TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان

Chapter 26 of Chapters on virtues in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 26 of 68 · 18 Hadith
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .
Narrated Abu Sa'eed: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Al-Hasan and Al-Husain are the chiefs of the youth of Paradise.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں“ ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۴۱۳۴)، و مسند احمد (۳/۳، ۲۲، ۶۴، ۸۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ” جنت میں جوانوں کے سردار “ اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں، (۱) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے (اور جنتی ہیں) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں (۲) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کر دیئے جائیں گے، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے (۳) اس زمانہ کے (جب یہ دونوں جوان تھے) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے، واللہ اعلم۔
3768
Sahih
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ،‏‏‏‏ وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَحِبَّهُمَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.
Narrated Usamah bin Zaid: I came to the Prophet (ﷺ) one night concerning some need, so the Prophet (ﷺ) came out while he was covering up something, and I did not know what it was. Once I had tended to my need, I said: 'What is this that you were covering up?' So he uncovered it, and I found it was Hasan and Husain [peace be upon them] upon his hips. So he said: 'These are my two sons, and the sons of my daughter. O Allah! Indeed, I love them, so love them, and love those who love them.'
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین رضی الله عنہما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: ”یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۸۶)
3769
Sahih
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ:‏‏‏‏ انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
Narrated 'Abdur-Rahman bin Abu Nu'm: that a man from the people of Al-'Iraq asked Ibn 'Umar about the blood of a gnat that gets on the clothes. Ibn 'Umar said Look at this one, he asks about the blood of a gnat while they killed the son of the Messenger of Allah (ﷺ)! And I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed Al-Hasan and Al-Husain - they are my two sweet basils in the world.'
عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر رضی الله عنہما سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ۱؎ تو ابن عمر رضی الله عنہما نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”حسن اور حسین رضی الله عنہما یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث صحیح ہے، ۲- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ۳- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الأدب ۱۸ (۵۹۹۴) (تحفة الأشراف : ۷۳۰۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا، ہو سکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کر دی ہو، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔
3770
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ.
Narrated Salma: I entered upon Umm Salamah while she was crying, so I said: 'What causes you to cry?' She said: 'I saw the Messenger of Allah - that is, in a dream - and there was was dirt on his head and his beard. so I said: What is wrong with you, O Messenger of Allah? He said: 'I just witnessed the killing of Al-Husain.'
سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہا کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے ( یعنی خواب میں ) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: ”میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۸۲۷۹)
3771
Zaeef
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ:‏‏‏‏ ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ ،‏‏‏‏ فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
Narrated Anas bin Malik: That the Messenger of Allah (ﷺ) was asked: Which of the people of your house are most beloved to you? He said: Al-Hasan and Al-Husain. And he used to say to Fatimah: Call my two sons for me. And he would smell them and hug them.
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: ”حسن اور حسین“ ( رضی الله عنہما ) ، آپ فاطمہ رضی الله عنہا سے فرماتے: ”میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۷۰۶)
3772
Zaeef
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.
Narrated Abu Bakrah: that the Messenger of Allah (ﷺ) ascended the Minbar and said: Indeed, this son of mine is a chief, Allah shall bring peace between two [tremendous] parties through his hands.
ابوبکرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: ”میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں رضی الله عنہما۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الصلح ۹ (۲۷۰۴)، والمناقب ۲۵ (۳۶۲۹)، وفضائل الصحابة ۲۲ (۳۷۴۶)، والفتن ۲۰ (۷۱۰۹)، سنن ابی داود/ السنة ۱۳ (۴۶۶۲)، سنن النسائی/الجمعة ۲۷ (۱۴۱۱) (تحفة الأشراف : ۱۱۶۵۸)، و مسند احمد (۵/۳۷، ۴۴، ۴۹، ۵۱)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چنانچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، ایک گروہ معاویہ رضی الله عنہ کے ساتھ اور دوسرا حسن رضی الله عنہ کے ساتھ تھا، تو حسن رضی الله عنہ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء» ۔
3773
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ،‏‏‏‏ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا،‏‏‏‏ وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ،‏‏‏‏ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ،‏‏‏‏ فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.
Narrated Buraidah: The Messenger of Allah (ﷺ) was delivering a Khutbah to us when Al-Hasan and Al-Husain [peace be upon them] came, wearing red shirts, walking and falling down. So the Messenger of Allah (ﷺ) descended from the Minbar and carried them, and placed them in front of him. Then he said: 'Allah spoke the Truth: Indeed, your wealth and your children are a trial (64:15). I looked at these two children walking and falling down, and I could not bear patiently anymore until I interrupted my talk and picked them up.
بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین رضی الله عنہما دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالكم وأولادكم فتنة» ۱؎ ”تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کر سکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابی داود/ الصلاة ۲۳۳ (۱۱۰۹)، سنن النسائی/الجمعة ۳۰ (۱۴۱۴)، والعیدین ۲۷ (۱۵۸۶)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۲۰ (۳۶۰۰) (تحفة الأشراف : ۱۹۵۸)، و مسند احمد (۵/۳۵۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : التغابن : ۱۵۔ ۲؎ : جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین رضی الله عنہما کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
3774
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ،‏‏‏‏ أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ.
Narrated Ya'la bin Murrah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Husain is from me, and I am from Husain. Allah loves whoever loves Husain. Husain is a Sibt among the Asbat. [Asbat, plural of Sibt: A great tribe. Meaning, Al-Husain would have many offspring, such that they would become a great tribe. And this has indeed occurred. See Tuhfat Al-Ahwadhi (4/341).]
یعلیٰ بن مرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ۱؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں ۱- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۱ (۱۴۴) (تحفة الأشراف : ۱۱۸۵۰)، و مسند احمد (۴/۱۷۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : بقول قاضی عیاض : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم من جانب اللہ مطلع کر دیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین سے بغض رکھیں گے اس لیے آپ نے پیشگی بیان کر دیا کہ ” حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے، اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں “۔ ۲؎ : یعنی : حسین رضی الله عنہ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہو گی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔
3775
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: None of them used to resemble the Messenger of Allah (ﷺ) more than Al-Hasan bin 'Ali.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۲ (۳۷۵۲) (تحفة الأشراف : ۱۵۳۹)
3776
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ الزُّبَيْرِ.
Narrated Abu Juhaifah: I saw the Messenger of Allah (ﷺ), and Al-Hasan bin 'Ali used to resemble him.
ابوجحیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور حسن بن علی رضی الله عنہما ان سے مشابہت رکھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم ۲۸۲۶
3777
Sahih
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ،‏‏‏‏ فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Anas bin Malik: I was with Ibn Ziyad and the head of Al-Husain was brought. He began to poke it in the nose with a stick he had, saying: 'I do not see the like of this as beautiful, why is he mentioned as such?' He said: I said: 'Behold, he was of the closest resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ).'
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین رضی الله عنہ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے ( جب کہ وہ حسین نہیں ہے ) ۱؎۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۷۲۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ جملہ اس نے حسین رضی الله عنہ کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔ ۲؎ : اس سے پہلے حدیث رقم ۳۷۸۶ کے تحت زہری کی ایک روایت انس رضی الله عنہ سے گزری ہے، اس میں ہے کہ حسن بن علی رضی الله عنہما سے زیادہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما سب سے زیادہ مشابہ تھے، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے : (۱) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن رضی الله عنہ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس رضی الله عنہ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن رضی الله عنہ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ (۲) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی رضی الله عنہما کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ (۳) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے (دیکھئیے اگلی روایت)۔
3778
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ،‏‏‏‏ وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated 'Ali: said: Al-Hasan is greater in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ) with regards to what is between the chest and the head, and Al-Husain is greater in resemblance to the Messenger of Allah (ﷺ) with regards to what is below that.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حسن رضی الله عنہ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین رضی الله عنہ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۰۳۰۲)
3779
Zaeef
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ،‏‏‏‏ وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ،‏‏‏‏ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ:‏‏‏‏ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ،‏‏‏‏ فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً،‏‏‏‏ ثُمَّ خَرَجَتْ،‏‏‏‏ فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالُوا:‏‏‏‏ قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Umarah bin 'Umair: When the heads of 'Ubaidullah bin Ziyad and his companions were brought, they were stacked in the Masjid at Ar-Rahbah. So I came to them and they were saying: 'It has come, it has come. And behold, there was a snake going between the heads, until it entered the nostrils of 'Ubaidullah bin Ziyad, and it remained there momentarily, then left and went until it had disappeared. Then they said: 'It has come, it has come.' So it did that two or three times.
عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ۱؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہو گیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہو گیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۹۱۴۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : حسن اور حسین رضی الله عنہما کے مناقب میں اس حدیث کو لا کر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین رضی الله عنہ کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک، آنکھ اور منہ پر مارا تھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ (عبداللہ بن زیاد کو مختار ثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشتر نے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جو موصل سے پانچ فرسخ پر ہے قتل کیا تھا)
3780
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ ؟ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَالَتْ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ،‏‏‏‏ فَسَمِعَ صَوْتِي،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ،‏‏‏‏ وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.
