TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - Book 8 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 8 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 1 Chapters
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ الله صلی اللہ علیہ وسلم جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ: إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ .
عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كو آہستہ نہیں بلند آواز سے فرماتے سنا کہ: ابو فلاں كی آل والے میرے دوست نہیں،میرا دوست تو اللہ اور نیك مومنین ہیں۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (764) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب مُوَالَاةِ الْمُؤْمِنِينَ ... ، رقم (316) .
1332
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عن عَائَشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ الله، إِنَّ الله إِذَا أَنْزَلَ سطْوَتَه بِأَهْلِ الْأَرْضِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُون فَيَهْلكُون بِهَلاَكِهِمْ ؟ فَقَالَ: إِنَّ اللهَ إِذَا أَنْزَلَ سطْوَتهُ بِأَهْلِ نَقْمَتِه وَفِيهِمُ الصَّالِحُون ، فَيُصَابُوْنَ مَعَهُمْ ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِم .
عائشہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول اللہ تعالیٰ جب كسی علاقے والوں پر اپنا عذاب نازل كرتا ہے اور ان میں نیك لوگ بھی ہوں تو كیا انہیں بھی ان كے ساتھ ہلاك كر دیا جاتا ہے؟ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب اپنے دشمنوں پر عذاب نازل كرتا ہے اور ان میں نیك لوگ بھی ہوں تو انہیں بھی ان كے ساتھ ہلاك كر دیا جاتا ہے۔ پھر انہیں ان كی نیتوں پر اٹھایا جائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1622) ، صحيح ابن حبان رقم (7438) .
1333
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَحَدِ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: أَنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قَسَمَ الله عَزَّ وَجَلَّ لَهُ بَارَكَ اللهُ لَهُ فِيهِ وَوَسَّعَهُ وَمَنْ لَّمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارِكْ لَهُ .
بنو سلیم كے ایك شخص سے مروی ہے كہ آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے كو مال دےکر آزماتا ہے۔ جو شخص اپنے لئے اللہ كی تقسیم پر راضی ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس كے لئے اس مال میں بركت فرمادیتا ہے اور كشادگی كردیتا ہے اور جو شخص راضی نہیں ہوتا اس كے لئے اس كے مال میں بركت نہیں دی جاتی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1658) ، مسند أحمد رقم (19398) .
1334
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
) عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَالَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا شَيْءَ لَهُ . فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ لَهُ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : لَا شَيْءَ لَهُ . ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الله عَزَّوَجَلَّ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ .
) ابو امامہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آیا اور كہا: آپ كا اس شخص كے بارے میں كیا خیال ہے جو اجر اور شہرت كی نیت سے جہاد كرتا ہے، اس كے لئے كیااجر ہے؟ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اس كے لئے كوئی اجرنہیں۔ اس شخص نے تین مرتبہ یہ بات دہرائی، رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌اس سے كہتے رہے اس كے لئے كوئی چیز نہیں۔ پھر فرمایا: اللہ عزوجل ایسا عمل قبول كرتاہے جو صرف اس كے لئے خالص ہوتا ہے اور جس كے ذریعے اس كی خوشنودی تلاش كی جائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2498) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (3402) .
1335
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ الله يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ صَدْرَكَ غِنًى وَأَسُدَّ فَقْرَكَ وَإِلَّا تَفْعَلْ مَلَأْتُ يَدَيْكَ شُغْلًا وَلَمْ أَسُدَّ فَقْرَكَ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم میری عبادت كے لئے فارغ ہو جا، میں تیرے دل كو غنیٰ سے بھر دوں گا، تیری محتاجی دور كر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ كیا تو تجھے مصروفیت میں پھنسا دوں گا اور تیری محتاجی بھی دور نہیں كروں گا ۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (308) ، أخرجه عبد بن حميد في المنتخب من المسند ( 110 / 2 ) .
