TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

143 Hadith · 1 Chapters
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنْ حَبِيْبَة أَوْ أُمِّ حَبِيْبَة قَالَتْ: كُنَّا فِي بَيْتِ عَائِشَة فَدَخَل رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ: (مَا مِنْ مُّسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلاثَةٌ أَطْفَالٍ لَّمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلا جِيءَ بِهِمْ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُونَ أَنَدْخُلُ وَلَمْ يَدْخُلْ أَبْوَانَا؟ فَقَالَ لَهُمْ: - فَلاَ أَدْرِي فِي الثَّانِيَة - اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَآبَاؤُكُمُ، قَالَ: فَذَلِك قَوْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلّ : فَمَا تَنۡفَعُہُمۡ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیۡنَ (ؕ۴۸) (المدثر: ٤٨) ، قَالَ : نَفَعَتِ الْآباَءَ شَفَاعَةُ أَوْلَادِهِمْ).
حبیبہ یا ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: جس بھی مسلمان کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو گئے ،تو قیامت کے دن ان تینوں کو لایا جائے گا اور جنت کے دروازے پر کھڑا کر دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ، وہ کہیں گے کیا ہم داخل ہو جائیں ؟ ابھی تک ہمارے والدین تو داخل ہی نہیں ہوئے؟ ان سے کہا جائے گا ۔مجھے نہیں معلوم کہ دوسری مرتبہ۔ تم اور تمہارے والدین جنت میں داخل ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (المدثر: ٤٨) سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں نفع نہ دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والدین کو ان کی اولاد کی سفارش نفع دے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3416)، مسند ابن راهوية رقم (34- الصحيحة رقم ( )، 2074)
1980
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَطَبَ النِّسَاءَ فَقَالَ لَهُنَّ: مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ يَمُوتُ لَهَا ثَلَاثَةٌ إِلَّا أَدْخَلَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ أَجَلُّهُنَّ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللهِ! وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: وَصَاحِبَةُ الِاثْنَيْنِ فِي الْجَنَّةِ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو خطبہ دیا اور فرمایا:تم میں سے جس عورت کے تین بچے فوت ہوگئے، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرلے گا۔ایک باوقار عمر رسیدہ عورت نے کہا: اے اللہ کے رسول!کیا جس عورت کے دوبچے فوت ہوجائیں وہ بھی جنت میں جائے گی؟،آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا : دو(فوت شدہ) بچوں کی ماں بھی جنت میں جائے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (3441)، مسند أحمد رقم ( 3795) .
1981
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِر بن عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ قَالَ: لَمَّا طَلَّقَ حَفْص بن المُغَيْرَة امرَأَتَه فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِزَوْجِهَا: مَتِّعْهَا قَالَ: لاَ أَجِدُ مَا أُمَتِّعُهَا قَالَ: فَإِنَّهُ لَابُدَّ مِنَ الْمَتَاعِ قَالَ: مَتِّعهَا وَلَوْ نِصْف صَاع مِّنْ تَمَرٍ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حفص بن مغیرہ‌رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے شوہر سے کہا: اسے کچھ فائدہ (مال، سامان) دو، اس نے کہا: میرے پاس تو اسے دینے کے لئے کچھ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: فائدہ لازمی دینا ہے۔ اور فرمایا: اسے فائدہ دو اگرچہ کھجور کا نصف صاع ہی کیوں نہ ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2281)، السنن الكبرى للبيهقي .
1982
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَّمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَّاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِّنَ النَّارِ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں ۔اس نے مجھ سے کھانا مانگا، میرے پاس صرف ایک کھجور تھی ،میں نے وہ کھجور اسے دے دی۔ اس نے وہ کھجور لی اور دونوں بیٹیوں میں میں تقسیم کر دی، خود اس سے کچھ نہ کھایا، پھر کھڑی ہوئی اور اپنی بیٹیوں کو لے کر چلی گئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں نے آپ کو وہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان بییواں کی وجہ سے کسی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو یہ اس کے لئے آگ سے رکاوٹ بن جائیں گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3143)، صحيح البخاري رقم (5536) ،كِتَاب الْأَدَبِ، بَاب رَحْمَةِ الْوَلَدِ وَتَقْبِيلِهِ ... .