Narrated Hudhaifah : My mother asked me: 'When is your planned time - meaning with the Prophet (ﷺ)?' So I said: 'I have not had a planned time to see him since such and such time.' She rebuked me, so I said to her: 'Let me go to the Prophet (ﷺ) so that I may perform Maghrib (prayer) with him, and ask him to seek forgiveness for you and I.' So I came to the Prophet (ﷺ), and I prayed Maghrib with him, then he prayed until he prayed Al-'Isha. Then he turned, and I followed him, and he heard my voice, and said: 'Who is this? Hudhaifah?' I said: 'Yes.' He said: What is your need, may Allah forgive you and your mother?' He said: 'Indeed, this is an angel that never descended to the earth ever before tonight. He sought permission from his Lord to greet me with peace and to give me the glad tidings that Fatimah is the chief of the women of Paradise, and that Al-Hasan and Al-Husain are the chiefs of the youths of the people of Paradise.'
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جا سکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چنانچہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ ( نوافل ) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: ”کون ہو؟ حذیفہ؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتك غفر الله لك ولأمك» ”کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین رضی الله عنہما اہل جنت کے جوانوں ( یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان ) کے سردار ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ۳۳۲۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
3781
Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Al-Bara: that the Prophet (ﷺ) saw Hasan and Husain, so he said: O Allah, I love them, so love them.
براء رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اور حسین رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» ”اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۲ (۳۷۴۹)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۸ (۲۴۲۲) (تحفة الأشراف : ۱۷۹۳)
3782
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
Narrated Al-Bara bin 'Azib: I saw the Prophet (ﷺ) placing Al-Hasan bin 'Ali upon his shoulder while saying: 'O Allah, I love him, so love him.'
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی رضی الله عنہما کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» ”اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی ( مذکورہ ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ۱؎۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی جس روایت میں صرف حسن کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین رضی الله عنہما دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے، حالانکہ یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔
3783
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ،‏‏‏‏ وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) was carrying Al-Hasan bin 'Ali upon his shoulder, so a man said: What an excellent mount you are riding, O child. So the Prophet (ﷺ) said: And what an excellent rider he is.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسین بن علی رضی الله عنہما کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۶۰۹۶)
3784
Zaeef
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجَبَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ،‏‏‏‏ أَوْ نُقَبَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْنَا:‏‏‏‏ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنَا،‏‏‏‏ وَابْنَايَ،‏‏‏‏ وَجَعْفَرُ،‏‏‏‏ وَحَمْزَةُ،‏‏‏‏ وَأَبُو بَكْرٍ،‏‏‏‏ وَعُمَرُ،‏‏‏‏ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ،‏‏‏‏ وَبِلَالٌ،‏‏‏‏ وَسَلْمَانُ،‏‏‏‏ وَالْمِقْدَادُ،‏‏‏‏ وَحُذَيْفَةُ،‏‏‏‏ وَعَمَّارٌ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا.
Narrated Al-Musayyab bin Najabah: 'Ali bin Abi Talib said: Indeed every Prophet is given seven select attendants - or he said: guards - and I was given fourteen. We said: Who are they? He said: 'Myself, my two sons (Al-Hasan and Al-Husain), Ja'far, Hamzah, Abu Bakr, 'Umar, Mus'ab bin 'Umair, Bilal, Salman, 'Ammar, Al-Miqdad, Hudhaifah, Abu Dharr, and 'Abdullah bin Mas'ud.'
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ“، ہم نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہم“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- یہ حدیث علی رضی الله عنہ سے موقوفاً بھی آئی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۰۲۸۰)
3785
Zaeef

Chapters

68
01
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
02
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کا بیان
1 Hadith
03
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
1 Hadith
04
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
3 Hadith
05
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
36 Hadith
06
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟
1 Hadith
07
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
9 Hadith
08
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان
2 Hadith
09
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش روئی اور مسکراہٹ کا بیان
2 Hadith
10
باب: مہر نبوت کا بیان
2 Hadith
11
باب: وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
5 Hadith
12
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
13
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
3 Hadith
14
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
14 Hadith
15
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
15 Hadith
16
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
16 Hadith
17
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
5 Hadith
18
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
19
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
20
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
4 Hadith
21
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
22
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
6 Hadith
23
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
24
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
25
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
26
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
18 Hadith
27
باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان
4 Hadith
28
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
7 Hadith
29
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
30
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
31
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
32
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
33
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
34
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
35
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
36
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
37
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
38
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
39
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
40
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
41
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
42
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
8 Hadith
43
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
44
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
45
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
46
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
47
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
48
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
49
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
50
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
51
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
52
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
2 Hadith
53
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
54
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
5 Hadith
55
باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
56
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
57
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
58
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
59
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
60
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
11 Hadith
61
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
4 Hadith
62
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
63
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
64
باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
65
باب: عجمیوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
66
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
67
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
2 Hadith
68
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
15 Hadith
No chapter matched that.