ابو ایوبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم گدھے پر سواری کرتے جوتا گانٹھ لیتے،قمیص کو پیوند لگاتے اور فرماتے جس نےمیرے طریقے سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں
براء بن عازبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم جنگ احزاب کے موقع پر (اور ایک روایت میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر) ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے۔ مٹی نے آپ کے پیٹ کی سفیدی کو(اور ایک روایت میں ہے آپ کے سینے کے بالوں کو) ڈھانپ دیا۔(آپ گھنے بالوں والے شخص تھے)اور آپ(عبداللہ بن رواحہ کے اشعار پڑھ رہے تھے جو کہ یہ ہیں: اللہ کی قسم !(اے اللہ)اگر تو نہ ہوتا، تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے، ہم پر سکینت نازل فرما(اور اگر دشمن سے ہمارا سامنا ہو تو ہمارے قدم ثابت رکھ) ان بڑے سرداوں نے ہمارے خلاف انکار کیا (اور ایک روایت میں ہے : ہمارے خلاف اعلان جنگ کیا)یہ جب ہمیں تکلیف پہچانے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم دفاع کرتے ہیں(دفاع کرتے ہیں)ان الفاظ پر اپنی آوازکوبلندکرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (3242)صحيح البخاري كِتَاب الْقَدَرِ بَاب{ وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللهُ } رقم (2808، 6695)
عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم حَجَّ بِنِسَائِهِ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ نَزَلَ رَجُلٌ فَسَاقَ بِهِنَّ فَأَسْرَعَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم كَذَاكَ سَوْقُكَ بِالْقَوَارِيرِ؟ يَعْنِي النِّسَاءَ فَبَيْنَا هُمْ يَسِيرُونَ بَرَكَ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ جَمَلُهَا وَكَانَتْ مِنْ أَحْسَنِهِنَّ ظَهْرًا فَبَكَتْ وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ دُمُوعَهَا بِيَدِهِ وَجَعَلَتْ تَزْدَادُ بُكَاءً وَّهُوَ يَنْهَاهَا فَلَمَّا أَكْثَرَتْ زَبَرَهَا وَانْتَهَرَهَا وَأَمَرَ النَّاسَ بِالنُّزُولِ فَنَزَلُوا وَلَمْ يَكُنْ يُرِيدُ أَنْ يَّنْزِلَ قَالَتْ فَنَزَلُوا وَكَانَ يَوْمِي فَلَمَّا نَزَلُوا ضُرِبَ خِبَاءُ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَدَخَلَ فِيهِ قَالَتْ فَلَمْ أَدْرِ عَلَامَ أُهْجَمُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم وَخَشِيتُ أَنْ يَّكُونَ فِي نَفْسِهِ شَيْءٌ مِّنِّي فَانْطَلَقْتُ إِلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ لَهَا تَعْلَمِينَ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَبِيعُ يَوْمِي مِنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم بِشَيْءٍ أَبَدًا وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُ يَوْمِي لَكِ عَلَى أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنِّي قَالَتْ نَعَـمْ قَالَ فَأَخَذَتْ
عَائِشَةُ خِمَارًا لَّهَا قَدْ ثَرَدَتْهُ بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْـهُ بِالْمَـاءِ لِيُذَكِّيَ رِيحَهُ ثُمَّ لَبِسَتْ ثِيَابَهَـا ثُـمَّ انْطَلَقَتْ إِلَى رَسُـولِ اللهِ
صلی اللہ علیہ وسلم فَرَفَعَتْ طَرَفَ الْخِبَآءِ فَقَالَ لَهَا مَا لَكِ يَا عَائِشَةُ؟ إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِيَوْمِكِ قَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ فَقَالَ مَعَ أَهْلِهِ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الرَّوَاحِ قَالَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ يَا زَيْنَبُ أَفْقِرِي أُخْتَكِ صَفِيَّةَ جَمَلًا وَكَانَتْ مِنْ أَكْثَرِهِنَّ ظَهْرًا فَقَالَتْ أَنَا أُفْقِرُ يَهُودِيَّتكَ؟ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ مِنْهَا فَهَجَرَهَا فَلَمْ يُكَلِّمْهَا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ وَأَيَّامَ مِنًى فِي سَفَرِهِ حَتَّى رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَالْمُحَرَّمَ وَصَفَرَ فَلَمْ يَأْتِهَا وَلَمْ يَقْسِمْ لَهَا وَيَئِسَتْ مِنْهُ فَلَمَّا كَانَ شَهْرُ رَبِيعِ الْأَوَّلِ دَخَلَ عَلَيْهَا فَرَأَتْ ظِلَّهُ فَقَالَتْ إِنَّ هَذَا لَظِلُّ رَسول الله وَمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَمَنْ هَذَا؟ فَدَخَلَ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا رَأَتْهُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللهِ مَا أَدْرِي مَا أَصْنَعُ حِينَ دَخَلْتَ عَلَيَّ؟ قَالَتْ وَكَانَتْ لَهَا جَارِيَةٌ وَكَانَتْ تَخْبَؤُهَا مِنَ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ فُلَانَةُ لَكَ فَمَشَى النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم إِلَى سَرِيرِ زَيْنَبَ وَكَانَ قَدْ رُفِعَ فَوَضَعَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ أَصَابَ أَهْلَهُ وَرَضِيَ عَنْهُمْ.
صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویو ں کے ساتھ حج کیا، ابھی راستے میں تھے کہ ایک آدمی اترا اور ان کی سواری کو تیز تیز چلانے لگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم شیشوں (عورتوں) کو اس طرح چلاؤ گے؟ (تو شیشے ٹوٹ جائیں گے)۔ ابھی وہ چل رہے تھے کہ صفیہ کا اونٹ صفیہ بنت حی کو لے کر بیٹھ گیا، حالانکہ وہ ایک عمدہ سواری والا اونٹ تھا۔وہ رونے لگیں ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ آئے اور ان کےآنسو آپ اپنے ہاتھ سے پونچھنے لگے وہ اور زیادہ رونے لگیں آپ انہیں منع کرتےرہے جب وہ زیادہ رونے لگیں تو آپ نے انہیں ڈانٹ دیا اور لوگوں کو پڑاؤ ڈالنے کا حکم دیا۔ لوگ سواریوں سے اترنے لگے۔آپ پڑاؤ ڈالنا نہیں چاہتے تھے ۔کہتی ہیں کہ لوگ سواریوں سے اتر گئے اس دن میری باری تھی جب لوگ نیچے اترے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ لگایا گیا آپ اس میں داخل ہو گئے۔ کہتی ہیں کہ: مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہ میں اچانک آپ سے کیا بات کروں مجھے ڈر ہوا کہ کہیں آپ کے دل میں میری طرف سے کوئی بات نہ ہو۔ میں عائشہ کی طرف گئی اور ان سے کہا: تم جانتی ہو کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے دن کا سودا کبھی بھی کسی صورت نہیں کرتی۔ اور میں آج اپنا دن تمہیں اس شرط پر دیتی ہوں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کرو گی۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، عائشہ نے اپنی چادر پکڑی جس میں انہوں نے زعفران لگایا تھا، اس پر پانی ڈالا تاکہ اس کی خوشبو عمدہ ہو جائے ، پھر اپنے کپڑے پہنے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑیں۔ جب انہوں نے خیمے کا کنارہ اٹھا یا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا عائشہ تمہیں کیا ہوا؟ آج تمہاری باری نہیں۔انہوں نے کہا: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ رہے۔ جب سفر شروع کرنے لگے۔ تو زینب بنت جحش سے کہا: زینب اپنی بہن صفیہ کو اپنا اونٹ ادھار دے دو، ان کے پاس سب سے زیادہ سواریاں تھیں۔ زینب نے کہا: میں آپ کی یہودیہ کو اونٹ دوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی یہ بات سنی تو شدیدغصے میں آگئے۔ آپ نے انہیں چھوڑ دیا اور ان سے بات نہ کی حتی کہ مکہ آگئے اور اپنے سفر پر ایام منی میں حتی کہ مدینے آگئے اور محرم اور صفر کا مہینے گزر گئے اور ان کے پاس نہ آئے اور نہ ان کے لئے ( کوئی حصہ)تقسیم کیا۔ زینب آپ سے مایوس ہو گئیں۔ جب ربیع الاول کا مہینہ آیا تو آپ ان کے پاس آئے ۔ زینب نے آپ کا سایہ دیکھا تو کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سایہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو میرے پاس نہیں آتے پھر یہ کون ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اند رآئے ۔ جب انہوں نے آپ کو دیکھا تو کہا اے اللہ کے رسول! مجھے نہیں معلوم کہ جب آپ اندر داخل ہوئے تو (اس خوشی میں) میں کیا کرتی؟ کہتی ہیں کہ ان کی ایک لونڈی تھی جسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چھپا کر رکھتی تھیں۔ انہوں نےکہا کہ فلاں لونڈی آپ کے لئے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب کی چار پائی کی طرف گئے چار پائی کھڑی تھی آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے بچھایا پھر اپنی بیوی سے ملے اور ان سے راضی ہو گئے
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رات کے وقت اپنے بچوں کو روک لو۔ اورقدموں کے پر سکون ہونے کے بعد رات کو باتیں کرنے سے بچو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اس کی تخلیق میں سے کیا چیز نکالے گا، دروازے بند کردو، چراغ بجھادو، برتن ڈھانک دو اور مشکیزوں کے منہ بند کر دو
