TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - Book 8 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 8 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 1 Chapters
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِذْ بَصرَ بِجَمَاعَةٍ فَقَالَ: عَلَامَ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: عَلَى قَبْرٍ يَحْفِرُونَهُ قَالَ: فَفَزِعَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَبَدَرَ بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ مُسْرِعًا حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْقَبْرِ فَجَثَا عَلَيْهِ قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ لِأَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ فَبَكَى حَتَّى بَلَّ الثَّرَى مِنْ دُمُوعِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا قَالَ: أَيْ إِخْوَانِي! لِمِثْلِ الْيَوْمِ فَأَعِدُّوا .
براء بن عازب‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اچانك آپ نے ایك مجمع دیكھا، تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ كس لئے جمع ہوئے ہیں ؟ آپ كو بتایا گیا كہ یہ لوگ ایك كھودی جانے والی قبر كے پاس جمع ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌گھبراہٹ میں اپنے صحابہ كے آگے آگے تیز تیز چلتے ہوئے قبر تك پہنچے اور گھٹنوں كے بل بیٹھ گئے ، میں آپ كے سامنے آگیا تاكہ میں دیكھوں كہ آپ كیا كرتےہیں۔ آپ رونے لگے، حتی كہ آپ كے آنسوؤں سے مٹی تر ہو گئی، پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے بھائیو! اس دن كے لئے تیاری كرو۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1751) ، مسند أحمد رقم (17860) .
1352
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا فِي بَطْنِ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكُهُ .
) سہل بن سعد‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچو،جس کی مثال اس طرح ہے کہ كچھ لوگوں نے ایك وادی میں پڑاؤ ڈالااورچھوٹی چھوٹی لكڑیاں اكھٹی كیں اور روٹیاں پكالیں۔ اسی طرح جب گناہ كرنے والا چھوٹے چھوٹے گناہ كرتا ہے تو وہ گناہ اسے ہلاك كر دیتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (389) ، مسند أحمد رقم (21742) .
1353
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ مَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: اعْلَمُوا أَنَّهُ لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ مَا لُكَ مَا قَدَّمْتَ وَمَالُ وَارِثِكَ مَا أَخَّرْتَ .
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے کون ہے جو اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند كرتا ہے؟ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم میں سے كوئی بھی اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث كا مال پسند نہیں كرتا۔ آپ نے فرمایا: جان لو كہ تم میں سے كوئی بھی شخص ایسا نہیں جسے اپنے مال سے اپنے وارث کا مال زیادہ پسند نہ ہو۔ تمہارا مال وہ ہے جو تم نے آگے بھیج دیا، اور تمہارے وارث كا مال وہ ہے جوتم نے تركہ چھوڑا ۔
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (1486) ، سنن النسائي ،كِتَاب الْوَصَايَا، باب الْكَرَاهِيَةُ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ ، رقم (3554) .
1354
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : ثَلَاثٌ مُهْلِكاَتٌ، وَثَلَاثٌ مُنَجِّيَاتٌ، فَقَالَ: ثَلَاثٌ مُهْلِكاَتٌ : شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبِعٍ وَ إِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِه.وَثَلَاثٌ مُنَجِّيَاتٌ: خَشْيَةُ اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ وَالْقَصْدُ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَى وَالْعَدْلُ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تین عادتیں ہلاك كرنے والی ہیں اورتین عادتیں نجات دلانے والی ہیں! انتہائی بخل، خواہش پرستی، اور خود پسندی تین عادتیں ہلاک کرنے والی یہ ہیں۔ اور تین عادتین نجات دلانے والی یہ ہیں: ظاہر اور پوشیدہ میں اللہ كی خشیت، محتاجی اور غنی میں میانہ روی، غصے اور خوشی میں انصاف کرنا۔
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (1486) ، سنن النسائي ،كِتَاب الْوَصَايَا، باب الْكَرَاهِيَةُ فِي تَأْخِيرِ الْوَصِيَّةِ ، رقم (3554)
1355
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسِ بْنِ قَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَتْ: جَاءَنَا رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَوْمًا... فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيرَةٌ فَوَضَعَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَاحْتَرَقَتْ أَصَابِعُهُ فَقَالَ: حَسِّ ثُمَّ قَالَ: ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ: حَسِّ، وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ: حَسِّ .
