قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَثَلُ أُمَّتِي كَمَثَل الْمَطَرِ لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ؟ . روی من حدیث انس و عمار بن یاسر و عبداللہ بن عمر و علی بن ابی طالب و عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت كی مثال بارش كی طرح ہے، معلوم نہیں كہ پہلے والے لوگ بہتر ہیں یا آخر والے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2286) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الْأَمْثَالِ، بَاب مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ، رقم (2795) .
كعب بن مالكرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن كی مثال اس نرم تر و تازہ پودے كی طرح ہے جسے سخت ہوا كبھی ادھر اور كبھی ادھر کرتی رہتی ہے اور منافق كی مثال سیدھے کھڑے رہنے والی صنوبر کے درخت كی طرح ہے كہ جسے ہوا ایك مرتبہ ہی زمین سے اكھاڑ كر پھینك دیتی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2283) ، صحيح مسلم ،كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، بَاب مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالزَّرْعِ ... ، رقم (5025) .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعا مروی ہے کہ مومن كی مثال كھجور كے درخت كی طرح ہے، اس میں سے جو كچھ بھی لے لو تمہیں نفع دے گا۔(یعنی کھجور،پتے یا تناوغیرہ)۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2285) ، المعجم الكبير للطبراني رقم (13332) .
ابو درداءرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص نے مسلمانوں كے راستے سے كوئی تكلیف دہ چیز ہٹائی اللہ تعالیٰ اس كے لئے ایك نیكی لكھ دےگا اور جس شخص كے لئے اللہ تعالیٰ اپنے پاس كوئی نیكی لكھ دے، اسے اس نیكی كے بدلے جنت میں داخل كرے گا۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2306) ، المعجم الأوسط للطبراني رقم (32) .
قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم : مَنْ أَرَادَ أَنْ يَعْلَمَ مَا لَهُ عِنْدَ اللهِ جَلَّ ذِكْرُهُ , فَلْيَنْظُرْ مَا لِلهِ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَهُ . روی من حدیث انس و ابی ھریرة سمرة بن جندب رضی اللہ عنہم.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوشخص یہ جاننا چاہتاہےكہ اس كےلئےاللہ عزوجل كےپاس كیاہےتو وہ یہ دیكھےكہ اللہ كےلئےاس كے پاس كیا ہے؟ ( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2310) ، الحلية الأولياء لأبي نعيم رقم ( 6 / 176 و 274 ) .
عائشہ رضی اللہ عنہا سےمرفوعا مروی ہے كہ جس شخص نے لوگوں كو ناراض كر كے اللہ كو راضی كیا، اللہ تعالیٰ لوگوں سے اس كے لئے كافی ہوجائے گا اور جس شخص نے لوگوں كو راضی كر كے اللہ كو ناراض كیا، اللہ تعالیٰ اسے لوگوں كے سپرد كر ے گا۔( )
) قَالَ صلی اللہ علیہ وسلم :مَنْ أَصْبَحَ آمِنًا فِي سِرْبِه، مُعَافًى فِي جَسَدِه، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَاحِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا بِحَذَافِيْرِهاَ. روی من حدیث عبیداللہ بن محصن الانصاری وابی الدردآء و ابن عمر و علی رضی اللہ عنہم.
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے صحت مند جسم كے ساتھ صبح كی اور اس كے پاس اس دن كی خوراك بھی ہو تو گویا اس كے لئے دنیا تمام تر سامان كے ساتھ جمع كر دی گئی۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2318) ، الأدب المفرد للبخاري رقم (309)
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جو بیابا نوں میں رہائش اختیار کرے گا تو وہ سنگ دل ہو جائے گا ، اور جو شخص شكار كے پیچھے لگا وہ غافل ہو جائے گا، اور جو شخص بادشاہ كے دروازے پر آیا وہ فتنے میں گرفتار ہو جائے گا، اور جو شخص جتنا بادشاہ كے قریب ہوگا وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ :جو شخص (رات کے آخری حصے میں دشمن کے حملے سے) ڈرا اور رات کے ابتدائی حصے میں چل پڑا تو وہ منزل تك پہنچ جائے گا، خبردار اللہ كا سامان مہنگا ہے۔ خبردار اللہ كا سامان جنت ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (2335) ، سنن الترمذي،كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ، بَاب مَا جَاءَ فِي صِفَةِ أَوَانِي الْحَوْضِ، رقم (2374) .
