TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Book 3 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 3 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ،كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: سُبْحَانَكَ اللهم وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْركَ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز كی ابتداء كرتے تو كہتے:سُبْحَانَكَ اللهم وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَترجمہ: اے اللہ پاك ہے تو اپنی تعریف كے ساتھ، تیرا نام بابركت ہے، تیری شان بلند ہے، اور تیرے علاوہ كوئی معبود برحق نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2996) الدعاء للطبراني رقم (462) .
655
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي مَالَك الْأَشْجَعِي، عن أَبِيه (طارق بن أَشْيَم)، قَالَ: كَانَ إِذَا أَسْلَمَ الرَّجْلُ كَانَ أَوَّلَ مَا يُعَلِّمنَا الصّلاة، أَوْ قَالَ: عَلَّمَهُ الصَّلَاةَ .
ابو مالك اشجعی اپنے والد( طارق بن اشیم) سے بیان كرتے ہیں كہتے ہیں كہ جب كوئی آدمی مسلمان ہوتا تو سب سے پہلی تعلیم جو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ دیتے وہ نماز كی ہوتی
Takhreej
الصحيحة رقم (3030) مسند الرزار رقم (2400) .
656
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أَنس: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذا أَعْجَبَه نَحْوَ الرَّجُلِ أَمَرَه بِالصَّلَاة .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو جب كسی آدمی کی کوئی ادا پسند آتی تو اسے نماز كا حكم دیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2953) شعب الإيمان للبيهقي معجم ابن الأعرابي رقم (3033) .
657
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَقُولُ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟ وَيَقُولُ لَيْسَ يَبْقَى بَعْدِي مِنَ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح كی نماز سے پلٹتے تو كہتے: كیا تم میں سے كسی شخص نے آج رات كوئی خواب دیكھا ہے؟ اور فرماتے : میرے بعد نبوت میں سے سچے خواب كے علاوہ كچھ نہیں بچا
Takhreej
الصحيحة رقم (473) موطأ مالك كِتَاب الْجَامِعِ بَاب مَا جَاءَ فِي الرُّؤْيَا رقم (1505) سنن أبي داؤد رقم (43639) .
658
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا جَلَسَ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوْ فِي الْأَرْبَعِ يَضَعُ يَدَه عَلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ أَشَارَ بِإصْبَعِهِ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب دو ركعتوں میں بیٹھتے یا چوتھی ركعت میں بیٹھتے تو اپنا ہاتھ گھٹنے پر ركھتے، اور اپنی انگلی سے اشارہ كرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2248) سنن النسائي،كِتَاب التَّطْبِيقِ بَاب الْإِشَارَةِ بِالْأُصْبُعِ فِي التَّشَهُّدِ الْأَوَّلِ رقم (1149) .
659
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة أَنَّ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم : كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأَسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ في صَلَاةِ الصُّبْحِ في آخرِ رَكعَةٍ قَنَتَ.
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح كی نماز میں آخری ركعت میں ركوع سے سر اٹھاتے تو قنوت كرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2071)،صلاة الوتر لمحمد بن نصر المروزي رقم (68) .
660
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن البراء بن عازب: كان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا رَكَعَ ، لَوْ صُبَّ عَلَى ظَهْرِهِ مَاءٌ لاسْتَقَرَّ.
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ركوع كرتے تو آپ كی پیٹھ پر اگر پانی ڈالا جاتا تو وہ بھی ٹھہر جاتا
Takhreej
الصحيحة رقم (3331) المعجم الكبير للطبراني رقم (17855) .
661
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ إِذَا سَلَّمَ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا مِقْدَارَ مَا يَقُولُ: اللهم أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو (قبلہ رخ)اتنی دیر بیٹھتے كہ آپ یہ كلمات كہہ لیتے: اے اللہ تو سلام ہے، اور تیری طرف سے ہی سلامتی ہے، تو بابركت ہے۔ اے عظمت و شان والے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2074)،صحيح مسلم كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ بَاب اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ ... رقم (932) .
662
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ .
ابو رافع‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مو ذن كی آواز سنتے تو اسی طرح كہتے جس طرح مو ذن كہتا۔ اور یہاں تک جب مؤذن جب مو ذن: حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح كہتا تو آپ لا حول ولا قوۃ الا باللہ كہتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2075)،مسند أحمد رقم (22746) .
