TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی - Book 1 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 1 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 204 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

204 Hadith · 1 Chapters
All books
Previous Book Next Book
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن عبيد الله بن معمر، أن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: مَا اُعْطِيَ أَهلُ بَيتٍ الرفقَ إلاَ نَفَعَهم،وَلَا مُنِعُوه إلا ضَرَّهُم.
عبیداللہ بن معمر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جن گھر والوں کو نرمی دی گئی، ان کو یہ نرمی نفع دے گی۔ اور جن کو نرمی نہ دی گئی تو یہ بات انہیں نقصان دے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (3077)صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يَكُونُ مِنْ الظَّنِّ رقم (5607)
161
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا بَلَغَهُ عَنِ الرَّجُلِ الشَّيْءُ لَمْ يَقُلْ مَا بَالُ فُلَانٍ يَّقُولُ وَلَكِنْ يَّقُولُ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَّقُولُونَ كَذَا وَكَذَا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی شخص کے بارے میں کوئی بات پہنچتی تو یہ نہیں فرماتے فلاں کی کیا حالت ہے کہ وہ یہ کہہ رہا ہے بلکہ فرماتے : لوگوں کی کیا حالت ہے کہ وہ یہ یہ بات کہہ رہے ہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2064) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي حُسْنِ الْعِشْرَةِ رقم (4156)
162
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ قَالَ لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًا قَالَ فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرْعَةَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ قَالَ لَيْسَ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے اندر رقوب(جس کا بچہ زندہ نہ رہتا ہو)کس شخص کو شمار کرتے ہو؟ ہم نے کاا : جس کا کوئی بچہ زندہ نہ رہے۔ آپ نے فرمایا: یہ رقوب نہیں، لیکن رقوب وہ شخص ہے (یعنی اس کا کوئی بچہ فوت نہیں ہوا)۔ فرمایا: تم اپنے اندر پہلوان کس شخص کو سمجھتے ہو؟ ہم نے کہا : وہ شخص جسے لوگ پچھاڑ نہ سکتے ہوں۔ آپ نے فرمایا: یہ شخص پہلوان نہیں بلکہ وہ شخص(حقیقی پہلوان ہے ) جو غصے کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3406) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب فَضْلِ مَنْ يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ رقم (4722)
163
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عذْقًا وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ بِعْنِي عذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ قَالَ لَا قَالَ فَهَبْهُ لِي قَالَ لَا قَالَ فَبِعْنِيهِ بِعذْقٍ فِي الْجَنَّةِ قَالَ لَا فَقَالَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے باغ میں فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے ، اس نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کی کھجور کی جگہ مجھ پر بھاری ہو گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ: فلاں شخص کے باغ میں موجود اپنی کھجور مجھے بیچ دو، اس نے کہا: نہیں آپ نے فرمایا تب مجھے ہبہ کر دو۔ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا: جنت میں کھجور کے بدلے بیچ دو۔ اس نے کہا نہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم سے زیادہ بخیل کوئی شخص نہیں دیکھا ، سوائے اس شخص کے جو سلام میں بخل کر تا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (3383) مسند أحمد رقم (13992)
164
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أبي هريرة ، عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، قال:ما عمل ابن آدم شيئا أفضل من الصلاة وصلاح ذات البين وخلق حسن»
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں،آپ نے فرمایا:ابن آدم نے نماز، آپس میں صلح، اور اچھے اخلاق سے افضل کوئی عمل نہیں کیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1448) شعب الايمان للبيهقي فصل فيما يقول العاطس في جواب التشميت رقم (10648)
165
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنَ الْكَذِبِ وَمَا اطَّلَع مِنْه عَلى شيءٍ عِنْدَ أَحدٍ مِنْ أَصْحَابِه فَيبخلُ لَه مِن نَفسه حَتَّى يَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَحْدَثَ تَوْبَةً.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت بری نہیں لگتی تھی۔ آپ کو جس صحابی کے بارے میں ایسی کوئی بات پتہ چلتی تو آپ اپنی طرف سے اس سے اعراض کرتے(بچتے) حتی کہ آپ کو معلوم ہو جاتا کہ اس نے توبہ کر لی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2052)سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ (1896) مسند أحمد (24027)
166
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ مَرفُوعاً: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللهُ لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.
