قال صلی اللہ علیہ وسلم : أَتَانِي جِبْرِيلُ فَقَال: يَا مُحَمَد! عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَأَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُجْزِيٌ بِه، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُه باللَّيْل، وعِزَّهُ اِسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور كہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب تك چاہو زندہ رہو، بالآخر آپ نے مرنا ہے۔ جسے چاہیں پسند كر لیں بالآخر اس سے جدا ہونا ہے، جو چاہو عمل كرو كیوں كہ تمہیں اس كا بدلہ دیا جانا ہے۔ جان لیجئے كہ مومن كا شرف اس كا رات كا قیام ہے، اور اس كی عزت لوگوں سے مستغنی ہونے میں ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (831) المعجم الأوسط للطبراني رقم (4429) مستدرك الحاكم رقم (8038)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جانتے ہو مفلس كون ہے؟ صحابہ نے كہا: ہم میں مفلس وہ ہےجس كے پاس نہ درہم ہے نہ دینار نہ كوئی سازو سامان ۔ آ پ نے فرمایا: میری امت كا مفلس شخص وہ ہے جو قیامت كے دن نماز، روزہ اور زكاۃ لے كر آئے گا ۔ ایک شخص آئے گا جسے اس نے گالی دی ہوگی، كسی پر تہمت لگائی ہو گی، كسی كا مال كھایا ہوگا، كسی كا خون بہایا ہوگا، كسی كو مارا ہوگا، اس شخص كی نیكیوں میں سے اُسے بھی دے دیا جائے گا اور اِسے بھی دے دیا جائے گا۔ اگر اس کے ذمہ لوگوں کے حقوق پورے ہونے سے پہلے اس كی نیكیاں ختم ہو گئیں تو ان كے گناہ اٹھا كر اس شخص پر لاد دیئے جائیں گے، پھر اسے آگ میں پھینك دیا جائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (847) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ رقم (4678)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اتْرُكُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِذَا حَدَّثْتُكُمْ فَخُذُوا عَنِّي فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ.
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تك میں تمہیں كچھ نہ بتاؤں مجھے چھوڑےركھو اور جب تمہیں كوئی بات بتاؤں تو اسے اچھی طرح یاد كر لو، كیوں كہ تم سے پہلے لوگ كثرتِ سوال اور اپنے انبیاءسے اختلاف كی بناءپر ہلاك ہوئے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (850) سنن الترمذي كِتَاب الْعِلْمِ بَاب فِي الِانْتِهَاءِ عَمَّا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ رقم (2603)
عَن ابن طاؤس عن أَبِيه قال: اسْتَعْمَلَ رَسُول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبَادَةَ بن الصَّامِت عَلَى الصَدَقَةِ، ثُمَّ قال لَه: اتَّق يَا أبا الْوَلِيد أَن تَأتِي يَوم الْقِيَامَة بِبَعِير تَحْمِله عَلَى رقبتك لَه رغَاءٌ، أَو بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَو شَاةٌ لَهَا ثؤاجٌ .
ابن طاؤس اپنے والد سے بیان كرتے ہیں ۔انہوں نے كہا كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادہ بن صامت كو زكاۃ كا نگران بنایا، پھران سے كہا: ابوولید! اللہ سےڈرتےرہوكہیں ایسا نہ ہو کہ تم قیامت كےدن كوئی اونٹ اپنی گردن پراٹھاكرلاؤجوبلبلارہاہواوركوئی گائےاٹھاكرلاؤ جوڈکاررہی ہویا كوئی بكری اٹھا كر لاؤ جو منمنا رہی ہو۔( )
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظلم سے بچو ،كیوں كہ ظلم قیامت كے دن اندھیروں كا سبب ہوگا، اور بخیلی سے بچو كیوں كہ بخیلی نے تم سے پہلے لوگوں كو ہلاك كر دیا، بخیلی نے انہیں اس بات پر ابھارا كہ وہ لوگوں كا خون بہائیں اور ان كی حرام چیزوں کو حلال سمجھ لیں
Takhreej
الصحيحة رقم (858) صحيح مسلم كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ بَاب تَحْرِيمِ الظُّلْمِ رقم (4675)
سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ منبر پر فرما رہے تھے : سات كبیرہ گناہوں سےبچو، لوگ خاموش رہے كوئی شخص نہ بولا۔ آپ نے فرمایا: كیا تم مجھ سے ان كے بارے سوال نہیں كرو گے؟ اللہ كے ساتھ شرك کرنا،كسی جان كو قتل كرنا، مقابلے سے فرارہونا، یتیم كا مال كھانا، سود كھانا، پاكدامن عورت پر تہمت لگانا اور ہجرت كے بعد واپس چلے جانا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2244) المعجم الكبير للطبراني رقم (5505)
عَن النُّعْمَان بن بَشِير قال: سَمِعتُ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَقولُ: اجْعَلُوا بَيْنَكُم و بَيْن الْحَرَام سترةٌ من الْحَلَال من فَعَل ذَلِك اسْتَبْرَأ لِديْنِه وعرضه ومن أَرْتَع فِيه كَان كالمرتع إلى جنب الْحِمَى.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے كہا كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: اپنے اور حرام كےدرمیان حلال كا پردہ حائل كر لو، جس شخص نے ایسا كام كیا اس نے اپنا دین اور اپنی عزت بچالی، اور جو شخص حرام میں پڑ گیا تو گویا تو وہ گویا اس شخص کی مانند ہے (جو اپنے جانوروں کو کسی ممنوعہ) چراگاہ کے قریب چلا رہا ہے۔( )
) ابو راشد حبرانی سے مروی ہے انہوں نے كہا: ابو امامہ باہلی نے میرا ہاتھ پكڑا اور كہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پكڑا اور مجھ سےكہا: ابو امامہ مومنین میں سے ایسے بھی ہیں جس كا دل میرے لئے نرم ہو تا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2470) المعجم الكبير للطبراني رقم (21267)
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے بھلائی كا ارادہ كرتا ہے تو دنیا میں اسے جلدی سزا دے دیتا ہے۔ اورجب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے برائی كا ارادہ كرتا ہے تو اس كے گناہ اس پر روك كر ركھتا ہے حتی كہ قیامت كے دن اسے پوری سزا دےگا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1220) سنن الترمذي كِتَاب الزُّهْدِ بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى الْبَلَاءِ رقم (2319)
عمرو بن حمق خزاعی سے مرفوعا مروی ہے : جب اللہ تعالیٰ كسی بندے سے بھلائی كا ارادہ كرتا ہے تو اسے محبوب بنا دیتا ہے۔ پوچھا گیا : یہ عسل سے كیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: اس كی موت سے پہلے اس كے لئے نیك اعمال كا دروازہ كھول دیا جاتا ہے ۔ حتی كہ اس كے ارد گرد كے لوگ اس سے راضی ہو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1114) صحيح ابن حبان رقم (344) مسند عبد بن حميد رقم (483)
) عَنْ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ: كَان مِنَّا رَجُلٌ يُقَالُ لَه أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ: وَكَانَ مُؤَاخِيًا لِعَبْد الله –يَعْني: ابن مَسعَود- فَكَانَ عَبْدُ الله يَأْتِيهِ فِي مَنْزِله، فَأَتَاه مَرَّةً، فَلَمْ يُوَافِقْه في الْمَنْزِلِ، فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَبَيْنَا هُو عِنْدَهَا إِذْ أَرْسَلَتْ خَادِمَها في حَاجَةٍ، فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهَا فَقَالَت: قَد أَبْطَأتْ، لَعَنَهَا الله! قَالَ: فَخَرَجَ عَبْدُ الله فَجَلَسَ عَلَى الْبَاب قَال: فَجَاء أبو عُمَيْر، فَقَال لِعَبْد الله: أَلَا دَخَلْتَ عَلَى أَهْلِ أَخِيْكَ؟ قَالَ: فَقَال: قَد فَعَلْتُ ولَكِنَّهَا أَرْسَلَتْ الخَادِمةَ فِي حَاجَة، فَأَبْطَأَتْ عَلَيْهَا فَلَعَنَتْهَا و إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم يَقُولُ: إِذَا خَرَجَتِ اللَّعْنَةُ مِن فِي صَاحِبهَا نَظَرَتْ، فَإِنْ وَجَدَتْ مَسْلَكًا في الَّذِي وُجِّهَتْ إِلَيْه و إِلَا عَادَتْ إلى الَّذِي خَرَجَتْ مِنْهُ و إِنِّي كَرِهتُ أَنْ أَكُونَ لِسَبِيْلِ اللَّعْنَة.
