TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان - Book 4 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 4 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 129 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

129 Hadith · 1 Chapters
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا.
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی نے بیان كیا كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت كے كچھ لوگ شراب پیئں گے اور اسے كوئی دوسرا نام دیں گے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (414) ، مسند أحمد رقم (17379) .
830
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عن عبد الله بن عُكَيْمٍ قال:قال مَشْيَخَةٌ لَنا من جُهَيْنَة أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَتَبَ إليهم: أَن لَا تنتَفِعُوا من الميْتةِ بشيءٍ.
عبداللہ بن عكیم سے مروی ہےكہ قبہہ جہینہ كے ہمارے ایك سردار نے بیان كیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان كی طرف خط لكھا كہ مردار كی كسی چیز سے نفع نہ اٹھاؤ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3133) ، البخاري في التاريخ (4/1/167) ، ابن حبان في صحيحه (2/286/1276) .
831
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ نُبَيْشَةَ الهذلي قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
نبیشہ ہذلی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ہم نے تمںیِ تنك (دن)كے بعد (قربانی) كا گوشت كھانے سے منع كیا تھا تاكہ تم سب اس میں شریك ہوسكو۔ اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے، كھاؤ بھی ذخیرہ بھی كرواور تجارت بھی كرو۔ خبردار یہ ایام كھانے پینے اور اللہ كے ذكر كے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1713) ، سنن أبي داؤد،كِتَاب الضَّحَايَا، بَاب فِي حَبْسِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ، رقم (2430) .
832
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ فِيْرُوْزٍ، قَالَ أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ عَلِمْتَ مَنْ نَحْنُ؟ وَمِنْ أَيْنَ نَحْنُ؟ فَإِلَى مَنْ نَحْنُ؟ قَالَ إِلَى اللهِ وَإِلَى رَسُولِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لَنَا أَعْنَابًا مَا نَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: زَبِّبُوهَا قُلْنَا مَا نَصْنَعُ بِالزَّبِيبِ؟ قَالَ: انْبِذُوهُ عَلَى غَدَائكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى عَشَائكُمْ وَانْبِذُوهُ عَلَى عَشَائكُمْ وَاشْرَبُوهُ عَلَى غَدَائكُمْ وَانْبِذُوهُ فِي الشِّنَانِ وَلَا تَنْبِذُوهُ فِي الْقُلَلِ فَإِنَّهُ إِذَا تَأَخَّرَ عَنْ عَصْرِهِ صَارَ خَلًّا.
فیروز سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے، ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول آپ كومعلوم ہے كہ ہم كون ہیں اور كہاں سے تعلق ركھتے ہیں ہم كس كی طرف آئے ہیں؟آپ نے فرمایا: اللہ اور اس كے رسول كی طرف۔ ہم نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمارے انگور ہیں، ہم ان كا كیا كریں؟ آپ نے فرمایا: ان كا منقیٰ بنا لو۔ ہم نے كہا ہم منقیٰ كا كیا كریں گے؟ آپ نے فرمایا: اسے دوپھر كے كھانے میں اس کی نبیذ بناؤ، اور رات كے كھانے میں شربت بنا كر پیو، اور رات كے كھانے میں نبیذ بناؤ، دوپھر كے كھانے میں شربت بنا كر استعمال كرو۔ اسے مشكیز ے میں ڈالو۔ مٹكوں میں نہ ڈالو، كیونكہ جب اس كا وقت گزر جاتا ہے تویہ سركہ بن جاتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1573) ، سنن أبي داؤد ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب فِي صِفَةِ النَّبِيذِ، رقم (3223) .
833
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِى بَكْرٍ: أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرِدَتْ غَطَّتْهُ شَئٌ حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرَتُه ودُخَانُه ثم تَقُولُ: إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: « أنهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ
اسماء بنت ابی بكر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ جب وہ ثرید بنایا كرتے تواسے كسی چیز سے ڈھانپ دیا كرتے حتیٰ كہ اس کی شدت اور بھاپ ختم ہوجاتی پھر كہتیں كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے كہ یہ بركت كے لحاظ سے اچھا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (392) ، سنن الدارمي رقم (2099) .
