TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان - Book 14 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 14 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 143 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

143 Hadith · 1 Chapters
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عن عائشة زوج النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، قالت: دَخَل الْحَبَشَة الْمَسْجِد يَلْعَبُون فَقَال لي: يَا حُمَيْرَاء! أَتُحِبِّين أَن تنظري إليهم؟ فقلتُ: نَعَم فَقَام بِالْبَاب وَجِئْتُه فَوَضَعَتُ ذَقْنِي عَلَى عَاتِقِه فأسندتُّ وَجْهِي إلى خَدِّه قالت: وَمِنْ قَوْلِهِم يَوْمَئِذ: أبا الْقَاسِم طَيِّبًا فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : حسبكِ؟ فقلتُ: يَا رَسُول الله! لَا تَعْجَلْ فقام، ثم قال:
کےرخسارسے لگا لیا۔اس دن وہ کہہ رہےتھے:ابوقاسم خوش رہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:کافی ہے؟ میں نے کہا:اےاللہ کےرسول!جلدی نہ کیجئے۔آپ میرے لئےکھڑے رہے۔پھر فرمایا:کافی ہے؟ میں نے کہا:اے اللہ کے رسول! جلدی نہ کیجئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھےان سےکوئی دل چسپی نہیں تھی، میں تو یہ چاہتی تھی کہ دوسری بیویوں تک یہ بات پہنچ جائےکہ آپ میرے لئے کیا مقام رکھتے ہیں اور آپ کے ہاں میری کیا قدر و منزلت ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3277) ، مشكل الآثار للطهاوي رقم (254) سنن الكبرى للنسائي .
2020
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ الَّذِى كَانَ مِنْ تَرْكِ النِّسَاءِ بَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: يَا عُثْمَانُ! إِنِّى لَمْ أُؤْمَرْ بِالرَّهْبَانِيَّةِ، أَرَغِبْتَ عَنْ سُنَّتِى؟. قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللهِ. قَالَ: إِنَّ مِنْ سُنَّتِى أَنْ أُصَلِّىَ وَأَنَامَ، وَأَصُومَ وَأَطْعَمَ، وَأَنْكِحَ وَأُطَلِّقَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِى فَلَيْسَ مِنِّى، يَا عُثْمَانُ! إِنَّ لأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِعَيْنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا. قَالَ سَعْدٌ: فَوَاللهِ لَقَدْ كَانَ أَجْمَعَ رِجَالٌ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنْ هُوَ أَقَرَّ عُثْمَانَ عَلَى مَا هُوَ عَلَيْهِ أَنْ نَّخْتَصِىَ فَنَتَبَتَّلَ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا عورتوں سے لاتعلقی کا معاملہ پیش آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ: اے عثمان! مجھے رہبانیت کا حکم نہیں دیا گیا۔ کیا تم میرے طریقے سے بے رغبتی کرو گے؟ اس نے کہا: نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: میری سنت ہے کہ میں نماز بھی پڑھتاہوں اور سوتا بھی ہوں، روزہ بھی رکھتا ہوں، اور کھانا بھی کھاتا ہوں، شادی بھی کرتا ہوں اور طلاق بھی دیتا ہوں۔ (یعنی ہم بستری بھی کرتا ہوں اور اور کبھی نہیں بھی کرتا) جس نے میرے طریقے سے بے رغبتی اختیار کی وہ مجھ سے نہیں، عثمان! تمہاری بیوی کا تم پر حق ہے اور تمہاری جان کا تم پر حق ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں واللہ! بہت سے مسلمان اس پر جمع ہوچکے تھے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عثمان کو اس کی سوچ پر برقرار کھتے ہیں تو ہم خصی ہو جائیں گے۔ اور دنیا سے کٹ جائیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (394) ، سنن الدارمي ( برقم : 2224) .
2021
Sahih
شادی ،بیویوں کے درمیان عدل ،اولاد کی تربیت ، ان کے درمیان عدل اور ان کے اچھے نام رکھنے کابیان
عَنْ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: يُعَقُّ عَنِ الْغُلَامِ وَلَا يُمَسُّ رَأْسُهُ بِدَمٍ
عبد مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے اور اس کے سر پر خون نہ ملا جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2452) ، سنن إبن ماجه كِتَاب الذَّبَائِحِ بَاب الْعَقِيقَةِ رقم (3257).
2022
Sahih