قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ
اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ
اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - Book 4 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 4 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
ابوامامہ باہیب رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہےكہ ہر چیز سے ذبح کئے ہوئے جانور کا گوشت کھالو جس سے رگیں کٹ جائیں ماسوائے دانتوں کے کاٹنے اور ناخن کے سوراخ کرنے سے۔
واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثرید والے برتن کے درمیان (چوٹی) پر ہاتھ رکھا اور كہا: بسم اللہ كہہ كر اس كے اطراف سے كھاؤ، اس كے اوپر کے حصے كوچھوڑ دوكیونكہ بركت اوپر سے آتی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2030) ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ، بَاب النَّهْيِ عَنْ الْأَكْلِ مِنْ ذُرْوَةِ الثَّرِيدِ، رقم (3276) .
عَنْ عبد الله بن بسر قال: أهديت لِلنَّبِيّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شَاةٌ والطَّعَامُ يَوْمَئذٍ قَلِيلٌ، فَقَالَ لِأَهْلِه: اطْبُخُوا هَذِه الشَّاة وانْظُرُوا إلى هَذا الدَّقِيقِ فاخْبُزُوه واطْبُخُوا واثْرُدُوا عَلَيه، قَالَ: وكَان لِلنَّبِيّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَصْعَةٌ يُقَالُ لَهَا الْغَرَّاءُ يَحْمِـــلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ، فلمَّاأَصْبَحَ وسَبَّحُوا الضُّحَى أُتِىَ بِتِلْكَ الْقَصْعَة والْتَقَوْا عَلَيْهَا، فَإِذَا كَثُر النَّاسُ جَثَا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، فَقَال: أَعْرَابِيٌّ ما هَذِه الْجِلْسَة؟ فَقَال النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : إِن الله جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا ولَم يَجْعَلَنِي جَبَّارًا عَنِيدًا ثم قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُوا من جَوَانِبِهَا، ودَعُوْا ذِرْوَتَهَا يُبَارَك لَكُم فِيهَا، ثم قال: خُذُوا فَكُلُـوا، فوالذي نَفَس مُحَمَـد بِيَده لَيَفْتَحَنّ عَلَيْكُم أَرْضُ فَارِسِ والرُّومِ، حَتَّى يَكْثُرَ الطَّعَامُ فَلَا يُذْكَرُ اسْمُ الله.
عبداللہ بن بسر سے مروی ہے كہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم كوایك بكری تحفے میں دی گئی ۔ اس دن كھانا تھوڑا تھا۔ آپ نے اپنے گھر والوں سے كہا: اس بكری كوپكالو، اور اس آٹے كی طرف دیکھو اور روٹیاں بنالو، پكاؤ اور اس كی ثرید بناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كا ایك تھال تھا جسے غراءكہا جاتا تھا، اسے چار آدمی اٹھایا كرتے تھے۔ جب صبح ہوئی اور چاشت کی نماز پڑھ لی تووہ تھال لایا گیا۔ لوگ اس پر چڑھ گئے۔ جب لوگ زیادہ ہوگئے تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھٹنوں كے بل بیٹھ گئے۔ ایك بدونے كہا: آپ اس طرح كیسے بیٹھےہو ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے معزز بندہ بنایا ہے، مجھے سخت گیر سر كش نہیں بنایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس كے اطراف سے كھاؤ، اور اس كے درمیانی( اوپری) حصے كوچھوڑ دو، تمہارے لئے اس میں بركت ڈال دی جائے گی۔ پھر فرمایا: شروع کرو، اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم كی جان ہے، تم فارس وروم كی سلطنت فتح كروگے، اس وقت كھانا زیادہ ہوجائے گا، اور پھر اس پر اللہ كا نام بھی نہیں لیا جائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (393) ، الفوائد لأبو بكر الشافعي ( 98 / 1 )
