TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان

Chapter 60 of Chapters on virtues in Jam e Tirmazi. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 60 of 68 · 11 Hadith
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ .
Narrated Ubayy bin Ka'b: Ubayy bin Ka'b that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If it were not for the Hijrah, I would be a man from the Ansar.
ابی بن کعب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا“ ۱؎۔ اسی سند سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۳۳)، و مسند احمد (۵/۱۳۷، ۱۳۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس فرمان سے انصار کی دل جمعی مقصود ہے، یعنی انصار کی خوشنودی کے لیے میں یہاں تک جا سکتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ہو جاتا، مگر نسب کی تبدیل تو ممکن نہیں یہ بات انصار کی اسلام کے لیے فدائیت اور قربانی کا اعتراف ہے، اگلا فرمان البتہ ممکن ہے کہ ” اگر انصار کسی وادی میں چلیں تو میں انہی کے ساتھ ہوں گا “ اگر اس کی نوبت آ پاتی تو مہاجرین و انصار کی آپسی محبت چونکہ اللہ و رسول کے حوالہ سے تھی اس لیے ان کے آپس میں اس طرح کی بات ہونے کی نوبت ہی نہیں آ سکی، رضی الله عنہم۔
3899
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَبْغَضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَحَبَّهُمْ فَأَحَبَّهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَأَبْغَضَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ فَقُلْتُ لَهُ:‏‏‏‏ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِيَّايَ حَدَّثَ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ سَلَكَ الْأَنْصَارُ وَادِيًا،‏‏‏‏ أَوْ شِعْبًا لَكُنْتُ مَعَ الْأَنْصَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
Narrated Shu'bah: from 'Adi bin Thabit, from Al-Bara bin 'Azib, that he heard the Prophet (ﷺ), or - he said: The Prophet (ﷺ) said, about the Ansar: 'No one loves them except a believer, and no one hates them except a hypocrite. Whoever loves them, then Allah loves him, and whoever hates them then Allah hates him.' So we said to him: Did you hear this from Al-Bara? He said: He narrated it to me.
براء بن عازب رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کے بارے میں فرمایا: ”ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار ۴ (۳۷۸۳)، صحیح مسلم/الإیمان ۳۳ (۷۵)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ۱۱ (۱۶۳) (تحفة الأشراف : ۱۷۹۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اب اس سے بڑھ کر کسی کی فضیلت اور کیا ہو گی، «رضی اللہ عن الأنصار وأرضاہم وعن جمیع الصحابۃ رضوان اللہ علیہم اجمعین» ۔
3900
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ لَا إِلَّا ابْنَ أُخْتٍ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِجَاهِلِيَّةٍ،‏‏‏‏ وَمُصِيبَةٍ،‏‏‏‏ وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ،‏‏‏‏ وَأَتَأَلَّفَهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُيُوتِكُمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) gathered a group of people from the Ansar and said: Come, is there anyone among you who is from other than you? They said: No, except the son of a sister of ours. So he said: The son of the sister of a people is from them. Then he said: Indeed the Quraish is not far from their time of ignorance and affliction, and I wished that I subdue them and coax them. Are you not happy that the people return with this world and you return to your homes with the Messenger of Allah (ﷺ)? They said: Of course we are. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: If the people were to pass through a valley or a path, and the Ansar passed through a valley or a path then I would pass through the valley or path of the Ansar.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فتح مکہ کے وقت ) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ۱؎ اور فرمایا: ”کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے“، پھر آپ نے فرمایا: ”قریش اپنی جاہلیت اور ( کفر کی ) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، ( اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے ) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ“، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/المناقب ۱۴ (۳۵۲۸)، ومناقب الأنصار ۱ (۳۷۷۸)، والمغازي ۵۶ (۴۳۳۴)، والفرائض ۲۴ (۶۷۲۲)، صحیح مسلم/الزکاة ۴۶ (۱۰۵۹)، سنن النسائی/الزکاة ۹۶ (۲۶۱۱) (تحفة الأشراف : ۱۲۴۴)، و مسند احمد (۳/۲۰۱، ۲۴۶)، وسنن الدارمی/السیر ۸۲ (۲۵۳۰)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یہ غزوہ حنین کے بعد کا واقعہ ہے، جس کے اندر آپ نے قریش کے نئے مسلمانوں کو مال غنیمت میں سے بطور تالیف قلب عطا فرمایا تو بعض نوجوان انصاری حضرات کی طرف سے کچھ ناپسندیدہ رنجیدگی کا اظہار کیا گیا تھا، اسی پر آپ نے انصار کو جمع کر کے یہ ارشاد فرمایا۔
3901
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يُعَزِّيهِ فِيمَنْ أُصِيبَ مِنْ أَهْلِهِ وَبَنِي عَمِّهِ يَوْمَ الْحَرَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَتَبَ إِلَيْهِ:‏‏‏‏ إِنِّي أُبَشِّرُكَ بِبُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِذَرَارِيِّ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِذَرَارِيِّ ذَرَارِيهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَثَنَا هُشَيْمٌ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ.
