TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عَنْ فَرْوَةَ بْنِ مُجَاهِدٍ اللَّخْمِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ! صِلْ مَنْ قَطَعَكَ وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ! أَمْلِكْ عَلَیْکَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعَكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ ثُمَّ لَقِيتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ لِي: يَا عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ! أَلَا أُعَلِّمُكَ سُوَرًا مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهُنَّ؟ لَا يَأْتِيَنَّ عَلَيْكَ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتَهُنَّ فِيهَا قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ الۡفَلَقِ ۙ﴿۱﴾ قُلۡ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ ۙ﴿۱﴾ قَالَ عُقْبَةُ فَمَا أَتَتْ عَلَيَّ لَيْلَةٌ إِلَّا قَرَأْتُهُنَّ فِيهَا وَحُقَّ لِي أَنْ لَّا أَدَعَهُنَّ وَقَدْ أَمَرَنِي بِهِنَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَكَانَ فَرْوَةُ بْنُ مُجَاهِدٍ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ أَلَا فَرُبَّ مَنْ لَا يَمْلِكُ لِسَانَهُ أَوْ لَا يَبْكِي عَلَى خَطِيئَتِهِ وَلَا يَسَعُهُ بَيْتُهُ.
عقبہ بن عامر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا: عقبہ بن عامر! جو تم سے قطع تعلقی کرے اس سے صلہ رحمی کرو، جو تجھے محروم کرے اسے دیا کرو، جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کیا کرو۔ عقبہ نے کہا: میں دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھےکہا: عقبہ بن عامر! اپنی زبان کو قابو میں رکھو،اور اپنی خطا پر رویا کرو،اور تمہارے لئے تمہارا گھر ہی کافی ہو۔پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا :عقبہ بن عامر! کیا میں تمہیں ایسی سورتیں نہ سکھاؤں جن کی مثل تورات و انجیل اور زبور میں بھی نازل نہیں ہوئیں؟ اور نہ فرقان میں ان جیسی سورتیں ہیں؟ ہر رات انہیں پڑھا کرو الاخلاص ، الفلق ، الناس ۔عقبہ نے کہا: ہر رات میں انہیں پڑھا کرتا تھا۔ اور میرے لئے مناسب ہے کہ میں انہیں نہ چھوڑوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کا حکم دیا ہے ۔ فروہ بن مجاہد جب یہ حدیث بیان کرتے تو کہتے : خبردار کتنے ہی ایسے آدمی ہیں جو اپنی زبان کے مالک نہیں، یا وہ اپنی خطاپر نہیں روتے اور نہ ان کا گھر ان کے لئے کافی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (891) مسند أحمد رقم (16810)
465
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أبي هريرة مَوقُوفاً:يُبْصِر أَحَدكُم الْقذَاةَ في عَيْنِ أَخِيهِ، ويَنْسَى الْجَذَع-أَو الجِذلَ- في عَيْنه مُعْتَرِضًا
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ: تم میں سے ہرشخص اپنے بھائی کی آنکھ میں تنکا دیکھتا ہے لیکن اپنی آنکھ میں پڑا شہتیر بھی نہیں دیکھتا
Takhreej
الصحيحة رقم (33) صحيح ابن حبان رقم (5855) شعب الإيمان للبيهقي رقم (6489)
466
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَخْرُجُ عُنُقٌ مِّنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ وَأُذُنَانِ تَسْمَعَانِ وَلِسَانٌ يَّنْطِقُ يَقُولُ: إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ وَبِكُلِّ مَنْ دَعَا مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَ بِالْمُصَوِّرِينَ
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کی دو آنکھیں ہوں گی اور دو کان ہوں گےاور بولتی ہوئی زبان ہو گی وہ کہے گی مجھے تین آدمیوں پر مقررکیا گیا ہے: ہر ظالم سر کش شخص پر، اس شخص پرجو اللہ کے علاوہ کسی اور الٰہ کو پکارا کرتا تھا اور تصویریں بنانے والے پر
Takhreej
الصحيحة رقم (512) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ جَهَنَّمَ بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ النَّارِ رقم (2497)
467
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَإِذَا سَلَّمَ مِنَ الْقَوْمِ أحدٌ أَجْزَأَ عَنْهُمْ.