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشاء کی نماز پڑھی جب آپ نے سجدہ کیا تو حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ آپ کی پشت پر چڑھ گئے۔جب آپ نے اپنا سر اٹھایا تو ان دونوں کو ( اپنے ہاتھ سے اپنے پیچھے سے نرمی سے) پکڑا اور نرمی سے اتار دیا، جب آپ دوبارہ سجدے میں گئے تو وہ بھی دوبارہ چڑھ گئے۔ جب آپ نے نماز پڑھ لی ( تو ان دونوں کو اپنی دونوں رانوں پر بٹھا لیا) ایک کو یہاں اور دوسرے کو اس طرف۔ ابو ھریرہرضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان دونوں کو ان کی ماں کے پاس نہ چھوڑ آؤں؟ آپ نے فرمایا: نہیں ،پھر ایک بجلی چمکی تو آپ نے فرمایا: اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔ وہ دونوں بجلی کی روشنی میں چلتے ہوئے اپنی ( ماں کے پاس) پہنچ گئے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ : پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! کونسا شخص افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ہر صاف دل والا ،سچی زبان والا، صحابہ نے کہا: سچی زبان والے کو تو ہم جانتے ہیں یہ صاف دل والا کون ہے؟ آپ نے فرمایا : متقی پرہیزگار صاف شفاف جس میں نہ کوئی گناہ ہے نہ سر کشی نہ کینہ اور نہ حسد۔
Takhreej
الصحيحة رقم (948)سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الْوَرَعِ وَالتَّقْوَى رقم (4206)
عن ابن عمر مرفوعاً: كمْ مِنْ جَارٍ مُتعلقٍ بِجارِهِ، يقولُ: يَا ربِّ، سَلْ هَذا لِمَ أَغْلَقَ عَني بَابَه، ومَنَعَنِي فَضْلَهُ؟
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ : کتنے ہی پڑوسی اپنے پڑوسی سے چمٹے ہونگے اور کہہ رہے ہونگے: اے رب! اس سے پوچھو کہ مجھ سے اپنا دروازہ کیوں بند کر لیا اور اپنا فضل مجھ سے کیوں روک لیا؟
Takhreej
الصحيحة رقم (2646)مكارم الأخلاق لابن أبي الدنيا رقم (340)
عن سلمة بن الأكوع ، قال: «كنَّا إذَا رَأينَا الرجلَ يَلْعَنُ أخَاهُ ، رَأَيْنَا أَنْ قَد أتَى بَابَاً مِنْ الكبائرِ ».
سلمہ بن اکوعرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ: جب ہم کسی شخص کو دیکھتے کہ یہ اپنے بھائی پرلعنت کر رہا ہے تو ہم اس کے بارے میں سوچتے کہ یہ کبائر کے دروازے پر آگیا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2649) المعجم الاوسط للطبراني رقم (6863)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أن رسول اللہ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أن رسول الله الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعِزَّةُ إِزَارِي فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أُلْقِيهِ فِي النَّارِ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتے ہیں تکبر میری چادر ہے اور عزت میری ازار، جس نے ان دونوں میں سے کوئی ایک مجھ سے چھیننے کی کوشش کی میں اسے جہنم کی آگ میں ڈال دوں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (541) سنن ابن ماجة كِتَاب الزُّهْدِ بَاب الْبَرَاءَةُ مِنْ الْكِبْرِ وَالتَّوَاضُعُ رقم (4165)
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَعَنَ اللهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللهِ، لَعَنَ اللهُ مَنْ غَيَّرَ تُخُومَ الْأَرْضِ لَعَنَ اللهُ مَنْ كَمَهَ الْأَعْمَى عَنِ السَّبِيلِ لَعَنَ اللهُ مَنْ سَبَّ وفي رواية عَقَّ وَالِدَيْهِ لَعَنَ اللهُ مَنْ تَوَلَّى غَيْرَ مَوَالِيهِ لَعَنَ اللهُ مَنْ وَّقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ لَعَنَ اللهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ لَعَنَ اللهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ لَعَنَ اللهُ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے غیر اللہ کے لئے ذبح کیا، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے زمین کی سرحدوں یا نشانات کو تبدیل کیا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے نابینے آدمی کو راستے سے بھٹکایا۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے اپنے والدین کو گالی دی ( اور ایک روایت میں ہے کہ نافرمانی کی) اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے