TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 553 - اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Silsila Sahih in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 79 of 315 in this chapter
اذان اور نماز كا بیان
عن طَلْحَة بن عُبَيْد الله ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَن رَجُلَيْن من بَلِيً وَهو حَيٌّ مَّنْ قُضَاعَة، قُتِل أَحَدُهُمَا في سَبِيْلِ الله، وَأُخِّر الْآخَر بَعْدَه سَنَة، ثم مَات. قال طَلْحَة: فَرَأَيْتُ في الْمَنَام الْجَنَّةَ فُتِحَتْ، فَرَأَيْتُ الْآخَر مِنَ الرَّجُلَيْن دَخَلَ الْجَنَّة قَبْل الْاَوَّلِ فَتَعَجَّبْتُ، فَلَمَّا أَصْبَحَتُ ذَكَرَتُ ذَلِك، فَبَلَغَت رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال لي رَسُـول الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَيْـس قَد صَام بَعْدَه رَمَضَان؟ وَصَلَّى بَعْدَه سِتَّةَ رَكْعَةٍ، وَكَذَا وَكَذَا رَكْعَةٍ لِصَلَاةِ اٰلَافِ السَّنَہِ
طلحہ بن عبیداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ بلی جو كہ قضاعہ كا ایك قبیلہ تھا، كے دو آدمی تھے، ان میں سے ایك اللہ كے راستے میں قتل كر دیا گیا، جبكہ دوسرا شخص اس كے ایك سال فوت ہوا، طلحہ نے كہا كہ: میں نے خواب میں جنت كو دیكھا کہ جنت كا دروازہ كھول دیا گیا ہے۔ میں نے دوسرے شخص كو دیكھا كہ وہ پہلےشخص سے پہلےجنت میں داخل ہو رہا ہے۔مجھے تعجب ہوا، جب صبح ہوئی تو مجھے یہ خواب یاد آیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات كا تذكرہ كیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كہا: كیا اس نے اس كے بعد رمضان كے روزے نہیں ركھے؟ اور اس كے بعد چھ ہزار ركعات ادا نہیں كیں ، اور سال کی اتنی اتنی ركعتیں ؟
553
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Conclusion
تخریج
الصحيحة رقم (2591) مشكل الآثار للطحاوي رقم (1914) .

Related Chapters

1,484
1
Chapter: What Has Been Related About One Who Heard the Call (to Prayer) But Did Not Respond To It
باب: جو اذان سنے اور نماز میں حاضر نہ ہو اس کی شناعت کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: [What Has Been Related] About The Salat For The Two Eid Is Without An Adhan Nor An Iqamah
باب: عیدین کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ہے
Jam e Tirmazi
3
کافروں کے ساتھ لڑائی کی مصروفیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنے، نمازِ خوف کی وجہ سے اس رخصت کے منسوخ ہو جانے، فوت شدہ نمازوں کو بالترتیب ادا کرنے، پہلی نماز کے لیے اذان اور اقامت کہنے اور باقی ہر فوت شدہ نماز کے لیے صرف اقامت کہنے کا بیان
Musnad Ahmad
4
خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز عید کے دو رکعت کے ہونے کا اور عیدگاہ میں امام کے سامنے سترہ رکھنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
اذان کی مشروعیت اور حضر کی نماز میں دو رکعت کے اضافے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(35) CHAPTER. The Adhan for the Salat (prayer) after its stated time is over.
وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھتے وقت اذان دینا
Sahih Bukhari
7
(16) CHAPTER. Between every two calls (Adhan and Iqama) there is a Salat (prayer) (that is optional), for the one who wants to offer it.
ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں جو کوئی چاہے ( نفل ) نماز پڑھ سکتا ہے
Sahih Bukhari
8
(18) CHAPTER. If there are many travellers, Adhan and Iqama should be pronounced, (the same is to be observed) in Arafat and Al-Muzdalifa too.
اگر کئی مسافر ہوں تو نماز کے لیے اذان دیں اور تکبیر بھی کہیں اور عرفات اور مزدلفہ میں بھی ایسا ہی کریں
Sahih Bukhari
9
(7) CHAPTER. Walking and riding for the Eid prayer. The Eid prayer is offered before delivering the Khutba (religious talk) and there is no Adhan or Iqama for it.
نمازعید کے لیے پیدل یا سوار ہو کر جانا اور نماز کا خطبہ سے پہلے اذان اور اقامت کے بغیر ہونا
Sahih Bukhari
10
(97) CHAPTER. Whoever pronounced (one) Adhan (for both) and Iqama for each of them (the Maghrib and the Isha prayer).
جس نے کہا کہ ہر نماز کے لیے اذان اور تکبیر کہنی چاہئے اس کی دلیل
Sahih Bukhari
11
(1) CHAPTER. What is said regarding the acceptance of the information given by one truthful person concerning Adhan, Salat (prayer), Saum (fasting), and all other obligations and laws prescribed by Allah.