663
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ سَأَلْنَا عَلِيًّا عَنْ تَطَوُّعِ النبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالنَّهَارِ؟ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَا تُطِيقُونَهُ قال: قُلْنَا: أَخْبِرْنَا بِهِ نَأْخُذْ مِنْهُ مَا اَطقْنَا قَالَ: كَانَ إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ أمْهل حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا –يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ- مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ هَاهُنَا - مِنْ قِبَلِ الْمَغْرِبِ- قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ. ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ مِنْ هَاهُنَا –يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ- مِقْدَارُهَا مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ مِنْ هَاهُـنَا- يَعْنِي: مِنْ قِبَلِ الْمَغْـرِبِ- قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا وَأَرْبَعًا قَبْلَ الْعَصْرِ يَفْصِلُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ، (يَجْعَلُ التَّسْلِيْم فِي آخِرِهِ) .
عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم نے علی‌رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے دن كے نوافل كے بارے میں سوال كیا تو انہوں نے كہا: تم اس كی طاقت نہیں ركھتے ۔ ہم نے كہا: آپ ہمیں بتایئے، جو ہماری طاقت میں ہوگا ہم اسے اختیار كر لیں گے۔ انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر كی نماز پڑھ لیتے تو جب تك سورج مشرق كی طرف سے اتنا اونچا نہ ہو جاتا جتنا عصر كی نماز كے بعد مغرب كی طرف وہ جاتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہتےاس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعت پڑھتے۔ اس كے بعد پھر ٹھہر رہتے حتی کہ سورج مشرق کی طرف سے اتنا بلند ہوجاتا جتنا کہ مغرب کی طرف بوقت ظہر ہوتا ہے (یعنی زوال سے کچھ دیر قبل) تو آپ كھڑے ہوجاتے اور چار ركعت نماز پڑھتے ،جب سورج ڈھل جاتا تو ظہر سے پہلے چار ركعت پڑھتے اور دو ركعتیں ظہر كے بعد پڑھتے ، چار ركعت عصر سے پہلے پڑھتے، اور ہر دو ركعتوں میں مقرب فرشتوں، انبیاء اور ان كے مسلمان پیرو كاروں پر سلام كہہ كر فاصلہ كرتے (نماز كے آخرمیں سلام پھیرتے)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (237) سنن إبن ماجه بَاب مَا جَاءَ فِيمَا يُسْتَحَبُّ مِنْ التَّطَوُّعِ بِالنَّهَارِ كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا رقم (1151) .
664
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَلَّى الْفَجْرَ تَرَبَّعَ فِي مَجْلِسِهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر كی نماز پڑھتے تو اپنی جگہ چار زانو ہو کر بیٹھ رہتے حتی كہ سورج طلوع ہو جاتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2954) سنن أبي داؤد بَاب فِي الرَّجُلِ يَجْلِسُ مُتَرَبِّعًا كِتَاب الْأَدَبِ رقم (4210)
665
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَلَّى هَمَسَ فَقَالَ: أَفَطِنْتُمْ لِذلِك؟ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ: مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يُقَاتِلْ هَؤُلَاءِ؟ أَوْ كَلِمَة شبهها، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ: أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا ،أَوِ الْجُوعَ ، أَوِ الْمَوْتَ، فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَكِلُ ذَلِكَ إِلَيْكَ، أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ فَقَامَ فَصَلَّى وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا، فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ: يَا رَبِّ أَمَّا الْجُوعُ أَوِ العَدُوّ فَلَا وَلَكِنَّ الْمَوْتُ، فَسُلِّطَ عَلَيْهِمِ الْمَوْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُـونَ أَلْفًا فَهَمْسـِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ: اللهمّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِـكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِك.