اپنے مالکوں کے علاوہ کسی اور کو اپنایا ایک بنایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے کسی جانور سے بدکاری کی اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے قوم لوط کا عمل کیا،اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے قوم لوط کا عمل کیا، اللہ تعالیٰ اس شخص پر لعنت کرے جس نے قوم لوط کا عمل کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3462) مسند أحمد رقم (2763، 2764، 2765)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أصَابَني الجُهد وفي رواية: إِنِّي مَجْهُودٌ فَبَعَثَ إِلَى نِسَائِهِ فَقُلْنَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا مَعَنَا إِلَّا الْمَاءُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ يَّضُمُّ أَوْ يُضِيفُ هَذَا يَرَحَمُهُ اللهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ الْأَنْصَارِ يقال له: أبو طلحة أَنَا فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَقَالَ أَكْرِمِي ضَيْفَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لاتدخري شيئا فَقَالَتْ والله! مَا عِنْدَنَا إِلَّا قُوتٌ لِّلصِبْيَان! فَقَالَ هَيِّئِي طَعَامَكِ وَأَصْلِحِي سِرَاجَكِ وَنَوِّمِي صِبْيَانَكِ إِذَا أَرَادُوا عَشَاءً فَهَيَّأَتْ طَعَامَهَا وَأَصْلَحَتْ سِرَاجَهَا وَنَوَّمَتْ صِبْيَانَهَا ثُمَّ قَامَتْ كَأَنَّهَا تُصْلِحُ سِرَاجَهَا فَأَطْفَأَتْهُ فَجَعَلَا يُرِيَانِهِ أَنَّهُمَا يَأْكُلَانِ وَأَكَلَ الضَّيْف فَبَاتَا طَاوِيَيْنِ فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لقد ضَحِكَ اللهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فِعَالِكُمَا بِضَيْفِكُمَا اللَّيْلَةَ وأَنْزَلَ اللهُ :وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَ لَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَالحشر:9
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے سخت بھوک لگی ہے، (اور ایک روایت میں ہے: میں بھوکا ہوں)آپ نے اپنی بیویوں کی طرف پیغام بھیجا ،تو انہوں نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ہمارے پاس صرف پانی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کو کون ملائے گا، یا مہمان نوازی کرے گااللہ اس پر رحم فرمائے ایک انصاری جس کا نام ابوطلحہ تھا، نے کہا میں ،پھر وہ لے کر اپنی بیوی کے پاس آئےاور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر مدارت کروکوئی چیز چھپا کر نہ رکھو اس نے کہا (واللہ) ہمارے پاس تو صرف بچوں کا کھانا ہے ابو طلحہ نےکہا کھانا تیار کرو، چراغ درست کرو، اور جب بچے رات کا کھانا مانگیں تو بچوں کو سلا دو، اس نے کھانا تیار کیا چراغ درست کیا اور بچوں کوسلادیا، پھر وہ کھڑی ہوئیں گویا کہ چراغ درست کر رہی ہیں اور اسے بجھا دیا، اور دونوں (ابوطلحہ اور ان کی بیوی)مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ وہ بھی کھانا کھا رہے ہیں ۔(مہمان نے کھانا کھا لیا) ان دونوں نے بھوکے رات گزاری جب صبح ہوئی ،ابو طلحہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تم دونوں کے تمہارے مہمان کے ساتھ عمل کی وجہ سے مسکرایا یا خوش ہوا، اور اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: الحشر 9’’اور یہ لوگ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ یہ خود سخت ضرورت مند ہوں اور جو لوگ اپنے نفس کی بخیلی سے بچالئے گئے تو یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
Takhreej
الصحيحة رقم (3272)صحيح البخاري كِتَاب الْمَنَاقِبِ بَاب قَوْلِ اللهِ { وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ } رقم (3514)
عن عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہ ، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَو أَن رَجلَين دَخَلَا في الإسلَام فَاهتَجَرا لَكَان أحدُهما خَارجاً مِّنَ الإسلَام حَتى يَرجعَ يَعني: الظَالمَ .