ایک سچے شخص کی خبر پر اذان نماز روزے فرائض سارے احکام میں عمل ہونا
Sahih Bukhari
12
اذان اور تکبیر کے درمیان نفل نماز
Sahih Muslim
13
نماز کا وقت ہوئے بغیر اذان دینے کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
نماز میں جمع تقدیم کے لیے پہلی نماز کے وقت اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
نماز میں جمع تاخیر کے لیے پہلی نماز کے ختم ہو جانے کے بعد کی اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
16
فوت شدہ نمازوں کے لیے اذان کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
17
ساری فوت شدہ نمازوں کے لیے ایک اذان کے کافی ہونے اور ہر ایک کے لیے الگ الگ اقامت کہنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
18
اکیلے نماز پڑھنے والے کے لیے اذان کا بیان۔
Sunnan Nisai
19
اذان اور اقامت کے درمیان سنت (نفل نماز) پڑھنے کا بیان۔
Sunnan Nisai
20
جہاں پر اذان دی جاتی ہو وہاں نمازوں کی محافظت کا بیان۔
Sunnan Nisai
21
(1)Chapter: What Has Been Related That Salat Is Not Accepted Without Purification
باب: وضو (طہارت) کے بغیر نماز مقبول نہ ہونے کا بیان
Jam e Tirmazi
22
(3)Chapter: What Has been Related That The Key To Salat Is Purification
باب: وضو نماز کی کنجی ہے
Jam e Tirmazi
23
(44)Chapter: [What Has Been Related] About Performing Wudu For Every Salat
باب: ہر نماز کے لیے وضو کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
24
(45)Chapter: What Had Been Related About Performing The (Five Obligatory) Prayers With One Wudu
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
25
(94)Chapter: What Has Been Related About The Mustahadah Performing Wudu For Every Prayer
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے
Jam e Tirmazi
26
(95)Chapter: [What Has Been Related] About AI-Mustahadah That She Can Combine Two Prayers With One Ghusl
باب: مستحاضہ ایک غسل سے دو نمازیں ایک ساتھ جمع کر سکتی ہے
Jam e Tirmazi
27
(96)Chapter: What Has Been Related About Al-Mustahadah That She Is To Perform Ghusl For Every Salat
باب: مستحاضہ عورت ہر نماز کے وقت غسل کرے
Jam e Tirmazi
28
(97)Chapter: What Has Been Related About The Menstruating Woman: That She Does Not Make Up The Missed Salat
باب: حائضہ کے نماز قضاء نہ کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
29
(108)Chapter: What Has Been Related About When Standing For The Prayer, And One Of You Finds That He Has To Relieve Himself, [Then Let Him Relieve Himself First].
باب: جب نماز کھڑی ہو جائے اور آدمی کو پاخانے کی حاجت ہو تو پہلے پاخانہ جائے
Jam e Tirmazi
30
Chapter: What Has Been Related About Prescribed Times for Salat From The Prophet
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے منقول اوقات نماز کا بیان
Jam e Tirmazi
31
Chapter: Something else (about the timings of Salat)
باب: اوقات نماز سے متعلق ایک اور باب
Jam e Tirmazi
32
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Asr Prayer
باب: نماز عصر دیر سے پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
33
Chapter: What Has Been Related About The Time For The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء کے وقت کا بیان
Jam e Tirmazi
34
Chapter: What Has Been Related About Delaying The Last Isha Prayer
باب: نماز عشاء دیر سے پڑھنے کا بیان​
Jam e Tirmazi
35
Chapter: Virtue Of Performing Salat at the Beginning Of Its Prescribed Time
باب: اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
Jam e Tirmazi
36
Chapter: What Has Been Related About Hastening The Salat When The Imam Delays It
باب: جب امام نماز دیر سے پڑھے تو اسے جلد پڑھ لینے کا بیان
Jam e Tirmazi
37
Chapter: What Has Been Related About Sleeping Past The Salat
باب: نماز سے سو جانے کا بیان
Jam e Tirmazi
38
Chapter: Been Related About A Man Who Forgets A Salat
باب: آدمی نماز بھول جائے تو کیا کرے؟
Jam e Tirmazi
39
Chapter: What Has Been Related About A Man Who Misses Multiple Prayers And Which Of Them He Begin With
باب: کئی وقت کی نماز چھوٹ جائے تو آدمی پہلے کون سی پڑھے؟
Jam e Tirmazi
40
Chapter: : What Has Been Related About Prayer After Asr And After Fajr Is Disliked
باب: عصر اور فجر کے بعد نماز پڑھنے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
41
Chapter: : What Has Been Related About Salat After Asr
باب: عصر کے بعد نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
42
Chapter: What Has Been Related About Salat Before Maghrib
باب: مغرب سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
Jam e Tirmazi
43
Chapter: What Has Been Related About Combining Two Prayers While [A Resident]
باب: حضر (اقامت کی حالت) میں دو نمازوں کو ایک ساتھ جمع کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
44
Chapter: What Has Been Related About How the Adhan Started
باب: اذان کی ابتداء کا بیان
Jam e Tirmazi
45
Chapter: : What Has Been Related About At-Tarji In The Adhan
باب: اذان میں ترجیع کا بیان
Jam e Tirmazi
46
Chapter: What Has Been Related About Saying The Phrases Of The Adhan With Deliberateness And Slowly
باب: اذان کے کلمات ٹھہر ٹھہر کے کہنے کا بیان
Jam e Tirmazi
47
Chapter: What Has Been Related About Putting The Fingers In The Ears For The Adhan
باب: اذان کے وقت شہادت کی دونوں انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کرنے کا بیان
Jam e Tirmazi
48
Chapter: What Has Been Related About Whoever Calls The Adhan, He Is To Call The Iqamah
باب: جو اذان دے وہی اقامت کہے
Jam e Tirmazi
49
Chapter: What Has Been Related About It Being Disliked To Call The Adhan Without Having Wudu
باب: بغیر وضو کے اذان دینے کی کراہت کا بیان
Jam e Tirmazi
50
Chapter: What Has Been Related About The Adhan At Night
باب: رات ہی میں اذان دے دینے کا بیان
Jam e Tirmazi
No related chapter matched that.

