ابو درداءرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب دو مسلمان ساتھ ساتھ چل رہے ہوں اور ان دونوں کے درمیان کوئی درخت، پتھر یا دیوار(چٹان) آجائے(جب اس سے گذر ہو جائےپھر ملیں) تو ایک دوسرے کو سلام کہیں اور سلام کا تبادلہ کریں
مصعب بن شیبہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں : جب تم میں سے کوئی شخص مجلس میں آئے اور اسے جگہ دے دی جائے تو وہ بیٹھ جائے ۔وگرنہ وہ کوئی کھلی جگہ دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1321) المعجم الكبير للطبراني رقم (7047) شعب الايمان للبيهقي رقم (8020)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کوئی شخص مجلس میں آئے تو سلام کہے اور جب کھڑے ہونے کا ارادہ کرے تو سلام کہے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سلام سے زیادہ افضل نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (183) سنن أبي داؤد كِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي السَّلَامِ إِذَا قَامَ مِنْ الْمَجْلِسِ رقم (4532)
سعید مقبری سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ان کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا کوئی بات کر رہا تھا میں ان دونوں کے پاس آیا تو ابن عمر نے میرے سینے پر تھپڑ مارا اور کہا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب دو آدمی سر گوشی کر رہے ہوں تو ان سے اجازت لئے بغیر ان کے پاس نہ بیٹھو
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر کھنگار دیکھا تو ایک پتھر لے کر اسے کھرچ دیا، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کھنگارے تو وہ اپنے سامنے اور دائیں طرف نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف تھوکے یا اپنے بائیں قدم کے نیچے
Takhreej
الصحيحة رقم (1274) صحيح البخاري كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب حَكِّ الْمُخَاطِ بِالْحَصَى مِنْ الْمَسْجِدِ رقم (393)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جو اسے پسند ہو تو وہ اس کا ذکر کرے اور اس کی تعبیر بتائے اور جب کوئی ایسا خواب دیکھے جو اسے برا لگے تو نہ تو اس کا ذکر کرے اور نہ اس کی تعبیر بیان کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (1340) ابن عبد البر في التمهيد (1/ 287- 288)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص ایساخواب دیکھے جو اسے برالگے تو وہ اپنا پہلو بدل لے اور اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوکے، اللہ سے اس کی بھلائی کا سوال کرے اور اس کے شر سے پناہ مانگے
Takhreej
الصحيحة رقم (1311) سنن ابن ماجة كِتَاب تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَاب مَنْ رَأَى رُؤْيَا يَكْرَهُهَا رقم (3900)
عَن ابن عُمر قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم :إِذَا زَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَجَلسَ عِندَه فَلَا يَقُومَن حَتى يَستَأَذنَه.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے اور اس کے پاس بیٹھے تو اجازت لینے سے پہلے وہاں سے کھڑا نہ ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (182) طبقات المحدثين للأصبهاني رقم (360)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ مسلمان اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے تو وہ کھالے اور اس سے اس کھانے کے متعلق سوال نہ کرے، اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو پی لے اور اس سے اس کے متعلق سوال نہ کرے
Takhreej
الصحيحة رقم (627) مسند أحمد رقم (8818) المعجم الكبير للطبراني رقم (79، 522)
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ. ورد من حدیث المقداد بن الاسود و عبداللہ بن عمرو ابی ھریرۃ و عبادۃ بن الثابت رضی اللہ عنھم۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم خوشامد کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی پھینکو
Takhreej
الصحيحة رقم (912) صحيح مسلم كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ بَاب النَّهْيِ عَنْ الْمَدْحِ رقم (5323)
مالک بن یسار سکونی عوفی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم اللہ سے مانگو تو اپنی ہتھیلیوں کا رخ آسمان کی طرف کر کے مانگو اور اس سے ہتھیلیوں کی پشت کے رخ پر نہ مانگو
Takhreej
الصحيحة رقم (595) سنن أبي داؤد كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب الدُّعَاءِ رقم (1271)
عن جابر بن عبد الله قال : سمعت رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يقول : « إِذَا سَمِعْتُم نُبَاح الْكَلب بِاللَّيْل أَو نُهَاق الْحَمِير فَتَعَوَّذُوا بِالله ؛ فَإِنَّهُم يَرَوْن مَا لَا تَرَوْن . وَأقِلُّوا الْخُرُوج إِذَا هَدَأت الرِّجُلُ ؛ فَإِن الله يَبُثُّ فِي لَيْلَه مِن خَلقِه مَا يَشَاء . وَأَجِيفُوا الْأَبْوَاب وَاذْكُرُوا اسْمَ الله عَلَيْهَا ؛ فَإِن الشَّيْطَان لَا يَفْتَح بَابًا أجِيف وَذُكرَ اسْمُ الله عَليه . وَغَطُّوا الْجِرَارَ واكفئُوا الْآنِيَة وَأَوْكُوا الْقُرُب».
