TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان

Chapter 62 of Chapters on virtues in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 62 of 68 · 11 Hadith
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِحَرَّةِ السُّقْيَا الَّتِي كَانَتْ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ ائْتُونِي بِوَضُوءٍ ،‏‏‏‏ فَتَوَضَّأَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَامَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ كَانَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ،‏‏‏‏ وَدَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ بِالْبَرَكَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنْ تُبَارِكَ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَصَاعِهِمْ مِثْلَيْ مَا بَارَكْتَ لِأَهْلِ مَكَّةَ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
Narrated 'Ali bin Abi Talib: We departed with the Messenger of Allah (ﷺ) until he was at Harrah As-Suqya which belonged to Sa'd bin Abi Waqqas. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Bring me water for Wudu.' So he performed Wudu, then he faced the Qiblah and said: 'O Allah! Indeed Ibrahim was Your servant and Your Khalil, and he supplicated for blessings for the people of Makkah. And I am Your servant and Messenger, and I supplicate for the people of Al-Madinah; that You bless them in their Mudd and their Sa' like You blessed the people of Makkah, for each blessing let there be two blessings.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ۱؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کا محلہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم إن إبراهيم كان عبدك وخليلك ودعا لأهل مكة بالبركة وأنا عبدك ورسولك أدعوك لأهل المدينة أن تبارك لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما باركت لأهل مكة مع البركة بركتين» ”مجھے وضو کا پانی دو“، چنانچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”اے اللہ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں ( یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ۲؎ ) “۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (۱/۱۱۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «حرّۃ السقیا» مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے دو دن کے راستے پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ۲؎ : مکہ میں گرچہ اللہ کا گھر ہے، مگر مکہ والوں نے اللہ کے سب سے محبوب بندے کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا تو مدینہ نے محبوب الٰہی کو پناہ دی جو آپ کی آخری پناہ ہو گئی، نیز یہیں کے باشندوں نے اسلام کو پناہ دی، اس کے لیے قربانیاں پیش کیں، جان و مال کا نذرانہ پیش کر دیا، سارے عالم میں یہیں سے اسلام کا پھیلاؤ ہوا، اس لیے مدینہ کے لیے دوگنی برکت کی دعا فرمائی، اس دعا کا اثر ہر زائر مکہ کے لیے واضح طور پر دیکھی سنی حقیقت ہے۔
3914
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نُبَاتَةَ يُونُسُ بْنُ يَحْيَى بْنِ نُبَاتَةَ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏مِنْ حَدِيثِ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
Narrated 'Ali bin Abi Talib and Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whatever is between my house and my Minbar is a garden from the gardens of Paradise.
علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( مسجد نبوی ) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۰۳۲۷، ۱۴۹۳۹)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : روضۃ الجنۃ، مسجد نبوی میں ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
3915
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَامِلٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ الزَّاهِدُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ .
Narrated Abu Hurairah: that the Prophet (ﷺ) said: What is between my house and my Minbar is a garden from the gardens of Paradise. And with this chain, from the Prophet (ﷺ), that he said: One Salat in this Masjid of mine is better than one thousand prayers in any other Masjid, except for Al-Masjid Al-Haram.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے“۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ۱۴۸۱۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
3916
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ عَنْ سُبَيْعَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ.
Narrated Ibn 'Umar: that the Prophet (ﷺ) said: Whoever is able to die in Al-Madinah, then let him die there, for I will intercede for those who die there.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو مدینہ میں مر سکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الحج ۱۰ (۳۱۱۲) (تحفة الأشراف : ۷۵۵۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے، اگر کامیابی ہو گئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت فرمائیں گے، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے، آپ نے فرمایا ہے : ” آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہو گا (اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے) “۔
3917
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ مَوْلَاةً لَهُ أَتَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ اشْتَدَّ عَلَيَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَهَلَّا إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ، ‏‏‏‏‏‏اصْبِرِي لَكَاعِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.