834
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ. عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا: إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْنَا الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَكَ فِيمَا بَعْدُ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ فَجَعَلَ يَبْكِي فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا أُنَيْسٌ بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا مَعَهَا قَالَ: وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِثَلَاثِ سِنِينَ قُلْتُ: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلهِ قُلْتُ: فَأَيْنَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ فَقَالَ أُنَيْسٌ: إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ جَاءَ فَقُلْتُ مَا صَنَعْتَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللهَ أَرْسَلَهُ قُلْتُ: فَمَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ وَكَانَ أُنَيْسٌ: أَحَدَ الشُّعَرَاءِ قَالَ أُنَيْسٌ لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ فَمَا هُوبِقَوْلِهِمْ وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَمَا يَلْتَئمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ قَالَ: قُلْتُ: فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ قَالَ: فَأَتَيْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئ؟ فَأَشَارَ إِلَيَّ فَقَالَ: الصَّابِئ فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلٍّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ قَالَ: فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ قَالَ: فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائهَا وَلَقَدْ لَبِثْتُ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ: فَبَيْنَا أَهْلِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائلَةَ قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا فَقُلْتُ: أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الْأُخْرَى قَالَ: فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ: هَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَا أَكْنِي فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوكَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَبُوبَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ قَالَ: مَا لَكُمَا؟ قَالَتَا: الصَّابِئ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَ: مَا قَالَ لَكُمَا؟ قَالَتَا: إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَطَافَ بِالْبَيْتِ هُووَصَاحِبُهُ ثُمَّ صَلَّى فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ أَبُوذَرٍّ: فَكُنْتُ أَنَا أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ قَالَ: فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللهِ ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَ اِصْبَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي:كَرِهَ أَنْ انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ فَذَهَبْتُ آخُذُ بِيَدِهِ فَقَدَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ: مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا؟ قَالَ: قُلْتُ: قَدْ كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ بَيْنَ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ: فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا أَجِدُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ: إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ فَقَالَ أَبُوبَكْرٍ يَا رَسُولَ اللهِ ائذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ فَانْطَـلَقَ رَسُـولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَأَبُوبَكْرٍ: وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَفَتَحَ أَبُوبَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيـبِ الطَّائفِ وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَـامٍ أَكَلْتُهُ بِهَـا ثُمَّ غَـبَرْتُ مَـا غَبَرْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ لَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ؟ عَسَى اللهُ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ؟ فَأَتَيْتُ أُنَيْسًا فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَأَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ: وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ أَيْمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ وَقَالَ نِصْفُهُمُ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ الْبَاقِي وَجَاءتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِخْوَتُنَا، نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : غِفَارُ غَفَرَ اللهُ لَهَا وَأسْلَمُ سَالَمَهَا اللهُ.
رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: یہ (آب زمزم) بابركت ہے یہ کھانے کا كھانا ہے۔ ابوذر‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كتےا ہںل كہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے وہ حرمت والے منو ں كوحلال سمجھتے تھے۔ مںم، مرزا بھائی انسئ اور مر ی والدہ آئےاوراپنے ماموں كے گھر ٹھرطے ہمارے ماموں نے ہماری بتِ عزت كی اور ہمارے ساتھ اچھا سلوك كاے، ان كی قوم نے ہم سے حسد كام۔ كنےن لگے: جب تم گھر سے نکلتے ہو تو انیس تمہارے گھر والوں کے پاس آجاتا ہے۔میرے ماموں آئے ان سے جوبات کہی گئی تھی وہ ہم سے بیان کرنے لگے،میں نے کہا:آپ نے جواچھا سلوک کیا تھا،یہ بات کرکے سارے پر پا نی پھیر دیا،آج کے بعد ہم کبھی نہیں ملیں گے۔ہم نے اپنے اونٹ لئے اور ان پر سوار ہوگئے،میرے ماموں اپنے چہرے کوکپڑےسے ڈھانپ کر رونے لگے،ہم چلتے رہےیہاں تک کہ مکہ کے سامنے آگئے ۔انیس نے ہماری جیسی ایک سواری کے مقابلے میں فخر کا اظہارکیا۔ وہ دونوں کاہن کے پاس لایاتواس نے انیس یعنی اس کی سواری کو اچھا قرار دیا۔ انیس ہمارے پاس ہماری سواری اور اس جیسی دوسری سواری لایااور کہا:بھتیجے میں نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے نماز پڑھنی شروع کردی تھی۔میں نے کہا:کس کے لئے؟اس نے (ابو ذرغفاری) کہا اللہ کے لئے میں نے کہا کس طرف رخ کیا ؟اس نے کہا: جہاں میرا رب مجھے پھیر دیتا میں اسی طرف پھر جا تا،میں عشاء کی نماز پڑھتا، پھر جب رات کا آخری پہر ہوتا تومجھے اس طرح خیال آتا کہ گویا میں چھپ گیا ہوں حتی کہ سورج بلند ہوجاتا ۔انیس نے کہا:مجھے مکہ میں کچھ کام ہے میرے بعد خیال رکھنا ۔انیس مکہ گیا اور واپس آنے میں دیر کردی،پھر جب وہ آیا تومیں نے کہا:تم نے کیا کیا ؟کہنے لگا:میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جوتمہا رے دین پر ہے اور اس کا گمان ہے کہ اسے اللہ تعالی نے بھیجا ہے۔میں نے کہا:لوگ کیا کہتے ہیں ؟انیس نے کہا:لوگ اسے شاعر، کاہن اور جادوگرکہتے ہیں ۔انیس خود بھی ایک شاعر تھا کہنے لگا:میں نے کاہنوں کی بات سنی ہے لیکن وہ کاہنوں والی بات نہیں کرتا،میں نے اس کا لام اصناف شعر پر پرکھا لیکن وہ کسی بھی لحاظ سے شعر نہیں ہے،واللہ وہ سچاہے اور لوگ جھوٹے ہیں ۔میں نے کہا:میرے بعد خیال رکھنا تاکہ میں مکہ جاسکوں اور دیکھوں کہ کیا صورتحال ہے ۔میں مکہ آیا اور ان میں سے کمزور سے آدمی سے پوچھا کہ وہ شخص کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو؟اس نے میری طرف اشارہ کر کے کہا:یہ صابی(بے دین) ہے۔اہل مکہ مجھ پر پتھروں اور ہڈیوں سے سے ٹوٹ پڑے حتی کہ میں چکراکر گرگیا ۔جب مجھے ہوش آیا توخون میں لت پت تھا، میں زمزم کے پاس آیا خون دھویا اوراس کا پانی پیا ۔بھتیجے! میں تیس دن وہاں رکارہا، میرے پاس سوائے زمزم کے کوئی کھانا نہیں تھا،لیکن میں اتنا موٹا ہوگیا کہ میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا۔ اور میں نے کبی بھوک موس س تک نہ کی۔پھر ایک چاندنی رات اہل مکہ میں جبکہ لوگ سو چکے تھے کوئی شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا کہ ان میں سے دوعورتیں اساف اور نائلہ کوپکا رنے لگیں،وہ اپنے طواف کے دوران میرے پاس آئیں تومیں نے کہا:ایک کا دوسرے سے نکاح کردو۔وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں۔ پھر وہ میرے پاس آئیں تومیں نے بغیر کنایۃ کئے کہااساف اور نائلہ دونوں کے لئے) لکڑی جیسا....... وہ چیختی چلا تی اور واویلا کرتی ہوئی چلی گںی اور کہتی کہ کاش ہماری جماعت ہوتی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق‌رضی اللہ عنہ نیچے اتر رہے تھے وہ ان دونوں سے ملے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:تم دونوں کوکیا ہوا؟ کہنے لگیں:کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیا ن ایک صابی ہے ۔آپ نے فرمایا:اس نے تم سے کیا کہا ؟ کہنے لگیں: ایسی بات کہی ہے جومنہ سے نہیں نکالی جاسکتی ۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے اور حجر اسود کا استلام کیا،آپ نے اورآپ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا،پھر نماز پڑھی،جب فارغ ہوئے توابوذر‌رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کواسلامی سلام کیا ۔میں نے کہا:السلام علیکم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔آپ نے فرمایا:وعلیک ورحمۃ اللہ،پھر فرمایا:تم کون ہو؟میں نے کہا:غفار سے تعلق رکھتا ہوں ؟آپ نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ لیا ۔میں نے دل میں کہا شاید آپ کوغفار کی طرف میری نسبت پسند نہیں آئی۔میں نے آپ کا ہاتھ پکڑنا چاہا،آپ کے ساتھی نے مجھے روک لیا،وہ مجھ سے زیادہ جانتا تھا ۔پھر آپ نے سر اٹھا یا اور فرمایا:تم کب سے یہاں ہو؟میں نے کہا:ایک ماہ سے،تمہیں کون کھانا کھلاتا ہے؟میں نے کہا کہ زمزم کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں، میں زمزم کا پانی پی کر موٹا ہوگیا حتی کہ میرے پیٹ کی سلویں پر ہوگئیں۔ اورمجھے کبھی بھی بھوک کا احساس نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا:یہ بابرکت ہے اور کھانے کا کھانا ہے ۔ابوبکرنے کہا: اے اللہ کے رسول !آج رات مجھے اس کی مہمان نوازی کی اجازت دیجئے۔پھر آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اور ابوبکر‌رضی اللہ عنہ چل پڑے تومیں بھی ان کے ساتھ چل پڑا ابوبکر‌رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا اور طائف کا منقہ مٹھیاں بھر کر لانے لگے،یہ وہ پہلا کھانا تھا جومیں نے مکے میں کھا یا،پھر میں کچھ وقت ٹھہرا رہا،اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے پاس آیا توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:میرے سامنے کھجوروں والی سرزمین کی گئی ہے،میرے خیال میں وہ یثرب ہے ۔کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کوپیغام دے دوگے؟ ممکن ہے کہ اللہ تعالی انہیں نفع دے اور تمہیں اجردے ۔میں انیس کے پاس آیا تواس نے کہا:تم کیا کررہے تھے ؟میں نے کہا میں نے یہ کام کیا ہے کہ مسلمان ہوگیا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی تصدیق کردی ہے ۔انیس نے کہا:مجھے تمہارے دین سے کوئی بے رغبتی نہیں کیونکہ میں بھی مسلمان ہوچکا ہوں اورآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کی تصدیق کردی ہے ۔پھر ہم اپنی ماں کے پاس آئے تووہ کہنے لگی:مجھے تم دونوں کے دین سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ میں مسلمان ہوچکی ہوں اور آپ کی تصدیق کردی ہے ۔پھر ہم سوار ہوکر اپنی قوم کے پاس آئے توان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ایماءبن رحضہ غفاری کروایا کرتےتھے،وہ ان کے سردار تھے،باقی آدھے لوگوں نے کہا جب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینےآئیں گے توہم مسلمان ہوں گے ۔پھرجب رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌مدینے میں تشریف لے آئے توباقی نصف لوگ بھی مسما ن ہوگئے ۔پھر قبیلہ اسلم کے لوگ آئے اور کہنے لگے:اے اللہ کے رسول! ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں ۔جس طرح ہمارے بھائیوں نے اسلام قبول کیا اور وہ مسلمان ہوگئے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:غفار کی اللہ مغفرت کرے اور اسلم کوسلامت رکھے ۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (3585) ، صحيح مسلم ،كِتَاب فَضَائلِ الصَّحَابَةِ، بَاب مِنْ فَضَائلِ أَبِي ذَرٍّ، رقم (4520) .
