TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - Book 8 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 8 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 1 Chapters
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ رِفَاعَةَ بن عِمْرَانَ الْجُهَنِيِّ مَرْفُوْعاً: وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّاسُلِكَ بِهِ فِي الْجَنَّةِ وَأَرْجُو أَلَّا تَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ ذُرِّيَاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابِ . ( )
رفاعہ بن عمران جہنی سے مرفوعا مروی ہے كہ: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) كی جان ہے، جو بندہ ایمان لاتاہے ، پھر سیدھا رہتا ہے ، اسے جنت میں چلایا جائے گا، اور مجھے امید ہے كہ تم اس وقت تك جنت میں داخل نہیں ہو گے جب تك تم اور تمہاری نیك اولاد جنت میں جگہ نہ بنالیں اورمجھ سے میرے رب نے وعدہ كیا ہے كہ میری امت میں سے ستر ہزار بندے بغیر حساب كے جنت میں داخل کرےگا ۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2405) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب صِفَةِ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ، رقم (4275) .
1412
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيْدِيِّ وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَافَقَ حَنْظَلَةُ! قَالَ: سُبْحَانَ الله! مَا تَقُولُ؟ قَالَ قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ فَنَسِينَا كَثِيرًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَوَالله إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ الله فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا. فَقَـالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : وَالَّذِي نَفْسـِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ .
حنظلہ اسیدی‌رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌کے کاتبوں میں سے تھے، سے مروی ہے كہتے ہیں كہ مجھے ابو بكر‌رضی اللہ عنہ ملے اور كہنے لگے: حنظلہ كیسے ہو؟ میں نے كہا: حنظلہ منافق ہو گیا ہے۔ ابو بكرنے كہا: سبحان اللہ تم كیا كہہ رہے ہو؟ میں نے كہا: جب ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں جنت و جہنم كی یاد دہانی كرواتے رہتے ہیں، جیسا كہ ہم انہیں آنكھوں سے دیكھ رہے ہوں، جب ہم رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس سےچلے جاتےہیں تو ہم بیوی بچوں اوركام میں مصروف ہوجاتےہیں اوربہت كچھ بھول جاتے ہیں، ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نےکہا اللہ كی قسم ہماری بھی یہی صورتحال ہے۔ پھر میں اور ابو بكر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے ۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حنظلہ منافق ہو گیاہے، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: وہ كس طرح (یہ كیا معاملہ ہے؟) میں نے كہا: ہم آپ كے پاس ہوتے ہیں تو آپ ہمیں جنت اور جہنم كی یاد دلاتے رہتے ہیں گویا كہ ہم انہیں آنكھوں سے دیكھ رہے ہیں ، لیكن جب ہم آپ كے پاس سے اٹھ كر باہر جاتے ہیں تو بیوی بچوں اور كام كاج میں مصروف ہو جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم اسی حالت میں جس میں میرے پاس ہوتے ہو اور ذكرکی کیفیت میں رہوتو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں پر تم سے مصافحہ کریں۔ لیكن اے حنظلہ لمحہ بہ لمحہ كیفیت بدلتی رہتی ہے۔ تین مرتبہ یہی فرمایا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1948) ، صحيح مسلم ،كِتَاب التَّوْبَةِ، بَاب فَضْلِ دَوَامِ الذِّكْرِ ...، رقم (4937) .
1413
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِشَاةٍ مَيْتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى الله مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ: رسو ل اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك مردہ بكری كے پاس سے گزرے جسے اس كے مالكوں نےپھینك دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے ! دنیا اللہ كے نزدیك اس سے بھی زیادہ حقیر ہے جتنی یہ بكری اپنے مالكوں كے پاس حقیر ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2482) ، منسد أحمد رقم (2890)
1414
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوْعاً: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَذَهَبَ الله بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُونَ الله فَيَغْفِرُ لَهُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم گناہ نہ كرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں ختم كردے اور ایسی قوم لے آئے جو گناہ كر كے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگیں اور اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1950) ، صحيح مسلم ،كِتَاب التَّوْبَةِ، بَاب سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالِاسْتِغْفَارِ تَوْبَةً، رقم (4936) .
1415
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الله بْنِ خُبَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمِّهِ (يَسَارِ بْنِ عَبْداللهِ الْجُهْنِي) قَالَ: كُنَّا فِي مَجْلِسٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌وَعَلَى رَأْسِهِ أَثَرُ مَاءٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا نَرَاكَ الْيَوْمَ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقَالَ: أَجَلْ وَالْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ أَفَاضَ الْقَوْمُ فِي ذِكْرِ الْغِنَى فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِالْغِنَى لِمَنِ اتَّقَى وَالصِّحَّةُ لِمَنِ اتَّقَى خَيْرٌ مِّنَ الْغِنَى وَطِيبُ النَّفْسِ مِنَ النَّعِيمِ.( )
معاذ بن عبداللہ بن خبیب اپنے والد سے وہ ان كے چچا سے بیان كرتے ہیں كہ انہوں نے كہا: ہم ایك مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌آئے تو آپ كے سر پر پانی كا نشان تھا۔ ہم میں سے كسی نے كہا: آج ہم آپ كو تروتازہ دیكھ رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں ، الحمدللہ ، پھر لوگ دولت كے تذكرے میں مشغول ہو گئے ۔ آپ نے فرمایا: جو شخص متقی ہے اس كے لئے دولت میں كوئی حرج نہیں، اور متقی شخص كے لئے صحت دولت سے بہتر ہے اور طیب النفس ہونا بھی نعمتوں میں سے ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (174) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب التِّجَارَاتِ، بَاب الْحَثِّ عَلَى الْمَكَاسِبِ، رقم (2132) .
1416
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَهُمْ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ: لَا تَدْخُلُوا عَلَى هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا بَاكِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ (وَتَقّنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحِل) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ جب آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌حجر كے پاس سے گزرے تو آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے ان سے كہا:ان عذاب شدہ لوگوں کی بستی، كے پاس سے روتے ہوئے گزرو، اگر تم رو نہیں سكتے تو ان كے پاس مت جاؤ، كہیں تم پر بھی وہ عذاب نہ آجائےجو ان پر آیا تھا(آپ سواری پر بیٹھے تھے، آپ نے اپنی چادر سے منہ ڈھانپ لیا)۔
Takhreej
الصحيحة رقم (19) ، مسند أحمد رقم (4974)
1417
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا تُكْثِرُوا الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكِ تُمِيتُ الْقَلْبَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: زیادہ مت ہنسو كیوں كہ زیادہ ہنسنا دلوں كو مردہ كر دیتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (506) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب الْحُزْنِ وَالْبُكَاءِ، رقم (4183) .
1418
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسٍ: مَرَّ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِأُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِه وَصَبِيٌّ بَيْنَ ظَهْرَانَي الطَّرِيْق ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّه الدَّوَابَّ خَشِيَتْ عَلَى ابْنِهَا أَن يُوطَأ ، فَسَعَتْ وَالِهَةً فَقَالَتْ: ابْني ابْني فَاحْتَمَلَتْ ابْنَهَا ، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا نَبِيَّ اللهِ مَا كَانَتْ هَذِه لِتُلْقِي ابْنَهَا فِي النَّار . فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: لَا وَاللهِ لَا يُلْقِي اللهُ حَبِيبَه فِي النَّار .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنے چند صحابہ كے پاس سے گزرے، ایك بچہ راستے كے درمیان بیٹھا تھا۔ جب اس كی ماں نے جانور دیكھے تو ڈر گئی كہ كہیں اسے روند نہ ڈالیں وہ بے ساختہ دوڑی، اور كہنے لگی، میرا بچہ، میرا بچہ اور اپنا بچہ اٹھا لیا۔ لوگوں نے كہا: اے اللہ كے نبی یہ عورت تو اپنے بچے كو آگ میں نہیں ڈال سكتی۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں اللہ كی قسم اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندے كو آگ میں نہیں ڈالے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2407) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7455) .
1419
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠)قَالَتْ عَائِشَةُ: أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ؟ قَالَ: لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ! وَلَكِنَّهُمْ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ میں نے اس آیت كے متعلق رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سوال كیا: وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمۡ وَجِلَۃٌ (المؤمنون: ٦٠) وہ لوگ جو دیتے ہیں اور ان كے دل ڈر رہے ہوتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے كہا: كیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں اور فضول خرچی كرتے ہیں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: نہیں صدیق كی بیٹی! یہ وہ لوگ ہیں جو روزہ ركھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں ، صدقہ كرتے ہیں ، اور ڈرتے ہیں كہ شاید قبول نہ كیا جائے اُولٰٓئِکَ یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ (المؤمنون: ٦١) یہی لوگ نیك كاموں میں جلدی كرتے ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (162) ، سنن الترمذي ،كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ، بَاب وَمِنْ سُورَةِ الْمُؤْمِنُونَ، رقم (3099) .