زید بن اسلم‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کہے، اور جب کسی قوم میں سے کوئی شخص سلام کہتا ہے تو وہ ان سب کی طرف سے کافی ہو جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1148) مؤطا امام مالك كِتَاب الْجَامِعِ بَاب الْعَمَلِ فِي السَّلَامِ رقم (1512)
468
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ وَمَنْ لَّمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ.
عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : سوار پیدل چلنے والے کو سلام کہے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کہے، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں، جس شخص نے سلام کا جواب دیا اس کے لئے اجر ہے اور جس شخص نے سلام کا جواب نہیں دیا اس کے لئے کوئی اجر نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1147) مسند أحمد رقم (15113)
469
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَرفُوعاً: يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ سوار شخص پیدل چلنے والے کو سلام کہے ،اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرے، اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1145) صحيح البخاري كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي (5764) صحيح مسلم رقم (4019)
470
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن جابر موقوفا: يُسَلَّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي، وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ، والمَاشِيانِ أَيَّهُمَا يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ فَهُو أَفْضَل
جابر‌رضی اللہ عنہ سے موقوفا مروی ہے کہ: سوار شخص پیدل چلنے والے کو سلام کہے، پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کہے، اور دو پیدل چلنے والوں میں جو سلام میں پہل کرے وہ افضل ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1146) صحيح ابن حبان كتاب البر والإحسان باب إفشاء السلام وإطعام الطعام رقم (499)
471
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرفُوعاً: يُسَلِّمُ الصَّغِيرُ عَلَى الْكَبِيرِ وَالْمَارُّ عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : چھوٹا بڑے کو سلام کہے ،گزرنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کہے اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1149) صحيح البخاري كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب تَسْلِيمِ الْقَلِيلِ عَلَى الْكَثِيرِ رقم (5763)
472
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ مَرفُوعاً: يُسَلِّمُ الْفَارِسُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.
فضالہ بن عبید‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ گھڑ سوا رپیدل چلنے والے کو سلام کہے اور پیدل چلنے والا بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کہے اور تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1150) سنن الترمذي كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ وَالْآدَابِ بَاب مَا جَاءَ فِي تَسْلِيمِ الرَّاكِبِ عَلَى الْمَاشِي رقم (2629)
473
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي ھُرَیْرَۃَ مَرْفُوْعًا: یَضْحَکَ اﷲُ إِلٰی رَجُلَیْنِ یَقْتُلُ أَحَدُھُمَا الْآخَرَ کِلَاھُمَا فِي الْجَنَّۃَ یُقَاتِلُ ھٰذَا فِي سَبِیْلِ اﷲِ عَزَّ وَجَلَّ فَیُسْتَشْھَدُ ثُمَّ یَتُوْبُ اﷲُ عَلَی الْقَاتِلِ فَیُسْلِمُ فَیَقَاتِلُ فِي سَبِیْلِ اﷲِ عَزَّ وَجَلَّ فَیُسْتَشْھَدُ۔
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے۔ ان میں سے ایک شخص دوسرے کو قتل کر دیتا ہے دونوں جنت میں جائیں گے۔ پہلا مقتول اللہ کے راستے میں قتال کرتا ہے اور شہید ہوجاتا ہے ، پھر اللہ تعالٰی قاتل کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہ مسلمان ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ اللہ کے راستے میں قتال کرتا ہوا شہید ہو جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1074) البخاري كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ بَاب الْكَافِرِ يَقْتُلُ الْمُسْلِمَ ثُمَّ يُسْلِمُ... (2614) صحيح مسلم (3504)
474
Sahih