عن علي رضی اللہ عنہ قال : لمَّا ضممتُ إليَّ سلاحَ رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم وجدتُ في قائمِ سيفِ رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم رُقْعَةً فِيها صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وأحسِنْ إلى مَنْ أَسَاءَ إليكَ وقُلْ الحقَّ ولَو علَى نفسِكَ.
علیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسلحہ لیا اپنے قبضے میں کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار کے دستے میں ایک رقعہ ملا اس میں لکھا ہوا تھا :جو تم سے ٹوٹے تم اس کے ساتھ ملو،جو تم سے برائی کرے تم اس سے نیکی کرو، اور سچ بات کہو چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو
عَنْ جَابِرٍ رضی اللہ عنہ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ طَائِرُ كُلِّ إِنْسَانٍ فِي عُنُقِهِ. تفسير وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَآئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ الإسراء: ١٣
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے ہر انسان کا خیر یاشر کا حصہ اس کی گردن میں ہےیہ تفسیر ہے : وَکُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاہُ طَآئِرَہُ فِیْ عُنُقِہِ ہم نے ہر انسان کی برائی بھلائی کو اس کے ساتھ باندھ دیا ہے
عن أنس بن مالك قال:دخَلتْ يهودٌ علَى رسولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَسَألَ عنهُمْ؟ فقالوا: يهودٌ يا رسولَ الله!وهُمْ لَا يصبغونَ الشعرَ، فقالَ: غيِّروْا سِيما اليهود، ولا تغيِّروا بسوادٍ.
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ : یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول!یہودی ہیں۔اور یہودی اپنے بالوں کو نہیں رنگتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہود کی خصوصیت یا ان کی نشانی کو بدل دو اورسیاہی میں نہ بدلو
Takhreej
الصحيحة رقم (3324) الطبري في تهذيب الآثار (493/926)
عن أنس رضی اللہ عنہ ، قالَ كانَ معَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم رجلٌ، فجاءَ ابنٌ له فقبلَهُ وأجْلَسَه علَى فَخِذِه ، ثمَّ جاءتْ بنتٌ لَه فأَجْلَسَهَا إِلى جَنْبِهِ ، قال: « فهلاَّ عدلتَ بينَهُما؟ ».
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک آدمی تھا اس کا بیٹا آیا تو اس نے اسے بوسہ دیا اور اپنی ران پر بٹھا لیا، پھر اس کی بیٹی آئی تو اس نے اسے اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ آپ نے فرمایا: تم نے ان دونوں کے درمیان انصاف کیوں نہیں کیا؟
جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: منافق میں تین(بدخصلتیں ہیں) جب بھی بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے جب وعدہ کرتا ہے خلاف ورزی کرتا ہے ،اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1998) المعجم الاوسط للطبراني رقم (8145)
ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رداد اللیثی بیمار ہوگئے، عبدالرحمن بن عوف نے ان کی عیادت کی تو انہوں نے کہا : لوگوں میں بہترین اور ملاپ کرنےوالا شخص کون ہے؟کیا آپ کو معلوم ہے ابو محمد؟ عبدالرحمن نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اللہ ہوں، اور میں رحمن ہوں، میں نے (صلہ رحمی) قرابت کو پیدا کیا ہے، اور اس کو اپنے نام سے نکالا ہے ، جس شخص نے اسے ملایا میں اسے ملاؤں گا ، اور جس شخص نے اسے کاٹا میں اسے کاٹوں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (520) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ رقم (1830)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے انہوں نے کہا: یتیم کی کفالت کرنے والا (اپنا ہو یا بیگانہ) میں اور وہ جب وہ اللہ سے ڈرتا ہے جنت میں اس طرح ہوں گے، مالک نے شہادت اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (962) صحيح مسلم كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ بَاب الْإِحْسَانِ إِلَى الْأَرْمَلَةِ ...رقم (5296)
عَنْ نَوْفَلِ بْن أَبِي عَقْـرَبٍ قَالَ: قِيلَ:لِعَائِشَـةَ أَكَانَ يُتَسَـامَعُ عِنْدَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم الشِّـعْرُ؟ قَالَتْ كَانَ أَبْغَـضَ الْحَدِيثِ إِلَيْهِ.