عبداللہ بن ابی یزید سے مروی ہے كہ ابویزید نے بیان كیا : میں نے ام ایوب كے پاس قیام کیا جن كے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیا م كیا کرتے تھے۔ میں ان كے پاس ٹھہرا توانہو ں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے یہ حدیث بیان كی كہ: انہو ں نے پر تكلف كھانا بنایا، جس میں كچھ سبزیاں بھی تھیں، وہ كھانا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے قریب كیا گیا توآپ نے اسے نا پسند كیا اور اپنے ساتھیوں سے كہا : اسے كھالو،یعنی لہسن کو میں تمہاری طرح نہیں میں ڈرتا ہوں كہ كہیں میں اپنے ساتھی (یعنی فرشتے) كوتكلف نہ دوں۔( )
عائشہ رضی اللہ عنہ كہتی ہیں كہ علیرضی اللہ عنہ ایك سفر سے آئے توہم نے ان كے سامنے قربانی كا گوشت پیش کیا ۔ انہوں نے كہا: جب تك میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لوں اسے نہیں كھاؤں گا۔ كہتی ہیں كہ علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس) ذی الحجہ سے (اگلے) ذی الحجہ تك اسے كھا سكتے ہویعنی قربانی كے گوشت كو۔( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتےہیں كہ ہم اس كا نام سیركرنے والا(پیٹ بھر نے والا) ركھتے تھے،یعنی زم زم كا اور ہم گھر والوں كے لئے اسے بہتر ین سہارا سمجھتے تھے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2685) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (10489) .
عن سُلَيْمَان ابن بُرَيْدَة عن أَبِيه قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كَنْـتُ نَهَـيْتُكُم عـن لُحُـومِ الْأَضَـاحِيّ فَوْقَ ثَلَاثٍ لِيَتَّسِعَ ذَوالطَّوْلِ عَلَى مَنْ لَا طَوْل لَه، فَكُلُوا ما بَدَا لَكُم، وأَطْعِمُوا وادَّخِرُوا.
سماْ ن بن بریدہ اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تین دن كے بعد تمہیں ( قربانی كا گوشت كھانے سے منع كیا تھا تاكہ گنجائش ركھنے والا، تنگدست کوبھی شامل كر لے، اب جب تك تمہا را جی چاہے، كھاؤ، كھلاؤ اور ذخیرہ كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2685) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (10489) .
عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہتےہیں كہ جب یہ آیت (سورۃ المائدۃ ۹۳) نازل ہوئی: ترجمہ:ایسے لوگوں پر جوایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کوکھاتے پیتے ہوں جبکہ وہ لوگ تقوی رکھتے ہوں اور ایمان رکھتے ہوں اور نیک کام کرتے ہوں پھر پرہیزگاری کرتے ہوں اور خوب نیک عمل کرتے ہوں، اللہ ایسے نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔آپ نے مجھ سے كہا مجھے بتایا گیا ہے كہ تم ان میں سے ہو۔( )
عالیہ بنت سبیع سے مروی ہے كہتی ہیں كہ احد میں ہماری بكریاں تھیں، وہ مرنے لگ گئیں۔ میمو نہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس آئی اور ان سے اس بات كا تذكرہ كیا توانہوں نے كہا: اگر تم ان كی كھال اتار كر كام میں لے آتیں تواچھا ہوتا۔ میںِ نے كہا : كیا یہ جائز ہے؟ انہوں نے كہا : ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس سے كچھ قریشی مرد گزرے جوگدھے كی مانند اپنی ایك بكری كوكھینچ كر لے جا رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے كہا:اگر تم اس كا چمڑا اتار لیتےا تواچھا ہوتا۔ انہو ں نے كہا:یہ مردار ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:اسے پانی اور كیکر كی چھال پاك كردے گی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3486) ، صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائلِ الصَّحَابَةِ، بَاب مِنْ فَضَائلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ... ، رقم (4498) .
