شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ،
ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ،
ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی ایسا شخص آتا جس کا نام آپ کو پسند نہ ہوتا تو آپ اسے تبدیل کر دیتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (209)، مسند الشاميين للطبراني رقم (1600) .
كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ بِنْتاً مِّنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يَّذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا. روی من حدیث عائشہ، و ابی ھریرة، و ابن عباس و انس بن مالک رضی اللہ عنھم
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتے تو پردے کےپاس بیٹھتے اور فرماتے: فلاں شخص فلاں کا ذکر کر رہا تھا اس بیٹی کا اوراس مردکا نام لیتے جو اس کا تذکرہ کر رہا تھا۔ اگر وہ خاموش رہتی تو اس کی شادی کر دیتےاور یا اگر نا پسند کرتی تو پردےپرہاتھ مار دیتی ،جب وہ پردے پر ہاتھ مار تی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی شادی نہ کرتے۔ یہ حدیث سیدہ عائشہ، سیدنا ابوہریرہ، عبداللہ بن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے مروی ہے۔
عَنْ عَائِشَة قَالَتْ:كاَنَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا سَمِعَ اسْماً قَبِيْحاً غَيَّرَهُ فَمَرَّ عَلَى قَرْيَة يُّقَالُ لَهَا: عَفْرَة، فَسَمَّاهَا: خَضِرَةٌ.
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی برا نام سنتے تو اسے تبدیل کردیتے۔ آپ ایک بستی کے پاس سے گزرے جسے ”عفراء“ کہا جاتا تھا۔ تو آپ نے اس کا نام تبدیل کر کےخضرہ (سرسبز) رکھ دیا
Takhreej
الصحيحة رقم (208)، المعجم الصغير للطبراني رقم (350)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ، فَقِيلَ: تُزَكِّي نَفْسَهَا، فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : زَيْنَبَ
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ زینب رضی اللہ عنہا کا نام برہ(نیک عورت)تھا،کہا گیا کہ وہ تو خود کا تزکیہ کرتی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام زینب رضی اللہ عنہا رکھا۔
Takhreej
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ زینب کا نام برہ(نیک عورت)تھا،کہا گیا کہ وہ تو خود کا تزکیہ کرتی ہیں تو رسول اللہﷺنے ان کا نام زینب رضی اللہ عنہا رکھا۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حسن بن علی رضی اللہ عنہا کے لئے اپنی زبان باہر نکالتے،بچہ زبان کی سرخی دیکھتا تو خوشی سے اس کی طرف لپکتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (70)، اخلاق النبي ﷺ لأبي الشيخ رقم (178) .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدہ جو یریہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، آپ نے ان کا نام تبدیل کر کے جویریہ رکھ دیا، آپ کو یہ بات نا پسند تھی کہ کوئی آپ سے کہے: کہ آپ برہ(نیک عورت)کے پاس سےآئے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (212)، صحيح مسلم رقم (3989)،كِتَاب الْآدَابِ، بَاب اسْتِحْبَابِ تَغْيِيرِ الِاسْمِ الْقَبِيحِ... .
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ معاذرضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اہل کتاب اپنے علماء اور پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں ،آپ کا کیا خیال ہے کہ ہم آپ کو سجدہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو بیوی کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہرکو سجدہ کرے، بیوی اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی حتی کہ اگر شوہر اس سے ملاپ کا مطالبہ کرے اور وہ اونٹ کے پالان پر ہو اور وہ اس کی خواہش پوری بھی کر دے تب بھی ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3366)، المعجم الكبير للطبراني رقم (4973) ، سنن ابن ماجه رقم (1843) ،كِتَاب النِّكَاحِ، بَاب حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے کہ: آدمی جس عورت کا ذمہ دارنہیں، اس کی طلاق کا حق نہیں رکھتا۔جس غلام کا مالک نہیں ،اس کی آزادی کا حق نہیں رکھتا اور جس سامان کا مالک نہیں، اسے بیچنے کا حق نہیں رکھتا۔
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعاً مروی ہے کہ: ولدالزنا(زنا کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے)پر اس کے والدین کے گناہ میں سے کچھ نہیں، وَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰی (فاطر۱۸) اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی، اس کے تین بچے ہوئے، ان کی ماں فوت ہوگئی، اس کے بچے اپنی ماں کے سامان اوراس کے آزاد کردہ غلام کی ملکیت کے وارث بنے۔ عمرو بن عاص اس عورت کے بیٹوں کے عصبہ(باپ کی جانب سے رشتے دار)میں سے تھے۔ وہ انہیں لے کر شام کی طرف لے گئےجہاں وہ بھی فوت ہو گئے، عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا واپس آئے تو اس عورت کا آزاد کردہ غلام بھی مر چکا تھا۔ اس نے کچھ مال چھوڑا تھا۔ اس عورت کے بھائی اس کا فیصلہ لے کر عمر بن خطابرضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: باپ یا بیٹے نے جو جمع کیا ہے وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے جو کوئی بھی ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2213)، سنن أبي داؤد رقم (2528) ،كِتَاب الْفَرَائِضِ، بَاب فِي الْوَلَاءِ .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! ہم آدمیوں کی مجلس میں آپ کے پاس نہیں آسکتیں، ہم آپ سے کسی ایک دن کا وعدہ لینے آئی ہیں جس میں ہم آپ کے پاس آ سکیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں کے گھر میں تمہارا وعدہ رہا۔ آپ اس دن وعدے کے مطابق ان کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے جو باتیں کہیں ان میں یہ بھی تھا کہ : جس کسی عورت کے تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ ان پر صبر کرے تو جنت میں داخل ہوگی۔ ان میں سے ایک عورت نے کہا: دو بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بھی فوت ہو جائیں تب بھی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2680)، مسند أحمد رقم (7053) ، الأدب المفرد للبخاري رقم (148) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا فرما رہے تھے: جو بنی آدم بھی پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے ،شیطان کے چھونے کی وجہ سے بچہ چیخ مار کر روتا ہے، سوائے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے، پھر ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: (آل عمران: ٣٦) پھر میں اس (مریم) اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2711)، صحيح البخاري رقم (3177) ،كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ، بَاب قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى{ وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ ... .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ: جس مسلمان کے ہاں دو بیٹیاں ہوئیں جب تک وہ اس کے پاس رہیں،اس نے ان سے اچھا سلوک کیا، تو وہ دونوں اسے جنت میں داخل کر دیں گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2776)، مسند أحمد رقم (3249) ، سنن إبن ماجه رقم (3660) ،كِتَاب الْأَدَبِ،بَاب بِرِّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ .