شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ،
ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ،
ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نے بچے کے بارے میں اپنے شوہر سے جھگڑا کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: عورت جب تک شادی نہ کرلے بچے کی زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1281) ، المطالب العالية للحافظ ابن حجر رقم (1769) .
سالم بن عبداﷲ (بن عمر) رحمۃ اﷲ علیہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: عورت پردہ ہے، جب یہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے مزین کرکے دکھاتا ہے، اور جب یہ اپنے گھر میں ہو تو اﷲ کے بہت نزدیک ہوتی ہے۔
عن مَيْمُونَ بنِ مِهْران قَالَ: خَطَبَ مُعاوية أَمَّ الدَّرداء فَأَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَه، وَقَالَت: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاء يَقُوْلُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : الْمَرْأَةُ فِي آخِر أَزْوَاجِهَا أَو قَالَ: لِآخِر أزواجِها أو كَمَا قالت وَلَسْت أُرِيدُ بِأَبِي الدَّرْدَاء بَدَلًا
میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ معاویہ نے ام درداء رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام بھیجا، ام درداء رضی اللہ عنہا نے شادی کرنے سے انکار کر دیا، اور کہنے لگیں کہ میں نے ابو درداء رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے آخری شوہر کےلئے ہے اور میں ابو درداء رضی اللہ عنہ کا بدل نہیں چاہتی
Takhreej
الصحيحة رقم (1010) ، صحيح مسلم كِتَاب النِّكَاحِ بَاب نِكَاحِ الْمُتْعَةِ ... رقم (2509)
عَن الرَّبِيعِ بْنِ سَبْرَةَ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ: نَهَى صلی اللہ علیہ وسلم عَنِ الْمُتْعَةِ (زَمَانَ الْفَتْحِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ) وَقَالَ: أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ربیع بن سبرہ جہنی رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے سے منع فرمایا (فتح مکہ کے زمانے میں عورتوں سے متعہ کرنے سے)اور فرمایا: خبردار یہ آج کے اس دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2399) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم ( 1 / 196 / 1 - زوائد المعجمين )
ربیع بن سبرہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا: متعہ تمہارے آج کے اس دن سے قیامت تک حرام ہےاور جو شخص کوئی چیز (تحفہ یا صدقہ وغیرہ)دے چکا ہو تووہ اسےواپس نہ لے
Takhreej
الصحيحة رقم (2383) ، سنن إبن ماجه كِتَاب النِّكَاحِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ رقم (1836)
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں، اور شادی کرو، کیوں کہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں پر فخر کروں گا۔ اور جس شخص کے پاس وسعت ہو وہ نکاح کرلے، اور جس شخص کے پاس گنجائش نہ ہو وہ روزے رکھے، کیوں کہ روزہ اس کے لئے ڈھال ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2383) ، سنن إبن ماجه كِتَاب النِّكَاحِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ النِّكَاحِ رقم (1836)
عن أبي هُرَيْرَة أَن النَّبِي صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمَا خَرَج نَزَل ثَنِيَّة الْوَدَاع فَرَأَى مصابيح، وَسَمِع نِسَاء يَبْكِين فقال: ما
هذا؟ فقالوا: يَا رَسُول الله! نِسَاء كَانُوا تَمَتَّعُوْا مِنْهُنّ أَزْوَاجُهُنّ فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : هَدَم -أَو قَالَ: حَرَّم- المُتعةَ النِكَاحُ، وَالطَلَاقُ، وَالْعِدَّةُ، وَالْمِيرَاثُ.( )
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو ثنیۃ الوداع میں پڑاؤ کیا۔ (وہاں) تو چراغ دیکھے، اور کچھ عورتوں کے رونے کی آواز سنی، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ وہ عورتیں ہیں جن سے ان کے شوہروں نے متعہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ختم ہے، یا فرمایا: نکاح، طلاق، عدت اور وراثت نے متع کو حرام کردیا ہے۔
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : هَذِهِ، ثُمَّ ظُهُورَ الْحُصْرِ . قَالَه صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِأَزْوَاجِهِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ. ورد من حدیث ابی و اقد اللیثی، و ابی ھریرة، و زینب بنت حجش، و سودة بنت زعمة، و ام سلمة و عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس سال حج کرلو،پھراس کےبعد (گھرمیں) چٹائیوں پر بیٹھ رہناہے،آپ نےیہ بات اپنی بیویوں سےحجۃ الوداع کےموقع پرکہی۔ یہ حدیث سیدنا ابو واقد اللیثی، ابوہریرہ، زینب بنت حجش، سودہ بنت زمعہ، ام سلمہ اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2401) ، سنن أبي داؤد كِتَاب الْمَنَاسِكِ بَاب فَرْضِ الْحَجِّ رقم (1464) مسند أحمد رقم (20899)
