TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان

Chapter 33 of Chapters on virtues in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 33 of 68 · 7 Hadith
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ أَبِي الزَّعْرَاءِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ، ‏‏‏‏‏‏وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنُ سَلَمَةَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الزَّعْرَاءِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الَّذِي رَوَى عَنْهُ شُعْبَةُ،‏‏‏‏ وَالثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ وَابْنُ عُيَيْنَةَ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَمْرُو بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ ابْنُ أَخِي أَبِي الْأَحْوَصِ صَاحِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ.
Narrated Ibn Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Take as examples the two after me from my Companions, Abu Bakr and 'Umar. And act upon the guidance of 'Ammar, and hold fast to the advice of Ibn Mas'ud.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۹۳۵۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث کے اول و آخر ٹکڑے میں خلافت صدیقی و فاروقی کی طرف اشارہ ہے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کی اقتداء سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بالترتیب ان دونوں کی خلافت ہے، اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی وصیت سے مراد بھی یہی ہے کہ انہوں نے ابوبکر رضی الله عنہ کی خلافت کی تائید کی تھی، یہی مراد ہے، ان کی وصیت مضبوطی سے تھامنے سے۔
3805
Sahih
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مُوسَى يَقُولُ:‏‏‏‏ لَقَدْ قَدِمْتُ أَنَا وَأَخِي مِنَ الْيَمَنِ،‏‏‏‏ وَمَا نُرَى حِينًا إِلَّا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا نَرَى مِنْ دُخُولِهِ،‏‏‏‏ وَدُخُولِ أُمِّهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي إِسْحَاق.
Narrated Abu Musa: My brother and I arrived from Yemen, and we did not see a period except that we thought 'Abdullah bin Mas'ud was a man from the people of the house of the Prophet (ﷺ), due to what we would see of him entering, and his mother's entering, upon the Prophet (ﷺ).
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ان کے گھر میں ) آتے جاتے دیکھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۷ (۳۷۶۳)، والمغازي ۷۴ (۴۳۸۴)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۲۲ (۲۴۶۰) (تحفة الأشراف : ۸۹۷۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ازحد قربت اور برابر ساتھ رہنے کی دلیل ہے جو ان کے فضل و شرف کی بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ابن مسعود کی ہر روایت اور فتوی ضرور ہی تمام صحابہ کی روایتوں اور فتاوی پر مقدم ہو گا، کیونکہ امہات المؤمنین تک کی بعض روایات یا تو منسوخ ہیں یا انہیں گھر سے باہر کے بعض احوال کا علم نہیں ہو سکا تھا، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
3806
Sahih
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقُلْنَا:‏‏‏‏ حَدِّثْنَا مَنْ أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَدَلًّا فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَقْرَبُ النَّاسِ هَدْيًا،‏‏‏‏ وَدَلًّا،‏‏‏‏ وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى يَتَوَارَى مِنَّا فِي بَيْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdur-Rahman bin Yazid: We came to Hudhaifah and said: 'Inform us of the closest to the Messenger of Allah (ﷺ) in guidance and conduct, so that we may take from him and hear from him.' He said: 'The closest of the people in guidance, conduct, and character used to be 'Abdullah bin Mas'ud, until he would hide from us in his house. And the guarded ones (guarded by Allah from straying in word and deed) from the Companions of Muhammad (ﷺ) know that Ibn Umm 'Abd (a nickname for 'Abdullah bin Mas'ud) is from among the most intimately close to Allah of them.'
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۷ (۳۷۶۲) (تحفة الأشراف : ۳۳۷۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی لوگ جو بیان کریں گے وہ بالکل حقیقت کے مطابق ہو گا، اور انہوں نے یہ بیان کیا کہ ابن مسعود رضی الله عنہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طور طریقے سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اور ان سے ازحد قریب تھے، یہ صحابہ کی زبان سے ابن مسعود کی فضیلت کا اعتراف ہے۔
3807
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا صَاعِدٌ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ مِنْهُمْ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمْ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ،‏‏‏‏ عَنْ عَلِيٍّ.
Narrated 'Ali: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If I was going to appoint anyone of them as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd over them.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/المدقمة ۱۱ (۱۳۷) (تحفة الأشراف : ۱۰۰۴۵)
3808
Zaeef
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ .
Narrated 'Ali: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If I was going to appoint anyone as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ
3809
Zaeef
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَةٍ:‏‏‏‏ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ . قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Take the Qur'an from four: From Ibn Mas'ud, Ubayy bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, and Salim the freed slave of Abu Hudhaifah.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل الصحابة ۲۶ (۳۷۵۸)، و۲۷ (۳۷۶۰)، وفضائل الأنصار ۱۴ (۳۸۰۶)، و۱۶ (۳۸۰۸)، وفضائل القرآن ۸ (۴۹۹۹)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۲۲ (۲۴۶۴) (تحفة الأشراف : ۸۹۳۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مطلب یہ ہے کہ یہ چار صحابہ خاص طور پر قرآن کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اخذ کرنے، یاد کرنے، بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ممتاز تھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے سوا دیگر صحابہ کو قرآن یاد ہی نہیں تھا، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان سے مروی قراءت کی ضرور ہی پابندی کی جائے، کیونکہ عثمان رضی الله عنہ نے اعلی ترین مقصد کے تحت ایک قراءت کے سوا تمام قراءتوں کو ختم کرا دیا تھا (اس قراءتوں سے مراد معروف سبعہ کی قراءتیں نہیں مراد صحابہ کے مصاحف ہیں)۔
3810
Sahih
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسا صالحا،‏‏‏‏ فيسر لِي أَبَا هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ،‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسا صالحا فوفقت لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ قَتَادَةُ:‏‏‏‏ وَالْكِتَابَانِ:‏‏‏‏ الْإِنْجِيلُ،‏‏‏‏ وَالْفُرْقَانُ. قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَخَيْثَمَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ إِنَّمَا نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ.
Narrated Khaithamah bin Abi Sabrah: I came to Al-Madinah, so I asked Allah to make it easy for me to sit with one who is righteous. He made Abu Hurairah accessible to me, so I sat with him and said to him: 'Indeed, I asked Allah to make it easy for me to sit with who is righteous, and it is to you that I was guided.' So he said to me: 'From where are you?' I said: 'From the people of Al-Kufah, I came to search out good and to seek it.' So he said: 'Is there not among you Sa'd bin Malik whose supplication is answered, Ibn Mas'ud, the one who used to carry the water for purification and the sandals of the Messenger of Allah (ﷺ), and Hudhaifah, the keeper of the secrets of the Messenger of Allah (ﷺ), and 'Ammar whom Allah has guarded from Shaitan upon the tongue of His Prophet, and Salman the companion of the Two Books?'
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چنانچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ۱؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ۲؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۲۳۰۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ٹھیک یہی معاملہ علقمہ بن قیس کوفی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا، وہ شام آئے تو یہی دعا کی، تو انہیں ابو الدرداء رضی الله عنہ صحبت میسر ہوئی، انہوں بھی علقمہ سے بالکل یہی بات کہی جو اس حدیث میں ہے۔ ۲؎ : جن کی دعائیں رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔ اور یہ سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ ہیں۔ ۳؎ : انہیں صاحب کتابیں اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے مجوسی تھے، تلاش حق میں پہلے دین عیسیٰ قبول کئے، پھر مشرف بہ اسلام ہوئے اور قرآن پر ایمان لائے۔
3811
Sahih