ابو بکرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مردی ہے کہ: سر کشی اور قطع رحمی سے بڑھ کر کوئی گناہ ایسانہیں جس کے کرنے والے کو اللہ تعالیٰ جلد ہی دنیا میں سزا دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کے لئے سزا کا بندوبست ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2052)سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصِّدْقِ وَالْكَذِبِ (1896) مسند أحمد (24027)
167
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ جَرِيرِ بن عَبْدِ اللهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: مَا مِنْ ذِي رَحِمٍ يَأْتِي رَحِمَهُ ، فَيَسْأَلُهُ فَضْلا أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ فَيَبْخَلُ عَلَيْهِ ، إِلا أُخْرِجَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَهَنَّمَ حَيَّةٌ يُقَالُ لَهَا: شُجَاعٌ، يَتَلَمَّظُ فَيُطَوَّقُ بِهِ .
جریر بن عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی رشتہ دار اپنے کسی رشتے دار کے پاس آتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو عطا کیا ہے اس میں سے فضل (زائد از ضرورت) کا سوال کرتا ہے اور وہ بخیلی سے پیش آتا ہے تو قیامت کے دن اس کے لئے جنمو سے ایک سانپ نکالا جائے گا جسے شجاع کہا جاتا ہے۔ وہ پھنکار رہا ہوگا۔ اسے اس کی گردن میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2548)المعجم الكبير للطبراني رقم (2293)
168
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن يونس بن القاسم اليمامي ، أَنَ عكرمةَ بن خالد بن سعيد بن العاص المخزومي ، حدثه أَنَهُ لَقِيَ عبد الله بن عمر بن الخطاب ، فَقَال لَه : يا أبا عبد الرحمن إنا بَنُو المغيرة قومٌ فينَا نَخوَةٌ فَهَل سَمعتَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يقولُ في ذلك شَيئًا ؟ فَقَال له عبد الله بن عمر : سمعتُ رسولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم ، يقولُ: «مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَعَاظَمُ في نفسِه ويَختَالُ في مَشيَتِه إِلَا لَقِي اللهَ وَهُو عَلَيه غَضْبَان».
یونس بن قاسم یمامی سے مروی ہے کہ عکرمہ بن خالد بن سعید بن عاص مخزومی نے اسے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے ملا تو اس نے ان سے کہا : ابو عبدالرحمن! ہم بنو مغیرہ ایسی قوم ہیں جس میں نخوت ہے۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کچھ سنا ہے ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرمارہے تھے جس شخص نے اپنے آپ میں بڑا پن اور اپنی چال میں تکبر اختیار کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غصے ہونگے
Takhreej
الصحيحة رقم (2272)مستدرك الحاكم رقم (188)
169
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، مَرفُوعاً: مَا مِنْ رَجُلَيْنِ تَحَابَّا فِي اللهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلا كَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللهِ أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جن دو آدمیوں نے ایک دوسرے کی غیر موجود گی میں اللہ کے لئے آپس میں محبت کی تو ان میں اللہ کو زیادہ محبوب وہ شخص ہوگا، جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرتا ہوگا
Takhreej
الصحيحة رقم (3273)المعجم الكبير للطبراني رقم (1798)
170
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن أنس ، مرفوعاً: مَا مِن عبدٍ أتى أخاً له يزوره في الله إلَّا نادى منادٍ من السَّمَاء: أنْ طِبْتَ، وَطَابَتْ لك الجنّةُ ، وإلا قال اللهُ في مَلَكُوتِ عَرْشِهِ: عَبْدِي زَارَ فِيَّ وَعليَّ قِراهُ ، فَلَمْ أرضَ له بِقرىً دون الجنّة »
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ جو بندہ اپنے بھائی کے پاس اللہ کے لئے اس کی زیارت کرنے (اس سے ملنے)کے لئے آیا تو آسمان سے ایک منادی آواز لگاتا ہے تم خوش رہو اور تمہیں جنت مبارک ہو۔ ورنہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش کی بادشاہت میں خود فرماتا ہے ۔میرے بندے نے میرے لئے ملاقات کی اور میرے ذمے اس کی مہمان نوازی ہے۔ اور میں جنت کے علاوہ اس کی مہمان نوازی پر راضی نہیں ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2632) مسند أبويعلى رقم (4031)
171
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ مَالِكِ بن مَرْثَدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ مَاذَا يُنَجِّي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : الإِيمَانُ بِاللهِ ، قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللهِ ، إِنَّ مَعَ الإِيمَانِ عَملٌ ، قَالَ : يُرْضِخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا ، لّا يَجِدُ مَا يُرْضَخُ بِهِ ؟ قَالَ : يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَّأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلا يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ قَالَ : يَصْنَعُ لأَخْرَقَ ، قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا ؟ قَالَ : يُعِينُ مَغْلُوبًا ، قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا ، لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَظْلُومًا ؟ فَقَالَ : مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ مِنْ خَيْرٍ؟ یُمْسِكُ الأَذَى عَنِ النَّاسِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلاءِ ، إِلا أَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ.