1420
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي عِنَبَة الْخَوْلَانِيَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَا يَزَالُ الله يَغْرِسُ فِي هَذَا الدِّينِ غَرْسًا يَسْتَعْمِلُهُمْ فِي طَاعَتِه .
ابو عنبہ خولانی سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس دین میں ایسی شخصیات کو پیدا کرتا رہے گا اپنی اطاعت میں استعمال كرے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2442) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ، بَاب اتِّبَاعِ سُنَّةِ رَسُولِ الله ﷺ، رقم (8) .
1421
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ حُذَيْفَةَ مَرْفُوْعاً: لَا يَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ. قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يُطِيقُ
حذیفہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: مومن كے لئے لائق نہیں كہ وہ اپنے آپ كو ذلیل كرے۔ صحابہ نے كہا: وہ اپنے آپ كو ذلیل كس طرح كرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ایسی آزمائش كے درپے ہو جاتا ہے جس كی طاقت نہیں ركھتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (613) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْفِتَنِ، بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ عَنْ سَبِّ الرِّيَاحِ، رقم (2180) .
1422
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي قَتَادَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَيَّهَا النَّاسُ ابْتَاعُوا أَنْفُسَكُم مِنَ اللهِ مِنْ مَالِ الله، فَإِنْ بَخِلَ أَحَدُكُم أَنْ يُعْطِي مَالَهُ لِلنَّاسِ فَلْيَبْدَأْ بِنَفَسِهِ، وَلْيَتَصَدَّقْ عَلَى نَفْسِه فَلْيَأْكُلْ وَلْيَكْتَسِ مِمَّا رَزَقَهُ الله عَزَّ وَجَلَّ.
ابو قتادہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے لوگو ! اللہ كے مال سے، اپنے آپ كو اللہ سے خرید لو، اگر تم میں سے كوئی بخیلی كرے، وہ لوگوں كو اپنا مال دینے سے، تو پہلے اپنے آپ سے شروع كرے، اللہ كے دیئے ہوئے مال میں سے خود پر صدقہ كرے، كھائے اور پہنے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (271) ، مكارم الإخلاق للخرائطي رقم ( 54 )
1423
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ رَجُلٍ مِّنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌-وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَحَدَّثَنِي فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَوْ- قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : يَا أَيُّهَا النَّاسُ تُوبُوا إِلَى الله وَاسْتَغْفِرُوهُ فَإِنِّي أَتُوبُ إِلَى الله وَأَسْتَغْفِرُهُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ .
ابو بردہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے ایك صحابی سے بیان كرتے ہیں اور ایك روایت میں ہے كہ میں كوفہ كی ایك مسجد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ایك بوڑھے صحابی كے ساتھ بیٹھا تو انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان كی كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اے لوگو ! اللہ سے توبہ كرو ، اور اس سے معافی مانگو كیوں كہ میں اللہ تعالیٰ سے ہر دن ایك سو مرتبہ توبہ اور استغفار كرتا ہوں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1452) ، مسند أحمد رقم (22390)
1424
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا عَائِشَةُ! إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ -وَفِي لَفْظٍ:الذُّنُوب- فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللهِ طَالِبًا .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے مجھ سے كہا: اے عائشہ! چھوٹے گناہوں سے بچو كیوں كہ اللہ كی طرف سے انہیں تلاش كرنے(لکھنے) والامقرر ہوتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (513) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب ذِكْرِ الذُّنُوبِ، رقم (4233) .
