TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اذان اور نماز كا بیان - اذان اور نماز كا بیان - Book 3 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 3 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 315 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

315 Hadith · 1 Chapters
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَوْنِ بن أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي سَفَرِهِ الَّذِي نَامُوا فِيهِ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ كُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللهُ إِلَيْكُمْ أَرْوَاحَكُمْ فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلاةٍ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا اسْتَيْقَظَ، وَمَنْ نَسِيَ صَلاةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا.
عون بن ابی جحیفہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایك سفر میں تھے لوگ اس طرح سوئےكہ سورج طلوع ہوگیا، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم مر چكے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہاری روحیں واپس لوٹا دیں تو جو شخص نماز سے سویا رہے، جب جاگ جائے تو نماز ادا كرے اور جو شخص نماز بھول جائے تو جب یاد آئے تو نماز ادا كر لے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (396)،المعجم الكبير للطبراني رقم (17728) .
675
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَنسِ بْنِ مَالَكٍ رضی اللہ عنہ قال: كَان الْمُؤَذِّنُ يُؤَذَّنُ عَلَى عَهِدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِصَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَيَبْتَدِرُ لُبَابُ أَصَحَابِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌السَّوَارِيَ يُصَلُّون الرَّكْعَتَيْن قَبْلَ الْمَغْرِبِ حَتَّى يَخْرُجَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَهُمْ يُصَلُّون. (فَيَجِيُء الْغَرِيْبُ فَيَحْسِبُ أَنَّ الصَّلاَةَ قَدْ صُلِّيَتْ مِنْ كَثْرَةِ مَنْ يُصَلِّيْهِمَا)، (وَكاَنَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ يَسِيْرٌ).
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں مو ذن مغرب كی اذان دیا كرتا ،تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم كے چنیدہ صحابہ ستونوں كی طرف جلدی جانے کی کوشش كرتے، مغرب سے پہلے دو ركعتیں ادا كرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نكلتے تو صحابہ نماز پڑھ رہے ہوتے( كوئی اجنبی آتا تو دو رکعت پڑھنے والوں کی کثرت کی وجہ سے وہ سمجھتا كہ نماز ہو چكی ہے) (اذان اور اقامت كے درمیان تھوڑا وقفہ ہوتاتھا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (234) مختصر قيام الليل لمحمد بن نصر رقم (41) .
676
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كَانَ نَبِيُّكُمْ إِذَا كَانَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، قَالَ:سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ.
عبداللہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتے ہیں كہ: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ركوع یا سجدے كی حالت میں ہوتے تو كہتے : اے اللہ تو پاك ہے، اپنی تعریف كے ساتھ میں تجھ سے بخشش طلب كرتا ہوں، اور تیری طرف رجوع كرتاہوں
Takhreej
الصحيحة رقم (3032) المعجم الكبير للطبراني رقم (10149).
677
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ إِبْرَاهِيم بن مُحَمَد بن الْمُنْتَشِر عن أَبِيه أَنَّه كَان يُصَلِّي بَعَد الْعَصْر رَكْعَتَيْن فَقِيل لَه: فَقَال: لَو لَم أُصَلِّهِما إِلَا أَنِّي رَأَيْتُ مَسْرُوقًا يُصَلِّيَهُمَا لَكَانَ ثِقَةً وَلَكِنِّي سَأَلَتُ عَائَشَة فَقَالَت: كَان رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَدَعُ رَكْعَتَيْن قَبـل الْفَجْر وَرَكْعَتَيْن بَعَد العَصْر
ابراہیم بن محمد بن منتشر اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ وہ عصر كے بعد دو ركعت پڑھا كرتے تھے۔ ان سے پوچھا گیا: تو انہوں نے كہا: میں یہ دوركعت نہ پڑھتا لیكن میں نے مسروق كو دیكھا ہے كہ وہ یہ دو ركعت پڑھا كرتے تھے۔ وہ ثقہ ہیں لیكن میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال كیا تو انہوں نے كہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر سے پہلے دو ركعت اور عصر كے بعد دو ركعت نہیں چھوڑا كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2920) مصنف ابن أبي شيبة.
678
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَائِشَةَ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِنَا .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بستروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3321) سنن النسائي كِتَاب الزِّينَةِ باب اللُّحُفُ رقم (5271).
679
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
) عن أَنس: كَان ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لَا يَقْنُت إِلَا إِذًا دَعَا لِقَوْمٍ أَو دَعَا عَلَى قَوْمٍ .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ قنوت صرف اس وقت کرتے جب کسی کے لئے دعا کرتے یا کسی کے خلاف دعا کرتے
Takhreej
الصحيحة رقم (639) صحيح ابن خزيمة رقم (597).
680
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَمَّنْ حَدَّثَهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نَصْنَعَ الْمَسَاجِدَ فِي دُورِنَا وَأَنْ نُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا .
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابی سے بیان كرتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌ہمیں حكم دیتے كہ ہم اپنے محلوں میں مسجدیں بنائیں، انہیں اچھی طرح بنائیں اور پاك صاف ركھیں
Takhreej
الصحيحة رقم (2724) مسند أحمد رقم (22065).
681
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أبي سعيد : أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَجْمَع بَيْن الصَّلَاتَيْن في السَّفَر.
ابو سعید سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں دو نمازیں جمع كیا كرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3040) المعجم الأوسط للطبراني رقم (5720).
682
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَنَس بن مالك الأشعري: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ .
انس بن مالك اشعری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس بات كو پسند كرتے تھے كہ مہاجرین و انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم كے قریب رہیں تاكہ وہ آپ كی حفاظت كر سكیں یا آپ سے سیکھ سکیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1409) سنن الترمذي كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب مَا جَاءَ لِيَلِيَنِّي مِنْكُمْ أُولُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهَى رقم (211).
683
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُحَدِّثُنَا عَامَّةَ لَيْلِهِ عَنْ بَنِى إِسْرَائِيلَ لَا يَقُومُ إِلَّا لِعُظْمِ صَلَاةٍ
عمران بن حصین‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں رات کا زیادہ تر حصہ بنی اسرائیل کے بارے میں بیان کرتے رہے اور صرف نماز کی عظمت کی وجہ سے اٹھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3025) مسند أحمد رقم (19139) .
684
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن سَالِم ابى النَّضْر ان النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَخْرُجُ بَعَدَ النِّداءِ إلى الْمَسْجِدِ فَإِذَا رَأَى اَهَلَ الْمَسْجِــــدِ قَلِيلًا جَلَسَ حَتَّى يَرَى مِنْهم جَمَاعَةً ثُمَّ يُصَلِّى وَكَانَ إِذَا خَرَجَ فَرَأَى جَمَاعَةً اَقَامَ الصَلَوةَ .
سالم بن ابی نضر سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اذان کےبعدمسجد كی طرف نكلا كرتے تھے ،جب مسجدمیں تھوڑے افراددیكھتے تو بیٹھ جاتے حتی كہ لوگ جمع ہو جاتے ،تو پھر نماز پڑھاتے، اور جب باہر نكلتے اور جماعت دیكھتے تو نماز كھڑی كر دیتے
Takhreej
الصحيحة رقم (3219) السنن الكبرى للبيهقي .
685
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ :كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَخْرُجُ يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ فَيَبْدَأُ بِالصَّلَاةِ فَإِذَا صَلَّى صَلَاتَهُ وَسَلَّمَ قَامَ (قائماً) (عَلي رِجْلَيهِ) فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ (بِوَجْهِه) وَهُمْ جُلُوسٌ فِي مُصَلَّاهُمْ فَإِنْ كَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِبَعْثٍ ذَكَرَهُ لِلنَّاسِ أَوْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ بِغَيْرِ ذَلِكَ أَمَرَهُمْ بِهَا وَكَانَ يَقُولُ تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا تَصَدَّقُوا وَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ ثُمَّ يَنْصَرِفُ .
ابو سعیدخدری‌رضی اللہ عنہ مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی اور عیدالفطر كے دن باہر نكلتے تو نماز سے ابتداء كرتے، جب نماز پڑھ لیتے اور سلام پھیر لیتے تو (اپنے پاؤں پر) كھڑے ہو جاتے اور( اپنے چہرے كا رخ لوگوں كی طرف کرلیتے۔ لوگ اپنی جگہ بیٹھے ہوتے، اگر کہیں فوج یا وفد بھیجنے کی ضرورت ہوتی تو لوگوں كے سامنے ذكر كردیتے، یا اس كے علاوہ كوئی اورضرورت ہوتی تو انہیں حكم دے دیتے، اور آپ فرمایا كرتے تھے : صدقہ كرو، صدقہ كرو، صدقہ کرو عورتیں زیادہ صدقہ كیا كرتی تھیں، پھر آپ واپس چلے جاتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2968) صحيح مسلم كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ رقم (1472) .
686
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عَامِر بن عَبدِ الله بن الزُبَيْر عن أَبِيه أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَان يَخْطُبُ بِمِخْصَرَة فِي يَدِه . ( )
عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ میں چھڑی لے کر خطبہ دیا كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3037) معرفة الصحابة لأبي نعيم رقم (3683) .
687
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ الْبَرَاء بْنُ عَازِبٍ : كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَسْجُدُ عَلَى ألْيَتَيِ الْكَفِّ .
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہتھیلیوں كے اندرونی گدا ز حصے پر سجدہ كیا كرتے تھے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2966) مسند أحمد رقم (17863) .
688
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن أَنَسٍ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً.
) انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایك سلام (بهی)كہا كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (316) المعجم الأوسط للطبراني رقم (8708) .
