TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - Book 4 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 4 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

129 Hadith · 1 Chapters
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن جَابِر بن عبدالله، أَنَّه سَمِعَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقولُ: إِذَا طَعِمَ أَحَدُكُم فَسَقَطَتْ لُقْمَتُه مِنْ يَدَهِ فَلْيُمِطْ مَا رَابَه مِنْها، وَلْيَطْعَمْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَان، وَلَا يَمْسَحُ يَدَه بِالْمِنْدِيل حَتَّى يَلْعَقَ يَدَهُ، فَإِنَّ الرَّجُلَ لَا يَدْرِي في أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَك لَه، وَإِن الشَّيْطَان يَرْصُدُ النَّاسَ أَوِالْإِنْسَان عَلَى كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى عِنْدَ مَطْعَمِهِ أَوطَعَامِه، وَلَا يَرْفَع الصَّحْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا، أَويُلْعِقَهَا فَإِنَّ في آخَرِ الطَّعَامِ بَرَكَةٌ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انو ں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: جب تم مںك سے كوئی شخص كھانا كھائے اور لقمہ گر جائے توجواسے لگا ہے اسے صاف كر كے كھالے۔ اسے شطا ن كے لئے نہ چھوڑے، اور جب تك اپنا ہاتھ چاٹ نہ لے رومال سے صاف نہ كرے۔ كیونكہ انسان نہیں جانتا كہ كونسے لقمے میں اس كے لئے بركت ہے، شیطان ہر چیز پر انسان كے راستے میں گھات لگائے بٹھا ہے۔ حتی كہ اس كے كھانے كے وقت بھی، اور پلٹن جب تك چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ لے نہ اٹھائے۔ كیونكہ كھانے كے آخری حصے میں بركت ہوتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1404) ، صحيح ابن حبان رقم (5343) .
810
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن أبي هريرة قَالَ: قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِذَا وَقَعُ الذُّبَابُ في شَرَابِ أَحَدِكُم فَلْيَغْمِسْه (كُلَّه) ثُمَّ لِيَنْتَزِعَهُ، فَإِن في إِحْدَى جَنَاحَیْہِ دَاءً وفي الْأُخْرَى شِفَاءً.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب مكھی تمہارے دودھ (چائے وغیرہ) میں گر جائے تواسے (پورا) ڈبودے كیونكہ اس كے ایك پر میں بیما ری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (38) ، البخاري ( 2 / 329 و 4 / 71 - 72 ) .
811
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن أَنس، أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَخَلَ بَيْتَ عَائشَة، فَرَأَى لَحْمًا، فَقَالَ: اشْوُوا لَنَا مِنْه فَقَالُوا: يَا رَسُولَ الله، إِنَّهَا صَدَقَةٌ، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : اشْوُوا لَنَا مِنْه، فَقَد بَلَغ مَحَلَّهُ.
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم عائشہ رضی اللہ عنہا كے گھر میں داخل ہوئے توگوشت دیكھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے ہمارے لئےبھون دو، انھوں نے كہا: اے اللہ كے رسول یہ (بریرہ رضی اللہ عنہا کے لئے بطور) صدقہ (آیا) ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس گوشت میں سے ہمارے لئے بھون دوکیونکہ یہ اپنی جگہ پہنچ چكا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2546) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (2999) .
812
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانَ يَصُومُ فَتَحَيَّنْتُ فِطْرَهُ بِنَبِيذٍ صَنَعْتُهُ فِي دُبَّاءٍ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهِ فَإِذَا هُويَنِشُّ فَقَالَ: اضْرِبْ بِهَذَا الْحَائِطَ فَإِنَّ هَذَا شَرَابُ مَنْ لَا يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ.
) ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كتے، میں كہ مجھے معلوم تھا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے روزہ ركھا ہوا ہے، میں نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی افطاری كے لئے کدوکے برتن میں نبیذ تیار کی ۔ پھر میں اسے آپ كے پاس لایا، کیا دیکھتاہوں کہ نبیذجوش مار رہی ہے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے دیوار پر دے مارو، كیونكہ یہ ان لوگوں كا مشروب ہے جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان نہیں ركھتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3010) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب فِي النَّبِيذِ إِذَا غَلَى، رقم (3228) .
813
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنِ الْحَسَنِ بن عَلِيٍّ رضی اللہ عنہ ، مرفوعا: أَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَأَطِيْبُوا الْكَلامَ .
حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: كھانا كھلاؤ اور اچھی بات كو ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1465) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (2697) .
814
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن مُحَمَد بن زَيَاد قال: كَان عَبْدُ الله بْنُ الْحَارِثِ يَمُرُّ بِنَا فيقول: قال رسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَطْعِمُوا الطَّعَام، وأَفْشُوا السَّلَام، تُورَثُوا الْجِنَان.
محمد بن زیادسے مروی ہے كہ عبداللہ بن حارث‌رضی اللہ عنہ ہمارے پاس سے گزرے توكہنے لگے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كھاناكھلاؤ، سلام پھیلاؤ، جنتوں كے وارث بن جاؤ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1466) ، رواه المقدسي في المختارة ( 135 / 1 ) .
815
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَعْطَانِي رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌شَيْئاً مِّنْ تَمْرٍ فَجَعَلْتُهُ فِي مِكْتَلٍ لَنَا فَعَلَّقْنَاهُ فِي سَقْفِ الْبَيْتِ فَلَمْ نَزَلْ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى كَانَ آخِرُهُ أَصَابَهُ أَهْلُ الشَّامِ حَيْثُ أَغَارُوا عَلَى الْمَدِينَةِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے كچھ كھجوریں دیں۔ مںُ نے اسے کھجور کے پتوں کے بنے ہوئے ٹوکرے میں ركھ كر گھر كی چھت کے ساتھ لٹكا دیا اور ہم اس میں سے كھاتے رہے حتی كہ اس كی آخری كھجوریں شام والوں كے ہاتھ لگںْ۔ جب انولں نے مدیہپ پر حملہ كات۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3162) ، مسند أحمد رقم (7984) .
816
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن جَابِر بن سمرة، أَن رَجُلًا كَانَتْ لَه نَاقَةٌ بِالْحَرَّة فَدَفَعَهَا إلى رَجُلٍ وَقَد كَانَتْ مَرِضَتْ فَلَمَّا أَرَادَتْ أَن تَمُوتَ قَالَت لَه امْرَأَتَهُ: لَونَحَرْتَهَا وَأَكَلْنَا مِنها فَأَبَى وَأَتَى رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَذَكَرَ لَه ذَلِكَ فَقَال: أَعِنْدَكُم ما يُغْنِيكُم ؟ قال: لَا قال: فَكُلُوهَا – يعني: النَّاقَةَ- وكَانَت قَدْ مَاتَتْ قَالَ: فَأَكَلْنَا من وَدَكِهَا وَلَحْمَهَا وَشَحْمَهَا نَحواً من عِشْرِين يَوْمًا ثم لَقِي صَاحِبُهَا فَقَال لَه: أَلَا كَنْتَ نَحَرْتَهَا؟ قال: إِنِّي اسْتَحْيَيْتُ مِنْكَ.
جابر بن سمرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ (حرہ) میں ایك آدمی كی اونٹنی تھی۔اس نے ایك آدمی كووہ اونٹنی دے دی، اونٹنی بیمار ہوگئی، جب وہ مرنے لگی تواس كی بیوی نے اس سے كہا: اگر تم اسے نحر كر دواور ہم اس كا گوشت كھائیں، اس نے انكار كر دیا۔وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور اس بات كا تذكرہ كیا ، آپ نے فرمایا: كیا تمہا رے پاس اتنی خوراك ہے جو تمہیں كافی ہو؟ اس نے كہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: تب اسے كھالو۔ اونٹنی مرچکی تھی، اس نے كہا: ہم نے اس کا،گوشت اور چربی تقریباً بیس دن كھائی، پھر اس كا مالك ملا تواس نے اس سے كہا: تم نے اسے نحر كیوں نہ كر دیا؟ اس نے كہا: مجھے تم سے شرم آتی تھی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2702) ، مسند الطيالسي رقم (8059) .
817
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن جَابِر: أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مُرَّ عَلَيه بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِه، فَقَال: أَمَا بَلَغَكُم أَنِّي قَد لَعَنْتُ مَنْ وَسَمَ الْبَهِيمَة في وَجْهِهَا، أَوضَرْبَهَا في وَجْهِهَا ؟! فَنَهَى عن ذَلِك.