عیزار بن جرول حضرمی سے مروی ہے انہوں نے كہا: ہم میں ایك آدمی تھا جسے ابو عمیر كہا جاتا تھا، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ كا بھائی بنا ہوا تھا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ اس كے پاس اس كے گھر میں آتے، ایك مرتبہ وہ آئے تو وہ گھر میں موجود نہیں تھے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ ان كی بیوی كے پاس آئے۔ وہ ان كے پاس بیٹھے تھے كہ اس نے اپنی لونڈی كو كسی كام سے بھیجا ۔ اس نے دیر كر دی تو وہ كہنے لگیں: اس نے دیر كر دی اللہ اس پر لعنت كرے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ وہاں سے اٹھ كر دروازے كے پاس بیٹھ گئے۔ كچھ دیر بعد ابو عمیر آئے تو انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے كہا: كیا آپ بھائی كے گھر والوں کے پاس نہیں گئے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے ایسا كیا تھا، لیكن اس نے اپنی لونڈی كو كسی كام سے بھیجا، اس نے دیر كر دی تو اس نے اس پر لعنت بھیجی اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جب لعنت كسی كے منہ سے نكلتی ہے تو وہ دیكھتی رہتی ہے، تو جس پر لعنت کی گئی ہے وہ اس کا مستحق ہو تو وگرنہ اس شخص کی طرف لوٹ آتی ہے جس كے منہ سے نكلی ہوتی ہے اور مجھے یہ بات نا پسند لگی كہ میں لعنت كا راستہ بنوں۔( )
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے : جب تم اللہ كو دیكھو كہ وہ بندے كو اس كے گناہوں كے باوجود دنیا سے دے رہا ہے تو سمجھ لو كہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت نہیں كرتا، كیوں كہ یہ اس كے لئے ڈھیل ہے، پھر یہ آیت تلاوت كی: ﴿الانعام:۴۴﴾ ترجمہ: پھر جو لوگ ان چیزوں کو بھولے رہے جن کی ان کو نصیحت کی جاتی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کشادہ کردیئے یہاں تک کہ جب ان چیزوں پر جو کہ ان کو ملیں تھیں، وہ خوب اترا گئے، ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پھر تو وہ بالکل مایوس ہوگئے۔( )
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہتے ہیں كہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے ،اچانك لوگ فتنے كا ذكركرنے لگے۔ یا آپ كے پاس فتنے كا ذكر ہوا تو آپ نے فرمایا: جب تم لوگوں كو دیكھو كہ وہ اپنے وعدوں كی پاسداری نہیں كر رہے، اور امانتوں كے بوجھ كو ہلكا سمجھا جانے لگا ہے، اور وہ اس طرح ہوں : آپ نے انگلیاں ایك دوسرے میں داخل كیں، میں آپ كی طرف آیا اور آپ سے كہا: اس وقت میں كیا كروں؟ اللہ مجھے آپ پر قربان كرے۔ آپ نے فرمایا: اپنے گھر كو لازم كرلو، اپنی زبان روكے ركھو، نیكی كو اختیار كرو اور برائی كو چھوڑ دو، اپنا خاص معاملہ (ضروری)سمجھو اور عام لوگوں کے معاملات چھوڑدو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (205) سنن أبي داؤد كِتَاب الْمَلَاحِمِ بَاب الْأَمْرِ وَالنَّهْيِ رقم (3780)
) ابو ذر رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول مجھے نصیحت كیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم سے كوئی برائی ہوجائے تواس كے بعد كوئی نیكی كرو جو اسے مٹا دے۔میں نے كہا:اے اللہ كے رسول ! كیا”لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ“ كہنا بھی نیكی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ تو افضل نیكی ہے۔( )
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر چار عادتیں تم میں موجود ہیں تو دنیا سے اگر تمہیں كچھ بھی نہ ملے تو كوئی حرج نہیں۔امانت كی حفاظت، سچ بولنا، اچھا اخلاق اور پاكیزہ حلال لقمہ۔( )
انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ ساری عمر نیكی كرتے رہو، اور اللہ كی رحمت کی عطیوں کے منتظر رہو كیونكہ اللہ اپنی رحمت کے عطیات اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے دیتا ہے، اور اللہ سے سوال كرو كہ وہ تمہارے عیوب پر پردہ ڈالے اور تمہاری گھبراہٹوں میں تمہیں امن دے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1890) المعجم الكبير للطبراني رقم (719)
) ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے چھ چیزوں كی ضمانت دو میں تمہیں جنت كی ضمانت دیتا ہوں۔جب تم میں سے كوئی شخص بات كرے تو جھوٹ مت بولے، اور جب اس كے پاس امانت ركھی جائے تو خیانت نہ كرے، اور جب وعدہ كرے تو وعدہ خلافی نہ كرے، اپنی نگاہیں نیچی ركھو، اپنے ہاتھ روكے ركھو، اور اپنی شرمگاہوں كی حفاظت كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1525) المعجم الكبير للطبراني رقم (7944)
عن أَنسٍ قال، قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : أَلَا أُنَبِّئُكُم بِخِيَارِكُم؟ خِيَارُكُم أَطْوُلَكُم أَعْمَارًا إِذَا سَدَّدُوا
انسرضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: كیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں كے بارے میں نہ بتاؤں ؟،(وہ لوگ بہترین ہیں) جن كی عمریں طویل ہوں اور سیدھے راستے پر ہوں ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2498) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (3402) .
ابو سعید خدریرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی): اللهمّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحشرنِي فِي زَمْرَة الْمَسَاكِين، اے اللہ مجھے مسكینی كی حالت میں زندہ ركھ ، اور مسكینی كی حالت میں فوت كر ، اور مجھےمساكین كے گروہ میں جمع كر۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (308) ، أخرجه عبد بن حميد في المنتخب من المسند ( 110 / 2 ) .