TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان - Book 8 of Silsila Sahih with Urdu and English Translation

Book 8 of Silsila Sahih, with 1 chapters and 117 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

117 Hadith · 1 Chapters
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: لَوْ أَنَّ رَجُلًا يُجَرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ الله عَزَّ وَجَلَّ لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
عتبہ بن عبد كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر كوئی آدمی اپنی پیدائش كے دن سے لے كر انتہائی کمزوری ارو بڑھاپے میں مرنے تك اللہ كی رضا میں منہ كے بل گھسیٹا جائے تب بھی وہ قیامت كے دن اس عمل كو كم تر سمجھے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (446) ، مسند أحمد رقم (16991) .
1372
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو ،مَرْفُوْعاً: لَوْ أَنَّ الْعِبَاد لَمْ يُذْنِبُوا لَخَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقاً يُذْنِبُونَ ثُمَّ يَغْفِرُ لَهم وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيْم .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماسے مرفوعا مروی ہے كہ اگر یہ بندے گناہ نہ كریں تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا كریں گے جو گناہ كریں گے پھر اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا، اور وہ معاف كرنے والا، رحم كرنے والا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (967) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7731) .
1373
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُوْلُ: لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا .
عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ انہوں نے نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنا فرما رہے تھے: اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ كرو جس طرح بھروسہ كرنے كا حق ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح رزق دے گا جس طرح پرندوں كو رزق دیتا ہے۔ جو صبح كے وقت بھوكے پیٹ جاتے ہیں اور شام كے وقت پیٹ بھرے ہوئے آتے ہیں۔
Takhreej
الصحيحة رقم (310) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب فِي التَّوَكُّلِ عَلَى الله، رقم (2266) .
1374
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ مَرْفُوْعاً: لَوْ أَنَّكُمْ لَمْ تَكُنْ لَكُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا الله لَكُمْ لَجَاءَ الله بِقَوْمٍ لَهُمْ ذُنُوبٌ يَغْفِرُهَا لَهُمْ .
ابو ایوب انصاری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ اگر تمہاری صورتحال ایسی ہوتی كہ تمہارے گناہ نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آتا جن كے گناہ ہوتے اور اللہ تعالیٰ انہیں بخش دیتا
Takhreej
الصحيحة رقم (968) ، صحيح مسلم ،كِتَاب التَّوْبَةِ ، بَاب سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالِاسْتِغْفَارِ تَوْبَةً ، رقم (4935) .
1375
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة ، مَرْفُوْعاً: لَو أَنَّكُم لَا تُخْطِئُون لَأَتَى اللهُ بِقَوْمٍ يُخْطِئُون يَغْفِرُ لَهُمْ .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر تم گناہ نہ كرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لےآتا جوگناہ كرتے اور اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرماتا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (969) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7730) .
1376
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسٍ: قَالَ أَصَحَابُ النَّبِي صلی اللہ علیہ وسلم : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، إِنَّا كُنَّا عِنْدَكَ رَأَيْنَا فِي أَنْفُسِنَا ماَ نُحِبُّ ، وَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِيْنَا فَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا ، فَقَال النَّبِي ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌: لَوْ تَدُومُون عَلَى ما تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْخَلَاءِ لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُم بِأَجْنِحَتِهَا عِيَانًا ، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً .
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے صحابہ نے كہا: اے اللہ كے رسول ہم آپ كے پاس ہوتے ہیں تو اپنے آپ میں ایسی كیفیت محسوس كرتے ہیں جو ہمیں پسند ہوتی ہے اور جب ہم اپنے گھر والوں كے پاس جاتے ہیں اور ان سے ملتے ہیں تو ہمیں اپنے اندر كی كیفیت عجیب محسوس ہوتی ہے۔ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: جب تم میرے پاس ہوتے ہو یہی كیفیت اگر تمہاری تنہائی میں بھی رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ كریں اور لوگ دیكھیں كہ انہوں نے اپنے پروں سے تمہیں ڈھانپا ہوا ہے۔ لیكن لمحہ بہ لمحہ كیفیت بدلتی رہتی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (1965) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (2956) .
1377
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
قاَلَ الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صلی اللہ علیہ وسلم َ يَخْرُجُ عَلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْنَا الْحَوْتَكِيَّةُ فَيَقُولُ: لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ وَلَيُفْتَحَنَّ لَكُمْ فَارِسُ وَالرُّومُ .
عرباض بن ساریہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌صفہ میں ہمارے پاس آیا كرتے تھے اور ہم پرمختصر اور معمولی کپڑے ہوتے تھے۔ توآپ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌فرمایا كرتے تھے: اگر تمہیں معلوم ہو جائے كہ تمہارے لئے كیا كچھ(جنت میں) جمع كیا گیا ہے توجو تم سے روک دیا گیا ہے اس پرغمگین نہ ہوتے ۔اور فارس و روم تمہارے لئے فتح كر دیئے جائیں گے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2168) ، مسند أحمد رقم (16535) .