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے ایك گدھا گزرا، جس كے چراے پرنشانات بنائے گئے تھےآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:كیا تمہیں یہ اطلاع نہیں ملی كہ جس شخص نے جانور كے چہرےپر نشانات بنائےیا اس كے چہر ے پر مارا، میں نے اس پر لعنت كی ہے؟آپ نے اس كام سے منع فرمادیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1549) ، سنن أبي داؤد ( 1 / 401 - 402 ) .
818
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَمَرَ بِحَدِّ الشِّفَارِ وَأَنْ تُوَارَى عَنِ الْبَهَائمِ إِذَا ذَبَحَ أَحَدُكُمْ فَلْيُجْهِزْ.
سالم بن عبداللہ( بن عمر) رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے چھری تیز كرنے اور جانوروں سے چھپانے كا حكم دیا اور جب تم میں سے كوئی شخص ذبح كرےتوپہلے جلدی کرے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3130) ، مسند أحمد رقم (3163) .
819
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن أَم عبد الله أُخْت شِدَاد بن أَوْس أَنَّها بَعَثَتْ إلى النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِقَدحِ لَبَن عِنْد فِطْرِه وَذَلك في طُوْلِ النَّهَار وَشِدَّة الْحَرِّ فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَها: أَنَّى لَكِ هذا اللَّبَن ؟ فقَالَت: لَبَنٌ مِنْ شَاةٍ لِي. فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولها: أَنَّى لَك هَذِه الشَاة ؟ قَالَت: اشْتَرَيْتُهَا من مَالِي، فَشَرِبَ فَلَمَا كَان مِن الْغَدِ أَتَتْ أَمُّ عَبْدِ الله رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ الله بَعَثْتُ إِلَيْكَ بِذَلِكَ اللَّبَن مُرَثَيِةً لَك من طُول النَّهَار وشدَّة الْحَرَّ فَرَدَدْتَّ إِلَيَّ فِيْهِ الرَّسُول؟ فَقَال رَسُول اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أُمِرَتِ الرُّسُلُ قَبْلِي أَلَّا تَأْكُلَ إِلَا طَيِّبًا وَلَا تَعْمَلَ إِلَا صَالِحًا
ام عبداللہ اخت شداد بن اوس سے مروی ہے كہ اس نے رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس افطار كے وقت دودھ كا ایك پیالہ بھیجا(۔ یہ روزہ ایک طویل اور شدید گرمی کے دن میں تھا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نےخادم کوواپس لوٹادیا اور پوچھا کہ: یہ دودھ كہاں سے آیا ہے؟ انہوں نے كہا كہ یہ میری بكری كا دودھ ہے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے دوبارہ پوچھا: یہ بكری كہاں سے آئی ہے؟ انہوں نے كہا: میں نے اپنے پیسوں سے خریدی ہے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے وہ دودھ پی لیا۔ دوسرے دن ام عبداللہ، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئیں اور كہا: اے اللہ كے رسول ! میں نے آپ كی طرف گرمی کی شدت اور دن کی طوالت کا خیال کرتے ہوئے دودھ بھیجا تھا،توآپ نے اس دودھ کے بارے میں خادم کوواپس بھیج دیا۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھ سے پہلے رسولوں كوحكم دیا گیا تھا كہ صرف حلال وپاكیزہ ہی كھائیں اور نیک عمل كریں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1136) ، مستدرك الحاكم رقم (7259) .
820
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ سَعِيدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي سَلَمَةَ فَأَتَانَا بِزُبْدٍ وَكُتْلَةٍ فَأَسْقَطَ ذُبَابٌ فِي الطَّعَامِ فَجَعَلَ أَبُوسَلَمَةَ يَمْقُلُهُ بِأُصْبُعِهِ فِيهِ فَقُلْتُ: يَا خَالُ! مَا تَصْنَعُ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ أَحَدَ جَنَاحَيِ الذُّبَابِ سُمٌّ وَالْآخَرَ شِفَاءٌ فَإِذَا وَقَعَ فِي الطَّعَامِ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّهُ يُقَدِّمُ السُّمَّ وَيُؤَخِّرُ الشِّفَاء.
