TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

143 Hadith · 1 Chapters
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عتبة بن عَبْد السلمي قَالَ: « كَانَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَتاَهُ رَجُلٌ وَلَهُ اسْمٌ لَا يُحِبُّه، حَوَّلَه »
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا شخص آتا جس کا نام آپ کو پسند نہ ہوتا تو آپ اسے تبدیل کر دیتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (209)، مسند الشاميين للطبراني رقم (1600) .
1960
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتاً مِّنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَّذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا. روی من حدیث عائشہ، و ابی ھریرة، و ابن عباس و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتے تو پردے کےپاس بیٹھتے اور فرماتے: فلاں شخص فلاں کا ذکر کر رہا تھا اس بیٹی کا اوراس مردکا نام لیتے جو اس کا تذکرہ کر رہا تھا۔ اگر وہ خاموش رہتی تو اس کی شادی کر دیتےاور یا اگر نا پسند کرتی تو پردےپرہاتھ مار دیتی ،جب وہ پردے پر ہاتھ مار تی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس کی شادی نہ کرتے۔ یہ حدیث سیدہ عائشہ، سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2973)، مسند أحمد رقم (23354) .
1961
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَة قَالَتْ:كاَنَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا سَمِعَ اسْماً قَبِيْحاً غَيَّرَهُ فَمَرَّ عَلَى قَرْيَة يُّقَالُ لَهَا: عَفْرَة، فَسَمَّاهَا: خَضِرَةٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی برا نام سنتے تو اسے تبدیل کردیتے۔ آپ ایک بستی کے پاس سے گزرے جسے ”عفراء“ کہا جاتا تھا۔ تو آپ نے اس کا نام تبدیل کر کےخضرہ (سرسبز) رکھ دیا
Takhreej
الصحيحة رقم (208)، المعجم الصغير للطبراني رقم (350)
1962
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : زَيْنَبَ
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ(نیک عورت)تھا،کہا گیا کہ وہ تو خود کا تزکیہ کرتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رضی اللہ عنہا رکھا۔
Takhreej
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ زینب کا نام برہ(نیک عورت)تھا،کہا گیا کہ وہ تو خود کا تزکیہ کرتی ہیں تو رسول اللہﷺنے ان کا نام زینب رضی اللہ عنہا رکھا۔
1963
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَيَدْلَعُ لِسَانَهُ لِلْحَسَن بن عَلِيِّ ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَة لِسَانِه فَيَبْهَشُ إِلَيْهِ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے لئے اپنی زبان باہر نکالتے،بچہ زبان کی سرخی دیکھتا تو خوشی سے اس کی طرف لپکتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (70)، اخلاق النبي ﷺ لأبي الشيخ رقم (178) .
1964
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عُمَرَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌طَلَّقَ حَفْصَةَ ثُمَّ رَاجَعَهَا
عمر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی، پھر اس سے رجوع کر لیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2007)، سنن أبي داؤد رقم (1943)،كِتَاب الطَّلَاقِ بَاب فِي الْمُرَاجَعَةِ،سنن النسائي رقم (3504)،كِتَاب الطَّلَاقِ، بَاب الرَّجْعَةِ
1965
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْمُرُ بَنَاتَهُ وَنِسَاءَهُ أَنْ يَّخْرُجْنَ فِي الْعِيدَيْنِ
عبداللہ بن عباس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو عیدین میں عید گاہ کی طرف جانے کا حکم دیتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2115)، مسند أحمد رقم (1950) .
1966
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَة أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : كاَنَ يُغَيِّرَ الإِسْمَ القَبِيْحَ إِلَى الْإِسْم الحَسَن .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برے نام کو اچھے نام میں تبدیل کردیتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (207)، علل الترمذي الكبير رقم (417) .
1967
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَنَسٍ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُلَاعِبُ زَيْنَبَ بنْتِ أُمِّ سَلَمَة وَهُوَ يَقُوْل: يَا زُوَيْنَب! يَا زُوَيْنَب مِرَاراً
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ کھیلا کرتے تھے اور کہتے اے زوینب، اے زوینب، بار بار کہتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2141)، علل الترمذي الكبير رقم (417) .
1968
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:كَانَتْ جُوَيْرِيَةُ اسْمُهَا بَرَّةُ فَحَوَّلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌اسْمَهَا جُوَيْرِيَةَ وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدہ جو یریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، آپ نے ان کا نام تبدیل کر کے جویریہ رکھ دیا، آپ کو یہ بات نا پسند تھی کہ کوئی آپ سے کہے: کہ آپ برہ(نیک عورت)کے پاس سےآئے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (212)، صحيح مسلم رقم (3989)،كِتَاب الْآدَابِ، بَاب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ... .
1969
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :لَمْ يُرَ لِلْمُتَحَابَّيْنِ مِثْلُ النِّكَاحِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح یافتہ جیسے دو محبت کرنے والے کہیں نظر نہیں آتے
Takhreej
الصحيحة رقم (624)، المعجم الكبير للطبراني رقم (10736) .
1970
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ زَيْدِ بن أَرْقَمَ ، أَنَّ مُعَاذًا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ أَهْلَ الْكِتَابِ يَسْجُدُونَ لأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ ؟ أَفَلا نَسْجُدُ لَكَ ؟ قَالَ: لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَّسْجُدَ لأَحَدٍ لَّأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجَهَا ، وَلا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا عَلَى قَتَبٍ لَّأَعْطَتْهُ
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنے علماء اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں ،آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہرکو سجدہ کرے، بیوی اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی حتی کہ اگر شوہر اس سے ملاپ کا مطالبہ کرے اور وہ اونٹ کے پالان پر ہو اور وہ اس کی خواہش پوری بھی کر دے تب بھی ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3366)، المعجم الكبير للطبراني رقم (4973) ، سنن ابن ماجه رقم (1843) ،كِتَاب النِّكَاحِ، بَاب حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ .
