TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان - Book 2 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 2 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 270 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

270 Hadith · 1 Chapters
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِطَّلَعَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَهُوَ يمد لِسَانَهُ فَقَالَ: ما تصنع يا خَلِيْفَةَ رَسُوْلِ الله ؟ فَقَالَ: هَذَا أَوْرَدَنِيَ الْمَوَارِدَ، إِن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : لَيْس شَيْء مِّنَ الْجَسَدِ إِلَا يَشْكُوْ إلى الله اللِّسَان عَلَى حِدَّتِه
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ ابو بکر‌رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔وہ اپنی زبان کھینچ رہے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے خلیفۂ رسول آپ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس نے مجھے ہلاکت کی جگہوں میں لاپھینکا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو اللہ تعالیٰ سے زبان کی تیزی کی شکایت نہ کرتی ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (535) مؤطا كِتَاب الْجَامِعِ بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُخَافُ مِنْ اللِّسَانِ رقم (1567) شعب الإيمان للبيهقي رقم (4741)
385
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أبي هريرة ، مرفوعا : « لَيْس لِلنِّسَاء وَسَطُ الطَّرِيقِ ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ عورتوں کے لئے راستے کادرمیانی حصہ نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (856) صحيح ابن حبان كتاب الحظر والإباحة ذكر...رقم (5692) شعب الإيمان للبيهقي رقم (7577)
386
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَشْبَعُ وَجَارُهُ جَائِعٌ إِلَى جَنْبِه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ مومن نہیں جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی بھوکا رہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (149) المعجم الكبير للطبراني رقم (12573) مسند أبي يعلى رقم (2638)
387
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا بِاللَّعَّانِ وَلَا بِالْفَاحِشِ وَلَا بِالْبَذِيءِ.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن بہت زیادہ لعنت کرنے والا ،طعنہ دینے والا، بدزبان اور بد کلام نہیں ہوتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (320) سنن الترمذي كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي اللَّعْنَةِ رقم (1900)
388
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: سَمعِتُ النَّبِيّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُول: لِيُسَلِّمِ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ وَليُسَلِّمِ الرَّاجِلُ عَلَى الْقَائِد وَليُسَلِّمِ الْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ فَهُوَ لَهُ وَمَنْ لَّمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ.
عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوار پیدل چلنے والے کو سلام کہے ، پیدل چلنے والا بیٹھےہوئے شخص کو سلام کہے، تھوڑے لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کہیں جس نے سلام کا جواب دیا اس کا اجر اس کے لئے ہے اورجس شخص نے جواب نہ دیا اس کے لئے کوئی اجر نہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2199) مسند أحمد رقم (15113)
389
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي كَرِيمَةَ الشَّامِيِّ مَرفُوعاً: لَيْلَةُ الضَّيْفِ حَقٌّ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَمَنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ إِنْ شَاءَ اقْتَضَى وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ.
ابو کریمہ شامی سے مرفوعا مروی ہے کہ :ایک رات مہمان نوازی کرنامہمان کا ہر مسلمان پرحق ہےتوجو شخص میربان کے صحن میں صبح بھی کرلے (یعنی رات گذارے) تووہ اس میزبان پر قرض ہے وہ مہمان اگر چاہےتو اس کا مطالبہ کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2204) أبو داؤدكِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الضِّيَافَةِ (3258) ابن ماجة كِتَاب الْأَدَبِ بَاب حَقِّ الضَّيْفِ (3667)
390
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذَهَبْتُ أَحْكِي امْرَأَةً وَّ رَجُلًا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا أُحِبُّ أَنِّي حَكَيْتُ أَحَدًا وَأَنَّ لِي كَذَا وَكَذَا
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کسی مرد یا عورت کی نقل اتارنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میرے لئے اتنا اور اتنا (خزانہ)بھی ہو تو مجھے پسند نہیں کہ میں کسی کی نقل اتاروں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (901) سنن الترمذي كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ وَالْوَرَعِ بَاب مِنْهُ رقم (2427) مسند أحمد رقم (23816)
391
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ مَرفُوعاً: مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلهِ إِلَّا أَكْرَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے جو بندہ کسی بندے سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے معزز بنا دیتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1256) مسند أحمد رقم (21200) شعب الإيمان للبيهقي رقم (8727)
392
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أنس مرفوعا: « مَا تَحَابَّ رَجُلَان فِي اللهِ إِلَا كَان أَحَبُّهُمَا إِلى اللهِ عَزّ وَجَل أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ : جودو شخص اللہ کے لئے آپس میں محبت کرتے ہیں تو اللہ کو زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت کرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (450) المعجم الأوسط للطبراني رقم (3009)
393
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَا رُئِيَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَهُ رَجُلَانِ.
عبداللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھاتے نہیں دیکھا گیا، اور نہ ہی کبھی آپ کے پیچھے دو آدمی چلتے دیکھے گئے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2104) أبو داؤد كِتَاب الْأَطْعِمَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مُتَّكِئًا (3278) ابن ماجة الْمُقَدِّمَةِ رقم (240)
394
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أبي هريرة ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مرفوعاً: « مَا رُزِقَ عَبْدٌ خَيْرًا لَّه وَلَا أوسَعَ مِنَ الصَّبْرِ».
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ :بندے کو جتنی بھی چیزیں دی گئی ہیں ان میں صبر سے بہتر اور وسعت والی کوئی چیز نہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (448) مستدرك الحاكم كتاب التفسير تفسير سورة السجدة رقم (3511)
395
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَنَسِ قَالَ: مَا كَانَ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ رُؤْيَةً مِّنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهِيَتِهِ لِذَلِكَ
انس‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صحابہ کے نزدیک دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص دیکھنے کے اعتبار سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ صحابہ جب آپ کو دیکھتے تو کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ اس بات کو نا پسند کرتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (358) سنن الترمذي كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ رقم (2678)
396
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
) عن أُسَامَةَ بن شَريكٍ ، مَرفُوعاً : « مَا كَرِهَتَ أَن يَّرَاهُ النَّاسُ فَلَا تَفْعَلْهُ إِذَا خَلَوْتَ »
اسامہ بن شریک‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: جس بات کو تو ناپسند کرے کہ لوگ اسے دیکھیں وہ کام تو تنہائی میں بھی نہ کر۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1055) صحيح ابن حبان رقم (404)
397
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ شُرَحْبِيلِ بْن مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ أَنَّ رَوْحَ بْنَ زِنْبَاعٍ زَارَ تَمِيمًا الدَّارِيَّ فَوَجَدَهُ يُنَقِّي شَعِيْرًا لِّفَرَسِهِ قَالَ: وَحَوْلَهُ أَهْلُهُ فَقَالَ لَهُ: رَوْحٌ أَمَا كَانَ فِي هَؤُلَاءِ مَنْ يَّكْفِيكَ؟ قَالَ تَمِيمٌ: بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: مَا مِنِ امْرِئٍ مُّسْلِمٍ يُّنَقِّي لِفَرَسِهِ شَعِيرًا ثُمَّ يُعَلِّقُهُ عَلَيْهِ إِلَّا كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ حَبَّةٍ حَسَنَةٌ.
