DeterminerNoun

ٱلْمَلَإِ

the chiefs

سرداروں کے

Verb Form
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
اِمْتَلَأَ
يَمْتَلِئُ
اِمْتَلِئْ
مُمْتَلِئ
مُمْتَلَئ
اِمْتَلَاء
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلْمَلَائُ: وہ جماعت جو کسی امر پر مجتمع ہوتو نظروں کو ظاہری حسن و جمال اور نفوس کو ہیت و جلال سے پھیر دے۔ قرآن پاک میں ہے۔ (اَلَمۡ تَرَ اِلَی الۡمَلَاِ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ) (۲۔۲۴۶) بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا۔ (وَ قَالَ الۡمَلَاُ مِنۡ قَوۡمِہِ ) (۲۳۔۳۳) اور قوم فرعون میں جو سردار تھے کہنے لگے۔ (اِنَّ الۡمَلَاَ یَاۡتَمِرُوۡنَ بِکَ ) (۲۸۔۲۰) کہ (شہر کے ) رئیس تمہارے بارے میں صلاحیں کرتے ہیں۔ (قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اِنِّیۡۤ اُلۡقِیَ اِلَیَّ کِتٰبٌ کَرِیۡمٌ ) (۲۷۔۲۹) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بہت سی آیات ہیں۔ جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔ محاورہ ہے:۔ فَلَانٌ مَلَا ئُ الْعُیُوْنِ: یعنی سب اسے عزت کی نظر سے دیکھتے ہیں گویا اس نے ان کی نظروں کو اپنے جلوہ سے بھر دیا ہے۔ اسی سے کہا گیا ہے:۔ شَآبٌّ مَالِیئُ الْعَیْنِ: اپنی خوبصورتی سے آنکھ کو بھر دینے والا نوجوان۔ اَلْمَلَائُ اخلاق جو حسن سے بھر پور ہو (1) کسی شاعر نے کہا ہے۔ (2) ھُوَ مُلِیئٌ بِکَذَا: یعنی وہ فلاں چیز سے پر ہے۔ اَلْمُلَائَ ۃُ زکام جو فضلہ سے دماغ کو بھر دے۔ اور مُلِیئَ فُلَانٌ وَاَمْلَائِ کے معنی زکام زدہ ہونے کے ہیں۔ اَلْمِلْ ئُ : کسی چیز کی اتنی مقدار جس سے کوئی برتن بھر جائے۔ محاورہ ہے۔ اَعْطِنْی مِلائَ ہ وَمِلْائَ یہِ وَثَلاثَۃَ اَمْلَاثِہ: مجھے ایک، دو ، یا تین پیمانے بھر کر دو۔

Lemma/Derivative

30 Results
مَلَأ
Surah:27
Verse:29
اہل دربار
chiefs!
Surah:27
Verse:32
سرداران قوم
chiefs!
Surah:27
Verse:38
اہل دربار
chiefs!
Surah:28
Verse:20
سردار
the chiefs
Surah:28
Verse:32
اور اس کے سرداروں کی طرف
and his chiefs
Surah:28
Verse:38
سردارو
"O chiefs!
Surah:37
Verse:8
جماعت کے
the assembly
Surah:38
Verse:6
سردار
the chiefs
Surah:38
Verse:69
ملاء
(of) the chiefs
Surah:43
Verse:46
اور اس کے سرداروں کے
and his chiefs