Chapters

68
01
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
02
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کا بیان
1 Hadith
03
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
1 Hadith
04
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
3 Hadith
05
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
36 Hadith
06
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟
1 Hadith
07
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
9 Hadith
08
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان
2 Hadith
09
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش روئی اور مسکراہٹ کا بیان
2 Hadith
10
باب: مہر نبوت کا بیان
2 Hadith
11
باب: وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
5 Hadith
12
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
13
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
3 Hadith
14
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
14 Hadith
15
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
15 Hadith
16
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
16 Hadith
17
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
5 Hadith
18
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
19
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
20
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
4 Hadith
21
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
22
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
6 Hadith
23
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
24
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
25
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
26
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
18 Hadith
27
باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان
4 Hadith
28
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
7 Hadith
29
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
30
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
31
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
32
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
33
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
34
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
35
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
36
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
37
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
38
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
39
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
40
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
41
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
42
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
8 Hadith
43
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
44
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
45
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
46
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
47
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
48
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
49
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
50
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
51
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
52
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
2 Hadith
53
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
54
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
5 Hadith
55
باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
56
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
57
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
58
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
59
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
60
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
11 Hadith
61
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
4 Hadith
62
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
63
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
64
باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
65
باب: عجمیوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
66
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
67
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
2 Hadith
68
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
15 Hadith
No chapter matched that.