حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا أَيَّامَ مَحِيضِهَا ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، أَنَّ الْحَائِضَ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ.
Mu'adhah narrated that :
a woman asked Aishah: Shouldn't one of us make up her prayers the days of her menstruation? So she said, Are you one of the Haruriyyah? Indeed we would menstruate, and we were not ordered to make up.
معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی، ۳- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الحیض ۲۰ (۳۲۱)، صحیح مسلم/الحیض ۱۵ (۳۳۵)، سنن ابی داود/ الطہارة ۱۰۵ (۲۶۲)، سنن النسائی/الحیض ۱۷ (۳۸۲)، والصوم ۳۶ (۲۳۲۰)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ۱۱۹ (۶۳۱)، (تحفة الأشراف : ۱۷۹۶۴)، مسند احمد (۶/۳۲، ۹۷، ۱۲۰، ۱۸۵، ۲۳۱)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۰۲ (۱۰۲۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حروریہ منسوب ہے حروراء کی طرف جو کوفہ سے دو میل کی دوری پر ایک بستی کا نام تھا، خوارج کو اسی گاؤں کی نسبت سے حروری کہا جاتا ہے، اس لیے کہ ان کا ظہور اسی بستی سے ہوا تھا، ان میں کا ایک گروہ حیض کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضاء کو ضروری قرار دیتا ہے اسی لیے عائشہ رضی الله عنہا نے اس عورت کو حروریہ کہا، مطلب یہ تھا کہ کیا تو خارجی عورت تو نہیں ہے جو ایسا کہہ رہی ہے۔
130
Sahih