قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ
اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ
اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - Book 4 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation
Book 4 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: برتن ڈھانپ دو، مشكیزِے باندھ دو، كیونكہ سال میں ایك رات ایسی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے۔ جس برتن پر ڈھكن نہیں ہوتا یا جومشكیز ہ كھلا ہوتا ہے اس میں وبا داخل ہوجاتی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (37) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب الْأَمْرِ بِتَغْطِيَةِ الْإِنَاءِ ...، رقم (3758) .
ابوہریرہرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل كی ایك امت گم ہوگئی تھی۔ معلوم نہیں اس كے ساتھ كیا ہوا؟ میرے خیال میں یہ چوہے ہیں( كیا تم نہیں دیكھتے) جب ان كے سامنے اونٹ كا دودھ ركھا جاتا ہے تونہیں تو پیتے اور جب بکری كا دودھ ان كے سامنے ركھا جاتا ہے توپی لیتے ہیں(
Takhreej
الصحيحة رقم (3068) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائقِ، بَاب فِي الْفَأْرِ وَأَنَّهُ مَسْخٌ، رقم (5315) .
عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے پاس (گوشت اور آٹے سے تیار کردہ) حلوہ پكا كر لائی، میں نے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے كہا: جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان میں تھے۔ میں نے کہا:كھاؤ۔ سودہ رضی اللہ عنہا نے انكار كر دیا، میں نے كہا: تم اسے كھاؤ وگرنہ میں اسے تمہارےچہرےپرمل دوں گی۔ اس نے پھر انكار كیا، میں نےحلوے میں اپنا ہاتھ ڈالا، اور سودہ رضی اللہ عنہ كے چہرے پر مل دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے۔ آپ نے اپنی ران (عائشہ رضی اللہ عنہا پر) ركھ دی اور سودہ رضی اللہ عنہا سے كہا: اس كے چہرے پر مل دو، اس نے میرے چہرے پر بھی مل دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح مسكرانے لگے۔ عمررضی اللہ عنہ گزرے اور آواز دی: اے عبداللہ، اے عبداللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے كہ عمر اندر آجائیں گے۔ آپ نے ان دونوں سے كہا: كھڑی ہوجاؤ اپنے چہر ے دھولو۔ یعنی عائشہ اور سودہ رضی اللہ عنہما سے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمررضی اللہ عنہ کی ہیبت کا خیال کرنے کی وجہ سے میں ہمیشہ ان سے ڈرتی رہی کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عمر سے اس وقت ڈر گئے تھے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3131) ، الفوائد لأبو بكر الشافعي (ق 18/1) .
انس بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب پانی وغیرہ پیتے توتین سانس لیتے اور فرماتے یہ زیادہ عمدہ,راحت اور صحت بخش طریقہ ہے ۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (387) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب فِي السَّاقِي مَتَى يَشْرَبُ، رقم (3239) .
ابوایوب انصاریرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب كھانا كھاتے یا پانی پیتے توكہتے: الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى وَسَوَّغَهُ وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا.”تمام تعریفات اس اللہ كے لئے ہیں جس نے كھلایا اور پلایا۔ اسے آسانی سے نگلنے كی سہولت دی اور اس كے نکلنے كے لئے راستہ بنایا۔
عن أبي سعید الخدري قال: کان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قد نھانا عن أن تأکل لحوم نسکنا فوق ثلاث قال فخرجت في سفر ثم قدمت علی أھلي وذلک بعد الأضحی بأیام قال فأتتنی صاحبتی بسلق قد جعلت فیہ قدیدا فقلت لھا أنی لک ھذا القدید فقالت من ضحایانا قال فقلت لھا أولم ینھنا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن أن نأکلھا فوق ثلاث قال فقالت إنہ قد رخص للناس بعد ذلک قال فلم أصدقھا حتی بعثت إلی أخي قتادۃ بن النعمان وکان بدریا أسألہ عن ذلک قال فبعث إلي أن کل طعامک فقد صدقت أرخص رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم للمسلمین في ذلک۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں منع کرتے تھے کہ ہم اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن کے بعد کھائیں۔ میں ایک سفر میں نکلا، پھر اپنے گھر آیا۔ یہ عیدالاضحیٰ کے کچھ دن بعد کا واقعہ ہے۔ میری بیوی میرے پاس پنڈلی کا گوشت لائی جس میں اس نے خشک گوشت کے ٹکڑے رکھے ہوئے تھے۔ میں نے اس سے کہا: تمہیں یہ خشک گوشت کہاں سے ملا؟ اس نے کہا: یہ گوشت تو ہماری قربانیوں کا ہے۔ میں نے اس سے کہا: کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا کہ ہم یہ گوشت تین دن کے بعد نہ کھائیں؟ اس نے کہا: اس حکم کے بعد آپ نے لوگوں کو رخصت دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ: میں نے اس کی تصدیق نہیں کی، اور اپنے بھائی قتادہ بن نعمان کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے اس بارے میں سوال کیا۔ تو انہوں نے جواباً پیغام بھیجا کہ یہ گوشت کھالو، تمہاری بیوی نے سچ کہا۔ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسئلے میں مسلمانوں کو رخصت دے دی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2105) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ، بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مِنْ أَعْلَى الصَّحْفَةِ، رقم (3281) .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم كھجوروں کے ساتھ تربوز كھایا كرتے تھےاور كہتے تھے: ہم اس كی گرمی تربوز كی ٹھنڈك سے ختم كرتے ہیں، اور اس كی ٹھنڈك كھجور كی گرمی سے ختم كرتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (57) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ ،بَاب فِي الْجَمْعِ بَيْنَ لَوْنَيْنِ فِي الْأَكْلِ، رقم (3339) .
عن أبي هُرَيْرَة قال: كان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَشْرَب في ثَلَاثَةِ أَنْفَاسٍ، إِذا أَدْنَى الْإِنَاءَ إِلَى فَمِه سَمَّى الله تعالى، وَإِذَا أَخَّرَه
حَمِد الله، يَفْعَل ذلك ثَلَاثَ مَرَّات
ابوہریرہرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین سانسوں میں پانی پیا كرتے تھے۔ جب برتن كواپنے منہ كے قریب لاتے توبسم اللہ كہتے، جب پیچھے كرتے توالحمدللہ كہتے آپ اس طرح تین مرتبہ كرتے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1277) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (852) .