1336
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مَـرْفُوْعاً: أَوَّلُ مَـا يُحَـاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَنْ يُقَالَ لَهُ: أَلَمْ أُصِـحَّ لَكَ جِسْمَـكَ؟ وأُرْوِكَ مِنَ الْمَاءِ الْبَارِد ؟ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ :قیامت كے دن بندے كا سب سے پہلے یہ حساب ہو گا كہ اس سے كہا جائے گا ،كیا میں نےتمہیں تندرستی عطا نہیں كی تھی، اور تمہیں ٹھنڈے پانی سے سیراب نہیں كیا تھا؟( )
Takhreej
الصحيحة رقم (764) ، صحيح مسلم ،كِتَاب الْإِيمَانِ، بَاب مُوَالَاةِ الْمُؤْمِنِينَ ... ، رقم (316) .
1337
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عن أبي هُرَيْرَة ،مَرْفُوْعاً: إِن أَوْلِيَائِي يَوِم الْقِيَامَة الْمُتَّقُون، وَإِن كَان نَسَبٌ أَقْرَبَ مِنْ نَسـَبٍ ، فَـلَا يَأْتِيَنِي النَّاس بِالْأَعْمَال وَتَأْتُونِي بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا عَلَى رِقَابِكُم، فَتَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدْ! فَأَقُولُ هَكَذَا وَهَكَذَا: لَا. وَأَعْرَضَ فِي كلَا عِطْفَيْه .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: قیامت كے دن میرے دوست متقی لوگ ہوں گے ۔ اگرچہ نسب کے اعتبار سے کوئی میرے زیادہ قریب ہی کیوں نہ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ میرے پاس (نیک) اعمال لے کر آئیں اور تم میرے پاس اپنی گردنوں پر دنیا اٹھائے ہوئے آؤ۔ اور كہہ رہے ہو گے: اے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ اور میں اس طرح اس طرح كروں كہ نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے كاندھے دونوں طرف موڑیے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1622) ، صحيح ابن حبان رقم (7438) .
1338
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عن أبي الدَّرْدَاء قال: قال رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِن بَيْن أَيْدِيْكُم عَقَبَة كُؤُودا , لَا يَنْجُو مِنها إِلَا كُل مُخف.
ابو درداء‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تمہارے سامنے ایك گہری كھائی ہے، اس سے وہی بچ سکتا ہے جس کے گناہوں کا بوجھ ہلکا ہو۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1658) ، مسند أحمد رقم (19398) .
1339
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عن أَنس: ذكر لَنا رَسُول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال: إِن فِيكُم قَوْمًا يَّتَعَبَّدُون حَتَّى يُعْجِبُوا النَّاس وَيُعْجِبَهُم أَنْفُسَهُم ، يَمْرُقُون مِنَ الدِّيْنِ كَمَا يَمْرُق السَّهْم مِنَ الرَّمْيَة .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (کچھ لوگوں کا) ذکر کرتے ہوئے فرمایا: تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو اتنی عبادت کریں گے کہ لوگ اور وہ خود بھی اپنی عبادت سے متعجب ہوں گے۔ (لیکن) وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسا تیر شکار کے (جسم سے پار) نکل جاتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (539) ، المعجم الكبير للكبراني رقم (224) .المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7310) .
1340
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
) عن عَائَشَة ، أَن النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قال : إِن كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْب فَاسْتَغْفِرِي الله وَتُوبِي إِلَيْه ، فَإِن التَّوْبَة من الذَّنَب: النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم نے كوئی گناہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو اور اس سے توبہ كرو، كیونكہ گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1208) ، شعب الإيمان للبيهقي رقم (6768)
1341
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْن عُمَرَ مَرْفُوْعا: إِنَّ لِلهِ أَقْواَماً يَخْتَصُّهُمْ بِالنِّعَم لمناَفِع الْعِبَاد ، وَيُقِرُّهُم فِيهَا مَا بَذَلُوهَا، فَإِذَا مَنَعُوهَا نَزَعَهَا مِنْهم، فحوَّلها إِلَى غَيْرِهِمْ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے: اللہ كے كچھ بندے ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بندوں كو فائدہ دینے كے لئے نعمتوں سے نوازتا ہے۔ جو وہ خرچ كرتے ہیں ان كے لئے برقرار ركھتا ہے ،جب وہ روك لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے چھین لیتا ہے اور دوسروں كو عطا كر دیتاہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1692) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (5319) .