835
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُتِيَ بِلَبَنٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ شِمَالِهِ أَبُوبَكْرٍ فَشَرِبَ ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ. وفي طريق: الأَيْمَنُوْن، الأَيْمَنُونَ، أَلَا فَيَمِّنُوا.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس دودھ لایا گیا، جس میں پانی ملایا گیا تھا۔ آپ كے دائیں طرف ایك بدوتھا، اور بائیں طرف ابوبكر‌رضی اللہ عنہ ۔ آپ نے دودھ پیا اور پھر بدوكودے دیا، اور فرمایا: دائیں طرف،پھر دائیں طرف۔ اور ایك روایت میں ہے: دائیں والے، دائیں والے، خبردار دائیں طرف سے شروع كرو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1771) ، صحيح البخاري،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ فِي الشُّرْبِ،رقم ( 5188) .
836
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ رَجُلٍ خَدَمَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَمَانِ سِنِينَ أَنَّهُ كَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذَا قُرِّبَ إِلَيْهِ الطَّعَامُ يَقُولُ بِسْمِ اللهِ فَإِذَا فَرَغَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَأَحْيَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ.
ایك آدمی جس نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی آٹھ سال خدمت كی سے مروی ہے كہ وہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا كرتا تھا جب كھانا آپ كے قریب كا ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌جاتا ہے توآپ كتےس:بسم اللہ، اور جب فارغ ہوتے توكہتے: اَللّٰهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَأَحْيَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ.” اے اللہ تونے كھلایا،تونے پلایا، اورتونےاس پر راضی اور خوش کیا،تونے ہدایت دی، اورتونے زندگی دی، جوتونے دیا اس پر تیرا شكر ہے“۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (71) ، مسند أحمد رقم (16000) .
837
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ عَائشَةَ أَنَّهُمْ ذَبَحُوا شَاةً فَقَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا بَقِيَ مِنْهَا؟ قَالَتْ: مَا بَقِيَ مِنْهَا إِلَّا كَتِفُهَا قَالَ بَقِيَ كُلُّهَا غَيْرَ كَتِفِهَا.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ انہو ں نے ایك بكری ذبح كی تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں سے كچھ باقی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: اس میں سے صرف شانے كا گوشت بچا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: شانے كی ہڈی كے علاوہ باقی سب كچھ بچ گیا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2544) ، سنن الترمذي ،كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَة ...ِ، بَاب مِنْهُ ، رقم (2394) .
838
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ سَلْمَى أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: بَيْتٌ لَا تَمْرَ فِيهِ كَالْبَيْتِ لَا طَعَامَ فِيهِ.
سلمی رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ گھر جس میں كھجور نہیں اس گھر كی طرح ہے جس میں كھانا نہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1776) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْأَطْعِمَةِ، بَاب التَّمْرِ، رقم (3319) .
839
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَر قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثَةٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرِ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین شخص ہیں جن كی طرف قیامت كے دن اللہ تعالیٰ دیکھے گا بھی نہیں۔ اپنے والدین كا نافرمان، مردوں كی مشابہت كرنے والی عورت، اور دیوث، اورتین شخص ہیں جوجنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اپنے والدین كا نافرمان، دائمی شرابی، اور دے كر احسان جتلانے والا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (674) ، سنن انسائي ،كِتَاب الزَّكَاةِ، باب الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، رقم (2515) .
840
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ (بن عمر) عَنِ أَبِيهِ عَنْ النّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: حَرَّمَ اللهُ الْخَمْرَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ.
سالم بن عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہ اپنے والد سے بیا ن كرتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب حرام كر دی ہے، اور ہر نشہ آور چیزحرام ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1814) ، سنن النسائي ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، باب ذِكْرُ الْأَخْبَارِ ... ، رقم (5604) .
841
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
) قال صلی اللہ علیہ وسلم : خَيْرُ تَمَراتِكُم الْبَرْنِيّ، يَذْهَبُ بِالدَّاءِ وَلَا دَاءَ فِيهِ. روی من حدیث بریدہ بن الحصیب و انس بن مالک و ابی سعید الخدری و نریدہ ؟؟؟ بن عبداللہ علی بن ابی طالب و بعض ؟؟؟ عبدالقیس
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہاری بہترین كھجور برنی ہے۔ بیماری ختم كرتی ہے اور اس میں كوئی بیماری نہیں ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1844) ، و البيهقي في الشعب .