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَويَعْلَمُ الَّذِي يَشْرَبُ وَهُوقَائمٌ مَا فِي بَطْنِهِ لَاسْتَقَائهُ. ( )
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:وہ شخص جوكھڑا ہوكر پانی پیتار ہے اگر جان لے كہ اس كے پیٹ میں كیا ہے تووہ اسے قے كر دے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2163) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب اللِّبَاسِ، بَاب فِي أُهُبِ الْمَيْتَةِ ، رقم (3597) .
ابوہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے كوئی بھی شخص اپنے دائیں ہاتھ سے كھائے، دائیں سے پئیے، دائیں سے پكڑے اور دائیں سے دے۔ كیونكہ شیطان بائیں ہاتھ سے كھاتاہے، بائیں سے پیتا ہے، بائیں سے دیتا ہے اور بائیں سے پكڑتا ہے ۔
ام ہانی كہتی ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، اور فرمایا: ام ہانی كیاِ تمہارے پاس كوئی چیز ہے؟ میں نے كہا: نہیں، صرف خشك ٹكڑے اور سركہ ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ گھر سالن سے خالی نہیں جس میں سركہ ہو۔( )
Takhreej
ة رقم (1236) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ، بَاب الْأَكْلِ بِالْيَمِينِ ، رقم (3257)
مقدام بن معدی كرب الكندیرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی نے پیٹ سے زیادہ بُرابرتن نہیں بھرا۔ ابن آدم كوچند لقمے كافی ہیں، جواس كی پشت كوسیدھا ركھیں۔ اگر لامحالہ زیادہ ہی كھانا ہے توپھر ایك حصہ كھانے كے لئے دوسرا حصہ پنےے کے لئے اور تیسرا حصہ سانس كے لئے ہے۔( )
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مُدْمِنُ الْخَمْرِ إِنْ مَاتَ لَقِيَ اللهَ كَعَابِدِ وَثَنٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دائمی شرابی اگر مرگیا تواللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا گویا وہ بت كا پجاری ہو۔( )
عن جُنْدَب بن عبدالله قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من اسْتَطَاع مِنْكُم أَن لَا يَحُول بَيْنه وَبَيْن الْجَنَّة مِلْء كَفّ من دَم امْرِءٍ مُسْلِمٍ أَن يُهرِيقَه ؛ كَأَنَّمَا يَذْبَحُ به دَجَاجَة، كَلَّمَا تَعَرَّض لباب من أَبْوَاب الجنة؛ حَال الله بَيْنه وبينه، وَمَن اسْتَطَاع أَن لَا يَجْعَلَ في بَطْنِه إِلَا طَيِّباً فَإِن أَوَّل ما يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُه.
جندب بن عبداللہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جوشخص یہ طاقت ركھتا ہے كہ اس كے اور جنت كے درمیا ن مسلمان آدمی كے خون كا چلوجسے وہ اس طرح با تا ہے، جیسے مرغی ذبح كرتا ہے حائل نہ ہوتووہ یہ كام نہ كرے،جب بھی وہ جنت كے كسی دروازے پرآئے گا تواللہ تعالیٰ اس شخص كے اور جنت كے درمیا ن حائل ہوجائے گا۔ اور جوشخص یہ طاقت ركھے كہ وہ اپنے پیٹ میں صرف پاكیزہ چیز ہی ڈالے تووہ ایسا ہی كرے كو نكہ انسان كا پیٹ سب سے پہلے بدبوچھوڑے گا۔( )
عن ابن عباس قال: دَخَلَتُ عَلَى خَالَتِي مَيْمُونَة وخَـالِدُ بْنُ الْوَلِيد، فَقَالَت مَيْمُونَـة: يَـا رَسُـول الله ! أَلَا
