TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

143 Hadith · 1 Chapters
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ ابنِ عُمَر مَرْفُوْعاً: « إِنَّ أَعْظَمَ الذُّنُوْبِ عِنْدَ اللهِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ امرَأَةً، فَلَمَّا قَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ، طَلَّقَهَا ، وَذَهَبَ بِمَهْرِهَا ، وَرَجُلٌ استَعْمَلَ رَجُلاً، فَذَهَبَ بِأُجْرَتِه ، وَآخَرُ يَقْتُل دَابَّةً عَبَثاً »
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: اللہ کے نزدیک سب سے عظیم جرم والا وہ شخص ہے جس نے کسی عورت سے شادی کی،پھر جب اس سے اپنی حاجت پوری کر لی تو اسے طلاق دے کر اس کا مہر ہتھیا لیا، اور دوسرا وہ شخص جس نے کسی شخص سے مزدوری کروائی اور اس کی مزدوری ہتھیا لی، اور وہ شخص جس نے کسی چوپائے کو فضول میں قتل کر دیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (999)، مستدرك الحاكم رقم (2693) ، السنن الكبرى للبيهقي
1920
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللهِ: أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ کی غیرت یہ ہے کہ مومن حرام کام کا ارتکاب کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3515 )، صحيح مسلم كِتَاب التَّوْبَةِ ، بَاب غَيْرَةِ اللَّهِ تَعَالَى وَتَحْرِيمِ الْفَوَاحِشِ رقم (4959)
1921
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ الْمِقْدَامِ بن مَعْدِي كَرِبٍ أَنّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَامَ فِي النَّاسِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:إِنَّ اللهَ يُوصِيكُمْ بِالنِّسَاءِ خَيْرًا، فَإِنَّهُنَّ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَخَالاتُكُمْ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَمَا یعلِّقُ يَدَاهَا الْخَيْطَ فَمَا يَرْغَبُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ صَاحِبِهِ (حَتى يَمُوتَا هَرَمًا)
مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی پھر فرمایا:اللہ تعالیٰ تمہیں عورتوں سے اچھا سلوک کرنے کا حکم دیتا ہے،کیوں کہ یہ تمہاری مائیں ،بیٹیاں اور خالائیں ہیں۔اہل کتاب میں سے کوئی آدمی جب کسی عورت سے اس کی چھوٹی عمر میں اور غربت میں شادی کرتا تو دونوں ایک دوسرے سے بے رغبتی نہ کرتے(حتی کہ دونوں بوڑھے ہو کر مر جاتے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2871)، المعجم الكبير للطبراني رقم (17038) .
1922
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي سَعِيْد، أَوْ جَابِر أَنَّ نَبِيَّ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ خُطْبَةً ، فَأَطَالَهَا ، وَذَكَرَ فِيْهَا أَمْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَة ، فَذَكَر «أَنَّ أَوَّل؟ مَا هَلَكَ بَنُو إِسْرائِيْل أَنَّ امْرَأَةَ الفَقِيْر كاَنَتْ تُكَلِّفُهُ مِنَ الثِّيَاب أَوْ الصِّيغ، أَوْ قَالَ: مِن الصِّيغِة مَا تُكلّفُ امرأَةُ الغَنِي، فَذَكَرَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيْل كاَنَتْ قَصِيْرَة ، وَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَب وَخَاتَماً لَه غَلْقٌ وَطَبْق، وَحَشَّتْه مِسْكاً ، وَخَرَجَتْ بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيْلَتَيْنِ أَوْ جَسِيْمَتَيْنِ ، فَبَعَثُوا إِنْسَاناً يَتْبَعهم فَعَرَف الطَوِيْلَتَيْنِ ، وَلَمْ يَعْرِفْ صَاحِبَة الرِّجْلَيْنِ مِنْ خَشَب
ابو سعید یا جابر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمبا خطبہ ارشادفرمایا اور اس میں دنیا اور آخرت کے معاملات کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: بنی اسرائیل کا کی ہلاکت کا پہلا سبب یہ بنا کہ کسی غریب کی بیوی اپنے شوہرسےایسے کپڑوں یا زیورات کا مطالبہ کرتی جو امیر کی بیوی کرتی اور آپ نے بنی اسرائیل کی ایک عورت کا تذکرہ کیا جو پستہ قد تھی، اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں بنوائیں اور ایک انگوٹھی جس میں ڈھکن لگا ہوا تھا ،اسے مشک کی خوشبوسے بھردیااوردو لمبی یا موٹی عورتوں کے درمیان چلنے لگی۔لوگوں نے ایک آدمی بھیجاجو ان کا پیچھا کرے،اس نے لمبی عورتوں کو تو پہچان لیالیکن لکڑی کی ٹانگوں والی عورت کو نہیں پہچانا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (591)، التوحيد لإبن خزيمه رقم (447)
1923
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَة قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةُ اللهِ لَكُمْ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ (ۙ۴۹) (الشورى) فَهُمْ وَامْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری اولاد، تمہارے لئے اللہ کی طرف سے عطیہ ہے۔(الشورى:۴۹) ترجمہ:”جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے“۔ تو جب تمہیں ضرورت ہو تویہ اولاد اور ان کا مال تمہارے لئے ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2564)، السنن الكبرى للبيهقي ، مستدرك الحاكم رقم (3078)
1924