1971
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَبْدِاللهِ بنِ عَمْرو مَرْفُوْعًا: لَيْسَ عَلَى رَجُلٍ طَلَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا عَتَاقٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ وَلَا بَيْعٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آدمی جس عورت کا ذمہ دارنہیں، اس کی طلاق کا حق نہیں رکھتا۔جس غلام کا مالک نہیں ،اس کی آزادی کا حق نہیں رکھتا اور جس سامان کا مالک نہیں، اسے بیچنے کا حق نہیں رکھتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2184)، مسند أحمد رقم (6480)
1972
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَائِشَة مَرْفُوْعاً: « لَيْسَ عَلَى وَلَدِ الزِّناَ مِنْ وِّزْرِ أَبْوَيْهِ شَيْءٌ: وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ولدالزنا(زنا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے)پر اس کے والدین کے گناہ میں سے کچھ نہیں، وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی (فاطر۱۸) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2186)، مستدرك الحاكم رقم (7153) .
1973
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تَنْتَهِكَ شَيْئًا مِّنْ مَالِهَا إِلا بِإِذْنِ زَوْجِهَا
واثلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر عورت کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے مال میں سےخرچ کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (775)، المعجم الكبير للطبراني رقم (17662) .
1974
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو أَنَّ رِئَابَ بْنَ حُذَيْفَةَ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَوَلَدَتْ لَهُ ثَلَاثَةَ غِلْمَةٍ فَمَاتَـتْ أُمُّهُـمْ فَـوَرَّثُوهَـا رِبَاعَهَا وَوَلَاءَ مَوَالِيهَا وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ عَصَبَةَ بَنِيهَا فَأَخْرَجَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَمَاتُوا فَقَدَّمَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَمَاتَ مَوْلًى لَهَا وَتَرَكَ مَالًا لَّهُ فَخَاصَمَهُ إِخْوَتُهَا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ أَوِ الْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے تین بچے ہوئے، ان کی ماں فوت ہوگئی، اس کے بچے اپنی ماں کے سامان اوراس کے آزاد کردہ غلام کی ملکیت کے وارث بنے۔ عمرو بن عاص اس عورت کے بیٹوں کے عصبہ(باپ کی جانب سے رشتے دار)میں سے تھے۔ وہ انہیں لے کر شام کی طرف لے گئےجہاں وہ بھی فوت ہو گئے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا واپس آئے تو اس عورت کا آزاد کردہ غلام بھی مر چکا تھا۔ اس نے کچھ مال چھوڑا تھا۔ اس عورت کے بھائی اس کا فیصلہ لے کر عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ یا بیٹے نے جو جمع کیا ہے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے جو کوئی بھی ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2213)، سنن أبي داؤد رقم (2528) ،كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب فِي الْوَلَاءِ .
1975
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ مَرْفُوْعًا: مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ .
عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو جو کچھ دیتا ہے وہ صدقہ ہے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1024)، مسند أحمد رقم (16955) .
1976
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ نِسْوَةٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللهِ! مَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ فِي مَجْلِسِكَ مِنَ الرِّجَالِ فَوَاعِدْنَا مِنْكَ يَوْمًا نَّأْتِيكَ فِيهِ قَالَ: مَوْعِدُكُنَّ بَيْتُ فُلَانٍ وَأَتَاهُنَّ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَلِذَلِكَ الْمَوْعِدِ قَالَ: فَكَانَ مِمَّا قَالَ لَهُنَّ: مَا مِنِ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ ثَلَاثًا مِّنَ الْوَلَدِ تَحْتَسِبُهُنَّ إِلَّا دَخَلَتِ الْجَنَّةَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِّنْهُنَّ: أَوِ اثْنَانِ؟ قَالَ أَوِ اثْنَانِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ہم آدمیوں کی مجلس میں آپ کے پاس نہیں آسکتیں، ہم آپ سے کسی ایک دن کا وعدہ لینے آئی ہیں جس میں ہم آپ کے پاس آ سکیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کے گھر میں تمہارا وعدہ رہا۔ آپ اس دن وعدے کے مطابق ان کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو باتیں کہیں ان میں یہ بھی تھا کہ : جس کسی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوگی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: دو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی فوت ہو جائیں تب بھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2680)، مسند أحمد رقم (7053) ، الأدب المفرد للبخاري رقم (148) .
1977
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِّنْ مَّسِّ الشَّيْطَانِ غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: (وَ اِنِّیۡۤ اُعِیۡذُہَا بِکَ وَ ذُرِّیَّتَہَا مِنَ الشَّیۡطٰنِ الرَّجِیۡمِ) (آل عمران: ٣٦) .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا فرما رہے تھے: جو بنی آدم بھی پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے ،شیطان کے چھونے کی وجہ سے بچہ چیخ مار کر روتا ہے، سوائے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے، پھر ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: (آل عمران: ٣٦) پھر میں اس (مریم) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2711)، صحيح البخاري رقم (3177) ،كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى{ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ ... .
1978
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعًا: مَا مِنْ مُّسْلِمٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوئیں جب تک وہ اس کے پاس رہیں،اس نے ان سے اچھا سلوک کیا، تو وہ دونوں اسے جنت میں داخل کر دیں گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2776)، مسند أحمد رقم (3249) ، سنن إبن ماجه رقم (3660) ،كِتَاب الْأَدَبِ،بَاب بِرِّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ .
1979
Sahih