Zaid bin Arqam wrote to Anas bin Malik, comforting him over those of his family and children of his paternal uncle who suffered on the day of Al-Harrah. So he wrote to him: I give you glad tidings of good news from Allah. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'O Allah forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of their children.
زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی الله عنہ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ۱؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے ( اس خط میں ) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس رضی الله عنہ سے اور انہوں نے زید بن ارقم رضی الله عنہ سے روایت کیا ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۴۳ (۲۵۰۶) (تحفة الأشراف : ۳۶۸۶)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : ”حرّہ کا دن“ اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ ۶۳ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت و تاراج کیا تھا، اس میں بہت سے صحابہ و تابعین کی جانیں چلی گئی تھیں، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی، (عفا اللہ عنہ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ ”حرّہ“ میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام ” یوم الحرّۃ “ پڑ گیا۔ ۲؎ : یعنی : اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت شامل ہے، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔
3902
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ،‏‏‏‏ وَعَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا عَلِمْتُ أَعِفَّةٌ صُبُرٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Abu Talhah: The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Convey my Salam to your people, because I know them to be modest and patient.'
ابوطلحہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی قوم ۱؎ کو سلام کہو، کیونکہ وہ پاکباز اور صابر لوگ ہیں جیسا کہ مجھے معلوم ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۳۷۷۴)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : یعنی : قوم انصار کو سلام کہو، اس میں انصار کی فضیلت ہے۔
3903
Zaeef
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ كَرِشِيَ الْأَنْصَارُ، ‏‏‏‏‏‏فَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ.
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: that the Prophet (ﷺ) said: Indeed my elite, those whom I lean towards, are the people of my house and my close ones are the Ansar, so forgive those who do wrong from them and accept from those who do good from them.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۴۱۹۸)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : «عيبه» جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں، آپ نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ کے خدمت گار اور معاون تھے، اور «کرش» جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے، آپ نے انصار کو «کرش» اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیونکہ وہ بے انتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔
3904
Zaeef
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ يُرِدْ هَوَانَ قُرَيْشٍ أَهَانَهُ اللَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
Narrated Sa'd: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever wishes to humiliate the Quraish then Allah will humiliate him.
سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۳۹۲۵)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
3905
Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْمُؤَمَّلُ،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَبْغَضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: The Prophet (ﷺ) said to me: 'A man who believes in Allah and the Last Day does not hate the Ansar.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۵۴۸۳)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : کیونکہ آڑے وقت میں انصار ہی ایمان کی تائید و نصرت میں آگے آئے، اس لیے کہ قریش کی ناراضگی مول لی، ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔
3906
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ،‏‏‏‏ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
Narrated Anas bin Malik: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: The Ansar are my close ones and my elite. Indeed the people shall increase and they shall dwindle, so accept from those who do good among them, and overlook those who do bad among them.
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/مناقب الأنصار ۱۱ (۳۸۰۱)، صحیح مسلم/فضائل الأنصار ۴۳ (۲۵۱۰) (تحفة الأشراف : ۱۲۴۵)
3907
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ أَذَقْتَ أَوَّلَ قُرَيْشٍ نَكَالًا،‏‏‏‏،‏‏‏‏ فَأَذِقْ آخِرَهُمْ نَوَالًا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
Narrated Ibn 'Abbas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah! You made the first of the Quraish taste punishment, so let the last of them taste blessings.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! قریش کے پہلوں کو تو نے ( قتل، قید اور ذلت کا ) عذاب چکھایا ہے ۱؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ۵۵۲۲)
Explanation
وضاحت: ۱؎ : جیسے غزوہ بدر اور فتح مکہ میں۔
3908
Sahih
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ،‏‏‏‏ وَلِنِسَاءِ الْأَنْصَارِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah forgive the Ansar and the children of the Ansar, and the children of the children of the Ansar, and the women of the Ansar.
