TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3782 جامع ترمزی

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 15 of 18 in this chapter
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Bara: that the Prophet (ﷺ) saw Hasan and Husain, so he said: O Allah, I love them, so love them.
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
3782
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
English reference : Vol. 1, Book 46, Hadith 3782 Arabic reference : Book 49, Hadith 4151
صحيح، الصحيحة (2789) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3782
Conclusion
تخریج
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۲ (۳۷۴۹)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۸ (۲۴۲۲) (تحفة الأشراف : ۱۷۹۳)

Related Chapters

282
1
باب سوم: ان مناقب کا بیان، جن میں سیدنا حسن اور سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما مشترک ہیں
Musnad Ahmad
2
علی رضی اللہ عنہ کے بیٹوں حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
3
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
Jam e Tirmazi
4
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
5
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
6
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
7
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
8
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
9
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
10
(22) CHAPTER. The merits of Al- Hasan and Al-Husain.
حضرت حسن اور حسین رضیاللہعنہما کے فضائل کا بیان
Sahih Bukhari
11
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
12
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
13
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
14
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
Jam e Tirmazi
15
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
16
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
17
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
Jam e Tirmazi
18
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
19
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
20
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
21
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
22
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
23
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
24
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
25
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
26
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
27
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
28
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
29
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
30
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
31
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
32
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
33
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
34
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
35
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
36
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
37
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
38
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
39
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
40
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
Jam e Tirmazi
41
ٔٔباب دوم: پیچھے مناقب اہل بیت میں بیان کیے جانے والے فضائل کے علاوہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اس میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ایک مفصل وجامع حدیث
Musnad Ahmad
42
فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں
Musnad Ahmad
43
باب دوم: اہل بیت کے متعلق پہلے ذکر کردہ فضائل کے علاوہ سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اور ان سے محبت کرنے والے سے محبت کا بیان
Musnad Ahmad
44
فصل سوم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے دن سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کا خواب
Musnad Ahmad
45
فصل پنجم: سیدنا حسین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مزید مناقب کا بیان
Musnad Ahmad
46
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مناقب و فضائل
Sunnan Ibn e Maja
47
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
48
باب: اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کا بیان۔
Sunnan Nisai
49
باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان اور اس باب میں عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
50
باب: ایک دن روزہ رکھنے اور ایک دن افطار کرنے کا بیان اور اس سلسلہ میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کی حدیث کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

104
Jam e Tirmazi
1724
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي رِمْثَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي جُحَيْفَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Bara' : I have not seen anyone with hair past his shoulders in a red Hullah more handsome than the Messenger of Allah (ﷺ). He had hair that would flow on his shoulders, (and he had) broad shoulders (and he was) not too short and not too long. [Abu 'Eisa said:] There are narrations on this topic from Jabir bin Samurah, Abu Rimthah, and Abu Juhaifah. This Hadith is Hasan Sahih.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سرخ جوڑے میں کسی لمبے بال والے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال شانوں کو چھوتے تھے، آپ کے شانوں کے درمیان دوری تھی، آپ نہ کوتاہ قد تھے اور نہ لمبے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، ابورمثہ اور ابوجحیفہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
2726
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْبَرَاءِ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَهُمْ جُلُوسٌ فِي الطَّرِيقِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَرُدُّوا السَّلَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَعِينُوا الْمَظْلُومَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْدُوا السَّبِيلَ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Narrated Shu'bah: From Abu Ishaq, from Al-Bara - and he did not hear it from him - the Messenger of Allah (ﷺ) passed by some people from the Ansar while they were sitting in the road. He said: 'If you people must do this, then return the Salam, assist the wronged, and give directions to the one who is on the route.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ( سند میں اس بات کی صراحت ہے کہ ابواسحاق نے براء سے سنا نہیں ہے اس لیے سند میں انقطاع ہے، لیکن شواہد کی بناء پر صحیح ہے، بالخصوص شعبہ کی روایت ہونے کی وجہ سے قوی ہے ) انصار کے کچھ لوگ راستے میں بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان سے فرمایا: ” ( یوں تو راستے میں بیٹھنا اچھا نہیں ہے ) لیکن اگر تم بیٹھنا ضروری سمجھتے ہو تو سلام کا جواب دیا کرو، مظلوم کی مدد کیا کرو، اور ( بھولے بھٹکے ہوئے کو ) راستہ بتا دیا کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور ابوشریح خزاعی رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3120
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ:‏‏‏‏ فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Bara: that regarding Allah's saying: Allah will keep firm those who believe, with the word that stands firm in this world and in the Hereafter (14:27). The Prophet (ﷺ) said: In the grave, when it is said to him: 'Who is your Lord? What is your religion? And who is your Prophet?'