مالک بن مرثد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ابو ذر‌رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کہا اے اللہ کے رسول! کونسا عمل بندے کو آگ سے نجات دیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا: اللہ پر ایمان ، میں نے کہا: اے اللہ کے نبی کیا ایمان کے ساتھ کوئی عمل بھی ہے؟ آپ نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ نے اسے دیا ہے اس میں سے خرچ کرے میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر وہ فقیر(محتاج) ہو خرچ کرنے کے لئے کوئی چیز نہ پاتا ہو تو پھر آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا: نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔ میں نے کہا اے اللہ کے رسول! اگر وہ کمزور( عاجز) ہو نیکی کا حکم کرنے ،برائی سے منع کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہوپھر آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: کسی نا سمجھ(بے وقوف ) کے لئے کام کرے۔ میں نے کہا: اگر وہ خود نا سمجھ ہو کوئی کام کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو پھر آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: مغلوب (مظلوم) کی مدد کرے۔ میں نے کہا: اگر وہ کمزور ہو کسی مظلوم کی مدد کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو تم اپنے بھائی میں کوئی بھلائی چھوڑوگے بھی؟ تو لوگوں سے تکلیف روک لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب وہ یہ کام کرے گا تو کیا جنت میں داخل ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: جو مسلمان ان میں سے کسی عادت کو اختیار کرتا ہے تو وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (2669)المعجم الكبير للطبراني رقم (1627) شعب الايمان للبيهقي رقم (3176)
172
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أُبَيِّ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ.
ابی بن مالک‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے والدین یا کسی ایک کواپنی زندگی میں پایا اس کے باوجود وہ آگ میں داخل ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی رحمت سے بہت دور کردیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (515) مسند أحمد رقم (18254، 19439)
173
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عن سفيان بن عيينة، عن ابن المنكدر، يَرفَعُه إلى النبي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِن أَفْضَلِ العَمَلِ إِدْخَالُ السُرُورُ عَلى المؤمنِ: تَقضِي عَنه دَينًا ، تَقضِي له حَاجَة ، تَنفس لَه كُربة قال سفيان: وقيل لابن المنكدر: فَمَا بَقِي مما يَستَلِذُّ؟ قَالَ: «الإفضَالُ عَلَى الإِخوَان ».