حجر بن قیس رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے انہوں نے زمانۂ جاہلیت دیکھا تھا، کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف فاطمہ رضی اللہ عنہاکے نکاح کا پیغام بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے لئے ہے اگر تم اس سے اچھا سلوک کرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (166) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (3489)
سہل بن معاذ بن انس رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ! میرا شوہر جہاد کے لئے چلا گیا ہے، جب وہ نماز پڑھتا تھا تو میں بھی نماز پڑھتی تھی، اور جو کام وہ کرتا میں کرتی تھی، جب تک وہ واپس آئے مجھے ایسا عمل بتایئے جو اس کے عمل کے برابر ہو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: کیا تم اس بات کی طاقت رکھتی ہو کہ جب تک وہ لوٹ آئے قیام کرو، تو قیام کرتی رہو اور روزہ رکھو تو افطار نہ کرو، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کرتی رہو ؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ میں اتنی طاقت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہیں اتنی طاقت دے بھی دی جائے تو جب تک وہ لوٹ نہ آئے تم اس کے عمل کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچ سکتیں ۔
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں جو بیوی اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حور عین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے: اسے تکلیف مت دو، اللہ تمہیں برباد کرے! یہ تو تمہارے پاس مہمان ہے، ممکن ہے کہ یہ جلد ہی تمہیں چھوڑ کر ہمارے پاس آجائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (173) ، سنن النسائي كِتَاب الرَّضَاعِ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الدُّخُولِ عَلَى الْمُغِيبَاتِ رقم (1094). مسند أحمد رقم (21085).
عَنْ أُمِ سَلمَة قَالَت: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تَسْأَلِ المَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا فَإِنَّمَا رِزْقُهَا عَلَى اللهِ.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کی تھالی میں سے خود بھرے، کیوں کہ اس کا رزق تو اللہ کے ذمے ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2805) ، صحيح مسلم كِتَاب النِّكَاحِ بَاب تَحْرِيمِ الْجَمْعِ بَيْنَ الْمَرْأَةِ ...رقم (2520)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اندر داخل ہوئے۔۔۔حدیث بیان کی اس میں ہے کہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے گرد آپ کی بیویاں بیٹھی ہوئی تھیں اور آپ سے خرچے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا:(الأحزاب: ٢٨) ”اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو۔۔۔اجر عظیم ہے“ آپ نے فرمایا: اے عائشہ! میں چاہتا ہوں کہ تمہارے سامنے ایک بات رکھوں لیکن جب تک اپنے والدین سے مشورہ نہ کر لو اس میں جلدی نہ کرنا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر انہیں سنائی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرتی ہوں۔ اور میں آپ سے مطالبہ کرتی ہوں کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو یہ بات نہ بتائیں جو میں نے آپ سے کہی۔آپ نے فرمایا: مجھ سے جس بیوی نے بھی پوچھا میں اسے بتادوں گا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور تکلیف دینے والا بناکر نہیں بھیجابلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبلغ اور آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3530) ، صحيح مسلم كِتَاب الطَّلَاقِ بَاب بَيَانِ أَنَّ تَخْيِيرَ امْرَأَتِهِ لَا يَكُونُ طَلَاقًا إِلَّا بِالنِّيَّةِ رقم (2703) .
عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اپنی بیوی سے جھوٹ بولوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟ آپ نے فرمایا: نہیں، اللہ تعالیٰ جھوٹ کو پسند نہیں کرتا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس کی اصلاح اور اسے خوش کرتے ہوئے ایسا کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر کوئی گناہ نہیں۔
عن عبد الله بن عَمَرٍو رضی اللہ عنہ قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا يَنْظُر الله إلى امْرَأَةً لَا تَشْكَر لِزَوْجِهَا وَهِي لَا تَسْتَغْنِي عَنْه
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس عورت کی طرف نہیں دیکھے گا جو اپنے شوہر کی شکر گزاری نہیں کرتی ،حالانکہ وہ اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (289) ، مسند البزار رقم (2057) سنن الكبرى للنسائي .
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جابر کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم نے ثیبہ سے نکاح کیا تھا یا کنواری سے؟ میں نے کہا: میں نے شادی شدہ (بیوہ)سے نکاح کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کسی کنواری سے شادی کیوں نہیں کی؟ جابر نے کہا: میرے والد فلاں فلاں دن آپ کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے، اور اپنے پیچھے کنواری بیٹیاں چھوڑیں، مجھے مناسب نہ لگا کہ میں ان جیسی ہی ایک نا تجربہ کار لڑکی لے آؤں، اس لئے میں نے بیوہ سے شادی کی کہ کسی کی جُوئیں نکال دے اور کسی کی قمیص پھٹ جائے تو اسے سی دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا خیال بہت اچھا ہے۔