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر دو آدمی اسلام میں داخل ہوں اور دونوں آپس میں قطع تعلیق اختیار کرلیں تو ان دونوں میں سے ایک (ظالم) اسلام سے خارج ہوگا حتی کہ وہ رجوع کر لے، یعنی ظالم شخص
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، وہ آپ کے پیچھے تھے، آپ نے تلاوت کی تو تلاوت خلط ملط ہوگئی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: اگر تم مجھے اور ابلیس(شیطان)کو دیکھتے ،میں نے اپنا ہاتھ آگے کیا، میں اس کا گلا دباتا رہا حتی کہ اس کے لعاب کی ٹھنڈک اپنی ان دونوں انگلیوں کے درمیان محسوس کی۔انگوٹھا اور انگوٹھے سے ملی ہوئی انگلی۔ اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا نہ ہوتی تو وہ( شیطان) مسجد کے کسی ستون سے بندھا ہوا ہوتا ،مدینے کے بچے اس سے کھیلتے ۔تم میں سے جو شخص طاقت رکھتا ہے کہ اس شخص کے اور قبلے کے درمیان کوئی شخص حائل نہ ہو تو وہ ایسا کرے(یعنی ہاتھ سےروکے)
أبى هريرة رضى الله عنه قَالَ قَال رسولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم ليسَ شئٌ أطِيع الله فِيه أَعجَلَ ثَوابًا مِن صِلِةِ الرَحِم وليسَ شئٌ أعجلَ عقابًا منَ البَغىِ وقَطِيعةِ الرَحِمِ واليَمِينُ الفَاجِرةُ تَدعُ الديارَ بلاقع.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلہ رحمی سے زیادہ جلد ثواب دلانے والا جس میں اللہ کی اطاعت کی جائے کوئی عمل نہیں اور سر کشی اورقطع رحمی سے زیادہ جلد سزا دلانے والا کوئی عمل نہیں اور جھوٹی قسم گھروں کو ویران کر کے چھوڑتی ہے
عَنْ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ شَيْخٌ يُّرِيدُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَبْطَأَ الْقَوْمُ عَنْهُ أَنْ يُّوَسِّعُوا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَيُوَقِّرْ كَبِيرَنَا
انس بن مالکرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ ایک بوڑھا آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آیا ۔لوگوں نے اس کے لئے جگہ چھوڑنے میں دیر کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں جس نے ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہ کی اور ہمارے بوڑھوں کی توقیر و عزت نہ کی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2196) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ الصِّبْيَانِ رقم (1842)
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَغَضِبَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا وَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا أَحْسَنَ هَذَا.
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلے میں کھنگار دیکھاتو شدید غصے میں آگئے حتی کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ ایک انصاری عورت آئی اور اسے کھرچ کر اس کی جگہ خوشبو دار بوٹی لگا دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3050) سنن ابن ماجة كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَالْجَمَاعَاتِ بَاب كَرَاهِيَةِ النُّخَامَةِ فِي الْمَسْجِدِ رقم (754)
عن الأعور ، عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، قال: ما أخاف على أمتي إلا ثلاثا: شح مطاع، وهوى متبع ، وإمام ضلال.
(۱۵۸) الاعور سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنی امت سے تین باتوں کے بارے میں ڈرتا ہوں:حد سے زیادہ بخیلی ، خواہش پرستی، اور گمراہ امام(حاکم)
Takhreej
الصحيحة رقم (3237) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (4519)
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : مَا استَكبَرَ مَن أَكَلَ مَعَه خَادمُه، وَرَكبَ الحمارَ بالأَسوَاق، واعتَقَلَ الشاةَ فَحَلَبَها.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس نے تکبرنہیں کیا جس نے اپنے خادم کے ساتھ کھانا کھایااور بازاروں میں گدھے پر سوار ہوا اور بکری کو رسی ڈال کر اس کا دودھ دھویا
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ : میں فلاں فلاں کو نہیں سمجھتی کہ وہ دونوں ہمارے دین کے بارے میں (جس پر ہم ہیں)کوئی بات جانتے ہوں۔ابن عفیر نے زیادہ کیا کہ لیث نے کہا:وہ دونوں منافق آدمی تھے ۔یحیی نےابتداء میں یہ الفاظ زیادہ کئے کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا: میں فلاں فلاں شخص کو نہیں سمجھتا کہ وہ دونوں ہمارے دین کے بارے میں (جس پر ہم ہیں)کوئی بات جانتے ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3077)صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يَكُونُ مِنْ الظَّنِّ رقم (5607)