Related Hadith

52
Sunnan Ibn e Maja
3925
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ،‏‏‏‏ أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ،‏‏‏‏ عَنْ ابْنِ الْهَادِ،‏‏‏‏ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ،‏‏‏‏ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ بَلِيٍّ قَدِمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَكَانَ إِسْلَامُهُمَا جَمِيعًا،‏‏‏‏ فَكَانَ أَحَدُهُمَا أَشَدَّ اجْتِهَادًا مِنَ الْآخَرِ،‏‏‏‏ فَغَزَا الْمُجْتَهِدُ مِنْهُمَا فَاسْتُشْهِدَ،‏‏‏‏ ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ تُوُفِّيَ،‏‏‏‏ قَالَ طَلْحَةُ:‏‏‏‏ فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ بَيْنَا أَنَا عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ إِذَا أَنَا بِهِمَا فَخَرَجَ خَارِجٌ مِنَ الْجَنَّةِ،‏‏‏‏ فَأَذِنَ لِلَّذِي تُوُفِّيَ الْآخِرَ مِنْهُمَا،‏‏‏‏ ثُمَّ خَرَجَ فَأَذِنَ لِلَّذِي اسْتُشْهِدَ،‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيَّ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ يَأْنِ لَكَ بَعْدُ،‏‏‏‏ فَأَصْبَحَ طَلْحَةُ يُحَدِّثُ بِهِ النَّاسَ فَعَجِبُوا لِذَلِكَ،‏‏‏‏ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثُوهُ الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مِنْ أَيِّ ذَلِكَ تَعْجَبُونَ ،‏‏‏‏ فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ هَذَا كَانَ أَشَدَّ الرَّجُلَيْنِ اجْتِهَادًا ثُمَّ اسْتُشْهِدَ،‏‏‏‏ وَدَخَلَ هَذَا الْآخِرُ الْجَنَّةَ قَبْلَهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ قَدْ مَكَثَ هَذَا بَعْدَهُ سَنَةً ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَأَدْرَكَ رَمَضَانَ،‏‏‏‏ فَصَامَ وَصَلَّى كَذَا وَكَذَا مِنْ سَجْدَةٍ فِي السَّنَةِ ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى،‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَمَا بَيْنَهُمَا أَبْعَدُ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ .
It was narrated from Talhah bin ‘Ubaidullah that two men from Bali came to the Messenger of Allah (ﷺ). They had become Muslim together, but one of them used to strive harder than the other. The one who used to strive harder went out to fight and was martyred. The other one stayed for a year longer, then he passed away. Talhah said: “I saw in a dream that I was at the gate of Paradise and I saw them (those two men). Someone came out of Paradise and admitted the one who had died last, then he came out and admitted the one who had been martyred. Then he came back to me and said: ‘Go back, for your time has not yet come.’” The next morning, Talhah told the people of that and they were amazed. News of that reached the Messenger of Allah (ﷺ) and they told him the story. He said: “Why are you so amazed at that?” They said: “O Messenger of Allah, the first one was the one who strove harder, then he was martyred, but the other one was admitted to Paradise before him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Did he not stay behind for a year?” They said: “Yes.” He said: “And did not Ramadan come and he fasted, and he offered such and such prayers during that year?” They said: “Yes.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The difference between them is greater than the difference between heaven and earth.”