سعدِ بن خالد سے مروی ہے كہ میں ابوسلمہ كے پاس آیا۔ ہمارے پاس مکھن، اور کھجور کا حلوہ آیا، ایك مكھی كھانے میں گر گئی۔ ابوسلمہ اپنی انگلی سے اسے كھانے میں غوطے دینے لگے۔ میں نے كہا:ماموں جان!یہ آپ كیا كر رہے ہیں؟ انہوں نے كہا:ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے مجھے حدیث بیان كی كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مكھی كے ایك پر میں زہر ہوتا ہے اور دوسرے میں شفا، جب مكھی كھانے میں گر جائے تواسے غوطے دے لوكیونكہ وہ زہر كومقدم ركھتی ہے اور شفا كوموخر۔
Takhreej
الصحيحة رقم (39) ، مسند أحمد رقم (11216) .
821
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنِ إِبْرَاهِيم بن سَعِد، عن أَبِيه، عن جَدِّه، قال: سَمِعْتُ عَمَّارَ بن يَاسِرٍ، بِصِفِّين في الْيَوْم الَّذِي قُتِلَ فِيه، وَهويُنَادِي: أُزْلِفَتِ الْجَنَّة، وَزُوِّجَتِ الْحُوْرُ الْعِيْنُ، الْيَوْمَ نَلْقَى حَبِيْبَنَا مُحَمَّداً ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وفي رواية: نَلْقَى الأَحِبَّةَ وَحِزْبَهُ عَهِدَ إِلَيَّّ أَنَّ آخِرَ زَادَكَ مِنَ الدُّنْيَا ضَيْحٌ مِنْ لَبَنٍ.
ابراہیم بن سعد اپنے والد سے وہ ان كے دادا سے بیان كرتے ہیں، انہوں نے كہا كہ میں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے(صفنا) كے مقام پر ان كے قتل والے دن سنا كہہ رہے تھے: جنت قریب آگئی ہے، اورحور عین كی شادی كر دی گئی ہے۔ آج كے دن ہم اپنے حبیب محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے ملیں گے۔ اور ایك روایت میں ہے۔ ہم اپنے پیاروں محمد صلی اللہ علیہ وسلم اوران كی جماعت سے ملیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےمجھ سے عہد لیا تھا كہ دنیا میں ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تمہارا آخری كھانا پانی اور دودھ ہو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3217) ، مستدرك الحاكم (5689) .
822
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أُمَّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ:إِنَّ الَّذِي يَشْرَبُ فِي إِنَاءِ الْفِضَّةِ (والذهب)، إِنَّمَا يُجَرْجِرُ فِي بَطْنِهِ نَارَ جَهَنَّمَ، إِلا أَنْ يَتُوبَ.
ام سلمہ ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ شخص جوچاندی( اور سونے) كے برتن میں. مشروب پیتا ہے وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتا ہے ، سوائے اس صورت میں کے وہ توبہ كرلے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3417) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (19364) .
823
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِنَّ اللهَ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأَكْلَةَ فَيَحْمِدَهُ عَلَيْهَا أَويَشْرَبَ الشَّرْبَةَ فَيَحْمَدَهُ عَلَيْهَا.
) انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ اس بندے سے خوش ہوتا ہے جوایك لقمہ كھاتا ہے اور اللہ كا شكر ادا كرتا ہے یا ایك گھونٹ پانی پیتا ہے اور اللہ كا شكر ادا كرتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1651) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ، بَاب اسْتِحْبَابِ ... ، رقم (4915) .
824
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن ابن عَبَاس مرفوعا: إِن الْبَرَكَة وَسَطَ الْقَصْعَة، فَكُلُوا من نَوَاحِيهَا، ولَا تَأْكُلُوا من رَأْسَهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ برتن كے درمیان میں بركت ہوتی ہے اس لئے اس كے اطراف سے كھاؤ اس كے اوپر سے نہ كھاؤ
Takhreej
الصحيحة رقم (1587) ، رواه الحميدي في مسنده ( 89 / 1 ) . - الصحيحة رقم (2985) ، مسند أحمد رقم (23861) .