نوفل بن ابی عقرب سے مروی ہے انہوں نے کہا عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعار سنائے جاتے تھے ؟ انہوں نے کہا: شعر آپ کے نزدیک سب سے بری بات تھی
Takhreej
الصحيحة رقم (3095)مسند أحمد رقم (23995) مسند الطيالسي رقم (1582)
عَنْ عَبْد اللہ بْنِ بُسْرٍصَاحِبِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا جَاءَ الْبَابَ يَسْتَأْذِنُ لَمْ يَسْتَقْبِلْهُ يَقُولُ: يَمْشِي مَعَ الْحَائِطِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ فَيُؤْذَنَ لَهُ أَوْ يَنْصَرِفُ
عبداللہ بن بسر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر آتے تو اجازت مانگتے اور سامنے کھڑے نہ ہوتے, کہتے ہیں کہ: آپ کے ساتھ ساتھ چلتے رہتے جب تک آپ کو اجازت نہ دی جاتی۔ آپ کو اجازت دے دی جاتی (تو ٹھیک) وگرنہ واپس پلٹ جاتے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنھما كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا مَشَى مَشَى أَصْحَابُهُ أَمَامَهُ وَتَرَكُوا ظَهْرَهُ لِلْمَلَائِكَةِ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو آپ کے صحابہ آپ کے سامنے چلتے اور آپ کی پشت کو فرشتوں کے لئے چھوڑ دیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2087)سنن ابن ماجة بَاب مَنْ كَرِهَ أَنْ يُوطَأَ عَقِبَاهُ رقم (242)
عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كانَ بعثَ الوليد بن عقبة بن أبى معيط إلَى بَنى المُصطلق ليَأخذَ منهمْ الصدقات وانَه لمَا أَتَاهُم الخَبَر فَرِحُوا وخَرَجُوا لِيَتَلَقَّوْا رسولَ رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم وانَّه لمَا حُدِّثَ الوليدُ انَّهم خَرَجوا يَتلقونَه رجعَ إلَى رسولِ الله صلی اللہ علیہ وسلم فقالَ يارسولَ اللهِ ان بنِى المُصطلق قدْ مَنَعُوا الصدقةَ فغضبَ رسولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِن ذلكَ غضباً شديداً فبينَما هو يحدثُ نفسَه ان يغزوَهم إذْ أتاهُ الوفدُ فقالوا يارسولَ الله انَّا حُدِّثنا انَّ رسولَك رجعَ مِنَ نصفِ الطريقِ واِنا خشِينا انْ يَّكونَ انمَا ردَّه كتابٌ جاءَهُ منكَ لغضبٍ غضبتَهُ عليْنَا وانَّا نعوذُ باللهِ مِن غضبِ اللهِ وغضبِ رسولِه وان رسولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم استعتبَهُمْ وهَمَّ بِهِمْ فَانزَل الله عزوجل عذرَهُمْ فِي الكتابِ فقالَ: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا إِن جَاء کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَیَّنُوا أَن تُصِیْبُوا قَوْماً بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوا عَلَی مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِیْنَ (6) الحجرات:6
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولید بن عقبہ بن ابی معیط کو بنو مصطلق کی طرف ان سے زکاۃ لینے کے لئے بھیجا۔ ان کے پاس جب یہ خبر پہنچی تو بہت خوش ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کا استقبال کرنے کے لئے باہر نکل آئے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ بنو مصطلق آپ سے ملنے کے لئے باہر نکل آئے ہیں تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف واپس آگئے اور کہا اے اللہ کے رسول ! بنو مصطلق نے زکاۃ روک لی ہے۔ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدید غصے میں آگئے۔ ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ ان سے جہاد کیا جائے کہ ان کا ایک وفد آپ کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بتایا گیا کہ آپ کا قاصد نصف راستے سے ہی پلٹ آیا ہے، ہم ڈر گئے کہ کہیں ان کے پاس آپ کی طرف سے کسی غصے کی وجہ سے کوئی خط نہ آیا ہو جس نے انہیں واپس کر دیا۔ ہم اللہ کے غضب اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بتایا اور ان کے خلاف جنگ کا ارادہ کیا تھا۔اللہ تعالی نے ان کا عذر قرآن مجید میں نازل فرمایا: (الحجرات:6 ) ۔اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق، کوئی خبر لے کر آئے تو چھان بین کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم لاعلمی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا دو اور تمہیں اپنے کئے پر شرمندہ ہونا پڑے۔
