The root of this word, its grammatical form, and every other place in the Quran where the same root is used - with each of those verses one click away.
لَیْلٌ وَّلَیْلۃٌ کے معنی رات کے ہیں۔ اس کی جمع لَیَالٍ وَلَیَائِلُ وَلَیْلَاتٌ آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لَیْلٌ اَلْیَلُ وَلَیْلَۃٌ لَیْلائُ: کہا جاتا ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ لَیْلَۃٌ اصل میں لَیْلَاۃٌ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لُیَیْلَۃٌ اور جمع لَیَالٍ آتی ہے۔ قرآن پاک میں ہے: (اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الۡقَدۡرِ ) (۹۷۔۱) ہم نے اس قرآن پاک کو شب قدر میں نازل (کرنا شروع ) کیا۔ (وَ سَخَّرَ لَکُمُ الَّیۡلَ وَ النَّہَارَ) (۱۴۔۳۳) اور رات ، دن کو تمہاری خاطر کام میں لگادیا۔ (وَ الَّیۡلِ اِذَا یَغۡشٰی ) (۹۲۔۱) رات کی قسم جب ان پر چھا جائے۔ (وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً ) (۷۔۱۴۲) اور ہم نے موسی علیہ السلام سے تیس رات کی میعاد مقرر کی۔ (وَ لَیَالٍ عَشۡرٍ ) (۸۹۔۲) اور دس راتوں کی۔ (ثَلٰثَ لَیَالٍ سَوِیًّا) (۱۹۔۱۰) برابر تین راتیں (دن)