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دور دراز کے دو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ دونوں ایک ساتھ اسلام لائے تھے، ان میں ایک دوسرے کی نسبت بہت ہی محنتی تھا، تو محنتی نے جہاد کیا اور شہید ہو گیا، پھر دوسرا شخص اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا، اس کے بعد وہ بھی مر گیا، طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت کے دروازے پر کھڑا ہوں، اتنے میں وہ دونوں شخص نظر آئے اور جنت کے اندر سے ایک شخص نکلا، اور اس شخص کو اندر جانے کی اجازت دی جس کا انتقال آخر میں ہوا تھا، پھر دوسری بار نکلا، اور اس کو اجازت دی جو شہید کر دیا گیا تھا، اس کے بعد اس شخص نے میرے پاس آ کر کہا: تم واپس چلے جاؤ، ابھی تمہارا وقت نہیں آیا، صبح اٹھ کر طلحہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے خواب بیان کرنے لگے تو لوگوں نے بڑی حیرت ظاہر کی، پھر خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی، اور لوگوں نے یہ سارا قصہ اور واقعہ آپ سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کس بات پر تعجب ہے ؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! پہلا شخص نہایت عبادت گزار تھا، پھر وہ شہید بھی کر دیا گیا، اور یہ دوسرا اس سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا یہ اس کے بعد ایک سال مزید زندہ نہیں رہا؟ ، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ضرور زندہ رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک سال میں تو اس نے رمضان کا مہینہ پایا، روزے رکھے، اور نماز بھی پڑھی اور اتنے سجدے کئے، کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ تو ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اسی وجہ سے ان دونوں ( کے درجوں ) میں زمین و آسمان کے فاصلہ سے بھی زیادہ دوری ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
1348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ،‏‏‏‏ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا،‏‏‏‏ أَوْ قَالَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ،‏‏‏‏ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ،‏‏‏‏ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ،‏‏‏‏ قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلٍ،‏‏‏‏ ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتَقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب،‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ،‏‏‏‏ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ وَقَالَ:‏‏‏‏ شَقِيصًا،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ مِثْلَ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ،‏‏‏‏ وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ،‏‏‏‏ عَنْ قَتَادَةَ،‏‏‏‏ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ أَمْرَ السِّعَايَةِ،‏‏‏‏ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السِّعَايَةِ،‏‏‏‏ فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ السِّعَايَةَ فِي هَذَا،‏‏‏‏ وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ،‏‏‏‏ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق،‏‏‏‏ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ:‏‏‏‏ إِذَا كَانَ الْعَبْدُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأَعْتَقَ أَحَدُهُمَا نَصِيبَهُ،‏‏‏‏ فَإِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ غَرِمَ نَصِيبَ صَاحِبِهِ،‏‏‏‏ وَعَتَقَ الْعَبْدُ مِنْ مَالِهِ،‏‏‏‏ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ،‏‏‏‏ عَتَقَ مِنَ الْعَبْدِ مَا عَتَقَ،‏‏‏‏ وَلَا يُسْتَسْعَى،‏‏‏‏ وَقَالُوا بِمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ،‏‏‏‏ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ،‏‏‏‏ وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ،‏‏‏‏ وَالشَّافِعِيُّ،‏‏‏‏ وَأَحْمَدُ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق.
Abu Hurairah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever frees a portion or he said: a part of a slave, then he should finish paying his price if he can afford it. If he can not afford to pay reasonable price then he should be allowed to work to earn the amount that will free him without overburdening him. (Another chain) similar, and he said: a part .
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہو گی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے“۔ محمد بن بشار سے بھی ایسے ہی روایت ہے اور اس میں «شقصاً» کے بجائے «شقیصا» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور اسی طرح ابان بن یزید نے قتادہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کے مثل روایت کی ہے، ۳- اور شعبہ نے بھی اس حدیث کو قتادہ سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے اس سے آزادی کے لیے کمائی کرانے کا ذکر نہیں کیا ہے، ۴- سعایہ ( کمائی کرانے ) کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض اہل علم نے اس بارے میں سعایہ کو جائز کہا ہے۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ۵- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۶- اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ جب غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ آزاد کر دے تو اگر اس کے پاس مال ہو تو وہ اپنے ساجھی دار کے حصے کا تاوان ادا کرے گا اور غلام اسی کے مال سے آزاد ہو جائے گا، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو غلام کو جتنا آزاد کیا گیا ہے اتنا آزاد ہو گا، اور باقی حصہ کی آزادی کے لیے اس سے کمائی نہیں کرائی جائے گی۔ اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کی رو سے یہ بات کہی ہے، اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے۔ اور مالک بن انس، شافعی اور احمد بھی اسی کے قائل ہیں۔
Sahih Muslim
416