سفیان بن عیینہ ،ابن المنکدر سے بیان کرتے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک اس روایت کو پہنچاتے ہیں کہ: افضل اعمال میں سے مومن کو خوشی دینا، اس کا قرض ادا کرنا، اس کی ضرورت پوری کرنا، اور اس کی تکلیف دور کرنا ہے۔ سفیان نے کہا کہ ابن المنکدر سے پوچھا گیا : پھر کون سی چیز باقی رہ گئی جس سے وہ لطف حاصل کرے؟ انہوں نے کہا بھائیوں پر فوقیت لے جانا
Takhreej
الصحيحة رقم (2291) شعب الايمان للبيهقي رقم (7416)
174
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بن ثَعْلَبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ :مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ كَاذِبَةٍ كَانَتِ نُكْتَةً سَوْدَاءَ فِي قَلْبِهِ ، لا يُغَيِّرُهَا شَيْءٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
ابو امامہ بن ثعلبہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جس شخص نے کسی مسلمان کا مال جھوٹی قسم کے ذریعے حاصل کیا تو ایک سیاہ نکتہ اس کے دل میں لگ جاتا ہے ۔قیامت تک کوئی چیز اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3364) المعجم الكبير للطبراني رقم (799) مستدرك الحاكم رقم (7909)
175
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرفُوعـاً: مَنْ بَنَى بِنَاءً فَلْيَدْعَـمْهُ حَائِـطَ جَارِهِ. وَفي لَفـظ: مَنْ سَأَلَهُ جَارُهُ أَنْ يَدْعَـمَ عَلَى حَائِطِهِ فَلْيَدَعْهُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ جو شخص کوئی عمارت بنائے تو وہ اپنے پڑوسی کی دیوار کے لئے اسے سہارا بنائے۔ اور ایک روایت میں ہے جس شخص سے اس کے پڑوسی نے اس کی دیوار کے سہارے کے بارے میں سوال کیا تو وہ اسے ایسا کرنے دے
Takhreej
الصحيحة رقم (2947) مسند أحمد رقم (1994، 2621)
176
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عًنِ ابْنَ عُمَرَ عَنِ النّبِي صلی اللہ علیہ وسلم قال: مَنْ تَعَظَّمَ فِي نَفْسِهِ أَوِ اخْتَالَ فِي مِشْيَتِهِ لَقِيَ اللهَ عزوجل وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے آپ کو دل میں بڑا سمجھےیا اپنی چال میں تکبر اختیار کرے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر سخت غصے ہونگے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (543) مسند أحمد رقم (5723)
177
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مَرْفُوعاً: مَنْ تَوَاضَعَ لِلهِ رَفَعَهُ اللهُ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جس شخص نے اللہ کے لئے تواضع اختیار کی اللہ تعالیٰ اسے بلند کر دے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2328) شعب الايمان للبيهقي رقم (7921)
178
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمْ قَالَ مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِي سَبِیْلِ اﷲِ وَفِي رِوَایَۃ: فِي الْإِسْلَامِ کَانَتْ لَہُ نُورًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ رَجُلُ عِنْدَ ذٰلِکَ فَإِنَّ رِجَالًا یَنْتِفُوْنَ الشَّیْبَ؟ فَقَالَ: مَنْ شَائَ فَلْیَنْتِفْ نُوْرَہُ۔
فضالہ بن عبید رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جو شخص اﷲ کے راستے میں (اور ایک روایت میں ہے اسلام کے راستے میں) بوڑھا (سفید بالوں والا) ہوگیا، تو یہ بڑھاپا قیامت کے دن اس کے لئے نور ہوگا، اس وقت ایک آدمی نے کہا: کچھ آدمی سفید بالوں کو نوچ لیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا جو شخص چاہے اپنا نور ختم کرلے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3073)صحيح مسلم كِتَاب الْحَجِّ بَاب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لَأْوَائِهَا رقم (2446،
179
Sahih
اخلاق، نیکی اور صلہ رحمی
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنہ أَنَّ مَوْلَاةً لَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتْ اشْتَدَّ عَلَيَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ قَالَ فَهَلَّا الشَّام أَرْضِ الْمَنْشَرِ وفي التاريخ: المحشر اصْبِرِي لَكَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ. يَعْنِي الْمَدِينَةَ. وَفي لفظ: لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ. .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کی ایک آزاد کر دہ لونڈی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی وقت مجھ پر سخت ہو گیا ہے میں چاہتی ہوں کہ عراق کی طرف نکل جاؤں؟ عبداللہ نے کہا: شام کی طرف کیوں نہیں جو(قیامت کے دن) اٹھنے کی سر زمین ہے(اور التاریخ میں ہے جمع ہونے کی سرزمین) ؟ بے وقوف عورت صبر کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جس نے اس کی شدت اور اس کی مشقت پر صبر کیا میں قیامت کے دن اس کا گواہ یا سفارشی بنوں گا۔ یعنی مدینے کی شدت پر اور ایک روایت میں ہے ، جو شخص اس کی مشقت اور اس کی شدت پر صبر کرے گا تو میں (قیامت کے دن اس کا گواہ یا سفارشی بنوں گا )
Takhreej
الصحيحة رقم (3073)صحيح مسلم كِتَاب الْحَجِّ بَاب التَّرْغِيبِ فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَالصَّبْرِ عَلَى لَأْوَائِهَا رقم (2446،
180
Sahih