842
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ النَّخْلَةِ وَالْعِنَبَةِ. ( )
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے،شراب ان دودرختوں میں سے ہے:كھجور اور انگور۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3159) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْأَشْرِبَةِ، بَاب بَيَانِ أَنَّ جَمِيعَ مَا يُنْبَذُ ...، رقم (3672) .
843
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ بَعَثَنِي أَهْلِي بِلَقُوحٍ - وَفي رواية: بِلَقْحَةٍ- إِلَى النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلُبَهَا ثُمَّ قَالَ: دَعْ دَاعِيَ اللَّبَنِ
ضرار بن ازور سے مروی ہے كہ مجھے مرسے گھر والوں نے كچھ دودھیل اونٹنیاں دیں ، اور ایك روایت میں ہے كہ ایك دودھیل اونٹنی دے كر نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف بھیجا، میں اسے آپ كے پاس لایا توآپ نے مجھے اس كا دودھ دوہنے كا حكم دیا پھر فرمایا:تھوڑا سادودھ تھنوں میں رہنے دو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1860) ، مسند أحمد رقم (18147) .
844
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ اللهِ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: عفراء كا خون(خاکستری رنگ کا خون) اللہ تعالیٰ كوسیاہی مائل خون سے زیادہ پسند ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1861) ، مسند أحمد رقم (9035) .
845
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ عَلْقَمَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ دَخَلْنَا بَيْتَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَوَجَدْنَا فِيهِ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ فَذَكَرْنَا الْوُضُوءَ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَأْكُلُ مِمَّا مَسَّتْهُ النَّارُ ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا: أَنْتَ رَأَيْتَهُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ قَالَ: فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى عَيْنَيْهِ فَقَالَ: بَصُرَ عَيْنَيَّ.
علقمہ قرشی سے مروی ہے انہوں نے كہاكہ ہم میمونہ رضی اللہ عنہ زوجہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے گھر میں داخل ہوئے توہمیں گھر میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ملے۔ہم نےآگ پرپكی ہوئی چیزیں كھانےكےبعدوضوكرنےكاذكر كیا۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ آگ پر پکی ہوئی چیز کھاتے تھے، پھر نماز پڑھتے اور وضوء نہیں کرتے تھے۔ ایك شخص نے ان سے كہا:ابن عباس كیا آپ نے انہیں دیكھا ہے؟ اپنے ہاتھ سے آنكھوں كی طرف اشارہ كیا كہ میری آنكھوں نے دیكھا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2116) ، مسند أحمد رقم (2332) .
