عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لِأَبِي بَكْرٍ: أَيَّ حِينٍ تُوتِرُ؟ قَالَ: أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ: فَأَنَتَ يَا عُمَرُ؟ فَقَالَ آخِرَ اللَّيْلِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَأَخَذْتَ بِالْوُثْقَى وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بكررضی اللہ عنہ سےپوچھا: تم كس وقت وتر كی نماز ادا كرتے ہو؟ ابوبكررضی اللہ عنہ نے كہا: عشاء كی نماز كے بعد رات كے ابتدائی حصے میں۔ آپ نے فرمایا: عمر تم كب پڑھتے ہو؟ عمررضی اللہ عنہ نے كہا: رات كے پچھلے پہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو بكر! تم نے مضبوط كڑا پكڑ لیا ہے، اور اے عمر! تم نے قوت كو اختیار كیا ہے
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ بنو سلمہ مدینے كی ایك جانب آباد تھے۔ انہوں نے مسجد كے قریب منتقل ہونے كا ارادہ كیا تو یہ آیت نازل ہوئی: (سورۃ یٰس: ۱۲) ترجمہ: ہم مردوں كو زندہ كرتے ہیں، اور ان كے آگے بھیجے جانے والے اعمال اور نشانات لكھتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے نشانات لكھے جاتے ہیں۔ ابو سعید كہتے ہیں: اس آیت كے نزول كے بعد انہوں نے نقل مكانی نہیں كی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3500) سنن الترمذي كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ بَاب وَمِنْ سُورَةِ يس رقم (3150) .
عن رَجُلٍ مِّن بَنِي بَيَاضَة أَنَّ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اعْتَكَف الْعَشْر من رَمَضَان، وَقَال: إِن أَحَدَكُم إِذَا كَان في الصّلاة ، فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّه فَلَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُم بِالْقُرْآن فَتُؤْذُوا الْمُؤْمِنِين .
بنی بیاضہ كے ایك شخص سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان كا ایك عشرہ اعتكاف كیا اور فرمایا: تم میں سے كوئی شخص جب نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات كرتا ہے۔ اس وقت تم بلند آواز سے قرآن مت پڑھو كہیں تم مومنوں كو تكلیف دینے كاسبب نہ بن جاؤ۔
ابو تمیم جیشانی سے مروی ہے كہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے جمعے كے دن لوگوں كو خطبہ دیا اور كہا: ابو بصرہرضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان كی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایك نماز زائد دی ہے، جو وتر ہے، اسے تم نماز عشاءاور نماز فجر كے درمیان پڑھ سكتے ہو۔ ابو تمیم نے كہا: ابو ذررضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پكڑا اور مسجد میں ابو بصرہ رضی اللہ عنہ كی طرف لے گئے، اور اس سے كہا: كیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو عمرو رضی اللہ عنہ بیان كر رہے ہیں؟ ابو بصرہرضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔
عن أبي سعيد الْخُدْرِيّ، قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله عزوجل زَادَكُم صَلَاة إلى صَلَاتِكُم هِيَ خَيْر لكم من حُمُر النَّعَم أَلَا وَهِي الرَّكْعَتَان قَبَّل صَلَاة الْفَجْر
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل نے تمہیں ایك نماز زائد دی ہے۔ یہ تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے، یہ نماز فجر سے پہلے كی دو ركعتیں ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1141) السنن الصغير للبيهقي رقم (582) .
عن أَنس قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ الله لَيُنَادِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ جِيرَانِي؟ أَيْن جِيرَانِي؟ قَالَ: فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: رَبَّنَا وَمَن يَنْبَغِي أَنْ يُّجَاوِرَكَ:؟ فَيَقُول: أَيْن عُمَّار الْمَسَاجِد؟
انسرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن ندا دے گا میرے پڑوسی كہاں ہیں؟ میرے پڑوسی كہاں ہیں؟ فرشتے كہیں گے: اے ہمارے رب كس كے لائق ہےكہ وہ آپ كا پڑوسی بنے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: مساجد كو آباد كرنے والے كہاں ہیں؟
عَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ: إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور فرشتے ان لوگوں پر رحمت و بركت بھیجتے ہیں جو صفوں كو ملاتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2234) سنن إبن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب إِقَامَةِ الصُّفُوفِ رقم (985) .
