عن ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ مَّلَأَ اللهُ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ خَيْرًا وَّهُوَ يَسْمَعُ وَأَهْلُ النَّارِ مَنْ مَّلَأَ أُذُنَيْهِ مِنْ ثَنَاءِ النَّاسِ شَرًّا وَّهُوَ يَسْمَعُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت وہ لوگ ہیں جن کےدونوں کان اللہ تعالیٰ نے( اس کے بارے میں) لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دیئے ہوں اور وہ( ان کی تعریف)سنتا ہو، اور اہل دوزخ وہ لوگ ہیں جن کے دونوں کان اللہ تعالیٰ نے( اس کے بارے میں) لوگوں کی بری تعریف سے بھر دیئے ہوں اور وہ (اپنے بارے میں بری تعریف) سنتا ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (1740) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الثَّنَاءِ الْحَسَنِ رقم (4214)
عَنْ سَعِيدِ بن يَزِيدَ الأَنْصَارِي، أَنَّ رَجُلاً قَالَ يَا رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَوْصِنِي ، قَالَ : أُوصِيكَ أَنْ تَسْتَحِيَ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، كَمَا تَسْتَحِي رَجُلاً مِنَ صَالِحِي قَوْمِكَ
سعید بن یزید انصاری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے نصیحت کیجئے۔آپ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ عزوجل سے اس طرح حیاء کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، جس طرح تم اپنی قوم کے نیک لوگوں سے حیاء کرتے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (741)المعجم الكبير للطبراني رقم (5406) أمالي ابن بشران رقم (15)
عَنْ عُمَر رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِى الصُّعُدَاتِ وفي رواية:الطرق فَإِنْ كُنْتُم لَابُدَّ
فَاعِلِيْنَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ، قيل وَمَا حَقُّهُ؟ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ، وَرَدُّ السَّلَامِ، وإرشاد الضال».
عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو(اور ایک روایت میں کہ راستوں میں)اگر تم لازمی طور پر ایسا کرنے والے ہو تو راستے کو اس کا حق دو۔ پوچھا گیا اس کا حق کیا ہے؟ فرمایا : نگاہیں نیچی رکھنا، سلام کا جواب دینا، اور بھٹکے ہوئے کو راستہ بتانا۔
عن عبدة بن حزن قال : تفاخرَ أهلُ الإبلِ وأصحابُ الشاةِ ، فقالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : «بُعِثَ موسٰى وهوَ راعِي غنم وبُعِثَ داود وهو راعي غنم ، وبعثت أنا وأنا راعي غنم بأجيادَ ».
عبدہ بن حزن سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ اونٹوں اور بکریوں والے آپس میں (ایک دوسرے) پر فخر جتانے لگے، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تو وہ بکریوں کے چرواہے تھے ،داؤد کو مبعوث کیا گیا وہ بھی بکریوں کے چرواہے تھے اور مجھے مبعوث کیا گیا تو میں بھی اجیاد میں بکریاں چراتا تھا
Takhreej
الصحيحة رقم (3167)الأدب المفرد للبخاري رقم (594) الكني والأسماء للدولابي رقم (400)
فضالہ بن عبید سے مرفوعا مروی ہے کہ: تین لوگوں کے بارے میں نہ ہی پوچھا کرو: وہ شخص جس نے جماعت سے جدائی اختیار کی، اپنے امیر کی نافرمانی کی اور نافرمانی کی حالت میں مرا، اور وہ لونڈی یا غلام جو بھاگ گیا اور مرگیا، اور وہ عورت جس کا شوہر باہر تھا ،اسے دنیوی ضروریات بہم پہنچائیں۔ اس نے اس کے بعد بناؤ سنگھار کیا، ان کے بارے میں نہ ہی پوچھو ، اور ان تین لوگوں کے بارے میں نہ پوچھو: وہ شخص جس نے اللہ عزوجل کی چادر کھینچنے کی کوشش کی اور اللہ کی چادر تکبر اور اس کا ازار عزت ہے، اور وہ آدمی جس نے اللہ کے حکم میں شک کیا اور (تیسرا وہ شخص) جو اللہ کی رحمت سے نا امید ہوگیا۔
فضالہ بن عبید سے مرفوعا مروی ہے کہ: تین لوگوں کے بارے میں نہ ہی پوچھا کرو: وہ شخص جس نے جماعت سے جدائی اختیار کی، اپنے امیر کی نافرمانی کی اور نافرمانی کی حالت میں مرا، اور وہ لونڈی یا غلام جو بھاگ گیا اور مرگیا، اور وہ عورت جس کا شوہر باہر تھا ،اسے دنیوی ضروریات بہم پہنچائیں۔ اس نے اس کے بعد بناؤ سنگھار کیا، ان کے بارے میں نہ ہی پوچھو ، اور ان تین لوگوں کے بارے میں نہ پوچھو: وہ شخص جس نے اللہ عزوجل کی چادر کھینچنے کی کوشش کی اور اللہ کی چادر تکبر اور اس کا ازار عزت ہے، اور وہ آدمی جس نے اللہ کے حکم میں شک کیا اور (تیسرا وہ شخص) جو اللہ کی رحمت سے نا امید ہوگیا
عن عَبْد اللهِ بْن عُمَرَ رضی اللہ عنہ عن رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ ثَلَاثَةٌ لَّا يَنْظُرُ اللهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَـامَةِ الْعَـاقُّ لِوَالِدَيْـهِ
وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ، وَالْمَنَّانُ عْطَاءه وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالدَّيُّوثُ والْرَّجلَةُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی ایسے ہیں جن کی طرف قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا ہی نہیں اپنے والدین کا نافرمان ، مستقل شرا ب پینے والا، دے کر احسان جتانے والا، اور تین آدمی ایسے ہیں جو جنت میں داخل نہیں ہونگے۔ اپنے والدین کا نافرمان ،دیوث اوروہ عورت جو مردوں سے مشابہت کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (3099)سنن النسائي كِتَاب الزَّكَاةِ باب الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى رقم (2515) مسند أحمد رقم (5904)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم الْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ وَالْبَذَاءُ مِنْ الْجَفَاءِ وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حیاء ایمان سے ہےاور ایمان جنت میں داخلے کاسبب ہےاور بد گوئی ظلم و جفا سے ہے اور ظلم و جفا آ گ میں جانے کا سبب ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (495)سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْحَيَاءِ رقم (1932)
عن عمرو بن حبيب ، أنه قال لسعيد بن خالد بن عمرو بن عثمان: أما علمتَ أنّ رسولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قالَ : « خابَ عبدٌ وَّخسِرَ ، لمْ يجعلِ اللهُ تعالي فِي قلْبِه رحمَةً للْبَشَر؟ »
عمرو بن حبیب سے مروی ہے انہوں نے سعید بن خالد بن عمرو بن عثمان سے کہا: کیا آپ کو معلوم نہیں؟ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بندہ ناکام اور خسارے میں رہا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے رحم نہیں رکھا؟
Takhreej
الصحيحة رقم (456) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (4568)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم خَصْلَتَانِ لَا تَجْتَمِعَانِ فِي مُنَافِقٍ حُسْنُ سَمْتٍ وَّلَا فِقْهٌ فِي الدِّينِ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو خوبیاں منافق میں جمع نہیں ہو سکتیں : عمدہ سیرت اور دین کی سمجھ بوجھ
Takhreej
الصحيحة رقم (278) سنن الترمذي كِتَاب الْعِلْمِ بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْفِقْهِ عَلَى الْعِبَادَةِ رقم (2608)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قال سَمِعْتُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ خَيَارُكُمْ إِسْلَامًا أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا إِذَا فَقِهُوا
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : تم میں اسلام قبول کرنے کے اعتبار سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں جب وہ سمجھ بوجھ حاصل کر لیں
حمزہ بن صیب اپنے والد سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ عمررضی اللہ عنہ نے صہیب رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر تم میں تین عادتیں نہ ہوتیں تو تم کتنے عمدہ شخص ہوتے؟ صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا وہ کونسی؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے کنیت رکھ لی حالانکہ تمہاری اولاد نہیں، تم نے عرب سے نسبت قائم کر لی ، حالانکہ تم روم سے تعلق رکھتے ہو ، اور تم کھانے میں بے جا خرچ کرتے ہو، صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ کی یہ بات کہ تم نے کنیت رکھ لی حالانکہ تمہاری اولاد نہیں تو میری کنیت ابو یحییٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی تھی، اور آپ کی یہ بات کہ تم نے عرب سے نسبت قائم کر لی ہے حالانکہ تم روم سے تعلق رکھتے ہو، تو میں نمر بن قاسط کے خاندان سے ہوں جب میں بچہ تھا تو رومیوں نے مجھے موصل سے قید کر لیا تھا، مجھے اپنا نسب معلوم تھا اور آپ کا یہ کہنا کہ تم کھانا کھلانے میں بے جا خرچ کرتے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو کھانا کھلائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (44) مستدرك الحاكم رقم (8690) المعجم الكبير للطبراني رقم (7158)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے اپنے بھائی کی عزت کی پامالی یا مال میں میں کوئی ظلم کیا پھر(قیامت کے دن) پکڑے جانے سے پہلے اس کے پاس آیا اور اس سے معافی مانگ لی، اور وہاں نہ کوئی دینار ہوگا اور نہ درہم اگر اس کی نیکیاں ہوتیں تو اس کی نیکیوں میں سے لے لی جاتیں اور اگر نیکیاں نہیں ہوتیں تو ان کےگناہ ،فرشتے اس کے اوپر لاد دیےا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3265)سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ بَاب مَا جَاءَ فِي شَأْن الْحِسَابِ... رقم (2343)
