| Perfect Tense | Imperfect Tense | Imperative | Active Participle | Passive Participle | Noun Form |
نَزَعَ |
يَنْزِعُ |
اِنْزِعْ |
نَازِع |
مَنْزُوْع |
نَزْع |
نَزَعَ الشَّیْئَ کے معنی کسی چیز کو اس کی قرارگاہ سے کھینچنے کے ہیں جیسا کہ کمان کو درمیان سے کھینچا جاتا ہے اور کبھی یہ لفظ اعراض کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور محبت یا عداوت کے دل سے کھینچ لینے کو بھی نَزْعٌ کہا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے:۔ (وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ ) (۷۔۴۳) اور جو کینے ان کے دلوں میں ہوں گے ہم سب نکال ڈالیں گے۔اِنْتَزَعْتُ اٰیَۃَ مِّنَ الْقُرْاٰنِ فِیْ کَذَا:آیت کو کسی واقعہ میں بطور مثال کے پیش کرنا۔ تَنْزعُ فُلَانٌ کَذَا:کے معنی کسی چیز کو چھین لینے کے ہیں۔چنانچہ قرآن پاک میں ہے:۔ (وَ تَنۡزِعُ الۡمُلۡکَ مِمَّنۡ تَشَآءُ) (۳۔۲۶) اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور آیت کریمہ:۔ (وَ النّٰزِعٰتِ غَرۡقًا ) (۷۹۔۱) ان فرشتوں کی قسم جو ڈوب کر کھینچ لیتے ہیں کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ نَازِعَات سے مراد فرشتے ہیں جو روحوں کو جسموں سے کھینچتے ہیں اور آیت کریمہ:۔ (اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡ یَوۡمِ نَحۡسٍ مُّسۡتَمِرٍّ تَنۡزِعُ النَّاسَ ) (۵۴۔۱۹،۲۰) ہم نے ان پر سخت منحوس دن میں آندھی چلائی وہ لوگوں کو اس طرح اکھیڑ ڈالتی تھی۔میں تَنْزِعُ النَّاسَ کے معنی یہ ہیں کہ وہ ہوا اپنی تیزی کی وجہ سے لوگوں کو ان کے ٹھکانوں سے نکال کر باہر پھینک دیتی تھی بعض نے کہا ہے کہ لوگوں کی روحوں کو ان کے بدنوں سے کھینچ لینا مراد ہے۔ اَلتَّنَازُعُ وَالْمُنَازَعَۃُ:باہم ایک دوسرے کو کھینچنا اس سے مخاصمت اور مجادلہ یعنی باہم جھگڑا کرنا مراد ہوتا ہے چنانچہ قرآن پاک میں ہے: (فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ فَرُدُّوۡہُ ) (۴۔۵۹) اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقعہ ہو تو رجوع کرو۔ (فَتَنَازَعُوۡۤا اَمۡرَہُمۡ بَیۡنَہُمۡ ) (۲۰۔۶۲) تو وہ باہم اپنے معاملے میں جھگڑنے لگے۔ اَلنَّنْعُ عَنِ الشَّیْئِ:کے معنی کسی چیز سے رک جانے کے ہیں اور اَلنَّزُوْعُ:سخت اشتیاق کو کہتے ہیں۔وَنَازَ عَتْنِیْ نَفْسِیْ اِلٰی کَذَا:نفس کا کسی طرف کھینچ کر لے جانا کسی کا اشتیاق غالب آجانا اَنْزَعَ الْقَوْمُ:اونٹوں کا اپنے وطن کا مشتاق ہونا۔ رَجُلٌ اَنْزَعُ کے معنی سر کے بال جھڑجانا کے ہیں اور نَزْعَۃٌ کے اس حصہ کو کہتے ہیں جہاں سے بال جھڑ جائیں اور تانیث کے لئے نَزْعَائُ کی بجائے زَعْرَائُ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ بِشْرٌ نَّزُوْعٌ:کم گہرا کنواں جس سے ہاتھ کے ذریعہ بغیر رسی کے پانی نکالا جاسکے۔ شَرَابٌ طَیَّبُ الْمَنْزَعَۃِ:لذیذ شراب کو کہتے ہیں جیسا کہ اس معنی میں قرآن پاک خِتَامُہٗ مِسْکٌ کا محاورہ استعمال کیا ہے۔
Surah:3Verse:26 |
تو چھین لیتا ہے
and You take away
|
|
Surah:7Verse:27 |
اتروا دیا
stripping
|
|
Surah:7Verse:43 |
اور ہم نکال لیں گے
And We will remove
|
|
Surah:7Verse:108 |
اور اس نے باہر نکالا
And he drew out
|
|
Surah:11Verse:9 |
ہم چھین لیں گے اس کو
We withdraw it
|
|
Surah:15Verse:47 |
اور ہم نکال دیں گے
And We (will) remove
|
|
Surah:19Verse:69 |
البتہ ہم ضرور کھینچ لیں گے ۔ الگ کرلیں گے
surely We will drag out
|
|
Surah:26Verse:33 |
اور اس نے کھینچا
And he drew out
|
|
Surah:28Verse:75 |
اور ہم نکال لائیں گے
And We will draw forth
|
|
Surah:54Verse:20 |
اکھاڑ کر پھینک رہی تھی
Plucking out
|