1983
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مَرْفُوْعًا: مَنْ أَتَى النِّسَاءَ فِي أَعْجَازِهِنَّ فَقَدْ كَفَرَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جو شخص بیوی سے اس کی دبر میں ملتا ہے اس نے کفر کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3378)، المعجم الكبير للطبراني رقم (700) .
1984
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنْ رَجُلٍ مِّنْ مُّزَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَسْأَلُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ؟ فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللهُ وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللهُ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا فَقُلْتُ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي: لَنَاقَةٌ لَهُ هِيَ خَيْرٌ مِّنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلِغُلَامِهِ نَاقَةٌ أُخْرَى هِيَ خَيْرٌ مِّنْ خَمْسِ أَوَاقٍ فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ
مزینہ کے ایک شخص سے مروی ہے کہ اس سے اس کی والدہ نے کہا: تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر لوگوں کی طرح کیوں نہیں مانگتے؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مانگنے کے لئےگیا۔ میں نے آپ کو کھڑے ہو کر خطاب کرتے دیکھا ، آپ فرمارہے تھے : جو شخص عفت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن رکھے گا اور جو شخص لوگوں سے بے پرواہ ہو جائے گا اللہ تعالیٰ اسے غنی کردے گا، جس شخص نے لوگوں سے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس پانچ وسق کے برابر خوراک تھی، تو گویا اس نے چمٹ کر سوال کیا میں نے اپنے آپ سے کہا: میرے پاس تو ایک اونٹنی ہے جو پانچ وسق سے بہتر ہے، اور میرے غلام کی بھی ایک اونٹنی ہے جو پانچ وسق سے بہتر ہے۔ پھر میں واپس لوٹ آیا اور آپ سے کوئی چیز نہیں مانگی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2314)، مسند أحمد رقم (16601) .
1985
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبَی كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ! قَدْ كَانَ شَيْءٌ؟ قَالَ: أَجَلْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةٌ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَعْمَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ .
ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ اندر گئے، پھر غسل کر کے باہر آئے، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی معاملہ ہو گیاتھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، میرے پاس سے فلاں عورت گزری تو میرے دل میں اپنی بیویوں کی خواہش پیدا ہوگئی ۔ میں اپنی ایک بیوی کے پاس گیا اور اس سے ملاپ کیا۔ تم بھی اسی طرح کیا کرو ، کیوں کہ تمہارا بہترین کام حلال کام ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (441)، مسند أحمد رقم (7337) ، المعجم الكبير للكبراني رقم (18292) .
1986
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ خَبَّبَ خَادِمًا عَلَى أَهْلِهَا فَلَيْسَ مِنَّا وَمَنْ أَفْسَدَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا فَلَيْسَ مِنَّا.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے کسی خادم کو اس کے مالکوں کے خلاف بھڑکایا وہ ہم میں سے نہیں ۔اور جس شخص نے شوہر سے اس کی بیوی کو بہکایا وہ ہم میں سے نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (324)، مسند أحمد رقم (8792) .
1987
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ مَرْفُوْعاً: « مَنْ ضَمَّ يَتِيْمًا لَّهُ أَوْ لِغَيْرِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ الله عَنْهُ وَجَبَتْ لَهُ الجَنَّة » . ( )
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس شخص نے اپنے یتیم یا غیر کےیتیم کی دیکھ بھال کی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے مستغنی کردیا، اس کے لئے جنت واجب ہو گئی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2882)، المعجم الأوسط للطبراني رقم (5504) .
1988
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ عَالَ ابْنَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَ بَنَاتٍ أَوْ أُخْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَ أَخَوَاتٍ حَتَّى يَمُتْنَ (وَفِي رِوَايَة: يبنَ وَفِي أُخْرَى: يَبْلُغَنَّ) أَوْ يَمُوتَ عَنْهُنَّ كُنْتُ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى.