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» ”اے اللہ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhreej
تخریج دارالدعوہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابة ۴۳ (۲۵۰۷)
3909
Sahih

Chapters

68
01
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان
14 Hadith
02
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیدائش کے وقت کا بیان
1 Hadith
03
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی ابتداء بیان
1 Hadith
04
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی بعثت اور بعثت کے وقت آپ کی عمر کا بیان
3 Hadith
05
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل اور آپ کے خصائص و امتیازات
36 Hadith
06
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر وحی کیسے اترتی تھی؟
1 Hadith
07
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
9 Hadith
08
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی گفتگو کا بیان
2 Hadith
09
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خوش روئی اور مسکراہٹ کا بیان
2 Hadith
10
باب: مہر نبوت کا بیان
2 Hadith
11
باب: وفات کے وقت نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی عمر کتنی تھی؟
5 Hadith
12
باب: ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
13
باب: فضائل ابوبکر رضی الله عنہ پر ایک اور باب
3 Hadith
14
باب: ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے مناقب و فضائل کا بیان
14 Hadith
15
باب: عمر بن خطاب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
15 Hadith
16
باب: عثمان بن عفان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
16 Hadith
17
باب: علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب
5 Hadith
18
باب: طلحہ بن عبیداللہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
19
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
20
باب: زبیر بن عوام رضی الله عنہ کے مناقب پر ایک اور باب
4 Hadith
21
باب: عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
22
باب: سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
6 Hadith
23
باب: سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
24
باب: عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
25
باب: جعفر بن ابی طالب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
5 Hadith
26
باب: حسن و حسین رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
18 Hadith
27
باب: اہل بیت کے مناقب کا بیان
4 Hadith
28
باب: معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہم کے مناقب کا بیان
7 Hadith
29
باب: سلمان فارسی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
30
باب: عمار بن یاسر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
31
باب: ابوذر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
32
باب: عبداللہ بن سلام رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
33
باب: عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
34
باب: حذیفہ بن یمان رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
35
باب: زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
4 Hadith
36
باب: اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
37
باب: جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
38
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
3 Hadith
39
باب: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
40
باب: عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
1 Hadith
41
باب: انس بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
7 Hadith
42
باب: ابوہریرہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
8 Hadith
43
باب: معاویہ بن ابی سفیان رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
44
باب: عمرو بن العاص رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
2 Hadith
45
باب: خالد بن ولید رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
46
باب: سعد بن معاذ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
47
باب: قیس بن سعد بن عبادہ رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
48
باب: جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کے مناقب کا بیان
2 Hadith
49
باب: مصعب بن عمیر رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
50
باب: براء بن مالک رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
1 Hadith
51
باب: ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان
3 Hadith
52
باب:: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے اور آپ کے ساتھ رہنے والوں کے مناقب و فضائل کا بیان​
2 Hadith
53
باب: بیعت رضوان والوں کی فضیلت کا بیان
1 Hadith
54
باب: صحابہ کی شان میں گستاخی اور بےادبی کرنے والوں کا بیان
5 Hadith
55
باب: فاطمہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
8 Hadith
56
باب: ام المؤمنین خدیجہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
4 Hadith
57
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی فضیلت کا بیان
12 Hadith
58
باب: امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن کی فضیلت کا بیان
7 Hadith
59
باب: ابی بن کعب رضی الله عنہ کے فضائل کا بیان
1 Hadith
60
باب: انصار اور قریش کے فضائل کا بیان
11 Hadith
61
باب: انصار کے کن گھروں اور قبیلوں میں خیر ہے
4 Hadith
62
باب: مدینہ کی فضیلت کا بیان
11 Hadith
63
باب: مکہ کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
64
باب: عربوں کی فضیلت کا بیان
5 Hadith
65
باب: عجمیوں کی فضیلت کا بیان
2 Hadith
66
باب: یمن کی فضیلت کا بیان
6 Hadith
67
باب: قبائل غفار، اسلم، جہینہ اور مزنیہ کے فضائل و مناقب کا بیان
2 Hadith
68
باب: قبیلہ ثقیف اور بنی حنیفہ کے فضائل و مناقب کا بیان
15 Hadith
No chapter matched that.