حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ. ح قَالَ: وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ، وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ: مِنَ الْمَذْيِ الْوُضُوءُ وَمِنَ الْمَنِيِّ الْغُسْلُ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
Ali narrated:
I asked the Prophet about Al-Madhi. He said: For Al-Madhi is Wudu, and for AI-Mani is Ghusl.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل“ ۲؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں مقداد بن اسود اور ابی بن کعب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے کئی سندوں سے مرفوعاً مروی ہے کہ ”مذی سے وضو ہے، اور منی سے غسل“، ۴- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے، اور سفیان، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة۷۰ (۵۰۴)، مسند احمد (۱/۸۷، ۱۱۰، ۱۱۲، ۱۲۱)، (تحفة الأشراف : ۱۰۲۲۵)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الغسل ۱۳ (۲۶۹)، سنن ابی داود/ الطہارة ۸۳ (۲۰۶)، سنن النسائی/الطہارة ۱۱۲ (۱۵۲)، والغسل ۲۸ (۴۳۶)، مسند احمد (۱/ ۸۲، ۱۰۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، مذی سفید، پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔ ۲؎ : خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے، یا خواب (نیند) میں، بہرحال اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
114
Sahih