عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں کہ منافق کو”میرا سردار“مت کہو، کیونکہ اگر وہ تمہارا سردار ہوگا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا
Takhreej
الصحيحة رقم (371) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب لَا يَقُولُ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي رقم (4325)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کی چادر ہوانے اڑادی تو اس نے ہوا کو لعنت دی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو لعنت نہ دو کیونکہ یہ مامور ہے ، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز کو لعنت دی جس کی وہ اہل نہیں تو لعنت اسی کی طرف لوٹ آئے گی
Takhreej
الصحيحة رقم (893) أبو داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي اللَّعْنِ رقم (4260) الترمذي كِتَاب الْبِرِّ بَاب مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ (1899)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک آدمی کی چادر ہوانے اڑادی تو اس نے ہوا کو لعنت دی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہوا کو لعنت نہ دو کیونکہ یہ مامور ہے ، اور جس شخص نے کسی ایسی چیز کو لعنت دی جس کی وہ اہل نہیں تو لعنت اسی کی طرف لوٹ آئے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (528) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي اللَّعْنِ رقم (4262)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَال: قِيْل لِلنَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانَةَ تَقُوم اللَّيل وَتَصُوم النَّهَار، وَتفعَل، وَتصدق، وتُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَا خَيْرَ فِيْهَا هِيَ مِنْ أَهْلِ النَّار، قال: وَفُلَانَةَ تصلي المَكْتُوبَة، تُصَدِّقُ بِأَثْوَارِ (مِّنْ الْأَقِطِ) وَلَا تُؤْذِي أَحْدًا ، فَقَال رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : « هِيَ مِنْ أَهلِ الجَنَّة ».
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا اے اللہ کے رسول فلاں عورت رات کو قیام کرتی ہے اور دن کو روزہ رکھتی ہے کام بھی کرتی ہے اور صدقہ بھی کرتی ہے ، لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو تکلیف دیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں وہ دوزخی ہے ۔ اس نے کہا: اور فلاں عورت صرف فرض نمازیں پڑھتی ہےاور(پنیر)کےٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے کسی بھی شخص کو تکلیف نہیں پہنچاتی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جنتی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (190) مسند أحمد رقم (9298) واللفظ للمستدرك الحاكم رقم (7413) وشعب الإيمان للبيهقي رقم (9223)
ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے کیونکہ یہ دونوں جب تک اپنے حرام کام پر رہیں گےحق سے بھٹکے رہیں گے ان میں جو شخص رجوع کرنے میں سبقت کرتا ہے اس کا سبقت کرنا اس کے لئے کفارہ ہے اگر وہ سلام کہے اور دوسرا شخص اس کو جواب نہ دے تو فرشتے اسے جواب دیتے ہیں جبکہ دوسرے شخص کو شیطان جواب دیتا ہےاگر وہ اسی قطع تعلقی پر فوت ہوجائیں تو کبھی بھی جنت میں جمع نہ ہوں گے
عَنْ مُحَمَّدِ بن سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِّيَقُلْ: حَرَثْتُ قال محمدٌ: قَالَ أبو هريرة : أَلَمْ تَسْمَعُوا إلىٰ قَولِ اللهِ تَباركَ وتَعالىٰ : اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَہٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ ﴿۶۴﴾ .(الواقعة)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں نےاگایاہے بلکہ یہ کہوکہ میں نےکاشت کیاہے، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اللہ عزوجل کا یہ فرمان نہیں سنا: ﴿(الواقعة۶۳،۶۴﴾ ۔ ترجمہ:”اچھا پھر یہ بھی بتلاؤ کہ تم جو کچھ بوتے ہواسے تم ہی اگاتے ہو یا ہم ہی اگانے والے ہیں؟“
Takhreej
الصحيحة رقم (2801) المعجم للطبراني رقم (1157) صحيح ابن حبان كتاب الحظر والإباحة باب ما يكره من الكلام ...(5816)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ کوئی شخص ہر گز یہ نہ کہے کہ میرا (غلام)، کیونکہ تم سب اللہ کے بندے ہو، لیکن یہ کہہ سکتے ہو میرا جوان(میراخادم) اور غلام یہ نہ کہے کہ میرا رب(مالک) بلکہ وہ کہے ، میرا سردار
Takhreej
الصحيحة رقم (803) صحيح مسلم الْأَلْفَاظِ مِنْ الْأَدَبِ وَغَيْرِهَا بَاب حُكْمِ إِطْلَاقِ لَفْظَةِ الْعَبْدِ وَالْأَمَةِ وَالْمَوْلَى وَالسَّيِّدِ رقم (4178)
عبداللہ بن سلام نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینے آئے تو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لئےبھاگتے ہوئے آئے کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں(تین مرتبہ)میں بھی دیکھنے کے لئے آیا۔ جب ان کا چہرہ واضح ہوا تو میں نے کہا یہ کسی جھوٹےشخص کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔پہلی بات جو میں نے آپ سے سنی آپ فرما رہےتھے ،اے لوگو!سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتے داریاں ملاؤ، رات کو نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں، تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (569) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ (2409) ابن ماجةكِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب إِطْعَامُ الطَّعَامِ (1324،)
عن ابن عمر رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَقْبَلَ مِنْ غَزْوَةٍ فَقَالَ: يَاأَيّهَا النَّاسُ لَا تَطْرُقُوا النِّسَاءَ لَيْلًا وَلَا تغْتَرُّوهنَّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوے سے واپس آرہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (جب سفر سے سے واپس آؤ تو) رات کے وقت بیویوں کے پاس نہ آؤ اور نہ بے خبری میں بغیر بتائے آؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (3085) مصنف عبدالرزاق رقم (14016) مساوي الأخلاق للخرائطي رقم (803)
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک آدمی نے اندر آنے کی اجازت مانگی میں آپ کے پاس تھی۔ آپ نے فرمایا: یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے۔ پھر اسے اجازت دے دی اور نرمی سے باتیں کرنے لگے ۔ جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا : اے اللہ کے رسول! آپ نے اس کے بارے میں یہ باتیں کہیں، پھر اس سے نرمی سے باتیں کرنے لگ گئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اےعائشہ ! لوگوں میں بد ترین وہ شخص ہے جسے لوگ اس کی بد کلامی کی وجہ سے چھوڑ دیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1049) صحيح البخاري كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا يَجُوزُ مِنْ اغْتِيَابِ أَهْلِ الْفَسَادِ وَالرِّيَبِ رقم (5594، 5666)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مرفوعا مروی ہے کہ : اے عائشہ ! بد کلامی سے بچو، بد کلامی سے بچو، کیونکہ اگر بدکلامی کسی آدمی کی صورت میں ہوتی تو انتہائی بری صورت میں ہوتی