1342
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَرْفُوْعاً: إِن لِلهِ عِبَادًا يَعْرِفُون النَّاس بِالتَّوَسُّمْ . ( )
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ كے كچھ بندے ایسے ہیں جو لوگوں کو نشانوں سے پہچانتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1693) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (3047
1343
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
) عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: إِنَّ اللهَ يُبْغِضُ الْفُحْشَ وَالتَّفَحُّشَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُخُوَّنَ الْأَمِينُ وَيُؤْتَمَنَ الْخَائِنُ حَتَّى يَظْهَرَ الْفُحْشُ وَالتَّفَحُّشُ وَقَطِيعَةُ الْأَرْحَامِ وَسُوءُ الْجِوَارِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْقِطْعَةِ مِنَ الذَّهَبِ، نَفَخَ فِيْهاَ صَاحِبُهَا فَلَمْ تَغَيَّرْ وَلَمْ تَنْقُصْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا، وَوَضَعَتْ طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تُكْسَرْ، وَلَمْ تَفْسُدْ .
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اللہ تعالیٰ بدگوئی اور فحش گوئی كو نا پسند كرتا ہے۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں میری جان ہے قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تك امین کو خائن نہ سمجھا جائے اور خائن کو امین نہ سمجھا جانے لگے،اورفحش گوئی،بدگوئی، قطع رحمی اور برے پڑوسیوں كی اكثریت نہ ہو جائے۔ مومن كی مثال سونے كے ٹكڑے كی طر ح ہےكہ اس كے مالك نے اس میں پھونك ماری نہ تو یہ تبدیل ہو ااورنہ كم ہوا۔ اس ذات كی قسم جس كے ہاتھ میں محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی جان ہے! مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے جو صاف خوراك حاصل كرتا ہے اور پاكیزہ پھل دیتا ہے۔ اگر زمین پر گر بھی جائے تو خراب نہیں ہوتا نہ ہی ٹوٹتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2288) ، مسند أحمد رقم (6577) .
1344
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أُبَيِّ بن كَعْبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ قَدْ ضُرِبَ لِلدُّنْيَا مَثَلا ، فَانْظُرْ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ قَدْ عَلِمَ إِلَى مَا يَصِيرُ.
ا بی بن كعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: ابن ِ آدم كی خوراك كو دنیا كے لئے مثال بنا دیا گیا ہے۔ اس لئے وہ دیكھے كہ ابن آدم سے كیاخارج ہو رہا ہے۔ اگرچہ وہ کتنا ہی مصالحے دار اور چٹ پٹا ہو، وہ جان لے گا كہ كس طرف جارہا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (382) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (223) .
1345
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ فَاطِمَة قَالَتْ: أَنَّ رَسُولَ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ : إِنَّ مِنْ شِرَارِ أُمَّتِي الَّذِيْنَ غُذُّوا بِالنَّعِيْمِ , الَّذِين يَطْلُبُونَ أَلْوَانَ الطَّعاَم وَأَلوَانَ الثِّياَبِ , يَتَشَدَّقُونَ بِالْكَلَامِ .
فاطمہ رضی اللہ عنہا كہتی ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میری امت كے بدترین لوگ وہ ہیں جنہیں نعمتیں دی گئیں ، وہ لوگ جو رنگا رنگ كپڑے اور قسم قسم کے كھانے طلب كرتے ہیں اور باچھیں كھول كر گفتگو كرتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1891) ، أخرجه أحمد الزهد ( ص - 77 ) .
1346
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلْخَيْرِ، مَغَالِيقَ لِلشَّرِّ، وَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَفَاتِيحَ لِلشَّرِّ مَغَالِيقَ لِلْخَيْرِ، فَطُوبَى لِمَنْ جَعَلَ اللهُ مَفَاتِيحَ الْخَيْرِ عَلَى يَدَيْهِ وَوَيْلٌ لِمَنْ جَعَلَ الله مَفَاتِيحَ الشَّرِّ عَلَى يَدَيْهِ .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: کچھ لوگ خیر كی كنجیاں اور شر كے تالے ہیں اور كچھ لوگ شر كی كنجیاں اور خیر كے تالےہوتے ہیں۔ ان لوگوں كے لئے خوشخبری ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے خیر كی كنجیاں بنا دیا اور ہلاكت ہے ان لوگوں كے لئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے شر كی كنجیاں بنا دیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1332) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الْمُقَدِّمَةِ، بَاب مَنْ كَانَ مِفْتَاحًا لِلْخَيْرِ، رقم (233) .