جابر بن عبداللہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے جب تم رات کے وقت کتے بھونکنے یا گدھے کے ہنہنانے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ ایسی مخلوق دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے اور جب پاؤں پرسکون ہوجائیں تو باہر کم ہی نلوَ کیونکہ رات کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے۔ بسم اللہ پڑھ کر دروازے بند کر دو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا جسے بسم اللہ پڑھ کر بند کیاگیا ہو، مٹکے اور برتن ڈھانپ دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ بند کردیا کرو
Takhreej
الصحيحة رقم (3184) مسند أبي يعلى رقم (2273) مسند عبد بن حميد رقم (1160)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم میں سے کسی کا خادم کھانا بنائے جس کی گرمی اور مشقت اس نے برداشت کی ہے تو وہ اسے بلائے اور اپنے ساتھ کھانا کھلائے اور اگر نہ بلائے تو اسے اس کھانے میں سے کچھ نہ کچھ دے دے۔
ابو بردہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ میں ابو موسیٰ کے پاس ام فضل کی بیٹی کے گھر آیا، مجھے چھینک آئی تو انہوں نے جواب نہیں دیا۔ جب اسے (ام فضل کو)چھینک آئی تو اسے جواب دےدیا۔ میں اپنی والدہ کے پاس آیااور انہیں بتایا، پھر جب ابو موسیٰ آئے تو میری والدہ نے کہا : تمہارے پاس میرے بیٹے نے چھینک ماری تو تم نے اسے جواب نہیں دیا جبکہ اس نے (ام فضل کی بیٹی نے) چھینک ماری تو اسے جواب دے دیا؟ ابو موسیٰ نے کہا: تمہارے بیٹے نے چھینک ماری لیکن الحمد اللہ نہیں کہا تو میں نے اسے جواب نہیں دیا، اور اس نے چھینک ماری تو اس نے الحمدللہ کہا اس لئے میں نے اسے جواب دے دیا۔ اور میں نےر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مار کر الحمدللہ کہے تو اسے جواب دو اور اگر الحمدللہ نہ کہے تو اسے جواب نہ دو۔ میری والدہ نے کہا: تم نے اچھا کیا، تم نے اچھا کیا
Takhreej
الصحيحة رقم (394) صحيح مسلم كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ بَاب تَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَكَرَاهَةِ التَّثَاؤُبِ رقم (5308)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے تو اس کے پاس بیٹھنے والا اسے جواب دے (یرحمک اللہ کہے) اگر وہ تین مرتبہ سے زیادہ چھینک مارے تو اسے زکام ہے اس کے بعد اسے جواب نہ دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1330) عمل اليوم والليلة لابن السني رقم (250)
عَن عبد الله بن بُرَيْدَة ، عن أَبِيه مرفوعا: إِذَا قَالَ الرَجُل لِلْمُنَافِق يَا سَيِّد فَقَد أَغْضَب رَبَّه تَبَارَك وتعالى.
عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سے مرفوعا بیان کرتے ہیں : جب کوئی آدمی کسی منافق سے کہتا ہے اے سردار( یا اے محترم) تو وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَّجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے اور پھر واپس آئے تو وہ اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3975) صحيح مسلم كِتَاب السَّلَامِ بَاب إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ عَادَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ رقم (4047)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا قُلْتَ لِلنَّاسِ أَنْصِتُوا وَهُمْ يَتَكَلَّمُونَ فَقَدْ أَلْغَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ (يعني يوم الجمعة).
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب (دوران خطبہ) لوگ باتیں کر رہے ہوں اور تم ان سے کہو خاموش ہو جاؤ، تو تم نے بھی لغو کام کیا (یعنی جمعے کے دن)۔