1378
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عن حَنْظَلَةَ الْأُسَيْدِيّ ، مَرْفُوْعاً: لَو تَكُونُونَ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَأَظَلَّتْكُم الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا .
حنظلہ اسیدی سے مرفوعا مروی ہے: جس طرح تمہاری كیفیت میرے پاس ہوتی ہے اگر یہی كیفیت بعد میں بھی رہے تو فرشتے تمہیں اپنے پروں سے ڈھانپ لیں
Takhreej
الصحيحة رقم (1976) ، مسند الطيالسي رقم (1429) .
1379
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي أَيُّوب أَنَّهُ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ: كُنْتُ كَتَمْتُ عَنْكُمْ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌يَقُولُ: لَوْلَا أَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُونَ يَغْفِرُ لَهُمْ
جب ابو ایوب‌رضی اللہ عنہ كی وفات كا وقت قریب آیا تو كہنے لگے: میں نے تم سے ایك بات چھپائی تھی جو میں نے رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌سے سنی آپ فرما رہے تھے: اگر تم گناہ نہ كرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی مخلوق پیدا فرماتا جو گناہ كرتے پھر اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرماتا۔
Takhreej
الصحيحة رقم (1963) ، صحيح مسلم ،كِتَاب التَّوْبَةِ،بَاب سُقُوطِ الذُّنُوبِ بِالِاسْتِغْفَارِ تَوْبَةً، رقم (4934) .
1380
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوْعاً: لَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ لِيَغْفِرَ لَهُمْ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے كہ: اگر تم گناہ نہ كرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آتا جو گناہ كرتے تاكہ اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرمائے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (970) ، مسند أحمد رقم (2492) .
1381
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : لَوْ لَمْ تَكُونُوا تُذْنِبُون خَشِيْتُ عَلَيْكُم أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، اَلْعُجْبَ .
انس‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: اگر تم گناہ نہ كرتے تو مجھے ڈر تھا كہ كہیں تم خود پسندی كا شكار نہ ہو جاؤ۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (658) ، أخرجه العقيلي ( 171 ) .
1382
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ ثَوْبَانَ مَرْفُوْعاً: لِيَتَّخِذْ أَحَدُكُمْ قَلْبًا شَاكِرًا وَلِسَانًا ذَاكِرًا وَزَوْجَةً تُعِينُهُ عَلَى أَمْرِ الْآخِرَةِ .
ثوبان‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: تم میں سے كوئی بھی شخص شكر گزار دل، ذكر كرنے والی زبان اور نیك بیوی جو آخرت كے معاملے میں اس كی مدد كرے، پسند كرے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2176) ، مسند أحمد رقم (21401) .
1383
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ أَصَبْح الْيَوْمَ مِنْكُمْ صَائِمًا؟قَالَ أَبُوْ بَكْرٍ : أَناَ ، قَالَ: مَنْ عَادَ مِنْكُم الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَناَ، قَالَ : مَنْ شَهِدَ مِنْكُم الْيَوْم جَنَازَة؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَناَ، قَالَ: مَنْ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنا . قَالَ مَرْوَان: بَلَغَنِي أَنَّ النَّبِيَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ: مَا اجْتَمَعَ هَذِهِ الْخِصَالُ فِي رَجُلٍ فِي يَوِمٍ ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّة .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ كہتے ہیں كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: تم میں سے آج كس كا روزہ ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں روزے سےہوں۔ آپ نے فرمایا: آج كے دن تم میں سے كس نے مریض كی عیادت كی ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے ۔ آپ نے فرمایا: آج كے دن جنازے میں كون حاضر ہوا ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں۔ آپ نے فرمایا: آج كے دن كس نے مسكین كو كھانا كھلایا ہے؟ ابو بكر‌رضی اللہ عنہ نے كہا: میں نے ۔ مروان نے كہا: مجھےیہ خبر پہنچی ہے كہ نبی ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: كسی بھی دن جس شخص میں یہ عادتیں جمع ہوں گی تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (88) ، الأدب المفرد للبخاري رقم (533) .
1384
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌قَالَ:مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فِي اللهِ عَزَّوَجَلَّ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ،فَيُفَرَّق بَيْنَهُمَا إِلَا ذَنْبٌ يُحْدِثُه أَحَدُهُمَا .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا:جو بھی دو شخص اللہ کے لئے یا اسلام کے لئے محبت کرتے ہیں پھران دونوں میں جدائی ہوجاتی ہےتو اس کی وجہ کوئی گناہ ہوتا ہے جو ان میں سے کوئی ایک کرتا ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (637) ، الأدب المفرد للبخاري رقم (413) .
1385
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعًا: مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرُ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى .
انس‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو كم ہو اور كفایت كر جائے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ تو ہو لیكن غفلت میں ڈال دے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (947) ، رواه ابن عدي ( 7 / 2 ) .