صہیب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے توسرگوشی کرتےفرمایا: كیا تم یہ بات سمجھے ہو؟ مجھے ایك نبی یاد آئے، جنہیں اپنی قوم میں سے كچھ لشكردیئے گئے اور كہا: ان لوگوں كے لئے كون كافی ہوگا یا كہا ان لوگوں سے كون قتال كرے گا؟ یا اسی سے ملتا جلتا جملہ كہا۔ اللہ تعالیٰ نے اس كی طرف وحی كی كہ اپنی قوم كے لئے تین چیزوں میں سے ایك اختیار كرو، یہ كہ میں ان پر دشمن مسلط كردوں ،یا بھوك یا موت مسلط كر دوں، انہوں نے اپنی قوم سے مشورہ كیا تو انہوں نے كہا كہ ہم معاملہ آپ کے سپردکرتے ہیں، آپ اللہ كے نبی ہیں۔ وہ نماز پڑھتے كھڑے ہوگئے ، اور جب وہ پریشان ہوتے تھے تو نماز پڑھتے تھے۔ اس نبی نے كہا: اے اللہ دشمن اور بھوك تو مسلط نہ كر، لیكن موت مسلط كر دے، اللہ تعالیٰ نے ان پر تین دن موت مسلط كر دی۔ ان میں سے ستر ہزار آدمی مر گئے۔میری سرگوشی جو تم دیكھ رہے ہو تو میں یہ كہتا ہوں: اے اللہ تیری مدد سے ہی ہم قتال كرتے ہیں اور تیری مدد كے ساتھ ہی ہم حملہ كرتے ہیں ، اور گناہ سے بچنے كی طاقت اور نیكی كرنے کی قوت تیری توفیق كے بغیر نہیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1061) مسند أحمد رقم (22801
666
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ بن وَائِلِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أن النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم :كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلاةِ قَبَضَ عَلَى شِمَالِهِ بِيَمِينِهِ .
علقمہ بن وائل اپنے والد سےبیان کرتے ہیں کہ: نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جب نماز میں کھڑے ہوتے تو اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کو گرفت میں لے لیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (2247) المعجم الكبير للطبراني رقم (17470) .
667
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة :كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذا قَام من اللَّيْل يَتَهَجَّدُ صَلَّى رَكْعَتَيْن خَفِيفَتَيْن .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات كو تہجد پڑھتے تو دو ہلكی ركعتیں پڑھتے(یعنی ان سے آغاز کرتے)۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3199) مستخرج أبي عوانة رقم (1790) .
668
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بن مَسْعُودٍ كَانَ صلی اللہ علیہ وسلم إِذَا كَانَ رَاكِعًا أَوْسَاجِدًا، قَالَ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ركوع یا سجدے كی حالت میں ہوتے تو یہ کلمات كہتے : اے اللہ تو پاك ہے ، اپنی تعریف كے ساتھ، میں تجھ سے بخشش طلب كرتا ہوں، تیری طرف رجوع كرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2084) المعجم الكبير للطبراني رقم (10149) .
669
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ يَحْيَى بْنِ یَزِيدَ الْهُنَائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قَصْرِ الصَّلَاةِ-وكُنْتُ أَخْرُجُ إِلَى الْكُوفَةِ فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى أَرْجِعَ- فَقَالَ أَنَسٌ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا خَرَجَ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةِ فَرَاسِخَ (شَّك شُعْبَةُ) قَصَرَ الصَّلاَة . وَفِي رِوَايَةٍ:( صَلَّى رَكْعَتَيْنِ) .
یحییٰ بن یزید ہنائی سے مروی ہے ،انہوں نے كہا كہ میں نے انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے قصر نماز كے بارے میں سوال کیا، میں كوفہ جایا كرتا تھا اور واپس لوٹنے تك دو ركعت نماز پڑھا كرتا تھا۔ انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ نے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تین میل یا تین فرسخ (شعبہ کو شک ہے) كے فاصلے تک (یا اس سے زیادہ) سفر كرتے تو نماز قصر كیا كرتے تھے، اور ایك روایت میں ہے( دو ركعتیں پڑھا كرتے تھے)
Takhreej
الصحيحة رقم (163) مسند أحمد رقم (11864) .
670
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ: أَفَطِنْتُمْ لِي؟ قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَعْجَبَ بِأُمَّتِهِ) فَقَالَ: مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ؟ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ (وَفِي الرَّوَايَةِ الْأُخْرَى: مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ؟ وَلَمْ يَشُكَّ) فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنِ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوِ الْجُوعَ أَوِ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا: أَنْتَ نَبِيُّ اللهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللهُ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: أَيْ رَبِّ! أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا، أَوِ الْجُوعُ فَلَا، وَلَكِنَّ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ (فِي يَوْمٍ) سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللهمَّ بِكَ أَحُوْل، وَبِكَ أَصُولُ، وَبِكَ .