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ  أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌آلَى مِنْ نِّسَائِهِ شَهْرًا فَلَمَّا مَضَى تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ يَوْمًا غَدَا- أَوْ رَاحَ- فَقِيلَ لَهُ: إِنَّكَ حَلَفْتَ أَنْ لَّا تَدْخُلَ شَهْرًا؟ فَقَالَ: إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ اپنی بیویوں سے ایلاء( پاس نہ جانے کی قسم) کیا۔ جب انتیس(۲۹) دن گزر گئے تو صبح کے وقت آئے یا شام کے وقت ،آپ سے کہا گیا کہ: آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ ایک ماہ تک بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس (۲۹)دن کا بھی ہوتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3505)، صحيح البخاري كِتَاب الصَّوْمِ، بَاب قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺإِذَا رَأَيْتُمْ الْهِلَالَ فَصُومُوا... رقم (1777)
1925
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: إِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللهُ زَجَرْتُ أَنْ يُّسَمَّى بَرَكَة وَنَافِعاً وَأَفْلَحَ . فَلَا أَدْرِي قَالَ: أَفْلَحَ أَوْ لَا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَلَمْ يَزْجُرْ عَنْ ذَلِكَ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اللہ نے چاہا اور میں زندہ رہا تومیں برکت، نافع اور افلح نام رکھنے سے منع کردوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ نے افلح کہا یا نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوگئے لیکن اس سے منع نہیں فرمایا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3271)، مسند أحمد رقم (14079) ، سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ، بَاب فِي تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِس رقم (4309)
1926
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيْر: أَنَّ ابَاه نَحَلَهُ نَحْلاً فَأَرَادَ أَنْ يَّشْهَدَ النَّبِيّ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَالَ: كُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ كَماَ نَحَلْتَهُ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلْ بَيْنَ وَلَدِكَ كَمَا عَلَيْهِمْ مِّنَ الْحَقّ أَن يَبرُّوك
نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں ایک تحفہ دیا اور چاہا کہ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اپنے تمام بچوں کو اسی طرح دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر یہ لازم ہے کہ تم اپنی اولاد میں انصاف کرو، جس طرح ان کی ذمہ داری ہے کہ تم سےاچھا سلوک کریں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2847)، السنن الكبرى للبيقي ، مسند الطيالسي رقم (818) .
1927
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَلِيّ بْن الْحُسَيْنِ أَنَّ الْمِسْوَر بْن مَخْرَمَةَ حَدَّثَ: أَنَّهُمْ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ مِنْ عِنْدِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ مَقْتَلَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ لَقِيَهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَقَالَ: هَلْ لَكَ إِلَيَّ مِنْ حَاجَةٍ تَأْمُرُنِي بِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَا قَالَ لَهُ: هَلْ أَنْتَ مُعْطِيَّ سَيْفَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ؟فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَّغْلِبَكَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ وَايْمُ اللهِ! لَئِنْ أَعْطَيْتَنِيهِ لَا يُخْلَصُ إِلَيْهِ أَبَدًا حَتَّى تَبْلُغَ نَفْسِي إِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ عَلَى فَاطِمَةَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ فِي ذَلِكَ عَلَى مِنْبَرِهِ هَذَا، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مُحْتَلِمٌ فَقَالَ: إِنَّ فَاطِمَةَ بِضْعَةٌ مِّنِّي وَأَنَا أَتَخَوَّفُ أَنْ تُفْتَنَ فِي دِيْنِهَا قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ صِهْرًا لَهُ مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ فَأَثْنَى عَلَيْهِ فِي مُصَاهَرَتِهِ إِيَّاهُ فَأَحْسَنَ قَالَ حَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَوَعَدَنِي فَأَوْفَى لِي وَإِنِّي لَسْتُ أُحَرِّمُ حَلَالًا وَلَا أُحِلُّ حَرَامًا وَلَكِنْ وَاللهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَبِنْتُ عَدُوِّ اللهِ مَكَانًا وَاحِدًا أَبَدًا، وَفِي رِوَايَةٍ : عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَداً
علی بن حسین رضی اللہ عنہ ،مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب وہ یزید بن معاویہ کے پاس سےحسین بن علی رضی اللہ عنہ کے قتل کے موقع پر مدینہ آئے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ علی بن حسین سے ملے اور کہا: کیا آپ کو مجھ سے کوئی کام ہے؟ حکم کیجئے ،انہوں نے کہا: نہیں ، مسور رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار دیں گے؟ کیوں کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ لوگ اس پر قبضہ کر لیں گے۔ اللہ کی قسم ! اگر آپ نے یہ تلوار مجھے دے دی تو جس وقت تک مجھے قتل نہیں کر دیتے اس وقت تک کوئی بھی شخص اس تلوار تک نہیں پہنچ سکے گا۔ علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ نے فاطمہ کی موجودگی میں ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہا تومیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس مسئلے میں منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کرتے سنا۔میں ان ایام میں بالغ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے خوف ہے کہ اس کے دین کے بارے میں اسے آزمائش میں مبتلا نہ کر دیا جائے ۔ پھر بنی عبدشمس میں سے اپنے داماد کا ذکر کیا، اور ان کے بارے میں تعریفی کلمات کہے، فرمایا: اس نے جو بات کی اسے سچا کردکھایا انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا تو وفا بھی کیا۔ میں کسی حلال چیز کو حرام نہیں کر سکتا اور نہ کسی حرام چیز کو حلال کر سکا ہوں، لیکن اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے رسول کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں ۔اور ایک روایت میں ہے :کسی ایک آدمی کے پا س کبھی بھی(جمع نہیں ہوسکتیں)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3517)، صحيح مسلم كِتَاب الرِّضَاعِ ، بَاب الْوَصِيَّةِ بِالنِّسَاءِ رقم (2670)
1928
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ لَنْ تَسْتَقِيمَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ فَإِنْ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنْ ذَهَبْتَ تُقِيمُهَا كَسَرْتَهَا وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہےایک طریقے پرہر گزسیدھی نہیں ہوگی۔ اگر تم اس سے فائدہ اٹھانا چاہو تو اسی ٹیڑھے پن کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا سکتے ہو۔ اگر تم اسے سیدھا کرنا چاہو تو توڑ دو گے اور اسے توڑنا اسے طلاق دینا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (608)، المعجم الكبير للطبراني رقم (20776) .
1929
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ الأَنْصَارِية، أَنّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ أُمِّ مُبَشِّرِ بنْتَ الْبَرَاءِ بن مَعْرُورٍ، فَقَالَتْ: إِنِّي اشْتَرَطْتُ لِزَوْجِي أَنْ لا أَتَزَوَّج بَعْدَهُ. قَالَ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم :إِنَّ ذَلِكَ لا يَصْلُحُ.
ام مبشر انصاریہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام مبشر بنت براء بن معرور کو نکاح کا پیغام بھیجا تو کہنے لگیں کہ میں نے اپنے شوہر سے مشروط کیا تھا کہ اس کے بعد شادی نہیں کروں گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شرط درست نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (608)، المعجم الكبير للطبراني رقم (20776) .
1930
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ مَسْرُوقٍ وَعَمْرِو بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا كَتَبَا إِلَى سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ يَسْأَلَانِهَا عَنْ أَمْرِهَا؟ فَكَتَبَتْ إِلَيْهِمَا: أَنَّهَا وَضَعَتْ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ (لَيْلَة) فَتَهَيَّأَتْ تَطْلُبُ الْخَيْرَ فَمَرَّ بِهَا أَبُو السَّنَابِلِ بْنُ بَعْكَكٍ فَقَالَ: قَدْ أَسْرَعْتِ، اِعْتَدِّي آخِرَ الْأَجَلَيْنِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ: وَفِيمَ ذَاكَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: إِنْ وَجَدْتِّ زَوْجًا صَالِحًا فَتَزَوَّجِي
مسروق اور عمرو بن عتبہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے سبیعہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی طرف خط لکھ کر اس کے معاملے کےبارے میں پوچھا؟ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے دونوں کو جواباً لکھا کہ: اس کے ہاں اس کے شوہر کی وفات کےپچیس(۲۵)دن بعد بچہ پیدا ہوا ، وہ بہتررشتے کی تلاش میں تیار ہوئی۔ ابو سنابل بن بعکک اس کے پاس سے گذرا تو کہا: تم نے جلدی کی ،آخری مدت چار ماہ دس دن تک عدت گزارو، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول میرے لئے بخشش کی دعا کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس وجہ سے ؟ میں نے انہیں(وہ بات)بتائی تو آپ نے فرمایا: اگر تمہیں کوئی نیک آدمی ملے تو اس سے شادی کر لینا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2722)، سنن إبن ماجه كِتَاب الطَّلَاقِ ، بَاب الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى ... رقم ( 2018)
1931
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَجُلًا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا. يَعْنِي: الصِّغَرِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نےایک انصاری خاتون سے شادی کا ارادہ کیاتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ ،کیوں کہ انصار کی آنکھوں میں تھوڑا سا نقص ہوتا ہے، یعنی چھوٹی ہوتی ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (95)، صحيح مسلم كِتَاب النكاح ندب النظر إلي وجه المرأة... رقم (2552)
1932
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ خَطَبَ امْرَأَةً ، فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا .
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک عورت کو نکاح کا پیغام بھیجا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیکھ لو ، کیوں کہ ممکن ہے اس طرح تمہارے مابین دائمی محبت پیدا ہو جائے
Takhreej
الصحيحة رقم (96)، سنن ترمذي كتاب النكاح باب ما جاء في النظر إلي المخطوبة رقم (1007)
1933
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ عَمَّةً لَهُ (يُقَال :اسْمُهَا أَسْمَاء) اَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُوْلِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِبَعْضِ الْحَاجَة ، فَقَضَى حَاجَتَهَا فَقاَلَ لهَاَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَذَاتُ زَوْجٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ! قَالَ: كَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: انْظُرِي أَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّهُ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ.
حصین بن محصن رحمۃ اللہ علیہ اپنی پھوپھی (کہا جاتا ہے کہ ان کا نام اسماء تھا)سے بیان کرتےہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی کام سے آئیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت پوری کر دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم شادی شدہ ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس سے کس طرح کا برتاؤ کرتی ہو؟ انہوں نے کہا: میں اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرتی۔ سوائے جب میں عاجز آجاؤں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو، خیال رکھنا کہ تم اس سے (اپنے شوہرسے)کس طرح کا سلوک کرتی ہو کیوں کہ وہ تمہاری جنت اور جہنم ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2612)، مسند أحمد رقم (26086) ، المعجم الاوسط للطبراني رقم (539)
1934
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ. ( )جَآءَ مِنْ حَدِیْثِ عائشة وانس دفیہ قصة.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورتیں ،مردوں کے برابر ہیں۔ یہ حدیث سیدۃ عائشہ اور انس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اور سا میں ایک قصہ بھی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2863)، سنن أبي داؤد كتاب الطهارة باب في الرجل... رقم (204)
1935
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ فَاطِمَة بِنْتُ قَيْسٍ قَالَتْ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْتُ أَنَا بِنْتُ آلِ خَالِدٍ وَإِنَّ زَوْجِي فُلَانًا أَرْسَلَ إِلَيَّ بِطَلَاقِي وَإِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَهُ النَّفَقَةَ وَالسُّكْنَى فَأَبَوْا عَلَيَّ قَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَيْهَا بِثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّمَا النَّفَقَةُ وَالسَّكَنُ لِلْمَرْأَةِ إِذَا كَانَ لِزَوْجِهَا عَلَيْهَا الرَّجْعَةُ .
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س آئی اور کہا: میں آل خالد کی اولاد ہوں، میرے شوہر نے مجھے طلاق بھجوائی ہے، میں نے اس کے گھر والوں سے خرچے اور رہائش کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول اس نے اسے تیسری طلاق بھجوائی ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خرچہ اور رہائش کا حق عورت کے لئے اس وقت ہوتا ہے جب شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1711)، سنن النسائي كتاب الطلاق باب الرخصة في ذلك رقم (3350)
1936
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنِ الْمُغِيرَة بْن شُعْبَةَ قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ: یٰۤاُخۡتَ ہٰرُوۡنَ (مريم: ٢٨) وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا: فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نجران آیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہنے لگے: تم اس طرح آیت پڑھتے ہو:(مريم:٢٨) اے ہارون علیہ السلام کی بہن۔ جب کہ موسیٰ علیہ السلام تو عیسی ٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے گزر چکے تھے۔جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے فرمایا: وہ لوگ اپنے سے پہلے انبیاء اور صالحین کے نام رکھا کرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3588)، صحيح مسلم كتاب الآداب باب النهي عن التكني بأبي القاسم رقم (3982)
1937
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں کی حق تلفی سے منع کرتا ہوں۔ یتیم، اور عورت
Takhreej
الصحيحة رقم (1015)، سنن ابن ماجه كتاب الأدب باب حق اليتيم رقم (3668)
1938
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنْ عَائِشَة زَوْجَ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ: إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ، قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ قَالَ: یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ ... (الأحزاب28-29) إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَـفِي أَيِّ شَيْئٍ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپ نے مجھ سے ابتداء کرتے ہوئے فرمایا: میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ،تم پر لازم ہے کہ جب تک اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لوتم جلدی مت کرنا، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں آپ کو معلوم تھا کہ میرے والدین مجھے آپ سے علیحدہ ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ ...(الأحزاب28-29) میں نے کہا: میں کس مسئلے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں ؟میں تواللہ،اس کے رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3593)، صحيح البخاري كتاب تفسير القرآن باب قوله يا أيها النبي قل لأزواجك... رقم (4412)
1939
Sahih