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ رِضَى الرَّبِّ فِي رِضَى الْوَالِدِ وَسَخَطُ الرَّبِّ فِي سَخَطِ الْوَالِدِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رب کی خوشنودی والد کی خوشنودی میں ہے اور رب کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (516) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ مِنْ الْفَضْلِ فِي رِضَا الْوَالِدَيْنِ رقم (1821)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ: رحم کرنے والوں پر رحمن بھی رحم کرتا ہے، جو زمین میں ہیں تم ان پر رحم کرو تم پر آسمان والا رحم کرے گا۔ صلہ رحمی رحمن سے ملی ہوئی ایک گھنی شاخ ہے جس نے اسے ملایا ،اللہ تعالیٰ اسے ملائے گا، اور جس نے اسے کاٹا اللہ تعالیٰ اسے کاٹے گا۔(
Takhreej
الصحيحة رقم (925)سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ النَّاسِ رقم (1847)
عن أبي هريرة رضی اللہ عنہ عن رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال: « سألَ موسَى ربَه عنْ سِتِّ خِصَالٍ ، كانَ يَظُنُّ أَنَهَا لَه خَالِصَةً ، والسابعةُ لمْ يكنْ موسَى يُحبُها . قالَ: يا ربِ أيَّ عبادِكَ أتقَى ؟ قالَ: الذي يذكرُ ولَا ينْسَى . قالَ: فأَيَّ
عبادِكَ أَهْدَى ؟ قالَ: الذي يتَّبعُ الهُـدَى . قالَ: فأي عـبادِكَ أحْكَمُ ؟ قال: الذي يحكمُ للناسِ كـمَا يَحـكمُ
لنفْسِه . قال: فأي عبادِكَ أعلمُ ؟ قال: الذي لا يشبعُ مِن العلمِ ، يجمعُ علمَ الناسِ إلى علمِهِ . قال: فأي عبادِك أعزُ ؟ قال: الذي إذا قدَرَ غَفَرَ . قال: فأي عبادِك أغْنَى ؟ قال: الذي يرْضَى بِمَا يُؤتَى . قال: فأي عبادِك أفْقَر ؟ قال: صاحبٌ مَّنْقُوصٌ » ، قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : « ليسَ الغِنَى عن ظَهْرٍ ، إنمـا الغِنَى غِنَى النفسِ ، وإذا أرادَ الله
بعبدٍ خيراً جعلَ غِنَاهُ فيِ نفسِهِ وتُقَاه في قلْبِه ، وإذا أرادَ الله بعبدٍ شراً جعلَ فقْرَه بيْنَ عَيْنَيْه » .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رب سے چھ خوبیوں کے بارے میں سوال کیا جس کے بارے میں موسیٰ کا گمان تھا وہ صرف انہی میں ہیں۔ اور ساتویں خوبی کو موسیٰ خود پسند نہیں کرتے تھے ۔ (۱)موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے رب! آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ تقویٰ والا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو (مجھے) یاد کرتا رہتا ہے ،بھولتا نہیں ۔ (۲)موسیٰ علیہ السلام : آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: جو ہدایت کی پیروی کرتا ہے ۔ (۳)موسیٰ علیہ السلام: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ انصاف پسند ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: جو لوگوں کے لئے بھی وہی کرتا ( فیصلہ کرتا ) ہے جو خود اپنے آپ کے لئے کرتا ہے۔ (۴)موسیٰ علیہ السلام: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ علم والا ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: وہ شخص جو علم سے سیر نہیں ہوتا، لوگوں کے علم کو اپنے علم میں جمع کرتا رہتا ہے۔ (۵)موسیٰ علیہ السلام: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ معزز ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: جو شخص قدرت رکھنے کے باوجود معاف کردے۔ (۶)موسیٰ علیہ السلام: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ غنی ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: جو اسے دے دیا جائے اس پر راضی ہو جائے۔ (۷)موسیٰ علیہ السلام: آپ کا کونسا بندہ سب سے زیادہ محتاج ہے؟ اللہ عزوجل نے فرمایا: جو شخص مالدار ہونے کے باوجود اسے اپنے لیے کم سمجھتا ہو ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غنی مال سے نہیں ہوتی غنی اصل میں دل کا کشادہ ہونا ہے، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے بھلائی کا ارادہ کرتاہے تو اس کے دل میں کشادگی اور تقویٰ رکھ دیتا ہے، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کےماتھے پرفقیری رکھ دیتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3350) صحيح ابن حبان كتاب التاريخ باب ذكر سؤال كليم الله جل وعلا ...رقم (6323)
) عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم سِبَابُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ فُسُوقٌ وَّقِتَالُهُ كُفْرٌ وَّحُرْمَةُ
مَالِهِ كَحُرْمَةِ دَمِهِ.
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مسلمان بھائی کو گالی دینا فسق ہے ، اور اس سے لڑنا کفر ہے ، اور اس کے مال کی حرمت اس کے خون کی حرمت کی طرح ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3947) مسند أحمد رقم (4041) المجم الكبير للطبراني رقم (10163)