1347
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عن أَنس بن مَالَك : أَنَّ أَصَحَاب النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌كَانُوا يَقُولُون وَهُم يَحْفِرُون الْخَنْدَق : نَحْن الَّذِين بَايَعُوا مُحَمَدا عَلَى الْجِهَاد ما بَقِينَا أَبَدًا والنَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقول : اللهمّ إِن الْخَيْر خَيْرَ الْآخِرَة فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ و الْمُهَاجِرَة . وَأُتِىَ رَسُولُ الله ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيه إِهَالَة سَنِخَة , فَأَكَلُوا مِنها . وَقَالَ النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: إِنَّمَا الْخَيْر خَيْر الْآخِرَة .
انس بن مالك‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ خندق كھو درہے تھے اور كہہ رہے تھے:ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كی بیعت جہاد پر كی ہے، جب تك ہم باقی ہیں۔ اور نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے: اے اللہ بھلائی تو آخرت كی بھلائی ہے، انصار اور مہاجرین كو معاف كر دے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس جَو كی روٹی لائی گئی جس پر بو دار چربی لگی ہوئی تھی۔ صحابہ نے اس میں سے كھایا اور نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرما رہے تھے: بھلائی تو صرف آخرت كی بھلائی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1102) ، الطبقات لإبن سعد ( 2 / 70 ) .
1348
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
وَقَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ . روی من حدیث عائشة رضی اللہ عنہا و بلال الحبشی و محمد بن عروة مرسلاً.
آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جس شخص كے گناہ معاف كر دیئے گئے وہی راحت پائے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1710) ، مسند أحمد رقم (23571) .
1349
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ الله صلی اللہ علیہ وسلم : (ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا) (الإنسان) حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ قَالَ: إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا مَوْضِعُ قَدْرِ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا مَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلهِ، وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ .
ابو ذر‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے یہ آیت پڑھی :(ہَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّہْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا) آپ نے یہ آیت ختم كی پھر فرمایا: میں ایسا منظر دیكھ رہا ہوں جو تم نہیں دیكھ رہے اور ایسی باتیں سن رہا ہوں جو تم نہیں سن ر ہے، آسمان چرچرا رہا ہے ، اور اس كا حق ہے كہ وہ چراچرائے ، آسمان میں چار انگلیوں كی جگہ بھی نہیں جہاں فرشتے اللہ كوسجدہ كرتے ہوئے اپنی پیشانی ركھے ہوئے نہ ہوں۔ اللہ كی قسم ! اگر تمہیں معلوم ہو جائے جو مجھے معلوم ہے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور بہت زیادہ روتے، اور بستروں پر تم بیویوں سے لذت حاصل نہیں كرتے تم گڑگڑاتے ہوئے گھاٹیوں کی طرف نکل جاتے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1722) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب فِي قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ لَوْ تَعْلَمُونَ... ، رقم (2234) .
1350
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: أَوْصِنِي فَقَالَ: سَأَلْتَ عَمَّا سَأَلْتُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ قَبْلِكَ، فَقَالَ: أُوصِيكَ بِتَقْوَى الله فَإِنَّهُ رَأْسُ كُلِّ شَيْءٍ وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فَإِنَّهُ رَهْبَانِيَّةُ الْإِسْلَامِ وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ الله وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ رَوْحُكَ فِي السَّمَاءِ وَذِكْرُكَ فِي الْأَرْضِ
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ ایك آدمی ان كے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے نصیحت كیجئے، انہوں نے كہا: تم نے مجھ سے وہی سوال كیاہے جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے كیا تھا: آپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: میں تمہیں اللہ كے تقویٰ كی نصیحت كرتا ہوں، كیوں كہ یہ ہر معاملے كی ابتداءہے، اور تم پر جہاد كرنا فرض ہے کیونکہ یہ اسلام كی رہبانیت ہے، اور اللہ كے ذكر اور قرآن كی تلاوت كو لازم كر لو كیوں کہ یہ آسمان میں تمہارے لئے باعث رحمت اور زمین میں تمہارے لئے ذکر خیر کا باعث ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (555) ، مسند أحمد رقم (11349) .
1351
Sahih