عن أنس بن مالك رضی اللہ عنہ قال : كانَ رسولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم رحيماً ، وكانَ لَا يأتيهِ أحدٌ إلَّا وَعَدَه ، وأَنْجزَ لَه إِنْ كَان عندَه ، وجاءَ أعرابيٌ فأخذَ بثوبِه فقالَ : إنمَا بَقِيَ مِنْ حاجَتِي يسيْرَة ، وأخافُ أنْسَاهَا ، فقامَ معَه حتَى فَرَغَ مِن حاجتِه ، ثم أقبلَ فصلى
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رحمدل تھے۔ آپ کے پاس جو شخص آتا آپ اس سے وعدہ کر لیتے اور اگر آپ کے پاس ہوتاتو اپنا وعدہ پورا کر دیتے ایک بدو آیا اور اس نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا، اور کہا : میری کچھ ضرورت باقی ہے اور مجھے ڈر ہے کہ میں کہیں بھول نہ جاؤں ۔آپ اس کے ساتھ کھڑے ہو گئے جب اس کی ضرورت پوری کر دی تو پھر تشریف لائے اور نماز پڑھائی
مقدام بن شریح اپنے والد سے بیان کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے صحرائی زندگی کے بارے میں سوال کیا ، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان ٹیلوں میں جایا کرتے تھے ایک مرتبہ انہوں نے صحرائی زندگی کا ارادہ کیا تو میری طرف صدقے کے اونٹوں میں سے ایک سرکش اونٹنی بھیجی اور مجھ سے کہا: عائشہ ! نرمی کیا کرو، کیونکہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے، نرمی اسے مزین کر دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی کھینچ لی جائے اسے معیوب کر دیتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (524)سنن أبي داؤد كِتَاب الْجِهَادِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْهِجْرَةِ وَسُكْنَى الْبَدْوِ رقم (2119)
عَنْ خَادِمٍ لِلنَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٍ أَوْ امْرَأَةٍ قَالَ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ أَلَكَ حَاجَةٌ؟ قَالَ حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ حَاجَتِي قَالَ وَمَا حَاجَتُكَ؟ قَالَ حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ رَبِّي قَالَ إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ.
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی خادم مرد یا عورت سے مروی ہے اس نے کہا کہ: آپ اپنے خادم سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا تمہاری کوئی ضرورت ہے؟ ایک دن اس نے کہااے اللہ کے رسول! ایک حاجت ہے ، آپ نے فرمایا: تمہاری کیا حاجت ہے؟ اس نے کہا میری حاجت یہ ہے کہ قیامت کے دن آپ میری شفاعت کریں۔ آپ نے فرمایا:تمہیں یہ بات کس نے بتائی؟ اس نے کہا : میرے رب نے : آپ نے فرمایا کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کرو
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رضی اللہ عنہ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم يَتَخَلَّفُ فِي الْمَسِيرِ فَيُزْجِي الضَّعِيفَ وَيُرْدِفُ وَيَدْعُو لَهُمْ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں پیچھے چلتے ،کمزور کو ساتھ ساتھ چلاتے اپنے پیچھے بٹھالیتے اور ان کے لئے دعا کرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2120) سنن أبي داؤد كِتَاب الْجِهَادِ باب في لزوم الساقة رقم (2269)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم يَجْلِسُ عَلَى الأَرْضِ، وَيَأْكُلُ عَلَى الأَرْضِ، وَيَعْتَقِلُ الشَّاةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ عَلَى خُبْزِ الشَّعِيرِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھتے تھے زمین پر کھاتے تھے، بکری کے گلے میں رسی باندھتے اور جو کی روٹی پر غلام کی دعوت قبول کرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (2125) المعجم الكبير للطبراني رقم (12331)