انس‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اپنی دو بیٹیوں یا تین بیٹیوں کی یا دو یا تین بہنوں کی ان کے فوت ہونےتک پرورش کی(اور ایک حدیث میں ہےکہ وہ بڑی ہوجائیں ،اور دوسری روایت میں ہے :بالغ ہو جائیں )یا وہ خود مر جائے تو میں اور وہ اس طرح ہوں گے۔ آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا
Takhreej
الصحيحة رقم (296)، مسند أحمد رقم (12041) .
1989
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِرٍ، مَرْفُوْعاً: مَنْ عَالَ ثَلاَثاً مِّنْ بَنَات يَّكْفِيْهِنَّ وَيَرْحَمُهُنَّ وَيَرْفُقَ بِهِنَّ فَهُوَ فِي الْجَنَّة » . ( )
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے جس شخص نے تین بیٹیوں کی پرورش کی،انکا خرچ دیا،ان پررحم کیااوران پر نرمی کی تو وہ جنت میں ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2492)، مسند أبي يعلى الموصلى رقم (2156) .
1990
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّى تَبْلُغَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ
انس بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش بالغ ہونے تک کی وہ اور میں قیامت کے دن اس طرح آئیں گے۔ اور اپنی انگلیوں کو ملا لیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (297)، صحيح المسلم رقم (4765) ،كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، بَاب فَضْلِ الْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ .
1991
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسٍ مَّرْفُوْعاً: مَنْ كَانَ لَهُ أُخْتَانِ أَوِ ابْنَتَانِ فَأَحْسَن إِلَيْهِماَ مَا صَحِبَتَاه، كُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الجَنَّة كَهَاتَيْنِ. وَقَرَنَ بَيْنَ إِصْبَعِيْهِ
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہےکہ جس شخص کی دو بہنیں یا بیٹیاں ہوں ،جب تک وہ اس کے پاس رہیں وہ ان سے اچھا سلوک کرتا رہے، تو وہ اور میں جنت میں اس طرح ہوں گے اور اپنی دونوں انگلیوں کو ملایا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1026)
1992
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَقُولُ: مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ وَأَطْعَمَهُنَّ وَسَقَاهُنَّ وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَّتِهِ كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِّنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، وہ ان پر صبر کرے انہیں کھلائے پلائے، اور اپنی حیثیت جتناپہنائے تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے آگ سے رکاوٹ کا باعث بنیں گی
Takhreej
الصحيحة رقم (294)، سنن إبن ماجه رقم (3659) ،كِتَاب الْأَدَبِ ، بَاب بِرِّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ. ، منسد أحمد رقم (16762) .
1993
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ جَابِر بْنِ عَبْدِ الله حَدَّثَهُمْ قَالَ قاَلَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، يُؤْوِيْهِنَّ، وَيُكفيهنَّ، وَيَرْحَمُهُنَّ، فَقَدْ وَجَبَتْ لَه الجَنِّة البَتَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَعْضِ الْقَوْم: وَثِنْتَيْنِ يَا رَسُوْلَ الله؟ قَالَ: وَثِنْتَيْنِ
جابر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں جنہیں وہ رہائش/ ٹھکانا دے ، کفالت کرے ،اور ان پر رحم کرے، اس کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہوگئی، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا:اے اللہ کے رسول! اور دو بیٹیاں ہوں تو، آپ نے فرمایا: اور دو بیٹیاں ہوں تب بھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1027)، الأدب المفرد للبخاري رقم (79) .
1994
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ كَانَ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ فَاتَّقَى اللهَ وَأَقَامَ عَلَيْهِنَّ كَانَ مَعِي فِي الْجَنَّةِ هَكَذَا وَأَوَماَ بِالسَّبَابَةِ وَالْوُسْطَى
انس‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں وہ اللہ سے ڈرتا رہا اور ان کی دیکھ بھال کی، وہ جنت میں میرے ساتھ اس طرح ہوگا اور اپنی شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (295)، مسند أحمد رقم (12133) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (8393) .
