Noun

خَشْيَةِ

fear

خوف

Verb Form
Perfect Tense Imperfect Tense Imperative Active Participle Passive Participle Noun Form
خَشِيَ
يَخْشَى
اِخْشَ
خَاشٍ
مَخْشِيّ
خَشِيَّة
Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَلْخَشْیَۃُ: اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ: (اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا) (۳۵۔۲۸) اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔میں خشیت الہیٰ کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے۔ (وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ۙ﴿۸﴾ وَ ہُوَ یَخۡشٰی ۙ) (۸۰۔۸،۹) اور جو تمہارے پاس دوڑتا ہوا آیا اور(خدا سے) ڈرتا ہے۔ (مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ ) (۵۰۔۳۳) جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ (فَخَشِیۡنَاۤ اَنۡ یُّرۡہِقَہُمَا طُغۡیَانًا وَّ کُفۡرًا ) (۱۸۔۸۰) ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ(بڑا ہوکر جو بدکردار ہوتا ہے کہیں) ان کو سرکشی اورکفر میں پھنسادے۔ (فَلَا تَخۡشَوۡہُمۡ وَ اخۡشَوۡنِیۡ ) (۲۔۱۵۰) سو ان سے مت ڈرنا اور مجھ سے ڈرتے رہنا۔ (یَخۡشَوۡنَ النَّاسَ کَخَشۡیَۃِ اللّٰہِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡیَۃً ) (۴۔۷۷) لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ (الَّذِیۡنَ یُبَلِّغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰہِ وَ یَخۡشَوۡنَہٗ وَ لَا یَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰہَ ) (۳۳۔۳۹) جو خدا کے پیغام(جوں کے توں) پہنچاتے اور اس سے ڈرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ (وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ) (۴۔۹) ۔۔۔۔اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیئے۔ یعنی ان کو اپنے فقر کے خوف کا احساس ہونا چاہیئے۔ (خَشْیَۃَ اِمْلاقِ) (۱۷۔۱۲) مفلسی کے خوف سے۔یعنی اس اندیشے سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو کہ یہ مفلس ہوکر ذلیل ہوجائے گی۔اور آیت کریمہ: (مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ) (۵۰۔۳۳) جو خدا سے بن دیکھے ڈرتا ہے۔ یعنی اس کے دل میں ایسا خوف ہو جو کہ معرفت الہیٰ کا تقاضہ ہے۔

Lemma/Derivative

8 Results
خَشْيَة