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ [ص:150] بْنِ مَالِكٍ، لَعَلَّهُ قَالَ: عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: أَحَدُ الثَّلَاثَةِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، فَأُتِيتُ فَانْطُلِقَ بِي، فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا - قَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْتُ لِلَّذِي مَعِي مَا يَعْنِي قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ - فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانًا وَحِكْمَةً، ثُمَّ أُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ، يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، فَوْقَ الْحِمَارِ، وَدُونَ الْبَغْلِ، يَقَعُ خَطْوُهُ عِنْدَ أَقْصَى طَرْفِهِ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، فَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ بُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَفَتَحَ لَنَا، وَقَالَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ ، قَالَ: «فَأَتَيْنَا عَلَى آدَمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَذَكَرَ أَنَّهُ «لَقِيَ فِي السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ عِيسَى، وَيَحْيَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، وَفِي الثَّالِثَةِ يُوسُفَ، وَفِي الرَّابِعَةِ إِدْرِيسَ، وَفِي الْخَامِسَةِ هَارُونَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُ بَكَى، فَنُودِيَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: رَبِّ، هَذَا غُلَامٌ بَعَثْتَهُ بَعْدِي يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِهِ الْجَنَّةَ أَكْثَرُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي ، قَالَ: «ثُمَّ انْطَلَقْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ»، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَحَدَّثَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ رَأَى أَرْبَعَةَ أَنْهَارٍ يَخْرُجُ مِنْ أَصْلِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ الْأَنْهَارُ؟ قَالَ: أَمَّا النَّهْرَانِ الْبَاطِنَانِ فَنَهْرَانِ فِي الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ: فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ رُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، فَقُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا؟ قَالَ: هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يَدْخُلُهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، إِذَا خَرَجُوا مِنْهُ لَمْ يَعُودُوا فِيهِ آخِرُ مَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ أُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا خَمْرٌ، وَالْآخَرُ لَبَنٌ، فَعُرِضَا عَلَيَّ فَاخْتَرْتُ اللَّبَنَ، فَقِيلَ: أَصَبْتَ أَصَابَ اللهُ بِكَ أُمَّتُكَ عَلَى الْفِطْرَةِ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسُونَ صَلَاةً ، ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّتَهَا إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ،
Anas b. Malik reported on the authority of Malik b. Sa sa', perhaps a person of his tribe, that the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I was near the House (i. e. Ka'bah) in a state between sleep and wakefulness when I heard someone say: He is the third among the two persons. Then he came to me and took me with him. Then a golden basin containing the water of Zamzam was brought to me and my heart was opened up to such and such (part). Qatada said: I asked him who was with me (i e. the narrator) and what he meant by such and such (part). He replied: (It means that it was opened) up to the lower part of his abdomen (Then the hadith continues): My heart was extracted and it was washed with the water of Zamzam and then it was restored in its original position, after which it was filled with faith and wisdom. I was then brought a white beast which is called al-Buraq, bigger than a donkey and smaller than a mule. Its stride was as long as the eye could reach. I was mounted on it, and then we went forth till we reached the lowest heaven. Gabriel asked for the (gate) to be opened, and it was said: Who is he? He replied: Gabriel. It was again said: Who is with thee? He replied: Muhammad ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). It was said: Has he been sent for? He (Gabriel) said: Yes. He (the Prophet) said: Then (the gate) was opened for us (and it was said): Welcome unto him! His is a blessed arrival. Then we came to Adam (peace be upon him). And he (the narrator) narrated the whole account of the hadith. (The Holy Prophet) observed that he met Jesus in the second heaven, Yahya (peace be on both of them) in the third heaven, Yusuf in the third, Idris in the fourth, Harun in the fifth (peace and blessings of Allah be upon them). Then we travelled on till we reached the sixth heaven and came to Moses (peace be upon him) and I greeted him and he said: Welcome unto righteous brother and righteous prophet. And when I passed (by him) he wept, and a voice was heard saying: What makes thee weep? He said: My Lord, he is a young man whom Thou hast sent after me (as a prophet) and his followers will enter Paradise in greater numbers than my followers. Then we travelled on till we reached the seventh heaven and I came to Ibrahim. He (the narrator) narrat- ed in this hadith that the Prophet of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) told that he saw four rivers which flowed from (the root of the lote-tree of the farthest limits): two manifest rivers and two hidden rivers. I said: ' Gabriel! what are these rivers? He replied: The two hidden rivers are the rivers of Paradise, and as regards the two manifest ones, they are the Nile and the Euphrates. Then the Bait-ul-Ma'mur was raised up to me. I said: O Gabriel! what is this? He replied: It is the Bait-ul-Ma'mur. Seventy thousand angels enter into it daily and, after they come out, they never return again. Two vessels were then brought to me. The first one contained wine and the second one contained milk, and both of them were placed before me. I chose milk. It was said: You did right. Allah will guide rightly through you your Ummah on the natural course. Then fifty prayers daily were made obligatory for me. And then he narrated the rest of the hadith to the end.