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت ( محکم بات ) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے“ ( ابراہیم: ۲۷ ) ، کی تفسیر میں فرمایا: ”ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا: «من ربك؟» ‏‏‏‏ تمہارا رب، معبود کون ہے؟ «وما دينك؟» ‏‏‏‏ تمہارا دین کیا ہے؟ «ومن نبيك؟» ‏‏‏‏ تمہارا نبی کون ہے؟“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3440
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ قَالَ:‏‏‏‏ آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ شُعْبَةَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.
Ar-Rabi` bin Al-Bara’ bin `Azib reported from, his father: That whenever the Prophet (ﷺ) would return from a trip, he would say: “(We are) Returning, repenting, worshipping, and to our Lord directing the praise (Ā’ibūna tā’būna `ābidūna lirabbinā ḥāmidūn).”
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس آتے تو یہ دعا پڑھتے: «آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون» ” ( ہم سلامتی کے ساتھ سفر سے ) واپس آنے والے ہیں، ہم ( اپنے رب کے حضور ) توبہ کرنے والے ہیں، ہم اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں، اور ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ثوری نے یہ حدیث ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے براء سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس حدیث کی سند میں ربیع ابن براء کا ذکر نہیں کیا ہے، اور شعبہ کی روایت زیادہ صحیح و درست ہے، ۳- اس باب میں ابن عمر، انس اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
3635
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِنْ ذِي لِمَّةٍ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏لَهُ شَعْرٌ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ بَعِيدُ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏لَمْ يَكُنْ بِالْقَصِيرِ وَلَا بِالطَّوِيلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Bara: I have not seen anyone with hair past his shoulders in a red Hullah more handsome than the Messenger of Allah (ﷺ). He had hair that would flow on his shoulders, having broad shoulders, not too short and not too tall.
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کو جس کے بال کان کی لو کے نیچے ہوں سرخ جوڑے ۱؎ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت نہیں دیکھا، آپ کے بال آپ کے دونوں کندھوں سے لگے ہوتے تھے ۲؎، اور آپ کے دونوں کندھوں میں کافی فاصلہ ہوتا تھا ۳؎، نہ آپ پستہ قد تھے نہ بہت لمبے ۴؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Jam e Tirmazi
3847
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:‏‏‏‏ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبُ حَرِيرٍ،‏‏‏‏ فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا،‏‏‏‏ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Bara: A garment of silk was gifted to the Messenger of Allah (ﷺ) so they began to marvel at its softness, so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Do you marvel at this? Indeed, the handkerchiefs of Sa'd bin Mu'adh in Paradise are better than this.'
براء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے رومال اس سے بہتر ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ بھی حدیث مروی ہے۔
Jam e Tirmazi
81
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ تَوَضَّئُوا مِنْهَا ،‏‏‏‏ وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا . قال:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ذِي الْغُرَّةِ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ فِيهِ:‏‏‏‏ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ إِسْحَاق:‏‏‏‏ صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏حَدِيثُ الْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ،‏‏‏‏ وَإِسْحَاق، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
Al-Bara bin Azib narrated: Allah's Messenger was asked about performing Wudu for camel meat. He said: Perform Wudu for it. He Was asked about Wudu after eating goat meat. So he said: Do not perform Wudu for it.
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو نہ کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہی قول احمد، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں: ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎۔
Jam e Tirmazi
149
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ،‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَصَلَّى الظُّهْرَ فِي الْأُولَى مِنْهُمَا حِينَ كَانَ الْفَيْءُ مِثْلَ الشِّرَاكِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ كُلُّ شَيْءٍ مِثْلَ ظِلِّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَأَفْطَرَ الصَّائِمُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْفَجْرَ حِينَ بَرَقَ الْفَجْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَحَرُمَ الطَّعَامُ عَلَى الصَّائِمِ، ‏‏‏‏‏‏وَصَلَّى الْمَرَّةَ الثَّانِيَةَ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ لِوَقْتِ الْعَصْرِ بِالْأَمْسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ حِينَ كَانَ ظِلُّ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ لِوَقْتِهِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ حِينَ أَسْفَرَتِ الْأَرْضُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ جِبْرِيلُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مُحَمَّدُ هَذَا وَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِكَ وَالْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ وَبُرَيْدَةَ،‏‏‏‏ وَأَبِي مُوسَى،‏‏‏‏ وَأَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ،‏‏‏‏ وَأَبِي سَعِيدٍ،‏‏‏‏ وَجَابِرٍ،‏‏‏‏ وَعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ،‏‏‏‏ وَالْبَرَاءِ،‏‏‏‏ وَأَنَسٍ.