شرحبیل بن مسلم خولانی سے مروی ہے کہ روح بن زنباع نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے آئے۔ تو انہیں اپنے گھوڑے کے لئے جوصاف کرتے دیکھا اور ان کے گرد ان کے گھر والے تھے ۔ روح نے ان سے کہا: کیا ان میں کوئی ایسا نہیں جو آپ کا کام کر دے؟ تمیم رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے ، جو بھی مسلمان اپنے گھوڑے کے لئے جَو صاف کرے پھر انہیں کھانے کے لئے لٹکادے تو اس کے ہر دانے کے بدلے ایک نیکی لکھی جائے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2269) مسند أحمد رقم (16343) مسند الشامين للطبراني رقم (537)
398
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا مِنْ مُّسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَّفْتَرِقَا.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو الگ ہونے سے پہلے ان دونوں کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة (525) أبو داؤدكِتَاب الْأَدَبِ بَابٌ فِي الْمُصَافَحَةِ (4536) الترمذي كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُصَافَحَةِ (2651)
399
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ مَرفُوعاً: مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى
نعمان بن بشیر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : محبت، رحمدلی اور شفقت کے اعتبار سے مؤمنوں کی مثال ان کی محبت رحمدلی اور شفقت میں ایک جسم کی مانند ہے، جب بھی کوئی عضو تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے تو سارا جسم درد اور بخار کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (1083) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَرَاحُمِ الْمُؤْمِنِينَ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَعَاضُدِهِمْ رقم (4685)
400
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعْنَتُهُمْ . روی مِنْ حَدِیْثِ قَتَادَۃَ عَنْ اَبِی الطُّفَیْلِ عن حُذَیفَۃ بْنِ اُسَیْدٍ مرفوعا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مسلمانوں کو ان کے راستوں میں تکلیف دی تو اس پر ان کی لعنت واجب ہوگئی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2294) المعجم الكبير للطبراني رقم (2978)
401
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَنْ أُبْلِيَ بَلَاءً فَذَكَرَهُ فَقَدْ شَكَرَهُ وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی نعمت دی گئی اس نے اس کا ذکر کیا تو اس نے اس نعمت کا شکر ادا کیا اور اگر اس نے اسے چھپایا تو اس نے اس کا کی ناشکری کی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (618) سنن أبي داؤدكِتَاب الْأَدَبِ بَاب فِي شُكْرِ الْمَعْرُوفِ رقم (4180)
402
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، قَالَ: دَخَلَ مُعَاوِيَةُ بَيْتًا فِيه عَبْدُ اللهِ بن الزُّبَيْر وَ عَبْدُ اللهِ بن عَامِرٍ فَقَامَ ابن عَامِر وَثَبَتَ ابنُ الزُّبَيْر وَكَانَ أَدْرَبَهُمَا فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: اِجْلِسْ يَا ابنَ عَامِر فَإنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، يَقُولُ: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَّتَمَثَّلَ لَهُ النَّاسُ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ .
ابو مجلز نے کہا کہ معاویہ‌رضی اللہ عنہ ایک گھر میں داخل ہوئے اس میں عبداللہ بن زبیر اور عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہم تھے، عبداللہ بن عامر کھڑے ہوگئے جب کہ عبداللہ بن زبیر بیٹھے رہے وہ دونوں سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار تھے۔معاویہ نے کہا: ابن عامر بیٹھے رہو، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے :جو شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کے لئے مجسمے کی طرح کھڑے ہو جائیں تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (357) سنن الترمذي كِتَاب الْأَدَبِ بَاب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ قِيَامِ الرَّجُلِ لِلرَّجُلِ رقم (2679)
403
Sahih
ادب اور اجازت طلب کرنے کا بیان
عن أبي بُردَة ، قال : قَدمتُ الْمَدِيَنَةَ ، فَأَتَانِي عبدُ الله بنُ عُمرَ ، فَقَالَ : أَتَدْرِي لِمَ أَتَيْتُكَ ؟ ، قالَ : قُلْتُ : لَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌، يَقولُ : « من أَحَبّ أَن يَّصِلَ أَبَاهُ في قَبْرَهِ ، فَلْيَصِلْ إِخْوَانَ أَبِيه بَعْدَهُ » وَإِنَّه كَان بَيْنَ أبي عُمرَ وَبَيْنَ أَبِيكَ إِخَاءٌ وَّوُدٌّ ، فَأَحْبَبْتُ أَن أَصِلَ ذَلكَ
ابو بردہ سے مروی ہے کہتے ہیں کہ میں مدینے آیا تو میرے پاس عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آئے اور کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟ میں نے کہا: نہیں، عبداللہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے : جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے والد سے اس کی قبر میں صلہ رحمی کرے تو وہ اپنے والد کے دوستوں سے اس کے مرنے کے بعد ملتا رہے۔ میرےوالد عمر رضی اللہ عنہ اور آپ کے والد کے درمیان مواخاۃ(بھائی چارہ) اور محبت تھی اس لئے میں نے پسند کیا کہ میں اس صلہ رحمی کو قائم رکھوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1432) مسند أبي يعلى رقم (5538) صحيح ابن حبان كتاب البر والإحسان باب حق الوالدين رقم (433)
404
Sahih