سعید نے قتادہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( انہوں نے غالباً یہ کہا ) کہ مالک بن صعصعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ( جو ان کی قوم کے فرد تھے ) کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں بیت اللہ کے پاس نیند اور بیداری کی درمیانی کیفیت میں تھا ، اس اثناء میں ایک کہنے والے کو میں نے یہ کہتے سنا : ’’ تین آدمیوں میں سے ایک ، دو کے درمیان والا ‘ ‘ پھر میرے پاس آئے اور مجھے لے جایا گیا ، اس کے بعد میرے پاس سونے کا طشت لایا گیا جس میں زمزم کا پانی تھا ، پھر میرا سینہ کھول دیا گیا ، فلاں سے فلاں جگہ تک ( قتادہ نےکہا : میں نے اپنے ساتھ والے سے پوچھا : اس سے کیا مراد لے رہے ہیں ؟ اس نے کہا ، پیٹ کے نیچے کےحصے تک ) پھر میرا دل نکالا گیا اور اسے زم زم کے پانی سے دھویا گیا ، پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ پر رکھ دیا گیا ، پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا ۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے ، گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ، اس کا قدم وہاں پڑتا تھا جہاں اس کی نظر کی آخری حد تھی ، مجھے اس پر سوار کیا گیا ، پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ہم سب سے نچلے ( پہلے ) آسمان تک پہنچے ۔ جبریل ‌علیہ ‌السلام ‌ نے دروازہ کھولنے کے لیے کہا : تو پوچھا گیا : یہ ( دروازہ کھلوانے والا ) کون ہے ؟ کہا : جبریل ہوں ۔ کہا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا محمدﷺ ہیں ۔ پوچھا گیا : کیا ( آسمانوں پر لانے کےلیے ) ان کی طرف سے کسی کو بھیجا گیا تھا؟ کہا : ہاں ۔ تو اس نے ہمارے لیے دروازہ کھول دیا اور کہا : مرحبا ! آپ بہترین طریقے سے آئے ! فرمایا : پھر ہم آدم علیہ السلام کے سامنے پہنچ گئے ۔ آگے پورے قصے سمیت حدیث سنائی اور بتایا کہ دوسرے آسمان پر آپ عیسیٰ اور یحییٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ، تیسرے پر یوسف علیہ السلام سے اور چوتھے پر ادریس علیہ السلام سے ، پانچویں پر ہارون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ملے ، کہا : پھر ہم چلے یہاں تک کہ چھٹے آسمان تک پہنچے ، میں موسیٰ علیہ السلام کےپاس پہنچا اور ان کو سلام کیا ، انہوں نے کہا : صالح بھائی اور صالح نبی کو مرحبا ، جب میں ان سے آگے چلا گیا تو وہ رونے لگے ، انہیں آواز دی گئی آپ کو کس بات نے رلا دیا ؟ کہا : اے میرے رب ! یہ نوجوان ہیں جن کو تو نے میرےبعد بھیجا ہے ان کی امت کے لوگ میری امت کے لوگوں سے زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چل پڑے یہاں تک کہ ساتویں آسمان تک پہنچ گئے تو میں ابراہیم علیہ السلام کے سامنے آیا ۔ ‘ ‘ اور انہوں نے حدیث میں کہا کہ نبی ا کرمﷺ نے بتایا کہ انہوں نے چار نہریں دیکھیں ، ان کے منبع سے دو ظاہری نہریں نکلتی ہیں اور دو پوشیدہ نہریں ۔ ’’میں نے کہا : اے جبریل ! یہ نہریں کیا ہیں ؟ انہوں نے کہا : جو دو پوشیدہ ہیں تو وہ جنت کی نہریں ہیں اور دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ، پھر بیت معمور میرے سامنے بلند کیا گیا میں نے پوچھا : اے جبریل! یہ کیا ہے ؟ کہا : یہ بیت معمور ہے ، اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں ، جب اس سے نکل جاتے ہیں ، تو اس ( زمانے ) کے آخر تک جو ان کے لیے ہے دوبارہ اس میں نہیں آ سکتے ، پھر میرےپاس دو برتن لائے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا ، دونوں میرے سامنے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو پسند کیا ، اس پر کہا گیا ، آپ نے ٹھیک ( فیصلہ ) کیا ، اللہ تعالیٰ آپ کے ذریعے سے ( سب کو ) صحیح ( فیصلہ ) تک پہنچائے ، آپ کی امت ( بھی ) فطرت پر ہے ، پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر ( سابقہ ) حدیث کے آخر تک کا سارا واقعہ بیان کیا ۔
Sahih Muslim
3772
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ، بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا قَالَ ‏ ‏ يَضْمَنُ‏ ‏ ‏.‏
Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The slave who is jointly owned by two persons, and is emancipated by one of them, (this one) has liability (upon him to secure complete freedom for that slave).
حضرت ‌ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌جو ‌بردہ ‌دو ‌آدمیوں ‌میں ‌مشترك ‌ہو ‌پھر ‌ایك ‌شریك ‌اپنا ‌حصہ ‌آزاد ‌كردیوے ‌تو ‌وہ ‌ضامن ‌ہوگا ‌دوسرے ‌شریك ‌كے ‌حصے ‌كا ( ‌اگر ‌مال ‌دار ‌ہو )
Sahih Muslim
4331
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوكِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا، قَالَ: «يَضْمَنُ
Abu Huraira reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: In case the slave is owned by two persons, and one of them emancipates him, he will guarantee (his full freedom).