Ibn Abbas narrated that : the Prophet said: Jibril (peace be upon him) led me (in Salat) twice at the House. So he prayed Zuhr the first time when the shadow was similar to (the length of) the strap a sandal. Then he prayed Asr when everything was similar (to the length of) its shadow. Then he prayed Maghrib when the sun had set and the fasting person breaks fast. Then he prayed Isha when the twilight had vanished. Then he prayed Fajr when Fajr (dawn) began, and when eating is prohibited for the fasting person. The second time he prayed Zuhr when the shadow of everything was similar to (the length of) it, at the time of Asr the day before. Then he prayed Asr when the shadow of everything was about twice as long as it. Then he prayed Maghrib at the same time as he did the first time. Then he prayed Isha, the later one, when a third of the night had gone. Then he prayed Subh when the land glowed. Then Jibril turned towards me and said: O Muhammad! These are the times of the Prophets before you, and the (best) time is what is between these two times.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے خانہ کعبہ کے پاس میری دو بار امامت کی، پہلی بار انہوں نے ظہر اس وقت پڑھی ( جب سورج ڈھل گیا اور ) سایہ جوتے کے تسمہ کے برابر ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے ایک مثل ہو گیا ۱؎، پھر مغرب اس وقت پڑھی جب سورج ڈوب گیا اور روزے دار نے افطار کر لیا، پھر عشاء اس وقت پڑھی جب شفق ۲؎ غائب ہو گئی، پھر نماز فجر اس وقت پڑھی جب فجر روشن ہو گئی اور روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو گیا، دوسری بار ظہر کل کی عصر کے وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے مثل ہو گیا، پھر عصر اس وقت پڑھی جب ہر چیز کا سایہ اس کے دو مثل ہو گیا، پھر مغرب اس کے اول وقت ہی میں پڑھی ( جیسے پہلی بار میں پڑھی تھی ) پھر عشاء اس وقت پڑھی جب ایک تہائی رات گزر گئی، پھر فجر اس وقت پڑھی جب اجالا ہو گیا، پھر جبرائیل نے میری طرف متوجہ ہو کر کہا: اے محمد! یہی آپ سے پہلے کے انبیاء کے اوقات نماز تھے، آپ کی نمازوں کے اوقات بھی انہی دونوں وقتوں کے درمیان ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابوہریرہ، بریدہ، ابوموسیٰ، ابومسعود انصاری، ابوسعید، جابر، عمرو بن حرم، براء اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Jam e Tirmazi
227
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّي صُفُوفَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ يَوْمًا فَرَأَى رَجُلًا خَارِجًا صَدْرُهُ عَنِ الْقَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَالْبَرَاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏وعَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةُ الصَّفِّ وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُوَكِّلُ رِجَالًا بِإِقَامَةِ الصُّفُوفِ فَلَا يُكَبِّرُ حَتَّى يُخْبَرَ أَنَّ الصُّفُوفَ قَدِ اسْتَوَتْ، ‏‏‏‏‏‏وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ أَنَّهُمَا كَانَا يَتَعَاهَدَانِ ذَلِكَ وَيَقُولَانِ:‏‏‏‏ اسْتَوُوا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ:‏‏‏‏ تَقَدَّمْ يَا فُلَانُ تَأَخَّرْ يَا فُلَانُ.
An-Nu'man bin Bashir said: Allah's Messenger would straighten our lines. One day he came out and saw a man whose chest was protruding from the people, so he said: 'You must straighten your lines, or Allah will cause disagreement to occur among your faces.
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگے نکلا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اپنی صفیں سیدھی رکھو ۱؎ اور نہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، جابر بن عبداللہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: صفیں سیدھی کرنا نماز کی تکمیل ہے، ۴- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صفیں سیدھی کرنے کا کام کچھ لوگوں کے سپرد کر دیتے تھے تو مؤذن اس وقت تک اقامت نہیں کہتا جب تک اسے یہ نہ بتا دیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہو چکی ہیں، ۵- علی اور عثمان رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ یہ دونوں بھی اس کی پابندی کرتے تھے اور کہتے تھے: «استووا» ”صف میں سیدھے ہو جاؤ“ اور علی رضی الله عنہ کہتے تھے: فلاں! آگے بڑھو، فلاں! پیچھے ہٹو۔