ا بی بن كعبرضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص (رات کے آخری حصے میں دشمن کے حملے سے) ڈرا اور رات کے ابتدائی حصے میں چل پڑا تو وہ منزل تك پہنچ جائے گا خبردار اللہ كا سامان مہنگا ہے۔ خبردار اللہ كا سامان جنت ہے۔کانپنے والی (یعنی قیامت) آپہنچی ہے اور اس کے پیچھے آنے والی (دسرا صور جس سے مُردے قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے) آرہی ہے۔ موت تمام تر سامان كے ساتھ آگئی۔
Takhreej
الصحيحة رقم (954) ، المستدرك على الصحيحين للحاكم رقم (7963) .
هُبَيْب اپنے چچا سے بیان كرتے ہیں كہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كے ایك صحابی کو یہ بات پہنچی کہ فلاں صحابی یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی كی پردہ پوشی كی اللہ تعالیٰ قیامت كے دن اس كی پردہ پوشی كرے گا، وہ مصر میں ان كے پاس گئے اور اس حدیث كے متعلق پوچھا تو انہوں نے كہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فرما رہے تھے: جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی كی دنیا میں پردہ پوشی كی اللہ تعالیٰ قیامت كے دن اس كی پردہ پوشی كرے گا انہوں نے کہا کہ: میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے۔( )
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص كا مقصد آخرت كی بہتری ہو اللہ تعالیٰ اس كے دل میں غنا ركھ دیتا ہے، اس كےبكھرے ہوئے كام سمیٹ دیتا ہے ، اور دنیا ذلیل ہو كر اس كے پاس آتی ہے۔ اور جس شخص كا مقصد صرف دنیا كمانا ہو اللہ تعالیٰ اس كی آنكھوں كے درمیان محتاجی ركھ دیتا ہے، اس كے كام بكھیر دیتا ہے ، اور دنیا سے اسے اتنی ہی ملتی ہے جتنا اس كا مقدر ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (949) ، سنن الترمذي ، كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالرَّقَائِقِ ، بَاب مِنْهُ، رقم (2389) .
زید بن ثابترضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ: جس شخص كا مقصد دنیاحاصل کرنا ہو اللہ تعالیٰ اس كے كام بكھیر دیتا ہے ، اور اس كی آنكھوں كےدرمیان محتاجی ركھ دیتا ہے اور دنیا سے اسے اتنا ہی ملتا ہے جتنا اس كا مقدر ہو۔ اور جس شخص كا مقصد آخرت ہو اللہ تعالیٰ اس كے كام جمع كر دیتا ہے، اس كے دل میں غنا ركھ دیتاہے اور دنیا ذلیل ہو كر اس كے پاس آتی ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (950) ، سنن ابن ماجه ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب الْهَمِّ بِالدُّنْيَا، رقم (4095) .
انسرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے اللہ تعالیٰ نے جس عمل پر ثواب دینے كا وعدہ كیا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا كرے گا اورجس عمل پرسزا دینے كا وعدہ كیا ہے اس میں اللہ كو اختیار ہے۔
Takhreej
الصحيحة رقم (2463) ، مسند أبي يعلى الموصلي رقم (3227) .
ابو ہریرہرضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا): مجھ سے كون شخص یہ كلمات سیكھ كر ان پر عمل كرے گا،یا اس شخص كو سكھائے گا جو ان پر عمل كرے ؟ابو ہریرہرضی اللہ عنہ نے كہا: اے اللہ كے رسول میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پكڑا اور پانچ چیزیں گنوائیں ، فرمایا: محارم(حرام كاموں)سے بچوتم انتہائی عبادت گزار بن جاؤ گے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جو مقدركر دیا اس پر راضی ہو جاؤتم سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔ اپنے پڑوسی سے نیكی كرو تم مومن بن جاؤ گے۔ جو اپنے لئے پسند كرتے ہو لوگوں كے لئے بھی وہی پسند كرو مسلمان بن جاؤ گے۔ زیادہ مت ہنسو كیوں كہ زیادہ ہنسنا دلوں كو مردہ كر دیتا ہے۔( )
Takhreej
الصحيحة رقم (930) ، سنن الترمذي ،كِتَاب الزُّهْدِ، بَاب مَنْ اتَّقَى الْمَحَارِمَ فَهُوَ أَعْبَدُ النَّاسِ، رقم (2227) .