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللهُ بِهَا دَرَجَةً
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ اور اس كے فرشتے ان لوگوں پر رحمت و بركت بھیجتے ہیں جو صفوں كو ملاتے ہیں ، اور جس شخص نے خالی جگہ كو پر كیا اللہ تعالیٰ اس كے بدلے ایك درجہ بلند كر دے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (2532) سنن إبن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب إِقَامَةِ الصُّفُوفِ رقم (985) .
براءرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ ہم عیدالاضحی كے دن( عیدگاہ میں) بیٹھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كا انتظار كر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور لوگوں كو سلام كیا اور فرمایا: یقینا آج کے دن پہلی عبادت نماز ہے۔ آپ آگے بڑھے اور لوگوں كو دو ركعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیر دیا۔ اس كے بعد لوگوں كی طرف اپنا رخ كر كے متوجہ ہوئے، آپ كو ایك كمان یا لكڑی دی گئی آپ نے اس کا سہارا لیا، اللہ كی حمدو ثناء بیان كی، اورنیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع كیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1678) المعجم الكبير للطبراني رقم (1154) .
عن أبي مَوسَى الْأَشْعَرِيّ، قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَومَ الْقِيَامَة عَلَى هَيْئَتِهَا، وَيَبْعَثُ الْجُمُعَةَ زَهْرَاءَ مُنِيرَة، أَهْلُهَا يحفون بِهَا كالعَروس تُهـدى، إلى كَريمِها تُضـِيءُ لَهـم، يَمْشُون في ضَوْئِهَـا، أَلْوَانُهُـم
كالثَّلجِ بَيَاضًا، ورِيحُهم تَسْطعُ كَالْمِسْك يَخُوضُون في جِبَال الْكَافُور، يَنْظُرُ إِلَيْهِم الثَّقَلَان ما يطرفون تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُوا الْجَنَّة، لَا يُخَالِطُهُم أَحدٌ إِلَا الْمُؤَذِّنُون الْمُحْتَسِبُون
ابو موسیٰ اشعریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت كے دن،دنوں( ایام) كو ان كی حالت میں ظاہر كرے گا، اور جمعہ كے دن كو چمكتا ہوا ستارہ بنا كر ظاہر كرے گا، اہل جمعہ اس کو اس طرح گھیرے ہوئے ہوں گے جیسے دلہن کو اس کےشوہر کی طرف بھیجتے ہوئے گھیر لیا جاتا ہے۔یہ ان کے لئے روشنی کرے گا۔ اور وہ اس كی روشنی میں چلیں گے، ان كے رنگ برف كی طرح سفید ہونگے ، ان كی خوشبو كستوری كی طرح پھوٹ رہی ہوگی، وہ كافور كے پہاڑوںمیں مگن ہوں گے۔ جن و انس انہیں دیكھ رہے ہوں گے۔ وہ خوشی سے کسی کی طرف التفات نہیں کریں گے، حتی كہ وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے۔ان كے ساتھ صر ف ثواب كی نیت سے اذان دینے والوں كے علاوہ كوئی شریك نہ ہوگا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (706) شعب الإيمان للبيهقي رقم (2905) .
