور اس کے احکامات کا بیان، اور عورتوں کو وعظ کرنے اور ان کو صدقہ کرنے پر ابھارنے کا بیان
9 Hadith
09
عید کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد امام کا لوگوں کے سامنے کھڑا ہونے ان کی طرف دیکھنے اور عید کی مبارک دینے کا بیان
1 Hadith
10
’’سیّدناعبد اللہ بن عمرd عید والے دن نکلے اور نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفلی نماز نہ پڑھی، پھر انھوں نے کہا کہ نبی کریمaنے ایسے ہی کیا تھا۔‘‘
3 Hadith
11
عید کے دن د ف بجانے اور کھیلنے کا بیان
6 Hadith
12
عیدین، دس دنوں اور ایام تشریق میں ذکر کرنے، اطاعت کے کام کرنے اور تکبیرات کہنے پر ابھارنے کا بیان
5 Hadith
No chapter matched that.