1995
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ يُّؤْوِيهِنَّ وَيَرْحَمُهُنَّ وَيَكْفُلُهُنَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ الْبَتَّةَ قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ: فَإِنْ كَانَتِ اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ وَإِنْ كَانَتِ اثْنَتَيْنِ قَالَ فَرَأَى بَعْضُ الْقَوْمِ أَنْ لَّوْ قَالُوا لَهُ وَاحِدَةً لَّقَالَ وَاحِدَةً
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں جنہیں وہ ٹھکانا دے، ان پر رحم کرےاوران کی کفالت کرے،اس کے لئے لازمی طور پر جنت واجب ہوگئی، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! اگر دو ہوں تب؟ آپ نے فرمایا: اگر دو ہوں تب بھی۔ بعض صحابہ کا خیال ہے کہ اگر وہ ایک بھی کہتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دہتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2679)، مسند أحمد رقم (13729) .
1996
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَيْسَ فِيهِ انْتِقَاصٌ وَّلَا وَهْمٌ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: 1-مَنْ وُّلِدَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ فِي الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَدْخَلَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ 2-وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كَانَتْ لَهُ نُورًا يَّوْمَ الْقِيَامَةِ 3-وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ بَلَغَ بِهِ الْعَدُوَّ أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ كَانَ لَهُ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ 4-وَمَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُّؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللهُ بِكُلِّ عُضْوٍ مِّنْهَا عُضْوًا مِّنْهُ مِنَ النَّارِ 5-وَمَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ يُدْخِلُهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ مِنْهَا الْجَنَّةَ
ابو امامہ عمرو بن عبسہ سلمی‌رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا کہ: ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو اور اس میں نہ کوئی کمی ہو اور نہ وہم ہو۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے۔۱۔ زمانہ اسلام میں جس شخص کے تین بچے ہوئے اور وہ بالغ ہونے سے پہلے مر گئے تو اللہ عزوجل اپنی رحمت سے ان پر صبر کرنے کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کرے گا۔۲۔ جو شخص اللہ کے راستے میں بوڑھا ہوا تو قیامت کے دن اس کے لئے نور کا باعث ہوگا۔ ۳۔ جس شخص نے اللہ کے راستے میں دشمن کی طرف تیر پھینکا وہ درست نشانے پر لگا یا خطا ہو گیا، تو اس کے لئے ایک گردن (غلام/ باندی) آزاد کرنے کے برابر ثواب ہوگا۔۴۔ جس شخص نے کوئی مومن گردن(غلام/ باندی) آزاد کی، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کا ہر عضو آگ سے آزاد کرے گا۔۵۔ جس شخص نے دو بہترین چیزیں اللہ کے راستے میں خرچ کیں تو جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جس دروازے سے وہ چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل نہ فرما دے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2681)، مسند أحمد رقم (18620) .
1997
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌« الْمُتَلاَعِنَانِ إِذَا تَفَرَّقَا لاَ يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ». ( )ورد من حدیث ابن عمر، و سھل بن سعد، و عبداللہ بن مسعود، و علی بن ابی طالب رضی اللہ عنھم.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:ایک دوسرےپرلعنت کرنےوالے(لعان کرنےوالےمیاں بیوی)جب جداہو جائیں توکبھی بھی جمع نہیں ہوسکتے۔ یہ حدیث سیدنا ابن عمر، سھل بن سعد، عبداللہ بن مسعود اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2465)، سنن دارالقطني رقم (3749) ، سنن الكبرى للبيهقي .
1998
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: الْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ هُنَّ الْمُنَافِقَاتُ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلع لینے والیاں اور تعلق ختم کرنے والیاں منافقات ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (632)، سنن النسائي رقم (3407) ،كِتَاب الطَّلَاقِ ، بَاب مَا جَاءَ فِي الْخَلْع .ِ
1999
Sahih