Narrated Ibn 'Umar: said that a freed a slave girl of his came to him, and said: Times have become hard on me and I want to go to Al-'Iraq. He said: Why not to Ash-Sham the land of the resurrection? Have patience you foolish lady; I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'Whoever endures its hardships and difficulties (Al-Madinah) then I will be a witness, or an intercessor for him on the Day of Judgement. [He said:] There are narrations on this topic from Abu Sa'eed, Sufyan bin Abi Zuhair, and Subai'ah Al-Aslamiyyah.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، ( آپ نے کہا ) «اصبري لكاع» ! کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس نے اس کی ( مدینہ کی ) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۸۱۲۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ بھی مدینہ کی ایک فضیلت ہے۔
3918
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، أَخْبَرَنَا أَبِي جُنَادَةُ بْنُ سَلْمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ آخِرُ قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْإِسْلَامِ خَرَابًا الْمَدِينَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جُنَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَعَجَّبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ هَذَا.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The last of the cities of Islam to be destroyed is Al-Madinah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہو گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ رضی الله عنہ پر تعجب کا اظہار کیا ہے ( یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہو سکتی ہے ) ۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۱۴۱۶۶)
3919
Zaeef
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ:‏‏‏‏ أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ فَأَصَابَهُ وَعَكٌ بِالْمَدِينَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَبَى، ‏‏‏‏‏‏فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، ‏‏‏‏‏‏تَنْفِي خَبَثَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَتُنَصِّعُ طَيِّبَهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Jabir: that a Bedouin gave the pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) for Islam, then he was afflicted by the sickness in Al-Madinah. So the Bedouin went to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Take back my pledge. But the Messenger of Allah (ﷺ) refused. Then the Bedouin left and came back and said: Take back my pledge, and he refused. Then the Messenger of Allah (ﷺ) said: Al-Madinah is but like bellows, it expels its filth and purifies its good.
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آ گیا تو وہ اعرابی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کر دیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کر دیتا ہے پاک کو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل المدینة ۱۰ (۱۸۸۳)، والأحکام ۴۵ (۷۲۰۹)، و۴۷ (۷۲۱۱)، و۵۰ (۷۲۱۶)، والاعتصام ۱۶ (۷۳۲۲)، صحیح مسلم/الحج ۸۸ (۱۳۸۳) (تحفة الأشراف : ۳۰۷۱)، موطا امام مالک/الجامع ۲ (۴)، و مسند احمد (۳/۲۹۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی لوہار کی بھٹی جس طرح لوہے کے میل اور اس کے زنگ کو دور کر دیتی ہے اسی طرح مدینہ اپنے یہاں سے برے لوگوں کو نکال پھینکتا ہے۔ اور مدینہ کی یہ خصوصیت کیا صرف عہد نبوی تک کے لیے تھی (جیسا کہ قاضی عیاض کہتے ہیں) یا عہد نبوی کے بعد بھی باقی ہے ؟ (جیسا کہ نووی وغیرہ کہتے ہیں) نووی نے حدیث دجال سے استدلال کیا ہے کہ اس وقت بھی مدینہ ایسا کرے گا، کہ برے لوگوں کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرے گا، اب اپنی یہ بات کہ بہت سے صحابہ و خیار تابعین بھی مدینہ سے باہر چلے گئے، تو کیا وہ لوگ بھی برے تھے ؟ ہرگز نہیں، اس حدیث کا مطلب ہے : جو مدینہ کو برا جان کر وہاں سے نکل جائے وہ اس حدیث کا مصداق ہے، اور رہے صحابہ کرام تو وہ مدینہ کی سکونت کو افضل جانتے تھے، مگر دین اور علم دین کی اشاعت کے مقصد عظیم کی خاطر باہر گئے تھے، رضی الله عنہم۔
3920
Sahih
حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ . قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي أَيُّوبَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Sa'eed bin Al-Musayyab: that Abu Hurairah used to say: If I saw hyenas roaming in Al-Madinah, I would not advance upon them. Indeed the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whatever is between its two lava tracts is sacred.'