1425
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عُبَادَة بن الصَّامِتِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌أَنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَرَج ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَصْحَابُه مَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَقَال مَعَاذ بْن جَبَلٍ: يَا نَبِي الله! أَتَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَقَدَّم إِلَيْكَ عَلَى طَيِّبَة نَفْس؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاقْتَرَبَ مَعَاذٌ إِلَيْهِ فَسَارَا جَمِيَعًا، فَقَالَ مُعَاذ: بِأَبِي أَنَتَ يَا رَسُولَ الله! ، اسأل اللہ أَن يَجْعَلَ يَوْمَنَا قَبْلَ يَوْمِكَ أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ شَيْءٌ وَلَا نَرَى شَيْئًا إِن شَاء الله تَعَالَى فَأَيُّ الْأَعْمَالِ نَعْمَلُهَا بَعْدَكَ ؟ فَصَمَتَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: الْجِهَادُ فِي سَبِيْلِ اللهِ ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : نِعْمَ الشَّيْءُ الْجِهَادُ ، وَالَّذِي بِالنَّاس أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ. فَالصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: نِعْم الشَّيْءُ الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ فَذَكَر مُعَاذ كُلَّ خَيْر يَعْمَلُه ابنُ آدَم، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : وَعَادَ بِالنَّاس خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ قَالَ: فَمَاذَا بِأَبِي أَنَتَ وَأُمِّي عَادَ بِالنَّاسِ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَأَشَار رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌إِلَى فِيْهِ قَالَ: الصَّمْتُ إِلَا مِنْ خَيْرٍ قَالَ: وَهَل نُؤَاخَذ بِمَا تَكَلَّمَتْ بِه أَلْسِنَتُنَا؟ قَالَ: فَضَرَب رَسُول الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَخذِ مُعَاذ ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُعَاذ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسُ عَلَى مَنَاخِرِهِم فِي جَهَنَّمْ إِلَامَا نَطَقَتْ بِهِ أَلْسِنَتُهُم؟! فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْم الْآخَر فَلْيَقُل خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ ، قُولُوْا خَيْرًا تَغْنَمُوا وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوْا.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ ایك دن رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اپنی سواری پر سوار باہر كی طرف نكلے۔آپ كے صحابہ آپ كے آگے آگے چل رہے تھے۔ معاذ بن جبل‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے نبی كیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں كہ میں آپ كی خوشی سے آپ كے پاس آؤں؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ٹھیك ہے۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ آپ كے قریب ہوئے اور دونوں اكھٹے چلنے لگے۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میرے ماں باپ آپ پر قربان! میں اللہ سے دعا كرتا ہوں كہ اللہ تعالیٰ میری موت کا دن آپ کے یوم وفات سے پہلے کردے۔ اگر كوئی معاملہ (آپ کی رحلت کی طرف اشارہ ہے) ہو اور ان شاء اللہ ہم كوئی معاملہ نہیں دیكھیں گے۔ تو آپ كے بعد ہم كون سے عمل كریں؟رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌خاموش رہے پھر فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ ۔ پھر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جہاد بہترین عمل ہے، اور جو چیز لوگوں کے پاس ہے اس سے بھی زیادہ بہترین ہے۔ (معاذ‌رضی اللہ عنہ نے پوچھا) روزہ اور صدقہ؟ آپ نے فرمایا: روزہ اور صدقہ بہترین عمل ہیں۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے نیك كام كا ذكر كیا جو ابن آدم كرتا ہے ۔ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: لوگوں كے پاس اس سے بھی بہترین عمل ہے۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان وہ کون سا عمل ہے جو لوگوں كے پاس بہترین صورت میں موجود ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے اپنے منہ كی طرف اشارہ كیا فرمایا: بھلائی كے علاوہ ہر بات سے خاموشی۔ معاذ‌رضی اللہ عنہ نے كہا: ہماری زبانیں جو الفاظ ادا كرتی ہیں كیا ان كی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے معاذ‌رضی اللہ عنہ كی ران پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے معاذ تمہاری ماں تمہیں گم پائے! لوگوں كو جہنم میں منہ كے بل ان كی زبانوں كی كاٹ ہی توگرائے گی۔ جو شخص اللہ اور یوم آخر ت پر یقین ركھتا ہے وہ اچھی بات كہے یا بری بات كہنے سے خاموش رہے۔ اچھی بات كہو ،غنیمت حاصل كرو گے۔ بری بات سے خاموش رہو سلامت رہو گے۔( )
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (412) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7882) .
1426
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عُبَاد بن تَمِيْمٍ عَنْ عَمِّهِ (عَبْدِاللهِ بنِ زَيْد بنِ عَاصِمٍ) مَرْفُوْعاً: يَا نَعَايَا الْعَرَب! يَا نَعَايَا الْعَرَب! (ثَلَاثًا)، إِنَّ أَخْوَف مَا أَخَاف عَلَيْكُم الرِّيَاءُ وَالشَّهْوَةُ الْخَفِيَّة .
عباد بن تمیم اپنے چچا(عبداللہ بن زید بن عاصم )سے مرفوعا بیان كرتے ہیں : اے عرب كے لوگو ! اے عرب كے لوگو! (تین مرتبہ كہا) مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف ریا اور پوشیدہ شہوت( خواہش) كا ہے۔( )
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (508) ، الحلية الأولياء لأبي نعيم رقم ( 7 / 122 ) .
1427
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: يُجِيرُ عَلَى أُمَّتِي أَدْنَاهُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت كا عام آدمی بھی پوری امت کو پناہ دے سكتا ہے۔( )
Takhreej
سلسلة الأحاديث الصحيحة رقم (2449) ، مسند أحمد رقم (8425) .
1428
Sahih