825
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ عَائشَةَ قَالَتْ: أَهْدَتْ أُمُّ سُنْبُلَةَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم لَبَنًا فَدخَلَتْ عَليَّ بِه فَلَمْ تَجِدْهُ فَقُلتُ لَهَا: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ نَهَى أَنْ نَأْكُلَ طَعَامَ الْأَعْرَابِ فَدَخَلَ النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم وَأَبُوبَكْرٍ فَقَالَ النبي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أُمَّ سُنْبُلَةَ!مَا هَذَا مَعَكِ؟ قَالَتْ: لَبَنًا يَا رَسُولَ اللهِ أَهْدَيْتُه لَكَ قَالَ: اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ نَاوِلِي أَبَا بَكْرٍ ثم قَالَ: اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ نَاوِلِي عَائشَة ثم قال: اسْكُبِي أُمَّ سُنْبُلَةَ فَنَاوَلَتْه النَّبي صلی اللہ علیہ وسلم فَشَرِبَ قَالَتْ: فقلتُ: يَابردَهَا عَلَى الْكَبِدِ يَا رَسُولَ اللهِ! قد كُنْتَ نَهَيْتَ عَنْ طَعَامِ الْأَعْرَابِ قَالَ: يَا عَائشَةُ! إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِالْأَعْرَابِ هُمْ أَهْلُ بَادِيَتِنَا وَنَحْنُ أَهْلُ حَاضِرَتِهِمْ وَإِذَا دُعُوا أَجَابُوا فَلَيْسُوا بِأَعْرَابِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ ام سنبلہ نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌تحفتاً دودھ لائیں۔ وہ دودھ لے كر میرے پاس آئیں تورسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كونہ پایا، میں نے ان سے كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےہمیں بدوؤں كاكھاناكھانےسےمنع فرمایا ہے۔اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبكر صدیق‌رضی اللہ عنہ آگئے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ام سنبلہ! یہ تمہارے پاس كیا ہے؟ كنہے لگے: اے اللہ كے رسول! یہ دودھ آپ كے لئے تحفے میں لائی تھی، آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے ام سنبلہ دودھ ڈالواور ابوبكر كودو، پھر فرمایا: ام سنبلہ دودھ ڈالواور عائشہ كودو۔پھر فرمایا: ام سنبلہ دودھ ڈالو، اب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم كودودھ دیا توآپ نے پی لاد۔ اے میرے دل کے قرار، اے اللہ كے رسول ! كاش آپ نے بدؤوں كا كھانا كھانے سے منع نہیں فرمایا؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے عائشہ! یہ لوگ بدو نہیں بلكہ گاؤں والے ہیں، اور ہم شہر والے جب انہیں دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کرلی كیو نكہ (یہ)لوگ بدو نہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2985) ، مسند أحمد رقم (23861) .
826
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ الْأَوْعِيَةِ وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ قَالَ: إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمْ الْآخِرَةَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكَرَ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْبِسُوهَا بَعْدَ ثَلَاثٍ فَاحْبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ.
علی‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے قبروں كی زیارت،(کچھ)برتنوں اور تین دن كے بعد قربانی كا گوشت روكنے سے منع فرمایا تھا۔ پھر فرمایا: میں نے تمہیں قبروں كی زیارت سے منع كیا تھا، اب ان كی زیارت كرو، كیونكہ یہ آخرت كی یاد دلاتی ہیں۔ اور میں نے تمہیں:(کچھ)برتنوں سے منع كیا تھا اب ان میں پیو، اور ہر نشہ آور چیزوں سے بچو۔ اور میں نے تمہیں تین دن كے بعد قربانی كا گوشت روكنے سے منع كیا تھا اب جب تك تما را دل چاہے اسے روك لو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (886) ، مسند أحمد رقم (1173) .
827
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَرْفُوْعاً: إِنَّ طَعَامَ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ وَإِنَّ طَعَامَ الِاثْنَيْنِ يَكْفِي الثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ وَإِنَّ طَعَامَ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الْخَمْسَةَ وَالسِّتَّةَ
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ایك شخص كا كھانا دوكے لئے كافی ہوجاتا ہے اور دوآدمیوں كا كھانا تین اور چار كے لئے كافی ہوجاتا ہے، اور چار لوگوں كا كھانا پانچ اور چھ لوگوں كے لئے كافی ہوجاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1686) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ، بَاب طَعَامِ الْوَاحِدِ يَكْفِي الِاثْنَيْنِ، رقم (3246) .
828
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَإِنَّ مِنْ الْبُرِّ خَمْرًا وَإِنَّ مِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا.
نعمان بن بشرِ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: انگور میں نشہ ہے، كھجور میں نشہ ہے، شہد میں نشہ ہے،گندم میں نشہ ہے اور جَومیں نشہ ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1593) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب الْخَمْرِ مِمَّا هُوَ، رقم (3191) .
829
Sahih