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ۱؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر رضی الله عنہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/فضائل المدینة ۴ (۱۸۷۳)، صحیح مسلم/الحج ۸۵ (۱۳۷۲) (تحفة الأشراف : ۱۳۲۳۵)، وط/الجامع ۳ (۱۱)، و مسند احمد (۲/۲۳۶، ۴۸۷)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ دونوں پتھریلی زمینیں (حرہ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔
3921
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ. ح وحَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَلَعَ لَهُ أُحُدٌ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، ‏‏‏‏‏‏اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: that (mount) Uhud appeared to the Messenger of Allah (ﷺ) so he said: This mountain loves us and we love it. O Allah! Indeed Ibrahim made Makkah sacred, and I make sacred whatever is between its (i.e. Al-Madinah) two lava tracts.
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا: ”یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس ( مدینہ ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الجھاد ۷۱ (۲۸۸۹)، وأحادیث الأنبیاء ۱۱ (۳۳۶۷)، والمغازي ۲۸ (۴۰۸۳، ۴۰۸۴)، والاعتصام ۱۶ (۷۳۳۳)، صحیح مسلم/الحج ۸۵ (۱۳۶۵) (تحفة الأشراف : ۱۱۱۶)، و مسند احمد (۳/۱۴۰، ۱۴۹، ۲۴۰)
3922
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عِيسَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَيَّ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ:‏‏‏‏ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ الْبَحْرَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قِنَّسْرِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْفَضْلِ بْنِ مُوسَى تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو عَمَّارٍ.
Narrated Jarir bin 'Abdullah: that the Prophet (ﷺ) said: Indeed Allah has revealed to me that: Whichever of these three places you go to will be the place of your emigration: Al-Madinah, Bahrain, or Qinnasrin.
جریر بن عبداللہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۳۲۴۱)
3923
Zaeef
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي البَابِ عَنْ أَبِي سَعِيد، ‏‏‏‏‏‏وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ.
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: No one is patient with the difficulties and hardships of Al-Madinah, except that I am an intercessor, or a witness for him on the Day of Judgement.
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/الحج ۸۶ (۱۳۷۸) (تحفة الأشراف : ۱۲۸۰۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : شرط وہی ہے کہ وہ پکا موحد ہو، کسی طرح کے بھی شرک کا مرتکب اس شفاعت کا مستحق نہیں ہو گا۔
3924
Sahih

Chapters

68
01
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
02
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کا بیان
1 Hadith
03
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
1 Hadith
04
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
3 Hadith
05
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
36 Hadith
06
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟
1 Hadith
07
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
9 Hadith
08
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان
2 Hadith
09
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش روئی اور مسکراہٹ کا بیان
2 Hadith
10
باب: مہر نبوت کا بیان
2 Hadith
11
باب: وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
5 Hadith
12
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
13
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
3 Hadith
14
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
14 Hadith
15
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
15 Hadith
16
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
16 Hadith
17
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
5 Hadith
18
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
19
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
20
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
4 Hadith
21
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
22
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
6 Hadith
23
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
24
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
25
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
26
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
18 Hadith
27
باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان
4 Hadith
28
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
7 Hadith
29
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
30
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
31
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
32
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
33
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
34
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
35
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
36
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
37
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
38
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
39
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
40
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
41
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
42
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
8 Hadith
43
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
44
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
45
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
46
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
47
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
48
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
49
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
50
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
51
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
52
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
2 Hadith
53
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
54
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
5 Hadith
55
باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
56
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
57
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
58
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
59
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
60
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
11 Hadith
61
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
4 Hadith
62
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
63
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
64
باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
65
باب: عجمیوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
66
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
67
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
2 Hadith
68
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
15 Hadith
No chapter matched that.