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں جن میں سے ایک ( اپنا حصہ ) آزاد کر دیتا ہے ، فرمایا : " وہ ( دوسرے کا ) ضامن ہے ۔ ( کہ اس کے حصے کی قیمت اسے مل جائے گی
Silsila Sahih
629
عَنْ قبَاثِ بن أَشْيَمَ اللَّيْثِى مَرفُوعاً: صَلَاةُ الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا، صَاحِبهُ أَزْكَى عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلاةِ ثَمَانِيَةٍ تَتْرَى ، وَصَلاةُ أَرْبَعَةٍ يَؤُمُّهُمْ أَحَدُهُمْ، أَزْكَى عِنْدَ اللهِ مِنْ صَلاةِ مِائَةٍ تَتْرَى
قا ث بن اشیم لیثی‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ:دو آدمیوں کی نماز كہ ان میں سے ایك امامت كروائے، اللہ كے نزدیك پے درپے پڑھی جانے والی آٹھ نمازوں سے بہتر ہے۔ اور چار آدمیوں كی نماز كہ ان میں سے ایك شخص امامت كروائے اللہ كے نزدیك ان سو نمازوں سے بہتر ہے جو پے در پے پڑھی جائیں؟
Silsila Sahih
3129
عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوْعاً : « إِنَّ أَيُّوبَ نَبِيَّ اللهِ لَبِثَ بِهِ بَلَاؤُه ثَمَان عَشَرَة سَنَة فَرَفَضَهُ القَرِيْبُ وَالبَعِيْد إِلاَّ رَجُلَيْنِ مِنْ إِخْوَانِهِ كَانَا يَغْدُوَانِ إِلَيْهِ وَيَرُوْحَان، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِه ذَاتَ يَوْمٍ : تَعْلَم وَاللهِ لَقَدْ أَذْنَبَ أَيُّوْبَ ذَنْباً مَا أَذْنَبه أَحَدٌ مِّنَ العَالَمِيْنَ؟ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُه : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ : مُنْذُ ثَمَانِي عَشَرَة سَنَة لَمْ يَرْحَمُه الله فَيكْشِف مَا بِه فَلَمَّا رَاحَا إِلَى أَيُّوبٍ لَمْ يَصْبِرالرَّجُل حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ لَه ، فَقَالَ أَيُّوب : لاَ أَدْرِي مَا تَقُولَانِ، غَيْرَ أَنَّ الله يَعْلَم أَنِّي كُنْتُ أَمُر بِالرَّجُلَيْنِ يَتَنَازَعَانِ فَيذكَرَانِ اللهَ فَأَرْجِع إِلَى بَيْتِي ، فَأُكَفِّرُ عَنْهُماَ كَرَاهِيَّة أَنْ يَّذْكُرَ الله إِلَّا فِي حَقٍّ ، قَالَ: وَكَانَ يَخْرُجُ إِلَى حَاجَتِهِ ، فَإِذَا قَضَى حَاجَتَهُ أَمْسكَتهُ امْرَأَتَه بِيَدِهِ حَتَّى يَبْلُغَ ، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأَ عَلَيْهَا وَأَوْحَى إِلَى أَيُّوْبٍ أَنْ اُرۡکُضۡ بِرِجۡلِکَ ۚ ہٰذَا مُغۡتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ ﴿۴۲﴾ (ص: ٤٢) ، فَاسْتَبْطَأَتْهُ فَتَلقته تَنْظُر وَقَدْ أَقْبَل عَلَيْهَا قَدْ أَذْهَبَ اللهُ مَا بِهِ مِنَ البَلَاءِ وَهُوَ أَحْسَنُ مَا كَانَ ، فَلَمَّا رَأَتْه قَالَتْ : أَيْ بَارَكَ اللهُ فِيْكَ! هَلْ رَأَيْتَ نَبِيَّ اللهِ هَذَا المبتلى؟ وَاللهِ عَلَى ذَلِكَ مَا رَأَيْتُ (أَحَدا) رَجُلا أَشْبَه (بِهِ) مِنْكَ إِذْ كَانَ صَحِيْحاً فَقَالَ: فَإِنِّي أَنَا هُوَ ، وَكَانَ لَه أَنْدران (أَىْ: بيدران) أَنَدُرٌ لِّلْقَمْح وَأَنْدَرٌ لِّلشَّعِيْر ، فَبَعَثَ اللهُ سَحَابَتَيْنِ ، فَلَمًّا كَانَتْ أَحَدُهَمَا عَلَى أَنْدَر القَمْحِ أَفْرَغَتْ فِيْهِ الذَّهَبُ حَتَّى فَاضَ وَأَفْرَغَتِ الأُخْرَى فيِ أَنْدَرِ الشَّعِيْر الوَرَق حَتَّى فَاضَ ».