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ خَيْرَ مَا رُكِبَتْ إِلَيْهِ الرَّوَاحِلُ مَسْجِدِي هَذَا وَالْبَيْتُ الْعَتِيقُ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین جگہ جس كی طرف لوگ سوار ہو كر آئیں گے وہ میری یہ مسجد ہے، اور بیت اللہ خانہ كعبہ ہے۔
حذیفہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ انہوں نے شبث بن ربعی كو اپنے سامنے تھوك پھینكتے ہوئے دیكھا توكہا: اے شبث اپنے سامنے نہ تھوكو، كیونكہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع كرتے تھے، اور آپ نے فرمایا : جب آدمی كھڑا ہو كر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا رخ كر كے اس كی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، حتی كہ وہ شخص واپس پلٹ جائے یا كوئی بری حركت كرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1596) سنن إبن ماجه كِتَاب إِقَامَةِ الصَّلَاةِ وَالسُّنَّةِ فِيهَا بَاب الْمُصَلِّي يَتَنَخَّمُ رقم (1013) .
عن أبي هُرَيْرَة مرفوعا: إِن الرجل لَيُصَلِّي سِتِّين سَنَةً ما تُقْبَل لَه صَلَاةٌ لَعَلَّه يُتِمُّ الـرُّكُوعَ وَلَا يُتِـمُّ السُّجُودَ وَيُتِمُّ السُّجُودَ وَلَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : آدمی ساٹھ سال تك نماز پڑھتا رہتا ہے اور اس كی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی، شاید اس نے كبھی ركوع مكمل كیا ہو، اور سجدہ مكمل نہ كیا ہو، یا سجدہ مكمل كیا ہو لیكن ركوع مكمل نہ كیا ہو؟
نافع بن سرجس سے مروی ہے كہ وہ ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے صحابی كے پاس ان كے مرض الموت میں آئے ، تو انہوں نے كہا: یقینا اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں كو ہلكی نماز پڑھایا كرتے تھے، اور خود تنہا لمبی نماز پڑھا كرتے تھے
زہری سے مرسلا مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر كے دن نكلتے تو تكبیر كہتے ہوئے عید گاہ میں پہنچتے ، حتیٰ کہ نماز مكمل كرلیتے۔ جب نماز مكمل كر لیتے تو تكبیر كہنا ختم كر دیتے۔
ہلال بن یساف سے مروی ہے انہوں نے كہا: میں رقہ آیا، مجھے میرے كسی ساتھی نے كہا: كیا تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے كسی صحابی سے ملاقات كرنے میں دلچسپی ہے؟ میں نے كہا: یہ تو غنیمت كی بات ہے۔ ہم وابصہ رضی اللہ عنہ كی طرف گئے۔میں نے اپنے ساتھی سے كہا: ہم ان كی حالت (وضع قطع) کی طرف دیكھنا شروع كرتے ہیں۔ كیا دیكھتے ہیں ان پر ایك دو كانوں والی ٹوپی اور ایک خاکی رنگ کا اونی سر پر پہننے کا کپڑا لپیٹے ہوئے ہیں۔ اور وہ اپنی نماز میں لاٹھی پر ٹیك لگائے ہوئے ہیں۔ سلام كرنےکے بعد ہم نے ان سے پوچھا؟ انہوں نے كہا: مجھے ام قیس بنت محصن نے بیان كیا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عمر رسیدہ ہو گئے ، اور اور جسم قدرے بھاری ہوگیا۔ تو آپ نے اپنی نماز كی جگہ میں ستون بنوالیا تھا، جس پر آپ ٹیك لگایا كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3506) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ رقم (581) .
- الصحيحة رقم (3036) المعجم الكبير للطبراني رقم (15352) .
عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی اللہ علیہ وسلم يَقُولُ: إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّـلَاةِ ذَهَبَ حَـتَّى يَكُونَ مَكَانَ الرَّوْحَاء
جابررضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: شیطان جب آذان كی آواز سنتا ہے تو بھاگ كر مقام روحاء تك پہنچ جاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3506) صحيح مسلم كِتَاب الصَّلَاةِ بَاب فَضْلِ الْأَذَانِ وَهَرَبِ الشَّيْطَانِ عِنْدَ سَمَاعِهِ رقم (581) .