689
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزٰى أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ السَّبَّاحَةِ فِي الصَّلَاةِ.
عبدالرحمن بن ابزی سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنی شہادت كی انگلی سے اشارہ كیا كرتے تھے
Takhreej
الصحيحة رقم (3181) مسند أحمد رقم (14826) .
690
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَائَشَة قالتْ: كَان صلی اللہ علیہ وسلم يُصَلِّي بِمَكَّة رَكْعَتَيْن - يَعْني:- الْفَرَائِض، فَلَمَّا قَدِم الْمَدِيَنَة، وَفُرِضَتْ عَلَيه الصَّلاةُ أَرْبَعًا وَثَلَاثًا صَلَّى وَتَرَك الرَّكْعَتَيْن كَان يُصَلِّيِهُمَا بِمَكَّة تَمَامًا لِلْمُسَافِر .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مكہ میں دو ركعت نماز پڑھا كرتے تھے ۔ یعنی فرائض ، جب مدینے آئے تو آپ پر چار ركعت نما زفرض ہوئی، اور تین ركعت۔ آپ مكمل نماز پڑھتے، اور دو ركعتیں جو مكہ میں پڑھا كرتے تھے وہ مسافر كے لئے چھوڑدیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2815) مسند الطيالسي رقم (1628) .
691
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ وَأَبِي بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كان يُصَلِّی بِهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَرَّتِ امْرَأَةٌ بِالْبَطْحَاءِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا أَنْ تَأَخِرِي فَرَجَعَتْ حَتَّى صَلَّى ثُمَّ مَرَّتْ .
عبداللہ بن زید‌رضی اللہ عنہ اور ابو بشیر انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایك دن نماز پڑھا رہے تھے کہ ایك عورت بطحاء سے گزری، آپ نے اسے اشارہ كیا كہ پیچھے ہو جائے۔ وہ واپس ہو گئی۔ جب آپ نے نماز پڑھ لی تو اس کے بعد وہاں سے گزری۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3042) مسند أحمد رقم (20883) المعجم الكبير للطبراني رقم (18202) .
692
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلَّي عِنْدَ الْمَقَامِ، فَمَرَّ بِهِ أَبُوجَهْل بْن هِشَامٍ فَقَالَ: يَا مُحّمَّدْ! أَلَمْ أَنْهَكَ عَنْ هَذَا؟! وَتَوَعَّدَهُ ، فَأَغْلَظَ لَهُ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَانْتَهَرَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدْ! بِأَيِّ شَيْءٍ تُهَدِّدُني؟ ! أَمَا وَاللهِ إِنِّي لَأَكْثَرُ هَذَا الْوَادِي نَادِياً ، فَأَنْزَلَ اللهُ فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ۱۷﴾ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ۱۸﴾ (العلق) قَالَ ابْن عَبَّاسٍ: لَوْ دَعَا نَادِيَهُ أَخَذَتْهُ زَبَانِيَةُ الْعَذَابِ مِنْ سَاعَتِهِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ( ابراہیم) كے پاس نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل بن ہشام وہاں سے گزرا تو كہا: اے محمد ) صلی اللہ علیہ وسلم (كیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں كیا تھا؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو ڈرانے کی کوشش کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر غصے ہو گئے اور اسے ڈانٹا، اس نے كہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )تم كس وجہ سے مجھے دھمكا رہے ہو؟ واللہ میں اس وادی میں زیادہ حمایت یافتہ ہوں۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:سورۃ العلق :۱۷،۱۸﴾ ترجمہ: وہ اپنے حمایتی (مددگاروں)كو بلائے، ہم بھی عذاب فرشتوں كو بلالیں گے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے كہا: اگر وہ اپنے حمایتی كو بلاتا تو اسی لمحے عذاب كےفرشتے اسے پكڑ لیتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (275) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ بَاب وَمِنْ سُورَةِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ رقم (3272) .
693
Sahih
اذان اور نماز كا بیان
عن عبد الله بن مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَإِذَا أَرَادُوا أَن يَمْنَعُوهُمَا أَشَار إِلَيْهِم : أَن دَعُوهُمَا، فَلَمَا قَضَى الصَّلَاةَ وَضَعَهُمَا في حَجَره وَقَال: من أَحَبَّنِي فَلْيُحِبَّ هَذَيْن.
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو حسن اور حسین اچھل كر آپ كی پیٹھ پر چڑھ گئے۔ لوگوں نے انہیں منع كرنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌ نے انہیں اشارے سے منع كر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مكمل كر لی تو ان دونوں كو اپنی گود میں بٹھا لیا، اور فرمایا: جو مجھ سے محبت كرتا ہے وہ ان دونوں سے محبت كرے
Takhreej
الصحيحة رقم (312) مسند أبي يعلى الموصلي رقم (5242) .
694
Sahih

Chapters

1