846
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَتَى أُمَّ حَرَامٍ فَأَتَيْنَاهُ بِتَمْرٍ وَسَمْنٍ فَقَالَ: رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائهِ وَهَذَا فِي سِقَائهِ فَإِنِّي صَائمٌ قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا فَأَقَامَ أُمُّ حَرَامٍ وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَنَا وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فِيمَا يَحْسَبُ ثَابِتٌ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا تَطَوُّعًا عَلَى بِسَاطٍ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: إِنَّ لِي خُوَيْصَّةً خُوَيْدِمُكَ أَنَسٌ ادْعُ اللهَ لَهُ فَمَا تَرَكَ يَوْمَئذٍ خَيْرًا مِنْ خَيْرِ الدُّنْيَا وَلَا الْآخِرَةِ إِلَّا دَعَا لِي بِهِ ثُمَّ قَالَ: اللهُمَّ أَكْثِرْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ وَبَارِكْ لَهُ فِيهِ قَالَ أَنَسٌ: فَأَخْبَرَتْنِي ابْنَتِي أَنِّي قَدْ رزقت مِنْ صُلْبِي بِضْعًا وَتِسْعِينَ وَمَا أَصْبَحَ فِي الْأَنْصَارِ رَجُلٌ أَكْثَرَ مِنِّي مَالًا ثُمَّ قَالَ أَنَسٌ: يَا ثَابِتُ! مَا أَمْلِكُ صَفْرَاءَ وَلَا بَيْضَاءَ إِلَّا خَاتَمِي
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ام حرام رضی اللہ عنہا كے پاس آئے۔ ہم آپ كے پاس كھجور اور گھی لائے۔ آپ نے فرمایا: اسے اس كے برتن میں اور اسے مشکیزے میں ڈال دو، میں روزے سے ہوں۔ پھر آپ كھڑے ہوئے اور ہمیںِ دوركعت نفل نماز پڑھائی۔ ام حرام اور ام سلیم كوہمارے پیچھے كھڑا كیا۔ مجھے اپنے دائیں طرف كھڑا كیا۔ ہمیں چٹائی پر نفل نماز پڑھائی، جب آپ نے نماز مكمل كر لی توام سلیم رضی اللہ عنہا نے كہا: میرا ایك پیارا سا بچہ، آپ كا چھوٹا سا خدمت گزار انس اس كے لئے اللہ سے دعا كیجیے۔ آپ نے اس دن دنیا اور آخرت کی کوئی بھلائی نہ چھوڑی مگر میرے لیے اس کی دعا کی۔ جب اس كے لئے دنیا وآخرت كی بھلائی كے لئے دعا نہ كی ہو۔ پھر فرمایا: اے اللہ اس كا مال اور اولاد زیادہ كر اور اس میں بركت دے۔انس نے كہا: مجھے میرا بیٹی نے بتایا كہ میری صلب سے نوے سے زیادہ بچے ہوئے ہیں ، اور انصار میں سے كوئی شخص دولت میں مجھ سے زیادہ نہ ہوا۔ اے ثابت میں اس انگوٹھی کے علاوہ کسی سونے چاندی کا مالک نہیں ہوں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (141) ، مسند أحمد رقم (13104) .
847
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَنس بن مَالَك، أَن رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أُتِي بِتَمْر رَيَّان، فَقَال: أَنَّى لَكُم هذا؟ فَقَالُوا: كَان عِنْدَنَا تَمْر بَعْل، فَبِعْنَا صَاعَيْن بِصَاع، فَقَال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : رَدُّوه عَلٰی صَاحِبِه (يعني: الريان)، فَبِيعُوه (يعني: التمر الرديء) بِعَيْن، ثم ابْتَاعُوا التَّمْر.
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس ریان كھجوریں آئیں۔ آپ نے پوچھا: یہ تمہیں كہاں سے ملیں ؟ انہوں نے كہا: ہمارے پاس بعل كی كھجوریں تھیں ، ہم نے ایك صا ع كے بدلے دوصاع دیئے۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كے مالك كویہ كھجوریں واپس كردو، یعنی ریان كھجوریں، اپنی ردی قسم کی (بعل کھجوریں) بیچو اور پھر یہ کھجوریں خرید لو۔
Takhreej
الصحيحة رقم (3049) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (1444) .
848
Sahih
قربانی، ذبحہ ، عقیقہ،كھانے،پنےْ اور حیوانوں كےساتھ نرمی كرنے كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مرفوعاً: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُمْنَعُهَا مَنْ يَأْتِيهَا وَيُدْعَى إِلَيْهَا مَنْ يَأْبَاهَا وَمَنْ لَمْ يُجِبْ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ.
ابوہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: بدترین كھانا ولیمے كا وہ كھانا ہے، جس میں جس كا حق ہے اسے روكا جاتا ہے اور جس كا حق نہیں اسے بلایا جاتا ہے، اور جس شخص نے دعوت قبول نہ كی اس نے اللہ اور اس كے رسول كی نافرمانی كی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1085) ، صحيح مسلم ،كِتَاب النِّكَاحِ، بَاب الْأَمْرِ بِإِجَابَةِ الدَّاعِي إِلَى دَعْوَةٍ ، رقم (2586) .
849
Sahih