1386
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ: اضْطَجَعَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى حَصِيرٍ فَأَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ جَعَلْتُ أَمْسَحُ جَنْبَهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ: أَلَا آذَنْتَنَا حَتَّى نَبْسُطَ لَكَ عَلَى الْحَصِيرِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : مَا لِي وَلِلدُّنْيَا؟! مَا أَنَا وَالدُّنْيَا؟! إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا كَرَاكِبٍ ظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا .
عبداللہ بن مسعود‌رضی اللہ عنہ نے كہا: كہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌ایك چٹائی پر سوئے تو آپ كے پہلو میں نشان پڑ گیا۔ جب آپ جاگےتو میں آپ کا پہلو سہلانے لگا۔ میں نے كہا: اے اللہ كے رسول ! آپ نے ہمیں بتایا كیوں نہیں ہم آپ كی چٹائی پر كوئی چیز بچھا دیتے۔رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌نے فرمایا: مجھے دنیا سے كیا مطلب ؟ اور دنیا كا كیا تعلق؟ میری مثال تو اس سوار كی طرح ہے جو ایك درخت كے نیچے سایہ حاصل كرنے كے لئے بیٹھا، پھر وہاں سے كوچ كر گیا اور درخت كو چھوڑ دیا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (438) ، مسند أحمد رقم (3525) .
1387
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَر فِي جَنْبِه فَقَال: يَا نَبِيَّ الله، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَر مِنْ هَذَا؟ فَقَالَ: مَالِي وَلِلدُّنْيَا؟! ما مَثلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے كہ عمر‌رضی اللہ عنہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌كے پاس آئے آپ چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے،جس نے آپ كے پہلو میں نشان ڈال دیئے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر آپ اس سے اچھا بستر لے لیےت توبہتر ہوتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے كیا مطلب؟ میری اور دنیا كی مثال تو اس سوار كی طرح ہے جو ایك گرم دن میں سفر كرتا رہا، اور دن كی ایك گھڑی كسی درخت كے نیچے سایہ حاصل كرنے كے لئے بیٹھ گیا۔ پھر وہاں سے كوچ كر گیا اور درخت كو چھوڑ دیا۔ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (439) ، مسند أحمد رقم (2608) .
1388
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَة مَرْفُوْعاً: مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ صِيْتٌ فِي السَّمَاء , فَإِذَا كَانَ صِيْتُه فِي السَّمَاء حَسَنًا وُضِعَ فِي الْأَرَضِ حَسَنًا , وَإِذَا كَانَ صِيْتُه فِي السَّمَاء سَيِّئًا وُضِعَ فِي الْأَرْضِ سَيِّئًا .
ابو ہریرہ‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: ہر بندے كے لئے آسمان میں ایك شہرت ہے۔ جب آسمان میں شہرت اچھی ہو تو زمین میں بھی اچھی شہرت ہوتی ہےاور جب آسمان میں شہرت بری ہو تو زمین میں بھی بری ہو تی ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2275) ، مسند البزار رقم ( ص 326 - زوائده ) .
1389
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، مَرْفُوْعاً: مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلا وَلَهُ ذَنْبٌ يَعْتَادُهُ: الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةِ، أَوْ ذَنْبٌ هُوَ مُقِيمٌ عَلَيْهِ لا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُفَارِقَ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ مُفْتَنًا تَوَّابًا نَسَّاءً إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے : ہر مومن آدمی (بھی) کسی گناہ کا وقتا فوقتا ارتكاب كرتا رہتا ہے۔ یاایسا گناہ ہوتا ہے جس پر وہ دوام ركھتا ہے جب تك فوت نہ ہو جائے وہ گناہ نہیں چھوڑ تا ۔ مومن كو آزمائش میں مبتلا، توبہ كرنے والا، بھولنے والا،پیدا كیا گیا ہے۔ جب اسے یاد دہانی كرائی جائے تو نصیحت حاصل كرتا ہے
Takhreej
الصحيحة رقم (2276) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (11645) .
1390
Sahih
توبہ، نصیحت اور رقائق كا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِب مَرْفُوْعاً: مَا مِنَ الْقُلُوب قَلْبٌ إِلَّا وَلَهُ سَحَابَةٌ كَسَحَابَةِ الْقَمَر، بَيْنَا الْقَمَرِ مضيءٌ إِذْ عَلَتْه سَحَابَة فَأَظْلَمَ , إِذْ تَجَلَّتْ عَنْه فَأَضَاءَ .
علی بن ابی طالب‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: ہر دل كے لئےچاندكے بادل كی طرح (گناہ کا) ایك بادل ہوتا ہے۔ چاند روشن ہوتا ہے كہ اچانك وہ بادل اسے ڈھانپ لیتا ہے اور اندھیرا ہو جاتا ہے۔ جب وہ بادل اس سے ہٹ جاتا ہے تو روشنی ہو جاتی ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2268) ، الحلية الأولياء لأبي نعيم ( 2/ 196 ) .
1391
Sahih