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ: اللہ کے نبی ایوب علیہ السلام کی آزمائش اٹھارہ سال تک رہی ،قریب و دور کے سب عزیزوں نے انہیں چھوڑ دیا ،سوائے ان کے دو بھائیوں کے۔ وہ صبح و شام ان کے پاس آتے ،ایک دن ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: واللہ! تمہیں معلوم ہے کہ ایوب نے ایسا گناہ کیا ہے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟ اس کے ساتھی نے اس سے کہا: وہ کیا؟ کہنے لگا: اٹھارہ سال ہو گئے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم نہیں کیا اور ان کی تکلیف دور نہیں کی، جب شام کو وہ دونوں ایوبکے پاس آئے تو جس شخص سے یہ بات کہی گئی تھی اس سے صبر نہ ہو سکا یہاں تک کہ اس نے ان سے اس بات کا ذکر کردیا، ایوب علیہ السلام نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ تم کیا کہہ رہے ہو سوائے اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں جب بھی دو جھگڑا کرنے والوں کے پاس سے گزرتا تھا جو (اپنے جھگڑے میں) اللہ کا ذکر کرنے (یعنی قسم اٹھاتے) تو میں گھر جا کر ان کی طرف سے کفارہ ادا کردیتا اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے کہ اللہ کا ذکر نا حق کام میں کیا گیا۔ ایوب علیہ السلام قضائے حاجت کے لئے باہر نکلا کرتے تھے ،جب وہ قضائے حاجت کر لیتے تو ان کی بیوی گھر آنے تک ان کا ہاتھ پکڑے رکھتی ،ایک دن انہوں نے دیر کر دی اور ان کی طرف وحی کی گئی کہ (سورۃ ص: ٤٢) اپنا پاؤں مارو، یہ نہانے اور پینے کا ٹھنڈا پانی ہے ،ان کی بیوی کو ان کی تاخیر کا احساس ہوا تو وہ انہیں دیکھنے نکل پڑیں، ایوب علیہ السلام ان کی طرف آرہے تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی تھی، اور پہلے سے زیادہ اچھے ہو گئے تھے ۔جب ان کی بیوی نے انہیں دیکھا تو کہنے لگیں:اللہ تمہیں برکت دے! کیا تم نے مصیبت زدہ اللہ کا نبی دیکھا ہے ؟واللہ وہ اسی راستے پر گیا تھا۔ جب وہ صحیح تھا تو میں نے تم سے زیادہ اس کے مشابہہ(کسی کو) نہیں دیکھا، ایوب علیہ السلام نے کہا: میں ہی وہ ہوں۔ان کےلئے دو ڈھیرتھے۔ ایک گندم کا ،دوسرا جو کا۔ اللہ تعالیٰ نے دو بادل بھیجے ،جب ایک گندم کےڈھیرپر پہنچا تو اس نے سونا برسانا شروع کر دیا حتی کہ سونا بہنے لگا اور دوسرے نے جو کے ڈھیر پر چاندی برسانا شروع کر دی حتی کہ چاندی بہنے لگی۔
Jam e Tirmazi
1036
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَيُّهُمَا أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمَا قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَّلُوا . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي صُعَيْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ ذَكَرَهُ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ لَا يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ الشَّافِعِيُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَحْمَدُ، ‏‏‏‏‏‏وقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ يُصَلَّى عَلَى الشَّهِيدِ، ‏‏‏‏‏‏وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى عَلَى حَمْزَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ:‏‏‏‏ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهِ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِسْحَاق.
Abdur-Rahman bin Ka'b bin Malik narrated that: Jabir bin Abdullah informed him that the Prophet had put two men together in one cloth from those who were killed at (the battle of) Uhud, then he said: Which of them memorized the more of the Qur'an? When one of them was indicated to him, he put him in the Lahd (first) and said: I am a witness for those people on the Day of Judgment. And he ordered that they be buried in their blood, and that they not be prayed over, nor washed.
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کے مقتولین میں سے دو دو آدمیوں کو ایک کپڑے میں ایک ساتھ کفناتے، پھر پوچھتے: ”ان میں قرآن کسے زیادہ یاد تھا؟“ تو جب آپ کو ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو آپ اسے لحد میں مقدم رکھتے اور فرماتے: ”قیامت کے روز میں ان لوگوں پر گواہ رہوں گا“۔ اور آپ نے انہیں ان کے خون ہی میں دفنانے کا حکم دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ ہی انہیں غسل ہی دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر کی حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث زہری سے مروی ہے انہوں نے اسے انس سے اور انس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے نیز یہ زہری سے عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر کے واسطے سے بھی مروی ہے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور ان میں سے بعض نے اسے جابر کی روایت سے ذکر کیا، ۲- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے، ۳- اہل علم کا شہید کی نماز جنازہ کے سلسلے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی۔ یہی اہل مدینہ کا قول ہے۔ شافعی اور احمد بھی یہی کہتے ہیں، ۴- اور بعض کہتے ہیں کہ شہید کی نماز پڑھی جائے گی۔ ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے دلیل پکڑی ہے کہ آپ نے حمزہ رضی الله عنہ کی نماز پڑھی تھی۔ ثوری اور اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں اور یہی اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ۱؎۔
Jam e Tirmazi
3681
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ:‏‏‏‏ بِأَبِي جَهْلٍ،‏‏‏‏ أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah! Honor Islam through the most dear of these two men to you: Through Abu Jahl or through 'Umar bin Al-Khattab. He said: And the most dear of them to Him was 'Umar.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