عاصم بن عمر بن قتادہ اپنے والد سے وہ ان كے دادا قتادہ بن نعمانرضی اللہ عنہ سے بیان كرتے ہیں، انہوں نے كہا: رات انتہائی سیاہ اور برسات والی تھی، میں نے سوچا اگر میں اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ساتھ عشاء كی نماز میں حاضر ہو نے كی سعادت حاصل كر لوں، تو بہت اچھا ہوگا۔ میں نے ایسا ہی كیا، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو مجھ پر نظر پڑی، آپ كے پاس ایك كھجور كی ٹہنی تھی جس كے سہارے آپ چل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قتادہ تمہیں كیا ہوا،اس وقت یہاں پر؟میں نے كہا: اے اللہ كے رسول میں آپ كے ساتھ نماز پڑھنے كی سعادت حاصل كرنا چاہتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كھجور كی ٹہنی دے دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شیطان تمہارے پیچھے تمہارے گھر والوں كے پاس آیا ہے۔ اس ٹہنی كو لے جاؤ ،گھر پہنچنے تك اسے مضبوطی سے پكڑے ركھو، اسے گھر كے پچھواڑے میں پكڑ كر اس ٹہنی سے مارنا۔ میں مسجد سے نكلا تو ٹہنی شمع كی طرح روشن ہو گئی میں اپنے گھر والوں كے پاس آیا تو انہیں سویا ہوا پایا۔ میں نےاس طرف دیکھا تو ایک سیہہ(ایک جانور جس کے پورے جسم پر کانٹے ہوتےہیں) پر نظر پڑی میں اسے اس ٹہنی سے مارتا رہا حتی كہ وہ بھاگ گیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3036) المعجم الكبير للطبراني رقم (15352) .
سالم ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں غیر شادی شدہ نو جوان تھا، مسجد میں سویا كرتا تھا۔ ہم میں سے جو شخص خواب دیكھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كرتا۔ میں نے دعا كی: اے اللہ اگر تیرے پاس میرے لئے كوئی بھلائی ہے تو مجھے كوئی خواب دكھا جس كی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں۔میں سوگیا، میں نے دو فرشتے اپنی طرف آتے ہوئے دیكھے، وہ مجھے لے گئے، ان دونوں كو ایك تیسرا فرشتہ ملا، اس نے كہا: دُور نہیں پھر وہ دونوں مجھے آگ( جہنم) كی طرف لے گئے۔ وہ كنویں كی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ اس میں كچھ لوگ تھے۔ بعض كو میں نے پہچان لیا۔ پھر انہوں نے مجھے دائیں طرف لے گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے خواب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان كیا۔ حفصہ سالم ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان كرتے ہیں ،انہوں نے كہا كہ: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے زمانے میں غیر شادی شدہ نو جوان تھا، مسجد میں سویا كرتا تھا۔ ہم میں سے جو شخص خواب دیكھتا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كرتا۔ میں نے دعا كی: اے اللہ اگر تیرے پاس میرے لئے كوئی بھلائی ہے تو مجھے كوئی خواب دكھا جس كی تعبیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتائیں۔میں سوگیا، میں نے دو فرشتے اپنی طرف آتے ہوئے دیكھے، وہ مجھے لے گئے، ان دونوں كو ایك تیسرا فرشتہ ملا، اس نے كہا: دُور نہیں پھر وہ دونوں مجھے آگ( جہنم) كی طرف لے گئے۔ وہ كنویں كی طرح لپٹی ہوئی تھی۔ اس میں كچھ لوگ تھے۔ بعض كو میں نے پہچان لیا۔ پھر انہوں نے مجھے دائیں طرف لے گئے، جب صبح ہوئی تو میں نے خواب ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان كیا۔ حفصہ نے یہ خواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كو بیان كیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ نیك آدمی ہے، اگر یہ رات كو كثرت سے نماز پڑھے۔ سالم نے كہا: پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ كثرت سے نماز پڑھا كرتے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3533) سنن إبن ماجه كِتَاب تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا بَاب تَعْبِيرِ الرُّؤْيَا رقم (3909) .