خولہ بنت قیس بن قہد انصاریہ سے مروی ہے كہ: رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك دن ہمارے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ كے سامنے ہانڈی پیش كی،اس میں روٹی یا کھچڑی تھی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنا ہاتھ كھانے كے لئےہانڈی میں ڈالاتو آپ كی انگلیاں جل گئیں۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے كہا: اُف( تکلیف كے وقت كلمہ) ۔پھر فرمایا: ابن آدم كو ٹھنڈك پہنچے تو اُف كہتا ہے اور اگراسےتپش پہنچے توبھی اُف كہتا ہے
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (1802) ، أخرجه البزار ( رقم - 80 ) .
1356
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : الْجَمَاعَةُ رَحْمَةٌ وَالْفُرْقَةُ عَذَابٌ .
نعمان بن بشیر كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جماعت رحمت ہے اور تنہائی (علیحدگی )عذاب ہے
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (1578) ، مسند أحمد رقم (26053) .
1357
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي عُبَيْدِ الْحَضْرَمِيِّ - يَعْنِي: شُرَيحاً - أَنَّ أَبَا مَالِكٍ الْأَشْعَرِيَّ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ مِنْكُمُ الْغَائِبَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: حُلْوَةُ الدُّنْيَا مُرَّةُ الْآخِرَةِ وَمُرَّةُ الدُّنْيَا حُلْوَةُ الْآخِرَةِ .
ابو عبید حضر می سے مروی ہے كہ ابو مالك اشعری‌رضی اللہ عنہ كی وفات كا وقت جب قریب آیا تو انہوں نے كہا: اے اشعریوں كی جماعت تم میں موجودلوگ، غیر موجود لوگوں تك یہ بات پہنچا دیں، میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا، فرما رہے تھے: دنیا كی مٹھا س آخرت كی كڑواہٹ ہے اور دنیا كی كڑواہٹ آخرت كی مٹھاس ہے
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (667) ، مسند أحمد رقم (17721) .
1358
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلْ إِلَيْكَ .
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم، میری طرف رخ كرو، میں تمہاری طرف چل كر آؤں گا، میری طرف چل كر آؤ میں تیری طرف دوڑ كر آؤں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (18179) ، مسند أحمد رقم (21826) .
1359
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ اللهُ تَعَالَى: يَا ابْنَ آدَمَ قُمْ إِلَيَّ أَمْشِ إِلَيْكَ وَامْشِ إِلَيَّ أُهَرْوِلْ إِلَيْكَ .
نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی نے كہا كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم، میری طرف رخ كرو، میں تمہاری طرف چل كر آؤں گا، میری طرف چل كر آؤ میں تیری طرف دوڑ كر آؤں گا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2287) ، مسند أحمد رقم (15360) .
1360
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالَكٍ مَرْفُوْعاً: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَبْدِي أَناَ عِنْدَ ظَنِّكَ بِي ، وَأَنَا مَعَكَ إِذَا ذَكَرْتَنِي .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اللہ عزوجل نے فرمایا: میرے بندے! میں تمہارے گمان كے مطابق ہوں اور میں تمہارے ساتھ ہوں جب تم مجھے یاد كرتے ہو
Takhreej
الصحيحة رقم (2012) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (1782) .
1361
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ جُنْدُبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ رَجُلٌ: وَاللهِ لا يَغْفِرُ اللهُ لِفُلاَنٍ، فَقَالَ اللهُ: مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّى عَلَيَّ أَنْ لا أَغْفِرَ لِفُلانٍ؟! فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ .
جندب‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایاكہ: ایك آدمی نے كہا: اللہ کی قسم!اللہ تعالیٰ فلاں كو معاف نہیں كرے گا۔ اللہ عزوجل نےفرمایا: یہ كون ہوتا ہے جو جو مجھ پر قسم اٹھاتا ہے كہ میں فلاں كو نہیں بخشوں گا؟ میں نے فلاں كو بخش دیا اور تیرے عمل ضائع كر دئے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2014) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ، بَاب النَّهْيِ عَنْ تَقْنِيطِ ... ، رقم (4753)
1362
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قال: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : قَالَ لِي جِبْرِيلُ: لَوْ رَأَيْتَنِي وَأَنَا آخُذٌ مِنْ حَالِ الْبَحْرِ فَأَدُسُّهُ فِي فَمِ فِرْعَوْنَ مَخَافَةَ أَنْ تُدْرِكَهُ الرَّحْمَةُ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جبریل نے مجھ سے كہا: اگر آپ مجھےاس وقت دیكھتے جب میں سمندركی كالی مٹی لے كر فرعون كے منہ میں اس ڈر سے بھر رہا تھا كہ كہیں اسے اللہ كی رحمت آغوش میں نہ لے لے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2015) ، سنن الترمذي ،كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، بَاب وَمِنْ سُورَةِ يُونُسَ ، رقم (3032) .
1363
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عَائَشَة قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: قَتْلُ الصَّبْرِ لَا يَمُرَّ بِذَنْبٍ إِلَّامَحَاہ .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: باندھ کر قتل کئے گئے آدمی کے سابقہ گناہ معاف کردئے جا ئیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2016) ، مسند البزار ( 1545 ) .
1364
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ بْن حَنِيْف ، عَنْ أَبِيْه مَرْفُوْعاً: كَانَ يَأْتِي ضُعَفَاءَ الْمُسْلِمَيْن ، وَيَزُوْرُهُمْ وَيَعُودُ مَرْضَاهُم ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُم .
ابو امامہ بن سہل بن حنیف اپنے والد سے مرفوعا بیان كرتے ہیں كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كمزور مسلمانوں كے پاس آتے ،انہیں دیكھتے، ان كے مریضوں كی عیادت كرتے اور ان كے جنازوں میں شریك ہوتے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2112) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (3694) .
1365
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
) عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنَّهُ قَالَ: لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِي يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا الله هَبَاءً مَنْثُورًا قَالَ ثَوْبَانُ: يَا رَسُولَ اللهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لَا نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لَا نَعْلَمُ قَالَ: أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللهِ انْتَهَكُوهَا .
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں اپنی امت كے ایسے لوگوں كو جانتا ہوں جو قیامت كے دن تہامہ كےپہاڑوں كے برابر نیكیاں لے كر آئیں گے، جو چمك رہی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں ریت كے بكھرے ہوئے ذرات كی طرح كر دے گا۔ ثوبان رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ہمیں ان كے بارے میں بتایئے، اور ان كی وضاحت كیجئے؟ كہیں ہم لاعلمی میں ان جیسے نہ ہو جائیں ۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ تمہارے بھائی ہیں ، اور تم جیسے ہیں رات كو وہ بھی وہی عبادت كرتے ہیں جو تم كرتے ہو لیكن یہ ایسے لوگ ہیں كہ جب علیحدہ ہوتے ہیں تو اللہ كی حرمات كا ارتكاب كرتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (505) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب ذِكْرِ الذُّنُوبِ، رقم (4235) .
1366
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْن عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُم شِبْرًا بِشِبْرٍ و ذِرَاعًا بِذِرَاعٍ و بَاعًا بِبَاعٍ حَتَّى لَو أَنَّ أَحَدَهُمْ دَخَلَ جُحْرَ ضَبٍّ دَخَلْتُمْ و حَتَّى لَو أَنَّ أَحَدَهُم ضَاجِعٌ أَمَّهُ فِي الطَّرِيْقِ لَفَعَلْتُمْ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ تم اپنے سے پہلے لوگوں (یہودونصاریٰ) كی بالشت برابر بالشت ، ہاتھ برابر ہاتھ اوربازو برابر بازو پیروی كرو گے(یعنی مکمل پیروی کرو گے)۔ حتی كہ اگر ان میں سے كوئی شخص سانڈے (گوہ) كے بل میں گھسے گا تو تم بھی اس میں گھسو گے اور اگر ان میں سے کسی نے اپنی ماں سے اعلانیہ بدکاری کی ہوگی تو تم بھی کرو گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1348) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم ( 4 / 455 ) .
1367
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
) عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ فَانْطَلَقَ وَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا وَمَرَّتْ بِعِصَابَةٍ مِّنَ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا. . . فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ لِيُرْجَمَ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ الله أَنَا صَاحِبُهَا. فَقَالَ لَهَا اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ الله لَكِ. وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: ارْجُمُوهُ. وَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ .
علقمہ بن وائل كندی اپنے والد سے بیان كرتے ہیں كہ: ایك عورت رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے زمانے میں نماز كے ارادے سے نكلی ، توراستے میں ایك آدمی اسے ملا اور اس نے اپنا کپڑا اس پر ڈالا اور اپنی حاجت پوری کی۔ وہ چیخنے لگی تو وہ چلا گیا۔ ایك آدمی اس كے پاس سے گزرا تو اس نے كہا: اس شخص نے میرے ساتھ بد کاری كی ہے۔ پھر وہ مہاجرین كی ایك جماعت كے پاس سے گزری تو كہنے لگی: اس آدمی نے میرے ساتھ بد حركت كی ہے۔ لوگ اس كے پیچھے دوڑے اور اس آدمی كو پكڑ لیا۔ جس كے بارے میں عورت كا گمان تھا كہ اس نے عورت سے زنا كیا ہے۔ وہ عورت كے پاس آئے تو عورت كہنے لگی: ہاں یہی وہ مرد ہے ۔ لوگ اسے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس لائے، جب آپ نے اس شخص کو رجم كرنے كا حكم دیا تو اس عورت كا جس سے اس نے زنا كیا تھا تو اس عورت کے ساتھ زیادتی کرنے والا آدمی کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا کہ: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس کے ساتھ زیادتی مجھ سے ہوئی ہے۔ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے عورت سے فرمایا کہ: تم جاؤ، اللہ نے تمہیں بخش دیا (بدکاری کے جرم میں پکڑے جانے والے) آدمی سے بھی آپ نے اچھی بات کہی۔ اور (بدکاری) کرنے والے آدمی کے بارے میں حکم دیا کہ: اس کو رجم کردو اور فرمایا کہ: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ بھی ایسی توبہ کرتے تو قبول کی جاتی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (900) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْحُدُودِ، بَاب مَا جَاءَ فِي الْمَرْأَةِ إِذَا اسْتُكْرِهَتْ عَلَى الزِّنَا، رقم (1373) .
1368
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ سُرَاقَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِالْجِعْرَّانَةِ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَسْأَلُهُ عَنْهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّى أَمْلأُ حَوْضِى ، أَنْتَظِرُ ظَهْرِى يُرَدُّ عَلَىَّ فَتَجِىءُ الْبَهِيمَةُ فَتَشْرَبُ ، فَهَلْ لِى فِى ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَكَ فِى كُلِّ كَبِدٍ حَرًّى أَجْرٌ .
سراقہ رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ: میں جعرانہ، میں رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا مجھےسمجھ نہیں آیا كہ میں آپ سے كیا پوچھوں ؟ میں نے كہا:اےاللہ كے رسول میں اپنا حوض بھر كر اپنی سواری كا انتظار كرتا ہوں تاکہ حوض پر آكر پانی پئے، كوئی دوسرا جانور آكر پانی پی لیتا ہے ، كیا اس میں كوئی اجر ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے لئے ہرتر جگہ (ذی روح جو اس میں سے پانی پئے)میں اجر ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2152) ، مسند الحميدي رقم (944) .
1369
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمْ السَّمَاءَ ثُمَّ تُبْتُمْ لَتَابَ عَلَيْكُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر تم خطائیں كرتے رہو حتی كہ تمہاری خطائیں آسمان تك پہنچ جائیں پھر تم توبہ كرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا
Takhreej
الصحيحة رقم (903) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب ذِكْرِ التَّوْبَةِ، رقم (4238) .
1370
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ جَابَرٍ مَرْفُوعًا: لَو أَنَّ ابْن آدَم هَرَبَ مِنْ رِزْقِهِ كَمَا يَهْرُبُ مِنَ الْمَوْتِ لَأَدْرَكَهُ رِزْقُه كَمَا يُدْرِكُه الْمَوْتُ .
جابر‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر ابن آدم اپنے رزق سے اس طرح بھاگے جس طرح موت سے بھاگتا ہے تب بھی اس كارزق اس تك پالے گا جیسے اسے موت پالیتی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (952) ، الحلية الأولياء رقم ( 7 / 90 , 7 / 246 ) .
1371
Sahih