أَطْعِمَكَ مِمَّا أَهْدَى لِي أَخِي من الْبَادِيَة ؟ فَقَرَّبَتْ ضَبَّينِ مَشْوِيَّيْن عَلَى قِنْوٍ، فَقَالَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : كُلُوا فَإِنَّه لَيْس مِنْ طَعَامِ قَوْمِي، أَجِدُنِي أَعَافُه، وأَكَل مِنْه ابن عَبَاس وخَالِدٌ، فَقَالَت مَيْمُونَة: لَا آكُل من طعام لَم يَأْكُل مِنْه رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، ثم اسْتَسْقَى رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَأُتِي بِإِنَاء لَبَن، فَشَرِب وعن يَمِينِه ابن عَبَاس وعن يَسَارِه خَالِد بن الْوَلِيد، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِابْن عَبَاس: أَتَأْذَن لِي أَن أَسْقِي خَالِدًا ؟ فَقَال ابن عَبَاس: ما أَحِبّ أَن أُوْثِر بِسُؤْر رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَلَى نَفَسِي أَحَدًا، فَتَنَاوَل ابن عَبَاس فَشَرِب، وشَرِب خَالِدٌ، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من أَطْعَمَه الله طَعَامًا فَلْيَقُل: اللهُمّ بَارِك لَنا فِيه وارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْه ومن سَقَاه الله لَبَنًا فَلْيَقُل: اللهُمّ بَارِك لَنا فِيه وزِدْنَا مِنْه فَإِنِّي
لَا أَعْلَمُ شَيْئا يُجْزِءُ منَ الطَّعَام والشَّرَاب إِلَا اللَّبَن. ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ میں اور خالد بن ولیدرضی اللہ عنہ ،میری خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا كے پاس آئے ۔ میمونہ نے كہا: اے اللہ كے رسول كیا میں آپ كووہ چیز نہ كھلاؤں جومیر ے بھائی نے گاؤں سے بھیجی ہے؟ انہوں نے کھجور کی ایك شاخ( لكڑی) پر دوبھنےہوئے سانڈے (گوہ) قریب كر دیئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كھاؤ،كیو نكہ یہ ہماری قوم كا كھانا نہیں ، میں اس سے كراہت محسوس كرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس، اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہم نے اس سے كھایا، میمونہ رضی اللہ عنہا نے كہا: میں وہ دودھ كھانا نہیں كھاؤں گی جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں كھایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا توایك دودھ كا برتن لایا گیا، آپ نےدودھ پیا، آپ كے دائیں طرف ابن عباس اور بائیں طرف خالد بن ولید تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس سے كہا: كیا تم اجازت دیتے ہوكہ میں خالد كودودھ پلاؤں؟ ابن عباس نے كہا: مجھے یہ بات پسند نہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے جھوٹے دودھ پر اپنے علاوہ كسی اور كوترجیح دوں۔ ابن عباس نے برتن پكڑا اور دودھ پیا پھر خالد نے دودھ پیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص كواللہ كھانا كھلائے وہ یہ كہے: اے اللہ اس میں بركت دے، اور ہمیں اس سے بہتر دے۔ اور جس شخص كواللہ تعالیٰ دودھ پلائے وہ یہ كہے: اے اللہ ہمارے لئے اس میں بركت دے، اور اس سے زیادہ دے كیو نكہ میر ے علم میں كوئی ایسی چیز نہیں جوكھانے اور پینے كے لئے كفایت كرے سوائے دودھ كے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2323) ، الخطيب في التاريخ (7 / 180 ) .
عن ابن عباس مرفوعا: من بَاتَ وفي يَدِهِ غَمَرٌ، فَأَصَابَه شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنّ إِلَا نَفَسَه.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ جوشخص اپنے ہاتھ میں لگا ہوا گوشت کی چکناہٹ یا بو لئے سو گیا، اور اسے كسی چیز نے تكلیف دی تووہ اپنے آپ كوملامت كرے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2320) ، رواه أبو عبد الله بن مروان القرشي في الفوائد ( 25 / 113 / 2 ) .