صہیب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے توسرگوشی کرتے جسے نہ میں سمجھ سکا، اور نہ آپ ہمیں بتلاتے۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اسےسمجھتے ہو؟ ہم نے كہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: مجھے ایك نبی یاد آگئے، جنہیں ان كی قوم كے كچھ لشكر دیئے گئے،( اورایك روایت میں ہے:انہیں اپنی امت پر فخر ہوا)تو انہوں نے كہا: ان سے كون مقابلہ کریگا؟ یا ان لوگوں كے سامنے كون ٹھہر سکے گا؟ یا اس كے علاوہ كوئی بات كہی۔( اور دوسری روایت میں ہے: ان لوگوں كے سامنے ٹھر سکے سگا، اس میں شك نہیں) ان كی طرف وحی كی گئی كہ اپنی قوم كے لئے تین میں سے ایك بات اختیار كر لیں، یا تو ہم ان پر ان كے علاوہ دشمن مسلط كر دیں یا بھوك یاپھر موت مسلط كردیں؟انہوں نے اس بارے میں اپنی قوم سے مشورہ كیا تو انہوں نے كہا: آپ اللہ كے نبی ہیں، سب معاملہ آپ كے ہاتھ میں ہے، آپ ہمارے لئے( جو چاہیں) اختیار كر لیں۔ وہ نبی نماز كے لئے كھڑے ہوئے، وہ لوگ جب پریشان ہوتے تو فوراً نماز كے لئے كھڑے ہو جاتے ۔ جتنا اللہ نے چاہا اس نبی نے نماز پڑھی، پھر كہا: اے میرے رب ان كے علاوہ دشمن یا بھوك تو نہیں ،لیكن موت مسلط كر دے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط كر دی( ایك دن میں) ستر ہزار لوگ مر گئے۔میں اپنی سر گوشی میں كہتا ہوں:اے اللہ تیری توفیق كے ساتھ میں حملہ كرتا ہوں اور تیری مدد كے ساتھ میں قتال كرتا ہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (2459) مسند أحمد رقم (22801) .
671
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ أُمِّ الْقُرْآنِ رَفَعَ صَوْتَهُ وَقَالَ « آمِينَ » .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ام القرآن( فاتحہ) كی قرأٔت سے فارغ ہوتے تو اپنی آواز بلند كرتے اور كہتےآمین( اے اللہ قبول فرما)
Takhreej
الصحيحة رقم (464) سنن الدارقطني رقم (1289) .
672
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَمُرُّ بِالْقِدْرِ فَيَأْخُذُ الْعَرْقَ فَيُصِيبُ مِنْهُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَمْ يَتَوَضَّأْ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً . (وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَا تَوَضَّأَ وَلاَ تَمَضْمَضَ).
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیا كے پاس سے گزرتے تو گوشت کی بوٹی اٹھا کر اس میں سے کھا لیتےپھر نماز پڑھتے اور نہ وضو كرتے نہ پانی كو چھوتے، اور ایك روایت میں ہے نہ وضو كیا نہ كلی كی
Takhreej
الصحيحة رقم (3028) مسند أحمد رقم (24121) .
673
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ كانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي غَزْوَةِ تَبُوك إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى أَنْ يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ فَيُصَلِّيَهُمَا جَمِيعًا وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ عَجَّلَ الْعَصْرَ إِلَى الظُّهْرِ وَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ.
معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوك میں جب سورج كے زوال سے پہلے كوچ كرتے تو ظہر كو مؤ خر كر كے عصر كے ساتھ جمع كر لیتے، اور دونوں نمازیں اكھٹی ادا كرتے۔ اور جب سورج كے زوال كے بعد كوچ كرتے تو عصر كو ظہر كے ساتھ جمع كر كے جلدی ادا كرتے، پھر سفر كرتے۔ اور جب مغرب سے پہلے كوچ كرتے تو مغرب كومؤخر كر كے عشاء كے ساتھ ادا كرتے اور جب مغرب کے بعد سفر شروع کرتے تو عشاء کو مقدم کرکے مغرب کے ساتھ پڑھتے ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (164) سنن الترمذي كِتَاب الْجُمُعَةِ بَاب مَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ رقم (508)
674
Sahih

Chapters

1